یہودیت سے نمٹنے کی قرآنی حکمت عملی - خیبر

یہودیت سے نمٹنے کی قرآنی حکمت عملی

17 ستمبر 2018 15:59

یہودیوں کے جرائم کی وسعت اور ان کے مظالم و جرائم سے کافی عرصہ گذر جانے کے پیش نظر بعید از قیاس نہیں ہے کہ اللہ کی نصرت کا وعدہ کچھ زیادہ دور نہ ہو؛ اور سخت لڑنے والے ثابت قدم جوانوں کا ظہور قریب ہو اور ہم سب شاہد ہوں عنقریب اس ریاست کی نابودی اور قبلہ اول اور قدس شریف کی آزادی کے۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: گوکہ آج کچھ عالم اسلام کے اندر سے کچھ ایسی قوتوں نے یہود کی گود میں بیٹھنے کو اپنے لئے باعث فخر شروع کرکے ان کے ساتھ اپنے پرانے تعلقات کو عیاں کر دیا ہے، جو کسی وقت کچھ مسلمانوں کے لئے اسلام کی علامت اور خادم الحرمین سمجھے جاتے تھے، لیکن قرآن کریم کسی شخص یا کسی قبیلے یا کسی بادشاہت کے تابع نہیں ہے اور اس کے تمام قواعد و ضوابط پابرجا اور استوار ہیں۔
قرآن كريم نے یہود کو مؤمنوں کا بدترین دشمن قرار دیا ہے:
لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُواْ الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُواْ (۱)؛ اے پیغمبر! یقینا آپ یہود اور مشرکین کو ایمان لانے والوں کا سخت ترین دشمن پائیں گے۔
یہ مسائل آیات قرآنی میں تفصیل سے بیان ہوئے ہیں اور اس مضمون میں اس کے بعض زاویوں اور پہلؤوں کا بیان مقصود ہے۔
یہودی جرائم اور شرمناک کرتوت صرف قرآنی آیات اور قرآنی تاریخ تک محدود نہیں ہے بلکہ ان کی خونخوارانہ خصلتیں حال حاضر میں بھی جاری و ساری ہیں۔ فلسطین اور لبنان میں ان کے انسانیت کشت جرائم اور جارحانہ اقدامات ان کی بنیادی خصلتوں کو زیادہ واضح کررہے ہیں یہاں تک کہ آج محض وہ لوگ مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہیں یا پھر یہودی جرائم کی وکالت کررہے ہیں جو کسی مغربی یا کسی عرب یا یہودی ادارے سے وابستہ ہوں، ورنہ تو کو‏ئی بھی انسان اس بظاہر تہذیب یافتہ قوم اور درحقیقت انسانیت سے کوسوں دور جماعت سے انسانی منطق اور سلوک کی توفع نہیں رکھتا اور سب جانتے ہیں کہ یہ قوم انسانی اصولوں اور منطق کو تسلیم ہی نہیں کرتی۔ یہ وہی جذبہ ہے جس کی طرف قرآن کریم نے “لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُواْ الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُواْ” فرما کر اشارہ کیا ہے۔
۱- بنی اسرائیل کے بارے میں قرآن کی صریح آیات کریمہ
¤ وَقَضَيْنَا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي الْكِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوّاً كَبِيراً (۲)
اور ہم نے اس کتاب (توراۃ) میں بنی اسرائیل کو آگاہ کر دیا کہ تم ضرور زمین میں دو مرتبہ فساد برپا کرو گے [خون خرابہ کروگے] اور بڑی سرکشی کرو گے۔
¤ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ أُوليٰهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَاداً لَّنَا أُوْلِي بَأْسٍ شَدِيدٍ فَجَاسُواْ خِلاَلَ الدِّيَارِ وَكَانَ وَعْداً مَّفْعُولاً؛ تو جب ان میں سے پہلے فساد کا وقت آئے گا تو ہم [تمہاری سرکوبی کےلئے] تم پر بھیجیں گے اپنے ایسے بندے جو بڑی سخت لڑائی لڑنے والے ہوں گے تو وہ [تمہاری] آبادیوں کے اندر داخل ہو جائیں گے اور یہ وعدہ ہے جو ہو کر رہے گا۔ (۳)
¤ ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَأَمْدَدْنَاكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَجَعَلْنَاكُمْ أَكْثَرَ نَفِيراً؛ پھر [کچھ عرصہ بعد] ہم تمہیں ان کے اوپر غلبہ دیں گے اور تمہیں مال و اولاد کے ساتھ تقویت پہنچائیں گے اور تمہاری نفری کو بڑھا دیں گے۔ (۴)
¤ إِنْ أَحْسَنتُمْ أَحْسَنتُمْ لِأَنفُسِكُمْ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَهَا فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الآخِرَةِ لِيَسُوؤُواْ وُجُوهَكُمْ وَلِيَدْخُلُواْ الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَلِيُتَبِّرُواْ مَا عَلَوْاْ تَتْبِيراً؛ اگر تم بھلائی کرو گے تو خود اپنے ہی نفس کے لیے بھلائی کرو گے اور اگر برائی کرو گے تو وہ بھی اپنے لئے کرو گے۔ تو جب دوسرے وعدے کا وقت آئے گا تو پھر [بھی] ویسے ہی لوگ آئیں گے کہ تمہارا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیں گے اور اس مسجد [الاقصی] میں اسی طرح داخل ہو جائیں گے جیسے پہلی دفعہ داخل ہوئے تھے۔ اور جس جس چیز پر کہ ان کا قابو ہوگا وہ اسے تباہ و برباد کردیں گے۔ (۵)
۲- مذکورہ بالا آیات کریمہ کے کلیدی الفاظ، جن کا تعلق اس مضمون کے عنوان سے جن پر ترتیب ملحوظ رکھے بغیر غور کیا جاسکتا ہے۔
¤ قَضَيْنَا: حتمی فیصلہ / قطعی حکم
¤ لَتُفْسِدُنَّ فِي الأَرْضِ: عالمی سطح کا فساد / عالمی خون خرابہ
¤ مَرَّتَيْنِ: برائی، فساد اور خون خرابے کی دہرائی
¤ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوّاً كَبِيراً: بہت بڑی سرکشی
¤ بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَاداً لَّنَا: اللہ کے خاص بندوں کو مشن سونپنا اور اس جماعت پر ان کا مسلط ہونا
¤ فَجَاسُواْ خِلاَلَ الدِّيَارِ: گھر گھر تلاشی
¤ ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ: بنی اسرائیل کو ایک بار پھر اقتدار پلٹانا
¤ لِيَسُوؤُواْ وُجُوهَكُمْ: دوسری سرکشی کے بعد روسیاہی اور حلیوں کا بگڑ جانا
¤ لِيَدْخُلُواْ الْمَسْجِدَ: مسجد [الاقصی] کی فتح دوسری مرتبہ
۳- قابل فہم نکات
¤ جو کچھ کتاب تورات یا لوح محفوظ میں ثبت ہؤا ہے، ہو کر رہنے والا وعدہ ہے: “وَقَضَيْنَا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ ۔۔۔ وَكَانَ وَعْداً مَّفْعُولاً “۔
¤ آیت کے سیاق سے مستقبل میں بنی اسرائیل کے فساد اور سرکشی کی خبر ملتی ہے: “وَقَضَيْنَا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي الْكِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ”۔
¤ اس فساد اور اور سرکشی کے دو مرحلے ہونگے: “لَتُفْسِدُنَّ فِي الأَرْضِ مَرَّتَيْنِ”۔
¤ یہ دو واقعات عالمی اور وسیع ہونگے: “لَتُفْسِدُنَّ فِي الأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوّاً كَبِيراً”۔
¤ پہلے وعدے میں اللہ کے خاص بندے اس جماعت پر غلبہ پائیں کے: “بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَاداً لَّنَا”۔
¤ شدت اور طاقت مشن پر روانہ کئے جانے والے لشکر کی امتیازی خصوصیت ہے: “أُوْلِي بَأْسٍ شَدِيدٍ”۔
¤ یہ اقدام اور کاروائی بنی اسرائیل کی گھر گھر تلاشی پر منتج ہوگی: “فَجَاسُواْ خِلاَلَ الدِّيَارِ”۔
¤ بنی اسرائیل کو اقتدار کا پلٹایا جانے کا تذکرہ، ان کی کامیابی یا فریق مقابل کی شکست کا سبب بیان کئے بغیر: “ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ”۔
¤ یہ جماعت پھر بھی اموال و اولاد کی کثرت کے ذریعے طاقتور ہوجائے گی: “وَأَمْدَدْنَاكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَجَعَلْنَاكُمْ أَكْثَرَ نَفِيراً”۔
¤ دوسرے واقعے کا سبب بنی اسرائیل کے اپنے برے اعمال (اور ناشکری) بیان کیا جاتا ہے: “إِنْ أَحْسَنتُمْ أَحْسَنتُمْ لِأَنفُسِكُمْ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَهَا”۔
¤ دوسری سرکشی کا نتیجہ خصوصی افواج کے ہاتھوں اس جماعت کی روسیاہی اور حلیہ بگڑ جانے کی صورت میں برآمد ہوگا: “فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الآخِرَةِ لِيَسُوؤُواْ وُجُوهَكُمْ”۔
¤ اللہ کے خصوصی بندے ایک بار پھر مسجد میں داخل ہونگے جیسے کہ وہ پہلی مرتبہ داخل ہوئے تھے: “لِيَدْخُلُواْ الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ”۔
¤ اس بار وہ کچھ یوں نیست و نابود ہوجائیں گے کے بنی اسرائیل کا کوئی اثر ہی نہ رہے گا: “وَلِيُتَبِّرُواْ مَا عَلَوْاْ تَتْبِيراً”۔
۴- تفسیری نکتے:
¤ “الْمَسْجِدَ” سے مراد سورہ اسراء کی پہلی آیت کے قرینے کی بنیاد پر “مسجد الاقصی” ہے: “سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الأَقْصَى”۔ (۶)
¤ عبارت “عِبَاداً لَّنَا” ان افواج کے اخلاص کی علامت ہے کیونکہ “عِبَاداً لَّنَا” “عبد”، “عِبَاد” اور “عِبَادنَا” سے مختلف ہے اور “عِبَاداً لَّنَا” کی دلکش عبارت میں بندوں کی برگزیدگی مضمر ہے۔
¤ دلچسپ امر یہ ہے کہ عبارت “عِبَاداً لَّنَا” صرف ایک بار قرآن میں آئی ہے اور عبارت “عِبَادنَا” بھی صرف انبیاء علیہم السلام کے لئے بیان ہوئی ہے:
حضرت يوسف علیہ السلام: “إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ؛ یقینا وہ ہمارے خالص چنے ہوئے بندوں میں سے تھے”۔ (۷)
خضر نبي علیہ السلام (بعض تفاسیر کی روشنی میں): “فَوَجَدَا عَبْداً مِّنْ عِبَادِنَا آتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِنْ عِندِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِن لَّدُنَّا عِلْماً؛ سو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک (خاص) بندے کو پایا جسے ہم نے اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا۔ اور اسے اپنی طرف سے (خاص) علم عطا کیا تھا”۔ (۸)
حضرت نوح علیہ السلام: “إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ؛ بلاشبہ وہ ہمارے با ایمان بندوں میں سے تھے”۔ (۹)
حضرت ابراہيم علیہ السلام: “إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ؛ بلاشبہ وہ ہمارے با ایمان بندوں میں سے تھے”۔ (۱۰)
حضرت موسی اور حضرت ہارون علیہما السلام: “إِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ؛ بلاشبہ وہ ہمارے با ایمان بندوں میں سے تھے”۔ (۱۱)
حضرت الياس علیہ السلام: إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ؛ بلاشبہ وہ ہمارے با ایمان بندوں میں سے تھے (۱۲)
انبیاء علیہم السلام: “وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ؛ اور ہمارا قول پہلے ہو چکا ہے اپنے بندوں کے لئے جو پیغمبر بنائے گئے ہیں”۔ (۱۳)
حضرت ابراہيم، حضرت اسحاق اور حضرت يعقوب علیہم السلام: “وَاذْكُرْ عِبَادَنَا إبْرَاهِيمَ وَإِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ أُوْلِي الْأَيْدِي وَالْأَبْصَارِ؛ اور یاد کرو ہمارے بندگان خاص ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کو جو خاص دسترسوں اور نگاہوں والے تھے”۔ (۱۴)
حضرت نوح و حضرت لوط علیہما السلام: “ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلاً لِّلَّذِينَ كَفَرُوا اِمْرَأَةَ نُوحٍ وَاِمْرَأَةَ لُوطٍ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ؛ کافروں کے لحاظ سے اللہ نے مثال پیش کی ہے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی جو ہمارے بندوں میں سے دو نیک بندوں کی زوجیت میں تھیں تو انھوں نے ان سے غداری کی تو ان دونوں نے ان دونوں کو خدا کے عذاب سے کچھ بھی نہیں بچایا اور کہا گیا کہ داخل ہو جاؤ دونوں آگ میں داخل ہونے والوں کے ساتھ”۔ (۱۵)
نیز ان بندوں کا تذکرہ اس صورت میں آیا ہے:
“تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي نُورِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَن كَانَ تَقِيّاً؛ یہ ہے وہ بہشت جس کا ورثہ دار بنائیں گے ہم اپنے بندوں میں سے اسے جو پرہیز گار ہو”۔ (۱۶)
“ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا؛ پھر ہم نے اس کتاب کا وارث ان کو بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے منتخب کر لیا ہے”۔ (۱۷)
“وَلَكِن جَعَلْنَاهُ نُوراً نَّهْدِي بِهِ مَنْ نَّشَاء مِنْ عِبَادِنَا؛ مگر ہم نے اسے ایک نور بنایا ہے جس سے ہم ہدایت کرتے ہیں، جس کو چاہیں، اپنے بندوں میں سے”۔ (۱۸)
“قَالَ رَبِّ بِمَآ أَغْوَيْتَنِي لأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الأَرْضِ وَلأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ * إِلاَّ عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ * قَالَ هَذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَقِيمٌ؛ اس [ابلیس] نے کہا اے میرے پروردگار! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے تو میں بھی زمین میں ان (بندوں ) کے لئے گناہوں کو خوشنما بناؤں گا اور سب کو گمراہ کروں گا ٭ سوائے تیرے مخلص بندوں کے ٭ فرمایا یہ سیدھا راستہ ہے مجھ تک پہنچنے والا”۔ (۱۸)
– عبارت “… فَجَاسُواْ خِلاَلَ الدِّيَارِ… و… لِيَسُوؤُواْ وُجُوهَكُمْ وَلِيَدْخُلُواْ الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ” سے ظاہر ہوتا ہے کہ يہ واقعات مسجد الاقصی اور فلسطین کے آس پاس ہی رونما ہونگے۔
– بنی اسرائیل کی تاریخ میں اس طرح کے عالمی سطح کے فتنے ـ الہی لشکر کے ہاتھوں اتنے وسیع واقعات اور سرکوییوں کے ساتھ ـ دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ جو کچھ “بخت النصر” اور “طرطیانوس” کے ہاتھوں یہودیوں کی سرکوبی کی داستانیں مذکورہ بالا خصوصیات سے مطابقت نہیں رکھتیں؛ کیونکہ یا تو وہ مسائل عالمی سطح کے نہیں تھے، یا ان خاص ادوار میں بنی اسرائیل برحق تھے؛ اور اہم بات یہ کہ بغاوت اور سرکشی یہودی یکتاپرستوں کے خلاف مشرکین کی طرف سے تھی نہ کہ بنی اسرائیل کی طرف سے۔
– لگتا ہے کہ اس قوم کی سرکشی اور فتنہ گری دور معاصر میں صہیونیت اور اسرائیل نامی ریاست کے قیام کے سانچے میں ـ نیل سے فرات تک یہودی ریاست کے قیام کے نعرے کے ساتھ ـ وقوع پذیر ہوئی ہے، یہ واقعہ آیات قرآنی کی پیشینگوئی کے مطابق پہلے واقعے پر منطبق ہوسکتا ہے؛ گو کہ اس سلسلے میں قطعیت اور حتمیت کے ساتھ کچھ بھی نہیں کہنا چاہئے؛ لیکن نشانے اس سلسلے میں زیادہ ہیں۔
– اس سے بھی زیادہ اہم نکتہ یہ ہے کہ دوسرے حادثے کا نتیجہ اس جماعت کا قلع قمع ہوجانے کی صورت میں برآمد ہوگا؛ لگتا ہے کہ یہ ایک آخری اور عالمی واقعے کی طرف اشارہ ہے؛ وہ واقعہ جس کا وعدہ دیا گیا ہے جس کا یہودی، عیسائی اور مسلمین ـ بالخصوص شیعیان آل رسول(ص) ـ انتظار کررہے ہیں۔
۵- چند تکمیلی نکتے
– اس حقیقت کو نظر سے دور نہیں رکھنا چاہئے کہ جو کچھ حالیہ صدی (بیسویں) صدی میں فلسطین کی مقبوضہ سرزمین میں رونما ہؤا، اس کا حضرت موسی علیہ السلام کی حقیقی تعلیمات سے دور دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے؛ اور جہاں تک صہیونیت کے جعل کردہ عقائد تمام یہودیوں کے ہاں مقبولیت نہیں رکھتے؛ کیونکہ کئی یہودی گروہ صہیونیت کے خلاف ہیں۔ دین موسی(ع) میں صہیونیت کو شاید دین اسلام میں وہابیت سے تشبیہ دی جاسکے۔
– حزب اللہ لبنان کی اسلامی مزاحمت، جو مکتب خاندان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے متعین کردہ راستے اور عباداللہ کے صراط مستقیم پر گامزن ہے اور اس راستے میں بڑی بڑی کامیابیاں بھی حاصل کرچکی ہے؛ جس سے اللہ کے وعدے والی عظیم فتح کی نوید کی خوشبو محسوس ہورہی ہے۔
– واضح امر ہے کہ اللہ کے خاص بندے ہر گروہ اور قوم کے افراد نہیں ہوسکتے جو کسی ظاہری اسلامی ہدف کو لے کر ایک مخلصانہ تحریک کا آغاز کرچکے ہوں اور وہ نصر الہی سے فتح حاصل کرسکیں۔ چنانچہ مختلف تفکرات اور جماعتوں کی پہچاننے میں بہت زیادہ غور و تامل کی ضرورت ہے، پس پردہ عوامل اور استکباری قوتوں کے ساتھ خفیہ سازباز سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔ القاعدہ اپنے حساب سے اہم ترین جہادی گروہ تھا لیکن اس کے پس پردہ عوامل کچھ اور تھے اور اگر اس کے تمام دعوے صحیح ہوتے تو آج ہم اسے اسلام اور اہل اسلام کے بدترین دشمن “یہودی ریاست” کے مد مقابل پاتے۔
– آج جو میدان میں ہیں وہ میدان میں دکھائی دے رہے ہیں اور جو بظاہر میدان میں تھے وہ مؤمنوں کے شدید ترین دشمن کی گود میں بیٹھ کر مسلمانوں کو آنکھیں دکھا رہے ہیں اور “صدی کے سودے” (Century Deal) کے تحت قدس و کعبہ کو یہود کے ہاتھوں اعلانیہ فروخت سے نہیں ہچکچاتے بلکہ اس شرمناک سودے بازی پر فخر کررہے ہیں، مسلمانوں کی غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، چنانچہ سوال یہ ہے کہ کیا آج مغربی ایشیا میں اسرائیل کے سامنے سینہ سپر کئے ہوئے مزاحمت کے مجاہدین کے سوا کوئی دعوی کرسکتا ہے کہ وہ “عِبَاداً لَّنَا” کا مصداق ہوسکتا ہے؟ اگر قدس کی آزادی کے لئے لڑائی ہو تو مسلمانان عالم اور دوسروں کو کافر قرار دے کر صرف اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے کس محاذ میں ہونگے؟ اگر یہود شدید ترین دشمن ہے تو اس کے دوست مؤمنین کے دوست اور اسلام و ایمان کے حامی ہوسکتے ہیں؟
– یہودیوں کے جرائم کی وسعت اور ان کے مظالم و جرائم سے کافی عرصہ گذر جانے کے پیش نظر بعید از قیاس نہیں ہے کہ اللہ کی نصرت کا وعدہ کچھ زیادہ دور نہ ہو؛ اور سخت لڑنے والے ثابت قدم جوانوں کا ظہور قریب ہو اور ہم سب شاہد ہوں عنقریب اس ریاست کی نابودی اور قبلہ اول اور قدس شریف کی آزادی کے۔
– آخرالزمان میں یہود کے ساتھ اہل حق کی جنگ قرآنی محکمات میں سے ہے
سورہ اسراء کی آیات کے بارے میں بعض مفسرین کی رائے یہ ہے آخرالزمان میں محاذ حق اور یہود کے درمیان جنگ حتمی اور قرآنی مسَلَّمات میں سے ہے۔ جہاں فرمایا گیا ہے کہ یہود عالمی فتنہ انگيزیوں اور جنگوں کے اسباب فراہم کریں گے؛ ایک فتنہ انگیزی امام عصر (عج) کے ظہور سے پہلے اور دوسرا ظہور کی آمد پر۔ دوسرا فتنہ شروع ہونے پر امام زمانہ عََّلَ اللہ تَعَالی فَرَجَہُ الشَّريف کا ظہور ہوگا اور آپ کا لشکر یہود کو نابود کرے گا۔ (۲۰)
– بہت سی احادیث میں منقول ہے کہ حضرت حجت عَجَّلَ اللہُ تَعَالی فَرَجَہُ الشَّريف بیت المقدس میں نماز جماعت ادا کریں گے اور حضرت عیسی علیہ السلام ان کی اقتداء کریں گے۔ جبکہ ظہور سے متعلق احادیث میں منقول ہے کہ امام زمانہ عَجَّلَ اللہُ تَعَالی فَرَجَہُ الشَّريف کا ظہور مسجد الحرام سے ہوگا اور پہلی بیعت دیوار کعبہ کے پاس ہوگی چنانچہ بیت المقدس میں امام(عج) کی امامت جماعت کا مطلب یہ ہوگا کہ اس وقت تک تمام طاغوتی اور شیطانی قوتوں نے شکست کھائی ہوگی اور اللہ کے وعدے کے مطابق عالمی اسلامی حکومت کا قیام عمل میں آچکا ہوگا / یا عمل میں آرہا ہوگا۔
“وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ؛ اور ہمارا مقصود یہ ہے کہ احسان کریں ان پر جنہیں دنیا میں دبایا اور پیسا گیا تھا اور ان ہی کو پیشوا قرار دیں، ان ہی کو آخر میں (زمین کا) وارث بنائیں”۔ (۲۱)
ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالی اپنی مخلصانہ بندگی کی توفیق عطا فرمائے اور جلد از جلد پیشوائے منتظَر عَجَّلَ اللہُ تَعَالی فَرَجَہُ الشَّريف کی امامت ميں مسجد الاقصی میں نماز ادا کریں۔ (ان شاء اللہ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱- سورہ المائدہ، آیت ۸۲۔
۲۔ سورہ الاسراء، آیت ۴۔
۳۔ سورہ الاسراء، آیت ۵۔
۴۔ سورہ الاسراء، آیت ۶۔
۵- سورہ الاسراء، آیت ۷۔
۶۔ سورہ الاسراء، آیت ۱۔
۷۔ سورہ يوسف، آیت ۲۴۔
۸۔ سورہ الكہف، آیت ۶۵۔
۹۔ سورہ الصافات، آیت ۸۱۔
۱۰۔ سورہ الصافات، آیت ۱۱۱۔
۱۱۔ سورہ الصافات، آیت ۱۲۲۔
۱۲۔ سورہ الصافات، آیت ۱۳۲۔
۱۳۔ سورہ الصافات، آیت ۱۷۱۔
۱۴۔ سورہ ص، آیت ۴۵۔
۱۵۔ سورہ التحريم، آیت ۱۰۔
۱۶۔ سورہ مريم، آیت ۶۳۔
۱۷۔ سورہ فاطر (سورہ مؤمن)، آیت ۳۲۔
۱۸۔ سورہ الشوری، آیت ۵۲۔
۱۹۔ سورہ الحجر، آیت ۳۹، ۴۰ و ۴۱۔
۲۰۔ سورہ اسراء، آیات ۱ تا ۷۔
۲۱۔ سورہ القصص، آیت ۵۔
بقلم: حامد عبداللہي ترجمہ و تکمیل: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ی/۱۰۰۰۱

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=11994

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے