یہودی معاشرے میں طبقاتی شگاف - خیبر

یہودی معاشرے میں طبقاتی شگاف

13 اگست 2018 12:40

صہیونی تفکر کے بھید بھاو پر مشتمل دنیاوی طرز فکر اور نسلی برتری کے نظریہ کی بنیاد پر یہ اجتماعی و معاشرتی شگاف مزید گہرا ہوتا جا رہے.

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: کسی بھی معاشرہ میں طبقاتی فاصلہ معاشرتی و سماجی اختلافات کا سبب بنتا ہے ۔ وہ لوگ جو اسرائیل کی تشکیل کے لئے سرزمین فلسطین پر ہجرت کر کے پہنچے ، دیگر ممالک سے یہاں آنے کی وجہ سے اور متنوع رفاہی سطح کے حامل ٹاون سٹیز میں جبراً رہایش پذیر ہونے کی بنا پر خاص کر یہہودیوں اور عربوں کی زندگی کے دو الگ الگ تصوارت کے سبب اس بات کا سبب بنے کہ فلسطین کی تاریخی سرزمین پر شگاف و دراڑ پیدا ہو جسکی وضاحت یہ ہے کہ صناعت کے میدان میں جس پالیسی کا آغاز فلسطین میں تیسویں دہائی میں ہوا اور صنعت سازی کا دور شروع ہوا یہ دور اسرائیل کی جعلی و ناجائز حکومت کے بننے کے بعد ۶۰ کی دہائی میں وسیع تر ہو گیا جس نے سماج کے طبقاتی ڈھانچے میں بہت سی تبدیلیاں پیدا کیں جسکی بنا پر زراعت و کھیتی باڑی کمزور ہوئی اور صنعتی اقتصاد پھولا پھلا اور آگے بڑھا ۔
۹۰ ء کی دہائی میں عبری و عربی معاہدہ کے وجود میں آنے کے بعد مجموعی قومی پیداوار ( جی ۔ڈی پی) ۸۰ کی دہائی کی نسبت ۸ برابر بڑھ گئی لہذا یہودی معاشرہ کا طبقاتی اختلاف ان اداروں اور انسٹی ٹیوٹس کے ساتھ بھی جڑا ہے جنہیں ہجرت کے دور میں یہودیوں کی رہایش کے لئیے بنایا گیا تھا ۔ اس لئیے کہ ان اداروں و مراکز کی بنیاد فلسطین میں ہجرت کر کے آنے والے یہودیوں اور وہاں کے اصل باشندوں کے درمیان عدم مساوات و اونچ نیچ اور نابرابری پر ہے ۔
یفتا حثیل کے بقول صہیونی رژیم میں ایسے مکانی سلسلہ مراتب اور تنظیمی حیثیتیں موجود ہیں جو نسلی طور پر دوسری جگہوں سے آکر یہاں بسنے والوں کے درمیان جغرافیا کی توسیع اور مہاجروں کی سکونت کے پیش نظر غیر عادلانہ تقسیم اموال کے اصولوں سے باہر آ رہی ہیں ،یعنی پھیلتے ہوئے وسیع خطے اور مہاجروں کی نسلی معیاروں پر انکی رہایش کی تعیین و اموال کی غیر عادلانہ تقسیم اس بات کا سبب بنی کہ کچھ سلسلہ مراتب و تنظیمی حیثیتیں وجود میں آئیں جنکی طرف رجوع کے بغیر کام نہیں چل سکتا ۔ جغرافیائی وسعت چار طرح کی آبادیوں کی بنا پر ۱۹۴۸ کی سرحدوں پر اس طرح وجود میں آئی :
الف: ایسے شہر اور ٹاون سٹیز جس میں اکثر مغربی یہودی اور وہ اشکنازی رہتے ہیں جو صہیونی حکومت کے موسس و بانی کے طور پر جانے جاتے ہیں اور اسی بنا پر انکے پاس ثروت و دولت کی بہتات ہے اور بہترین و مرغوب زمینوں کے مالک ہیں ان کے پاس اقتصادی و فرہنگی انفراسٹرکچر موجود ہے جن پر انکا قبضہ و تسلط ہے ۔
ب: مشرقی یہودی ( سفاردیم ) اور نئے ہجرت کرکے آنے والے جیسے روس کے یہودی اور سابقہ سوویت یونین سے جڑے ان ممالک کے لوگ جو بڑے مراکز و بڑے شہروں تک نہیں پہنچ سکے اور دوسرے درجہ کے شہری شمار ہوتے ہیں۔
ج: اتھوپیائی قومیت رکھنے والے افریقائی یہودی جنہیں فلاشا کہا جاتا ہے یہ وہ لوگ ہیں جنہیں انکے رنگ و نسل کی بنیاد پر حقارت جھیلنا پڑتی ہے یہ وہ لوگ ہیں جو بڑے شہروں کے مضافات میں یا سرحدوں کے نزدیک بنے ٹاون سٹیز میں رہایش پذیر ہیں اور نچلے درجہ کے کاموں میں مشغول ہیں ۔
د: وہ اعراب جو اسرائیلی حکومت کے ان علاقوں میں ہیں جہاں حکومت کا نفوذ ہے اور ان علاقوں کو ریاستی عمارتوں کی تعمیر اور اسٹیٹ بلڈگوں سے بہت دور رکھاگیا اور انہیں یہودی حکومت کے شدت پسند یہودیوں کی جانب سے شدید طور پر بھید بھاو کا سامنا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ صہیونی تفکر کے بھید بھاو پر مشتمل دنیاوی طرز فکر اور نسلی برتری کے نظریہ کی بنیاد پر یہ اجتماعی و معاشرتی شگاف مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے اور سرمایہ دارانہ و سیکولر طرز فکر کے پاس اس شگاف سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ی/۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=9997

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے