یہودی نسل پرستانہ قانون نے صہیونی ریاست کے قبیح چہرے کر بے نقاب کر دیا - خیبر

یہودی نسل پرستانہ قانون نے صہیونی ریاست کے قبیح چہرے کر بے نقاب کر دیا

18 ستمبر 2018 15:16

اسرائیلی امور ماہر فلسطینی دانشور نے کہا ہے کہ ایک ماہ قبل اسرائیلی کنیسٹ نے ایک متنازع قانون منظور کر کے صہیونی ریاست کو دنیا بھر کے یہودیوں کا قومی وطن قرار دیا جبکہ اسرائیل میں بسنے والے غیر یہودیوں کو دوسرے اور تیسرے درجے کا شہری قرار دیا ہے۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، اسرائیلی امور کے ماہر فلسطینی دانشور ’’ فتحی بوزیہ‘‘نے کہا کہ یہودی قومیت کے سیاہ قانون کی منظوری کے بعد فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے جرائم میں اضافہ ہوگیا فلسطینی قوم کو اس قانون کی منظوری کے بعد سخت خوف لاحق ہے سنہ ۱۹۴۸ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بسنے والے فلسطینی عرب شہری پہلے ہی صہیونی ریاست کے امتیازی سلوک کا سامنا کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہودی قومیت کا قانون فلسطینیوں کے خلاف نسلی امتیاز کو آئینی جواز دینے کی مجرمانہ کوشش ہے اس کے علاوہ اس قانون کے قضیہ فلسطین پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے نہ صرف اندرون فلسطین بلکہ ارض فلسطین کے کونے کونے میں بسنے والے فلسطینی اس قانون سے متاثر ہوں گے۔

اسرائیلی امور کے ماہر فلسطینی دانشور نے کہا کہ اندرون فلسطین میں بسنے والے فلسطینیوں کی مشکلات بے پناہ ہیں ان میں سب سے بڑی مشکل اور مسئلہ فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستی ہے فلسطینی عرب باشندوں کو نسلی امتیاز کا سامنا ہے انہیں انسانی مساوات، بنیادی حقوق، تعلیم، صحت، سماجی انصاف میں سے کوئی حق نہیں ملتا۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کے خلاف نسلی امتیاز معاصر تاریخ کا بدترین ظلم ہے اور یہودی قومیت کے قانون کی منظوری نے صہیونی ریاست کے قبیح چہرے کو بے نقاب کردیا۔

فلسطینی دانشور نے کہا کہ فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے انتقامی اقدامات، ان کی ٹارگٹ کلنگ اور ان کے بنیادی حقوق کی پامالیاں خود صہیونی ریاست کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/خ/۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=12036

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے