یہود دشمنی اسرائیل کی تشکیل کے لیے صرف ایک بہانہ - خیبر

یہود دشمنی اسرائیل کی تشکیل کے لیے صرف ایک بہانہ

04 اکتوبر 2018 13:05

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: جب بین الاقوامی صہیونیت نے اسرائیل نامی ریاست کی تشکیل کا منصوبہ بنایا اور اس کے مقدمات فراہم کرنے میں کامیاب ہوئے تو سب سے پہلا جو قدم اٹھانے پر وہ مجبور ہوئے وہ پوری دنیا سے یہودیوں کو فلسطین میں جمع کرنا تھا۔ اس لیے کہ ایک ریاست کی […]

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: جب بین الاقوامی صہیونیت نے اسرائیل نامی ریاست کی تشکیل کا منصوبہ بنایا اور اس کے مقدمات فراہم کرنے میں کامیاب ہوئے تو سب سے پہلا جو قدم اٹھانے پر وہ مجبور ہوئے وہ پوری دنیا سے یہودیوں کو فلسطین میں جمع کرنا تھا۔ اس لیے کہ ایک ریاست کی تشکیل کے بنیادی اصول میں سے ایک اصل یہ ہے کہ ایک ثقافت اور مشترکہ آداب و رسومات رکھنے والے افراد کا ایک مجموعہ کسی ایک خاص جگہ پر اکٹھا ہو جائے، لیکن اسرائیل کی تشکیل میں یہ بنیادی شرط وجود نہیں رکھتی تھی۔
اسی وجہ سے صہیونیت کے پرچم دار اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے ہر طرح کا اقدام کرنے پر تیار تھے۔ امریکہ میں صہیونیوں کی ایک کانفرنس میں کی گئی “ڈیوڈ بن گورین” کی تقریر کو اس بارے میں مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کھلے عام اعلان کیا: “صہیونیت کی ایک ذمہ داری تمام یہودیوں کو اسرائیل میں لانا ہے۔ ہم والدین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہماری مدد کریں تاکہ ہم ان کے بچوں کو اسرائیل منتقل کریں۔ حتیٰ اگر وہ ہماری مدد کرنے کو تیار نہیں بھی ہوں گے تو ہم جوانوں کو زبردستی اسرائیل لے جائیں گے”۔
یہودیوں کی حمایت حاصل کرنے اور حتیٰ انہیں اسرائیل ہجرت پر مجبور کرنے کے لیے صہیونی مبالغہ آرائی، ڈرامہ بازی اور یہود دشمنی جیسے اوزار کا استعمال کرتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس حوالے سے بہت ساری خبریں اور باتیں حقیقت سے دور ہوتیں یا ان میں مبالغہ آرائی ہوتی تھی۔ دراصل صہیونیت پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ خرید کر ان کے ذریعے دنیا میں جھوٹی خبریں پھیلاتی، اور عوام الناس ان چیزوں سے بے خبر ان جھوٹی خبروں پر یقین کر لیتے۔ مثال کے طور پر ۱۹۱۹ میں امریکی سفیر “ہگ گیبسن” (Hugh gibson) نے پولینڈ میں یہود دشمنی کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو کچھ امریکی میڈیا پر یہودی دشمنی کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ واقعیت سے کہیں زیادہ ہے۔ گیبسن، وزارت داخلہ کو دی جانے والی اپنی رپورٹوں میں اس موضوع کی طرف اشارہ کرتے تھے لیکن وہ اس بات سے غافل تھے کہ یہ معلومات یہودی زادوں برینڈیز (Kazimierz Brandys) اور فرینکفرٹر (David Frankfurter ) کے ہاتھ لگ جائیں گی۔ ان دو صہیونی یہودیوں نے فورا گیبسن کے ساتھ ایک میٹنگ کی اور میٹنگ میں برینڈیز اور فرینکفرٹر نے گیبسن سے کہا کہ تم نے یہودیوں کے حق میں سب سے بڑی خیانت کی ہے اس لیے کہ دنیا میں اس طرح کی رپورٹوں کو شائع کئے جانے سے صہیونیوں کی تمام محنتیں ضائع ہو گئی ہیں۔ آخر کار گیبسن کو اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا کہ اگر وہ اپنے نظریے کو نہیں بدلیں گے تو پارلیمنٹ (سنا) میں انہیں ووٹ حاصل نہیں ہو پائیں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ صہیونیوں کی کون سی محنتیں تھیں جو گیبسن کی رپورٹوں کے شائع ہونے کی وجہ سے ضائع ہو گئی تھیں؟ اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں صہیونیت کے سربراہوں اور جرمنی میں نازی گروہ کے درمیان پائے جانے والے تعلقات پر غور کرنا ہو گا۔ صہیونیوں نے یہود دشمنی کے مسئلے کو لے کر طول تاریخ میں سب سے زیادہ جو ناجائز فائدہ اٹھایا ہے وہ ہیٹلر کے دور حکومت میں؛ یعنی ۱۹۳۳ سے ۱۹۴۵ کے دوران اٹھایا ہے۔ صہیونی جماعت حتیٰ اس دور میں یہ کوشش کر رہی تھی کہ یہودیوں کی رہائش کے لیے بنائے گئے کیمپوں کو بھی نابود کرے تاکہ اس طریقے سے ظاہر کر سکے کہ یہودی قوم صرف ایک یہودی حکومت میں ہی امن و سکون کا احساس کر سکتی ہے۔
صہیونی حتیٰ جرمنی میں یہودیوں کے لیے امریکی اور برطانوی عہدیداروں کی جانب سے تعمیر کی جانے والی دائمی رہائشگاہوں کے منصوبے کی بھی مخالفت کرتے تھے اور مخالفت کی وجہ بھی یہ تھی کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہودی جرمنی میں ہی ہمیشہ کے لیے رہائش پذیر ہو جائیں اور فلسطین ان کے ہاتھ سے نکل جائے۔ امریکی صدر روزیولٹ (Franklin D. Roosevelt) کے نمائندے موریس ارنسٹ (Moris Ernest) نے یہودی پناہ گزینوں کی مدد کے سلسلے میں صہیونیوں کی مخالفت کے بارے میں اپنی یادداشت میں یوں لکھا: “جب میں یہودیوں کی رہائش کے لیے جگہ تلاش کر رہا تھا، یہودی رہنما نہ صرف مخالفت کرتے تھے بلکہ بعض اوقات میرا مزاق اڑاتے تھے اور یہاں تک کہ مجھ پر حملے بھی کرتے تھے گویا کہ میں ایک خائن ہوں”۔
نیز سنہ ۱۹۳۳ میں صہیونیوں کے بعض رہنماؤں نے نازیوں کے ساتھ ” منتقلی کا معاہدہ” کے زیر عنوان ایک عہد و پیمان باندھا جس پر بہت سارے یہودیوں نے اعتراض کیا۔ اس معاہدے کے مطابق جرمن یہودی جو فلسطین ہجرت کا ارادہ نہیں رکھتے تھے اپنا مال و منال فلسطین منتقل کرنے پر مجبور تھے۔ اس طریقے سے اقتدار کے پوجاری بعض یہودیوں نے اپنے ہم نوعوں کو قربانی کا بکرا بنا کر اپنی خواہشات کو پورا کیا۔ “اڈوین بلک” اپنی کتاب “منتقلی معاہدہ” میں اس حوالے سے لکھتے ہیں: قابل توجہ اور مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ آخر کار ایڈولف ہٹلر بھی اسرائیل کے ایک اہم اقتصادی حامی میں تبدیل ہو گئے تھے”۔
دلچسپ یہ ہے کہ تاریخی مطالعات میں کبھی بھی صہیونیوں اور نازیوں کے درمیان پائے جانے والے اس گہرے رابطے کی طرف اشارہ نہیں ہوتا اور صرف نازیوں کے ظلم و ستم اور یہودیوں کی مظلومیت کو بیان کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ کہنا بجا ہے کہ جرمنی میں یہود دشمنی کی فضا بھی خود صہیونیوں کے ذریعے وجود میں لائی گئی تھی۔ اس لیے کہ یہ صہیونی سربراہان تھے جو پہلی عالمی جنگ میں برطانیہ کی حمایت میں امریکہ کو شامل کر کے جرمنی کی شکست کا باعث بنے۔ اور اس اقدام کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہودیوں کے خلاف جرمنیوں کا غصہ ابھر آیا۔ لہذا آپ مشاہدہ کر رہے کہ مدعی اور دعوے دار شخص خود قصوروار اور مجرم بھی ہے۔ اور یہ تمام منصوبہ بندیاں صہیونیت نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے انجام دیں تاکہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے، مقصد بھی حاصل ہو جائے اور ان کا کسی کو پتہ بھی چلے۔
کتاب: Against our better judgment: the hidden history of how the u.s was used to create Israel,2014.
مولف: Alison weir

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ی/۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=12781

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے