۹ ربیع الاول کی عید افسانہ یا حقیقت؟ - خیبر

مستند جائزہ؛

۹ ربیع الاول کی عید افسانہ یا حقیقت؟

27 نومبر 2018 12:34

نو ربیع الاول کو خلیفۂ دوئم کی وفات کا دعویٰ محکم اور قابل قبول نہيں ہے اور اس کے اوپر کسی قسم کا اجماع نہیں پایا جاتا اور اس دن عرف آداب کے خلاف مراسمات کا انعقاد معصومین علیہم السلام کی سنت و سیرت سے مغایرت رکھتا ہے

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: شیعہ اور سنی روایات کے مطابق خلیفۂ دوئم کو ذوالحجہ سنہ ۲۳ھ کے اواخر میں قتل کیا گیا۔ ان روایات کے مطابق انہیں ۲۶ یا ۲۷ ذوالحجہ کو مغیرہ بن شعبہ کے غلام ابو لؤلؤ نے زخمی کیا اور تین دن بعد ۲۹ یا ۳۰ ذوالحجہ کو زخموں کی تاب نہ لا کر وفات پاگئے۔ اہل سنت کے مؤرخین و محدثین میں یعقوبی، طبری اور مسعودی اور شیعہ علماء و محدثین میں سے شیخ مفید اور ابن ادریس حلّی نے اس روایت کو معتبر گردانا ہے۔
نو ربیع الاول شیعیان اہل بیت کے ہاں یوم العید ہے، اور اس کو محرم، صفر اور آٹھ ربیع الاول کو امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد، ربیع الاول کی اسلامی عیدوں کا آغاز قرار دیا جاتا ہے لیکن کچھ لوگ بے بنیاد مسائل کو بنیاد بنا کر ہفتہ وحدت کے عین آغاز پر، اس موضوع کو اختلاف اور تفرقے کا سبب بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نو ربیع الاول شیعیان عالم کی عید ہے کیونکہ یہ ان کے زمانے کے امام حضرت مہدی علیہ السلام کی امامت کے آغاز کا دن ہے۔ نیز اس کربلا میں لشکر یزید کے سپہ سالار عمر بن سعد کو مختار بن ابی عبیدہ ثقفی نے کوفہ میں جہنم واصل کیا تھا۔
کچھ لوگ نو ربیع الاول کو خلیفۂ دوئم کے قتل کے دن کے طور پر مناتے اور غیر معمولی اور خلاف عرف مراسمات منعقد کرکے معصومین علیہم السلام کی سیرت کو پامال کرتے ہوئے بظاہر اعلان کرتے ہیں کہ وہ اہل بیت علیہم السلام کے دشمنوں سے برائت و بیزاری کا اعلان کرتے ہیں حالانکہ برائت بطور ایک واجب، اسی انداز سے منانا چاہئے جس طرح کہ ہمیں اہل بیت علیہم السلام نے خود ہی حکم دیا ہے اور علمائے امامیہ نے اس کی تائید کی ہے اور اس پر عمل کیا ہے۔  اور پھر آج اہل بیت کے دشمن اسلحہ لے کر میدان میں موجود ہیں اور عجب یہ کہ وہ ان حضرات کے ان اعمال کو ـ جو مسلمانوں کے درمیان اختلاف و انتشار کا سبب بنتے ہیں ـ اسلام اور قرآن کے خلاف بطور اسلحہ استعمال کررہے ہیں۔
بعض خلاف عرف اعمال نہ صرف آیات قرآنی اور سیرت اہل بیت علیہم السلام کے خلاف ہیں بلکہ مسلمانوں اور بالخصوص شیعیان اہل بیت علیہم السلام کی مصلحتوں سے بھی متصادم اور امت مسلمہ کے عمومی مفادات کے خلاف ہیں۔ اسی وجہ سے رہبر انقلاب اور مراجع تقلید نے بارہا ان خلاف عرف افعال و اعمال کو حرام قرار دیتے ہوئے انہيں قانون شکنی اور مسلمانوں کے درمیان انتشار کا سبب گردانا ہے اور سب کو ان کے نہایت خطرناک نتائج سے خبردار کیا ہے۔
آیت اللہ العظمیٰ بہجت(رح) فرماتے ہیں:
“بہت ممکن ہے کہ اس قسم کے اعمال ان ممالک میں شیعیان اہل بیت کے آزار و اذیت اور قتل کا سبب بنیں جہاں شیعہ اقلیت میں ہیں، اس صورت میں اگر ان کے خون کا ایک خطرہ گرے تو ہم اس کا سبب اور اس جرم میں شریک ہیں۔ (۔۔۔) میرا خیال ہے کہ اہل علم یہاں اس قسم کے اعمال میں اہل بیت(ع) کی خدمت کریں تو استدلال والوں کو لئے جو انجام دینا متعین ہے وہ یہ ہے کہ آکر کوشش کریں اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کی ولایت و خلافت کے بارے میں دلیل قائم کریں، سادہ، مدلل اور یقین پیدا کرنے اور یقین تک پہنچانے والی دلیل، یوں کہ اگر اس دلیل کو دیوار کے سامنے پیش کیا جائے اور اذن ملے کہ اپنی رائے بیان کرے، تو وہ تصدیق کردے اور کہہ دے کہ تم حق بجانب ہو۔ اور مجھے یقین کامل ہے اس سلسلے میں کہ استدلال اور ایمان والے اگر ایسی دلیلیں تلاش کرنا چاہیں تو وہ تلاش کرسکتے ہیں۔ نہ کوئی سب، نہ کوئی طعن، نہ کوئی شتم، ان سب کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ یہ استدلال زیادہ اہم ہے اور ممکن ہے۔ خدا جانتا ہے کہ یہ استدلال کتنے ساروں کو حق کے دائرے میں داخل کرتا ہے۔ اس حقیقت سے غافل ہیں کہ جناب یہ [استدلال] مقدم ہے [اور ترجیح اسی کو حاصل ہے]۔ ایک شخص دسیوں استدلالوں میں سے ایک کو فراہم کرچکا ہوتا ہے اور خدا جانتا ہے کہ وہ اسی ایک استدلال کے ذریعے کتنے لوگوں کو بصیرت عطا کردیتا ہے [اور مکتب اہل بیت(ع) کے دائرے میں لاتا ہے]۔
ان راستوں کو اختیار کرنا چاہئے جنہیں مرحوم آقائے بروجردی رحمہُ اللہ نے بھی اختیار کیا، یعنی ہمارے اور اہل سنت کے درمیان کے اشتراکات کو بیان کرنا، اور ان کا طعن و لعن و سبّ ترک کرنا۔ اور [اشتراکات میں سے] ایک “حدیث ثقلین” کا بیان ہے جو کہ فریقین کے درمیان معروف و مشہور ہے۔ (۱)
۔۔۔۔۔
ان مباحث و موضوعات سے الگ، علوم اسلامی کے بہت سے دانشوروں اور علماء نیز مؤرخین کے درمیان اصلی ترین موضوعات میں سے ایک یہ ہے کہ شیعہ اور سنی علماء قائل ہیں کہ خلیفہ دوئم کا یوم وفات سنہ ذوالحجہ سنہ ۲۳ع‍ کے آخری دنوں میں سے ایک تھا۔ اس سلسلے کی ایک تحقیق کے مطابق، اہل سنت کے تمام علماء اور مؤرخین کا اتفاق ہے کہ خلیفۂ دوئم ۲۳ اور ۳۰ ذوالحجہ کے دوران کسی دن وفات پا چکے ہیں اور شیعہ علماء میں سے بھی بہت سوں نے ان ہی کے اقوال کی تصدیق کی ہے۔
نو ربیع الاول کو بعض لوگوں نے خلیفۂ دوئم کی وفات سے منسوب کیا ہے جس کی دلیل ایک روایت ہے جس کو “حدیث رفع القلم” کا نام دیا گیا ہے۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ اس انتساب کی تاریخ چھٹی صدی ہجری کی طرف پلٹتی ہے؛ لیکن یہ روایت خاموشی کے دور کے بعد، صفویہ کے ظہور اور مذہب اہل بیت(ع) کے فروغ کے ساتھ، قول مشہور اور شیعہ تعلیمات کے ایک حصے کے طور پر متعارف کرائی گئی ہے۔ خلیفہ دوئم کے قتل کے اس تاریخ سے انتساب کے کچھ لوگ موافق ہیں اور کچھ مخالف:
موافقین کی رائے متوفیٰ
عبدالجلیل رازی قزوینی (متوفیٰ چھٹی صدی ہجری) نے کسی منبع سے استناد کئے بغیر نو ربیع الاول کو خلیفہ دوئم کا یوم وفات گردانا ہے۔ (۲) لیکن اسی زمانے کے ایک عالم ہاشم بن محمد نے اس کو احمد بن اسحاق سے منسوب کیا ہے اور اس کو “حدیث رفع القلم” کے عنوان سے نقل کیا ہے۔ (۳) علامہ محمد باقر مجلسی، جو صفوی دور کے عالم ہیں اس دن کو خلیفۂ دوئم کا یوم وفات قرار دیتے ہوئے “حدیث رفع القلم” سے ہی استناد کیا ہے۔ (۴) جبکہ علامہ مجلسی نے ہی “زاد المعاد” میں لکھا ہے کہ: روایات کے مطابق نو ربیع الاول کو عمر بن سعد ہلاک کیا گیا تھا۔ (۵)
مخالفین کی رائے
اس روایت کے اور موافقین کے مقابلے میں علمائے شیعہ کی اکثریت اور تمام سنی علماء قائل ہیں کہ خلیفۂ دوئم ماہ ذوالحجہ میں دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔
ان علماء کی بعض دلیلیں حسب ذیل ہیں:
۱۔ شیعہ اور سنی تواریخ کے متعدد منابع و مآخذ کے مطابق، خلیفہ دوئم ذوالحجہ سنہ ۲۳ھ کے آخری ایام میں قتل ہوئے ہیں۔ ان روایات کے مطابق انہیں ۲۶ یا ۲۷ ذوالحجہ کو مغیرہ بن شعبہ کے غلام ابو لؤلؤ نے زخمی کیا اور تین دن بعد ۲۹ یا ۳۰ ذوالحجہ کو زخموں کی تاب نہ لا کر وفات پاگئے۔ اہل سنت کے مؤرخین و محدثین میں یعقوبی، طبری اور مسعودی اور شیعہ علماء و محدثین میں سے شیخ مفید اور ابن ادریس حلّی نے اس روایت کو معتبر گردانا ہے۔
شیخ مفید:
شیخ مفید (متوفیٰ سنہ ۴۱۳ھ) کتاب “مسارالشیعہ” میں لکھتے ہیں: “فى الیوم السادس و العشرین سنة ۲۳ ثلاث و عشرین من الهجرة طعن عمربن الخطاب… و فى التاسع و العشرین منه قبض؛ عمربن خطاب ۲۶ ذوالحجہ سنہ ۲۳ھ کو زخمی ہوئے اور ۲۹ ذوالحجہ کو وفات پاگئے”۔ (۶)
ابن ادریس حلّی:
محمد بن منصور بن احمد بن ادریس حلّی عجلی معروف بہ ابن ادریس حلّی، (متوفیٰ سنہ ۵۷۸ھ) اپنی کتاب “السرائر” میں نو ربیع الاول کو خلیفہ دوئم کے قتل کی روایت کو شدت سے مسترد کرتے ہوئے لکھتے ہیں: “فى الیوم السادس والعشرین منه، سنة ثلاث وعشرین من الهجرة، طعن عمربن الخطاب وفى التاسع والعشرین منه، قبض عمربن الخطاب… وقد یلتبس على بعض أصحابنا یوم قبض عمربن الخطاب، فیظن أنّه یوم التاسع من ربیع‏الأول، و هذا خطأ من قائله، بإجماع أهل التاریخ والسیر، وقد حقق ذلک شیخنا المفید، فى کتابه کتاب التواریخ، وذهب إلى ما قلناه؛ (۷) عمربن خطاب ۲۶ ذوالحجہ سنہ ۲۳ھ کو زخمی ہوئے اور ۲۹ ذوالحجہ کو وفات پاگئے۔ لیکن یہ بات بعض علماء پر مشتبہ ہوئی ہے اور انھوں نے گمان کیا ہے کہ عمر بن خطاب نو ربیع الاول کو دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔ لیکن مؤرخین اور سیرت نگاروں کے اجماع کے مطابق، نو ربیع الاول کی تاریخ غلطی ہے جو اس کے قائل سے سرزد ہوئی ہے۔ شیخ مفید نے بھی اپنی کتاب تواریخ میں ۲۶ ذوالحجہ کو صحیح مانا ہے اور ان کی رائے بھی ہماری طرح ہے”۔
سید بن طاؤس
رضی الدین علی بن موسی بن طاؤس المعروف بہ “سید ابن طاؤس” (متوفیٰ ۶۶۴ھ) نے اپنی کتاب “اقبال الاعمال” میں ذوالحجہ کے اعمال کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ خلیفۂ دوئم اسی مہینے کے آخری دنوں میں وفات پا چکے ہیں۔ (۸)
شیخ ابراہیم کفعمی
تقی‌الدین ابراہیم بن علی عاملی کَفعَمی (متوفیٰ ۹۰۵ھ)  کہتے ہیں کہ ۲۶ ذوالحجہ سنہ ۲۳ھ کو عمر بن خطاب کے یوم وفات کے سلسلے میں شیعہ اور سنی علماء کا اجماع پایا جاتا ہے، تا ہم وہ اپنی کتاب “جنۃ الامان الوافیۃ و جنۃ الایمان الباقیۃ” میں لکھتے ہیں: “فى السابع والعشرین طعن عمر بن الخطاب ومن زعم انه قتل فى یوم التاسع من ربیع‏الاول فقد اخطأ وقد نبهنا على ذلک فیما تقدم عند ذکر شهر ربیع الاول؛ ۲۷ ذوالحجہ کو عمر بن خطاب زخمی ہوئے اور جس نے یہ گمان کیا ہے کہ وہ نو ربیع الاول کو قتل ہوئے ہیں، بےشک وہ غلطی پر ہے اور ہم نے ماہ ربیع الاول کے باب میں اس سلسلے میں آگاہ کیا ہے”۔ (۹)

علّامہ حلّى
ابو منصور جمال الدین، حسن بن یوسف بن مطہر حلّی المعروف بہ علامہ حلّی، (متوفیٰ ۷۲۶ھ) اپنی کتاب “تذکرۃ الفقہاء” میں ۲۶ ذوالحجہ کو عمر بن خطاب کا یوم وفات قرار دیا ہے۔ (۱۰)
شیخ بہائی
ذوالحجہ میں خلیفہ دوئم کی وفات کی شہرت اس قدر زیادہ تھی کہ بہت سے اکابرین ـ منجملہ شیخ بہائی شیخ محمد بن عزّ الدین حسین (المتخلص بہ بہائی و المعرف بہ شیخ بہائی و بہاء الدین العاملی (متوفیٰ  ۹۶۶ھ)، جو باوجود اس کے کہ صفویہ کے ہم عصر تھے اور یہ دور مذہب اہل بیت(ع) کی تبلیغ اور فروغ کے عروج کا دور تھا ـ ۲۶ پوری تاکید و صراحت کے ساتھ ۲۶ ذوالحجہ کو عمر بن خطاب کا یوم وفات قرار دیتے ہیں۔ (۱۱)
علامہ مجلسی
حتیٰ کہ محمد باقر مجلسی، المعروف بہ علامہ مجلسی و مجلسی ثانی، (۱۰۳۷ھ) ‍ـ جو کہ نو ربیع الاول کے جشن کے قائل ہیں ـ شیعہ علماء کے درمیان ذوالحجہ کی تاریخ کی شہرت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: “اقول ما ذکر أنّ مقتله کان فى ذى‏الحجه هو مشهور بین فقهائنا الامامیة؛ میں کہتا ہوں کہ یہ جو بیان ہوا ہے کہ خلیفہ دوئم ذوالحجہ میں وفات پائے، ہمارے فقہاء امامیہ فقہاء کے درمیان مشہور ہے”۔ (۱۲)
 شیخ عباس قمی
شیخ عباس بن محمد رضا القُمی المعروف بہ شیخ عباس قمی (متوفیٰ ۱۳۵۹ھ) نے “تتمۃ المنتہی” میں ۲۶ ذوالحجہ کو خلیفۂ دوئم کا یوم وفات قرار دیا ہے۔ (۱۳)

اہل سنت کے مؤرخین و محدثین کے درمیان ـ ذوالحجہ میں خلیفہ دوئم کی وفات پر ـ اجماع پایا جاتا ہے۔
ذوالحجہ کی تاریخ کے قائل بعض سنی اور شیعہ مآخذ حسب ذیل ہیں:
• مرُوج الذَہب، علی بن حسین مسعودی(متوفیٰ ۳۴۶ھ)، ج۲، ص۱۳۵۲۔
• تاریخ یعقوبی، یعقوبی (متوفیٰ ۲۸۴ھ)، ج۲، ص۱۵۹۔
• تاریخ مدینہ، ابن شَبہ نمیری (متوفیٰ ۲۶۲ھ)، ج۳، ص۸۹۵ و ۹۴۳۔
• تاریخ خلیفہ بن خیاط، خلیفہ بن خیاط عصفری (متوفیٰ ۲۴۰ھ)، ص۱۰۹۔
• أخبار الطوال، ابوحنیفہ دینوری (متوفیٰ ۲۸۲ھ)، ص۱۳۹۔
• تاریخ کبیر، بخاری (متوفیٰ ۲۵۶ھ)، ج۶، ص۱۳۸۔
• المصنف، ابن أبی شیبہ کوفی (متوفیٰ ۲۳۵ھ)، ج۸، ص۴۱۔
• تاریخ طبری، طبری (متوفیٰ ۳۱۰ھ)، ج۳، ص۲۶۵۔
• المعارف، ابن قُتَیبہ دینَوری (متوفیٰ ۲۷۶ھ)، ص۱۸۳۔
• فتوح، أحمد بن أعثم کوفی (متوفیٰ ۳۱۴ھ)، ج۲، ص۲۳۲۹۔
• موطأ، مالک بن انس (متوفیٰ ۱۷۹ھ)، ج۲، ص۸۲۴۔
• الآحاد والمثانی، ضحاک (متوفیٰ ۲۸۷ھ)، ج۱، ص۱۰۲۔
• المصنف، عبدالرزاق صنعانی (متوفیٰ ۲۱۱ھ)، ج۱۱، ص۳۱۵۔
• مسند احمد، احمد بن حنبل (متوفیٰ ۲۴۱ھ)، ج۱، ص۵۵۔
• طبقات الکبریٰ، محمد بن سعد (متوفیٰ ۲۳۰ھ)، ج۳، ص۳۶۴۔
• أنساب الأشراف، بلاذری (متوفیٰ ۲۷۹ھ)، ج۱۰، ص۴۳۹۔
• المحبر، محمد بن حبیب ہاشمی بغدادی (متوفیٰ ۲۴۵ھ)، ص۱۴۔
• الثقات، ابن حبان (متوفیٰ ۳۵۴ھ)، ج۲، ص۲۳۸۔
• مسند ابن جعد، علی بن جعد بن عبید (متوفیٰ ۲۳۰ھ)، ص۱۹۵۔
• التنبیہ والإشراف، علی بن حسین مسعودی (متوفیٰ ۳۴۵ھ)، ص۲۵۰۔
• استیعاب، ابن عبد البِرّ (متوفیٰ ۴۶۳ھ)، ج۳، ص۱۱۵۲
• المعجم الکبیر، طبرانی (متوفیٰ ۳۶۰ھ)، ج۱، ص۷۰۔
• مستدرک، حاکم نیشاپوری (متوفیٰ ۴۰۵ھ)، ج۳، ص۹۲۔
• التعدیل والتجریح، سلیمان بن خلف باجی (متوفیٰ ۴۷۴ھ)، ج۳، ص۱۰۵۴۔
• سنن کبریٰ، بیہقی (متوفیٰ ۴۵۸ھ)، ج۸، ص۱۵۰۔
• البدء و التاریخ، مطہر بن طاہر مقدسی (متوفیٰ ۵۰۷ھ)، ج۵، ص۱۹۱۔
• تاریخ مدینۀ دمشق، ابن عساکر (متوفیٰ ۵۷۱ھ)، ج۴۴، ص۱۴۔
• صفوہ الصفوہ، ابن جوزی (متوفیٰ ۵۹۷ھ)، ج۱، ص۲۹۱۔
• الإنباء، ابن عمرانی (متوفیٰ ۵۸۰ھ)، ص۴۸۔
• اُسدالغابہ، ابن اثیر (متوفیٰ ۶۳۰ھ)، ج۴، ص۷۷۔
• شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید (متوفیٰ ۶۵۶ھ)، ج۱۲، ص۱۸۔
• مفید، مسارالشریعہ، ۱۴۱۴ق، ص۴۲۔
• ابن‌ادریس، السرائر، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۴۱۹۔
• شیخ عباس قمى، تتمہ ‏المنتہى، تحقیق ناصر باقرى بیدہندى، ص۲۱۸۵۔
• حسن‏بن یوسف حلّى، تذکرہ ‏الفقہا، ج۶، ص۱۹۵؛ وہی مؤلف، منتہى‏ المطلب، ج۲، ص۶۱۲۔
• ابراہیم کفعمى، المصباح، ص۵۱۰۔
• سید ابن طاؤس، اقبال‏ الاعمال، ج۲، ص۳۷۹۔

۲۔ تاریخ کی گواہی کے مطابق، خلیفۂ دوئم کے بعد، تیسرے خلیفہ کی بیعت ذوالحجہ کے آخر اور محرم الحرام کے آغاز میں انجام پائی جو اس بات کی ناقابل انکار دلیل ہے کہ دوسرے خلیفہ کی وفات ذوالحجہ کے اواخر اور تیسرے خلیفہ کی بیعت سے قبل، انجام پائی ہے۔ منقول ہے کہ خلیفہ دوئم پر قاتلانہ حملے کے فورا بعد خلیفۂ دوئم کی بنائی ہوئی چھ رکنی شوری کا اجلاس ہوا اور خلیفہ ہی کی وصیت کے مطابق عبدالرحمن بن عوف کی رائے کو مقدم رکھا گیا اور عثمان بن عفان کے ہاتھ پر تیسرے خلیفہ کے عنوان سے، بیعت کی گئی۔ (۱۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حدیث رفع القلم
جو لوگ اس بات کے قائل ہوئے ہیں کہ خلیفۂ دوئم نو ربیع الاول کو وفات پا گئے ہیں، ان کے اس تصور کا سرچشمہ “حدیث رفع القلم” ہے؛ جو ایک غیر معتبر حدیث ہے۔ پہلی بات یہ کہ یہ حدیث ہمارے اصلی اور متقدم مآخذ حدیث میں سے کسی بھی ماخذ میں نقل نہیں ہوئی ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ متن اور سند کے لحاظ سے اس حدیث میں متعدد خامیاں اور نقائص ہیں اور علمائے حدیث نے اس کی جرح کی ہے نیز بہت سے مؤرخین کا خیال ہے کہ اگر اس ضعیف روایت کو قبول بھی کریں، پھر بھی شیعہ اور اہل سنت کے منابع میں ذوالحجہ میں خلیفۂ دوئم کی وفات پر موجودہ اتفاق رائے کے ہوتے ہوئے، اسے لائق اعتنا قرار نہیں دیا جاسکتا۔
حدیث رفع القلم کیا ہے؟ 
مجلسی نے  ایک روایت کے ضمن میں سید بن طاؤس کی کتاب “زوائد الفوائد”، اور شیخ حسن بن سلیمان حلی کی کتاب “المحتضر” سے نو ربیع الاول کی فضیلت اور اعمال نقل کرتے ہیں۔ اس روایت کے آغاز میں بیان ہوا ہے کہ “خلیفۂ دوئم کا یوم وفات نو ربیع الاول تھا”؛ اس دن کے لئے متعدد مستحب اعمال نقل ہوئے ہیں اور اس کی عظمت اور فضیلت میں سخن فرسائیاں ہوئی ہیں۔
ہم یہاں حدیث کے متن کے بارے میں کوئی وضاحت دینے سے پہلے اس حدیث کے ماخذ اور اس کے راویوں اور سلسلۂ سند کو بیان کررہے ہیں:
کتاب زوائد الفوائد، علامہ مجلسی کی تصریح کے مطابق، سید بن طاؤس کی کاوشوں میں سے ہے، (۱۵) لیکن “علامہ محمد محسن آقا بزرگ طہرانی” نے اس کتاب کو سید ابن طاؤس کے فرزند کی کاوش قرار دیا ہے۔ (۱۶) “علامہ سید محسن العاملی” بھی اس کتاب کو سید ابن طاؤس کی کاوش قرار دیتے ہیں اور لکھتے ہیں: “سید رضی الدین نے اس کتاب کے کچھ صفحات میں زور دے کر ہا ہے کہ ان کا نام اور ان کی کنیت ان کے والد سید بن طاؤس کی مانند ہے”؛ (۱۷) چنانچہ صحیح یہ ہے کہ یہ کتاب سید ابن طاؤس کے فرزند کی تالیف ہے۔
نو ربیع الاول کو خلیفہ دوئم کا یوم وفات قرار دینے والی روایت حسن بن سلیمان حلّی کی کتاب “المحتضر” میں بھی نقل ہوئی ہے، اور علامہ مجلسی نے خود واضح کیا ہے کہ انھوں نے یہ روایت المحتضر سے نقل کی ہے۔ (۱۸) البتہ علامہ مجلسی اس روایت کو بحارالانوار کے دوسرے حصے میں “دعاء” کے سلسلے میں منقولہ روایات کے ضمن میں سید ابن طاؤس کی کتاب زوائد الفوائد سے نقل کرتے ہیں۔ (۱۹)
حدیث کا جائزہ
الف۔ یہ حدیث ہمارے بنیادی اور متقدم مآخذ میں نقل نہیں ہوئی ہے حالانکہ اس حدیث میں شیعیان اہل بیت(ع) کی ایک عظیم عید کے اعلان کی کوشش کی گئی اور بہت ہی بعید ہے کہ اتنی بڑی عید تشیع کے لئے قرار دی گئی ہو لیکن شیعہ کتب حدیث میں اس کا ذکر تک نہ ہو اور شیخ یعقوب کلینی، شیخ صدوق اور شیخ طوسی جیسے اکابرین اس سے غافل رہے ہوں۔
ب۔ علامہ مجلسی کے قول کے مطابق، سید ابن طاؤس نے “ابْنُ أَبِی الْعَلَاءِ الْہَمْدَانِیُّ الْوَاسِطِیُّ” اور “یَحْیَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حُوَیْجٍ الْبَغْدَادِیُّ” نامی افراد سے یہ واقعہ نقل کیا ہے جبکہ اسی روایت کو شیخ حسن بن سلیمان حلی نے “ابن ابی العلاء”، یحییٰ بن محمد جریح (اور حویج) البغدادی سے نہیں بلکہ “مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلَاءِ الْہَمْدَانِیِّ الْوَاسِطِیِّ” سے نقل کیا ہے چنانچہ ان دو کتابوں میں اسی ایک راوی کا نام ہی متنازعہ ہے۔
ج۔ عبارت “یوم رفع القلم” اگر اس دن کے معنی میں آئی ہو کہ جس دن “لوگوں کے گناہ نہیں لکھے جاتے، اور لوگوں کو ہر قسم کے گناہ انجام دینے کی مکمل آزادی ہے؟! تو یہ دعویٰ بنیادی طور پر اصولِ عقائد اور قرآن و سنت کے مسلّمات سے متصادم ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حرام حتیٰ کے لمحے کے لئے حلال ہوجائے؟ اللہ تعالیٰ نے کوئی قید و شرط لگائے بغیر ارشاد فرمایا ہے:
“يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتاً لِّيُرَوْا أَعْمَالَهُمْ ٭ فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ ٭ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً يَرَهُ؛ تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی اسے بھی دیکھ لے گا ٭ اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہو گی اسے بھی دیکھ لے گا”۔ (۲۰)
علاوہ ازیں یہ روایت کافی طویل ہے اور اس روایت کی مذکورہ بالا تشریح “کہ جو چاہو کرو، کوئی گناہ نہیں لکھا جائے گا” اسی روایت کے بقیہ حصوں سے متعارض اور متغایر ہیں کیونکہ اسی روایت میں نو ربیع االاول کو زہد و پارسائی، توبہ اور اللہ کے ساتھ رازو نیاز اور اس کی طرف پلٹنے اور تزکیۂ نفس کا دن قرار دیا گیا ہے۔ (۲۱) اس قسم کے اعمال کو کیونکر اس بات کے ساتھ جمع کیا جاسکتا ہے کہ اس دن ہر گناہ کا ارتکاب جائز ہے؟؟؟
د۔ شیخ صدوق نے کتاب “عیون اخبار الرضا علیہ السلام” اور اپنی دوسری کتاب “فضائل الشیعہ” میں اسی مضمون پر مشتمل دو روایتیں نقل کی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ “شیعیان اہل بیت سے قلم اٹھایا گیا ہے، (یعنی وہ گناہ کرتے نہیں ہے کہ ان کے لئے گناہ لکھا جاسکے”)۔ لیکن وہ دونوں مطلق ہیں اور کسی خاص دن کے لئے محدود نہیں ہیں۔
عیون اخبار الرضا(ع) میں امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: “ہمارے پیروکاروں سے قلم اٹھایا گیا ہے۔ راوی کہتا ہے: میں نے پوچھا: میرے مولا یہ کیونکر ممکن ہے؟ فرمایا: کیونکہ انہیں حکم ہوا ہے کہ باطل کی حکومت میں تقیہ اختیار کریں، اور اس سلسلے میں ان سے عہد لیا گیا ہے؛ اور ہماری خاطر انہيں کافر قرار دیا جاتا ہے، لیکن ہمیں ان کی وجہ سے کافر قرار نہيں دیا جاتا، اور انہیں ہماری راہ میں قتل کیا جاتا ہے۔ لیکن ہمیں ان کی خاطر قتل نہیں کیا جاتا؛ ہمارے پیروکاروں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو گناہ کا ارتکاب کرے مگر یہ کہ غم و اندوہ ان کو گھیر لیتا ہے، اور یہ غم و اندوہ ان کے گناہوں کی بخشش کا سبب بنتا ہے۔۔۔” (۲۲)
شیخ صدوق نے کتاب “فضائل الشیعہ” میں نقل کیا ہے کہ ابوحمزہ کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا کہ “ہمارے پیروکاروں سے قلم اٹھایا گیا ہے، اس لئے کہ خداوند متعال انہیں اپنی عصمت اور ولایت کے ذریعے انہيں گناہ اور نافرمانی سے محفوظ رکھتا ہے (۲۳) [اور وہ گناہوں کا ارتکاب نہیں کیا کرتے]۔
ان دو حدیثوں میں تھوڑا سا غور و تفکر کرکے “رفع قلم” کے بالکل مختلف معانی سامنے آتے ہیں؛ ان احادیث کی رو سے ـ بالخصوص عیون اخبار الرضا(ع) کی روایت میں، جہاں امام رضا(ع) نے اس کی کافی شافی وضاحت کی ہے ـ رفع قلم کی تشریح یوں کی جاسکتی ہے کہ: رفع قلم سے مراد شیعیان اہل بیت علیہم السلام کی عِقاب و عذاب سے معافی ہے اس لئے کہ وہ اللہ کے دین کے واسطے بےشمار تکالیف برداشت اور صعوبتین جھیل لیتے ہیں اور انہیں بھاری مشقتیں اٹھانا پڑتی ہیں۔ یہ معنی بہت زیادہ مختلف ہے اس بات سے کہ ہم کہہ دیں کہ “شیعیان اہل بیت(ع) سال کے چند ایام میں آزاد ہیں کہ جو چاہیں کریں اور وہ جو بھی عمل انجام دیں کوئی گناہ ان کے علم نامے میں نہیں لکھا جاتا۔ بلکہ یہ روایت بیان کرتی ہے کہ ممکن ہے کہ شیعہ گناہ کریں اور ان کی پاداش میں انہیں سزا ملے؛  لیکن خداوند متعال ان مصائب و مشکلات اور دشواریوں کے عوض ـ جو انہیں اس کے دین اور مذہب اہل بیت(ع) کی راہ میں برداشت کرنا پڑتی ہیں ـ ان کے گناہوں کو تدریجا بخش دیتا ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہتا ہے یہاں تک کہ روز قیامت وہ گناہوں سے پاک ہوکر محشور ہوجائیں۔ یہ بات ہمارے اصولِ عقائد سے ہمآہنگ ہے۔ قرآن کریم میں خداوند کریم کا ارشاد ہے:
“وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ آمَنُواْ وَاتَّقَوْاْ لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلأدْخَلْنَاهُمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ”؛ اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور پرہیز گاری اختیار کرتے تو ان کی غلطیوں کو ہم نظر انداز کر دیتے اور انہیں راحت و آرام والے بہشتوں میں جگہ دیتے”۔ (۲۴)
اس سنت الہیہ کو قرآن کریم میں “تکفیر” کہا گیا ہے۔ علامہ جعفر سبحانی لکھتے ہیں: “تکفیر” کے معنی پردہ پوشی کرنے کے ہیں؛ زارع (کاشتکار) کو کافر کہتا کیونکہ وہ دانوں کو مٹی میں چھپا دیتا ہے اور اللہ تعالی نے فرمایا ہے: “كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ؛ جیسے وہ بارش جس کی پیداوار کے نباتات نے کافروں (کسانوں) کو حیرت میں ڈال دیا”۔ (۲۵) نیز خداوند متعال کا ارشاد گرامی ہے: “رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا؛ اب تو ہمارے لیے ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہماری غلطیوں کی تلافی کرا دے”۔ (۲۶) اس آیت کریمہ میں لفظ “تکفیر” کے معنی تلافی کرانے، چھپانے اور دور کرنے کے معنی میں آیا ہے۔
کتاب فضائل الشیعہ کی روایت میں بھی “رفع قلم” اس معنی میں آیا ہے کہ چونکہ خداوند متعال (حقیقی اور عامل و مخلص) شیعوں کو اپنی عصمت اور ولایت کے ذریعے گناہوں سے محفوظ رکھتا ہے، لہذا وہ کسی گناہ کا ارتکاب کرتے ہی نہیں کہ ان کے لئے کوئی گناہ لکھا جائے؛ یعنی فنی اصطلاح کے مطابق، سالبہ بانتفاء موضوع ہے، یعنی ان سے قلم اٹھایا گیا ہے اور ان کے لئے گناہ نہیں لکھا جاتا کیونکہ وہ گناہ کا ارتکاب ہی نہیں کرتے اور ایسا ہرگز نہیں ہے کہ وہ گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں لیکن ان کے گناہوں کو ان کے عمل نامے میں نہيں لکھا جاتا۔
نتیجہ یہ کہ اگر ہم نو ربیع الاول والی حدیث کو قبول کر لیں اور سند اور متن و مندرجات کے لحاظ سے اس کے نقائص سے چشم پوشی کریں تو بھی “یوم رفع القلم” کی تشریح اس صورت میں صحیح ہوگی کہ “نو ربیع الاول کا دن وہ دن ہے کہ جب خداوند متعال شیعیان اہل بیت(ع) کے گناہوں کو ـ اللہ اور رسول خدا(ص) اور آل رسول(ص) کی راہ میں تقیہ اختیار کرکے ان کے جھیلے ہوئے مصائب اور اٹھائی ہوئی مشقتوں اور برداشت کئے ہوئے مظالم کے عوض ـ اپنی حکمت کی رو سے محو کردیتا ہے اور ان کی تلافی کراتا ہے۔
سند و متن و مضمون
یہ روایت، علاوہ ازیں کہ خبر واحد ہے، ماخذ اور سند کے لحاظ سے بھی عیوب و نقائص سے بھری ہوئی ہے اور بعض علماء نے اس کے مضمون اور عبارت کو معیوب قرار دیا ہے۔ چنانچہ اس لحاظ سے بھی اس گمان کی تصدیق کرنا ممکن نہیں ہے جبکہ دوسری طرف سے متعدد روایات میں خلیفہ دوئم کی وفات کو ذوالحجہ میں بیان کیا گیا ہے اور لگتا ہے کہ ذوالحجہ میں خلیفہ دوئم کی وفات کا سب سے اہم ثبوت یہ ہے کہ خلیفۂ سوئم کی بیعت ذوالحجہ سنہ ۲۳ھ کے آخر اور محرم سنہ ۲۴ھ کے آغاز میں انجام پا چکی ہے؛ اور اظہر من الشمس ہے کہ ایک خلیفہ کی وفات کے بعد ہی اگلے خلیفہ کی بیعت انجام پایا کرتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حدیث رفع القلم کے بارے میں مراجع تقلید کی آراء
رہبر انقلاب اسلامی، آیت اللہ العظمیٰ سید علی امام خامنہ ای
ہر کلام یا کردار اور سلوک اور رویہ، جو حال حاضر میں دشمن کو بہانہ فراہم کرے یا مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور انتشار کا سبب بنے، شرعاً حرام مؤکّد ہے۔ (۲۷)
آیت اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی
اولاً: ان خاص ایام کے لئے رفع القلم کے عنوان سے کوئی حدیث معتبر مآخذ میں نقل نہیں ہوئی ہے؛
ثانیاً: فرض کرتے ہیں کہ ایسی کوئی چیز ہو بھی ـ (جو کہ نہیں ہے) ـ تو یہ کتاب و سنت سے متصادم ہے اور ایسی کوئی روایت کسی صورت میں بھی قابل قبول نہيں ہے اور حرام اور گناہ کسی بھی وقت مُجاز نہیں ہے اور اہل بیت علیہم السلام کے مقدس نام پر گناہ پر مشتمل مجالس منعقد کی جائیں؛ قلم ان صرف نابالغ بچوں، پاگلوں اور مجانین اور ان لوگوں سے اٹھایا گیا ہے جو نیند کی حالت میں ہوتے ہیں؛ اور معاذ اللہ [یہ ممکن ہی نہیں ہے] کہ ائمۂ معصومین علیہم السلام نے ان ایام یا دوسرے ایام میں افراد کو ارتکاب گناہ کی اجازت دی ہو۔ اور اگر فرض کیا جائے کہ یہ حدیث صحیح ہے تو بھی اس کے معنی یہ ہونگے کہ “اگر کسی سے کوئی لغزش سرزد ہوجائے تو اللہ انہیں بخش دیتا ہے” نہ یہ کہ ارادہ کرکے گناہ سے آلودہ ہوجائیں۔
ثالثاً: اہل بیت عصمت علیہم السلام کے دوستوں کا ان کے دشمنوں سے تولّا اور تبرّا ہمارے مذہب کے ارکان میں سے ہے، لیکن تولا اور تبرا کے صحیح راستے موجود ہیں، نہ یہ غلط راستے جو کچھ لوگ اپناتے ہیں اور ایسا کوئی بھی عمل نہیں کرنا چاہئے کہ مسلمین کی صفوں میں شگاف پڑ جائے۔  (۲۸)
آیت اللہ العظمیٰ حسین نوری ہمدانی
کسی خاص دن کے لئے رفع قلم کے عنوان سے ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے اور مسلمانوں کو اختلاف اور تفرقے سے پرہیز کرنا چاہئے اور سنجیدگی کے ساتھ ہر اس چیز سے اجتناب کرنا چاہئے جو مذہب کی توہین کا سبب بنتی ہے۔ (۲۹)
آیت اللہ العظمیٰ محمد فاضل لنکرانی
رفع القلم کے عنوان سے منقولہ حدیث صحیح نہیں ہے، بلکہ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اپنے دینی واجبات پر عمل کرے اور اس سلسلے میں سال کے مختلف ایام میں کوئی فرق نہيں ہے اور ایسے اعمال کا ارتکاب جائز نہیں ہے جو مسلمانوں کے درمیان انتشار اور شیعہ کی ہتک و توہین کا سبب بنتے ہیں۔ (۳۰)
 آیت اللہ العظمیٰ لطف اللہ صافی گلپایگانی
نو ربیع الاول اور دوسرے ایام میں کوئی فرق نہيں ہے اور رفع قلم کا دعویٰ صحیح نہیں ہے۔ (۳۱)
آیت اللہ العظمیٰ میرزا جواد تبریزی
مذکورہ روایت صحیح نہیں ہے اور ایام کے درمیان کوئی فرق نہیں اور معصیت، معصیت ہے۔ (۳۲)
نو ربیع الاول کیوں؟
سوال یہ ہے کہ “نو ربیع الاول کو کیوں خلیفہ دوئم کے یوم وفات کے طور پر شہرت ملی ہے؟” اور علماء اور دانشوروں نے اس سوال کا جواب یوں دیا ہے:
۱۔ حدیث رفع القلم
سب سے پہلی اور اہم دلیل حدیث رفع القلم ہے، جس پر مندرجہ بالا سطور پر سیر حاصل بحث ہوئی اور ثابت کیا گیا کہ نہ تو حدیث رفع القلم معتبر ہے اور نہ ہی خلیفۂ دوئم کی وفات کا مہینہ ربیع الاول ہے۔
۲۔ عمر بن کی ہلاکت
عمر بن سعد بن ابی وقاص، جسے یزید بن معاویہ کی طرف سے کوفہ کے کارگزار عبیداللہ بن زیاد نے اپنے لشکر کا سپہ سالار بنا کر امام حسین علیہ السلام کے خلاف لڑنے کے لئے کربلا روانہ کیا اور ۱۰ محرم الحرام سنہ ۶۱ھ کو امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اہل خاندان اور اصحاب میں سے ۷۲ افراد نے اسی کے لشکر کے ہاتھوں جام شہادت نوش کیا۔ علامہ مجلسی کی کتاب “زاد المعاد” کی روایت کے مطابق نو ربیع الاول کے دن مختار بن ابی عبیدہ ثقفی کے ہاتھوں ہلاک ہوا۔ (۳۳) بعض تاریخی تجزیہ نگاروں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ شاید نام کی مشابہت کی وجہ سے سمجھا گیا ہے کہ خلیفۂ دوئم کی وفات کا دن نو ربیع الاول ہے حالانکہ نو ربیع الاول عمر بن سعد کی ہلاکت کا دن ہے۔
۳۔ عصر آل بویہ کے تنازعات
بعض محققین نے امکان ظاہر کیا ہے کہ نو ربیع الاول کا خلیفۂ دوئم کی وفات سے انتساب، عباسیوں کے دور کے حکمران شیعہ خاندان آل بویہ کے دور کی طرف پلٹتا ہے۔ اس زمانے میں فرقہ وارانہ تنازعات نے زور پکڑا اور ایک طرف سے “غار ثور میں ابوبکر بن ابی قحافہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے ساتھ ہمراہی کا دن”، یا متعصب حنبلیوں کی طرف سے “مصعب بن زبیر کی عزاداری کا دن”، منایا جانے لگا تھا تو دوسری طرف سے شیعہ “عید غدیر کا دن”، “عاشورا کا دن” وغیرہ منایا کرتے تھے، اور فریقین اس انداز سے اپنی عصبیت کا اظہار کرتے تھے؛ چنانچہ اسی فرقہ وارانہ تعصب کی بنا پر کچھ شیعوں کی کوشش تھی کہ خلیفۂ دوئم کے یوم وفات کے موقع پر جشن منائیں اور خوشی کا اظہار کریں؛ اور چونکہ خلیفۂ دوئم ذوالحجہ کے آخر میں وفات پا چکے تھے اور اس کے فورا بعد محرم کے ایام عزا آتے تھے، چنانچہ انھوں نے یہ مراسمات مؤخر کرکے محرم اور صفر کے بعد منانا شروع کئے۔ اور رفتہ رفتہ یہ تصور ابھرا کہ گویا خلیفہ دوئم ربیع الاول میں وفات پا چکے ہیں۔ (۳۴)
۴۔ آغاز ولایت امام زمانہ(ع)
بعض مؤرخین و محدثین ـ بالخصوص معاصر علماء اور دانشوروں نے نو ربیع الاول کے جشن و سرور کو امام زمانہ(ع) کی ولایت و امامت کے آغاز سے منسوب کیا ہے اور ان کا خیال ہے کہ شیعیان اہل بیت عدل و انصاف کے غلبے اور امام زمانہ(ع) کے ظہور کے انتظار کے طور پر، اس دن کو خوشی مناتے ہیں۔
 معاصر علماء کی رائے
حامد کاشانی
جدید دور کے علماء و محققین کی قطعی رائے یہ ہے کہ خلیفۂ دوئم سنہ ۲۳ھ کے ذوالحجہ کے مہینے کے آخر میں وفات پا چکے ہیں۔ بطور مثال، تاریخ اسلام کے نامی گرامی استاد علامہ حامد کاشانی نے “رجا نیوز” کے نامہ نگار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: نو ربیع الاول کے دن خلیفۂ دوئم کے قتل کی روایت قابل قبول نہیں اور وہ ذوالحجہ سنہ ۲۳ھ کے آخری ایام میں وفات پا چکے ہيں۔
جواد سلیمانی
تاریخ اسلام کے استاد اور امام خمینی انسٹٹیوٹ برائے تعلیم و تحقیقات کے فیکلٹی رکن (Faculty member) حجت الاسلام و المسلمین نے بھی مذکورہ نامہ نگار کے جواب میں کہا کہ یہ روایت بالکل صحیح نہیں ہے کہ خلیفۂ دوئم نو ربیع الاول کو وفات پا گئے ہیں۔
ڈاکٹر محمد حسین دوانی
تاریخ اسلام کے نامی گرامی استاد جامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد حسین رجبی دوانی اپنے ایک انٹرویو میں کہا: نو ربیع الاول کو عیدالزہراء کے عنوان سے منایا جانے والا رواج، ایک عامیانہ رواج ہے جس کو کسی طور پر بھی شیعہ اقدار اور شعائر کے کھاتے میں نہیں ڈالا جاسکتا، جبکہ بزرگ شیعہ علماء نے اس قسم کی رسومات کو اتحاد بین المسلمین میں خلل ڈالنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ یہ ایک عامیانہ رسم ہے جس کو بعض لوگوں نے مسلمانوں کے مفادات اور مصلحتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے رائج کیا؛ حالانکہ تاریخی لحاظ سے نو ربیع الاول خلیفۂ دوئم کی وفات کا دن نہيں ہے۔
۔۔۔۔۔
چنانچہ نو ربیع الاول کو خلیفۂ دوئم کی وفات کا دعویٰ محکم اور قابل قبول نہيں ہے اور اس کے اوپر کسی قسم کا اجماع نہیں پایا جاتا اور اس دن عرف آداب کے خلاف مراسمات کا انعقاد معصومین علیہم السلام کی سنت و سیرت سے مغایرت رکھتا ہے، مراجع تقلید کے فتاویٰ سے متصادم نیز مسلمانوں کے مفادات اور مصلحتوں کے منافی ہے۔ البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ اور اہل بیت علیہم السلام کے دشمنوں سے برائت و بیزاری بھی واجب ہے جس کے لئے تمام تر آداب رسول اللہ اور آل رسول اللہ(ص) کی طرف سے ہم تک پہنچے ہیں اور ہمیں اسی طرح عمل کرنا چاہئے اور ولی فقیہ اور مراجع تقلید کی روش اپنانا چاہئے، جو کہ ائمہ معصومین علیہم السلام کے احکامات سے مطابق رکھتی ہے۔ اور ہر ایسے اقدام، عمل اور رویے سے اجتناب کرنا چاہئے جو مسلمانوں کے درمیان انتشار کا سبب ہو؛ کیونکہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف ان قوتوں کے مفاد میں ہے جو خود مسلمانوں کے درمیان اختلاف پھیلانے کے لئے کروڑوں، اربوں ڈالر خرچ کررہے ہیں، اور آج کے زمانے کے عملی اور میدانی دشمنان اہل بیت کے زمرے میں آتی ہیں، اور یہ وہی قوتیں ہیں جو محمد و آل محمد(ص) کے عملی اور زندہ دشمنوں کے زمرے میں آتی ہیں، وہی جن سے برائت و بیزاری کا اظہار کرنا واجب ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ محمد حسین رخشاد، گلچین کتاب در محضر بہجت، ص۶۔
۲۔ عبدالجلیل رازی قزوینی، بعض مثالب النواصب فی نقض بعض فضائح الروافض، ۱۳۵۸ھ ش، ص۳۵۳۔
۳۔ حسن بن سلیمان حلّی، المحتضر، ۱۳۷۰ھ، ص۴۴٫
۴۔ علامہ محمد باقر مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۳۱، ص۱۱۹ و ۱۲۰۔
۵۔ مجلسی، زاد المعاد، ص۲۵۸۔
۶۔ محمد بن محمد مفید، مسارالشیعہ فى مختصر تواریخ الشریعة، ص۴۲۔
۷۔ محمد بن ادریس حلّی، السرائر الحاوي لتحرير الفتاوي، ج۱، ص۴۱۸۔
۸۔ سید بن طاؤس، رضی الدین علی بن موسیٰ، اقبال‏ الاعمال، ج۲، ص۳۷۹۔
۹۔ کفعمى، ابراہیم بن علی حارثی، المصباح، ص۵۱۰۔
۱۰۔ حسن بن یوسف حلّى، تذکرۃ ‏الفقہاء، ج۶، ص۱۹۵؛ وہی مؤلف، منتہى‏ المطلب، ج۲، ص۶۱۲۔
۱۱۔ شیخ بہائى، بہاء الدین محمد بن حسین العاملی، توضیح ‏المقاصد، ص۳۳۔
۱۲۔ مجلسى، بحارالانوار، ج۳۱، ص۱۱۸۔
۱۳۔ شیخ عباس قمى، عباس بن محمد رضا، تتمۃ ‏المنتہى، تحقیق ناصر باقرى بیدہندى، ص۲۱۸۵۔
۱۴۔ طبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، تحقیق: محمد ابوالفضل ابراہیم، ۱۳۸۷ھ، ج۴، ص۱۹۴؛ یعقوبی، احمد بن اسحاق، تاریخ الیعقوبی، دار صادر، ج۲، ص۱۶۲۔
۱۵۔ مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار، ج‏۹۵، ص۳۵۱، انتشارات دار احیاء التراث، بیروت، ۱۴۰۳ھ
۱۶۔ طہرانی، آقا بزرگ، الذریعة إلى ‏تصانیف ‏الشیعة، ج‏۱۲، ص۵۹[۲] ، اسماعیلیان، قم، ۱۴۰۸ھ
۱۷۔ امین، سید محسن، أعیان ‏الشیعة، ج‏۲، ص۲۶۷، دار التعارف للمطبوعات، بیروت، ۱۴۰۶ھ
۱۸۔ مجلسی، بحار الأنوار، ج‏۳۱، ص۱۲۔
۱۹۔ مجلسی، بحار الأنوار، ج‏۹۵، ص: ۳۵۱۔
۲۰۔ سورہ زلزال، آیات ۷ و ۸۔
۲۱۔ مجلسی، بحار الأنوار، ج‏۳۱، ص۱۲۸۔
۲۲۔ صدوق، محمد بن علی، عیون أخبار الرضا(ع)، ترجمہ غفارى و مستفید، ج‏۲، ص۵۷۵، نشر صدوق، تہران، ۱۳۷۲ھ ش۔
۲۳۔ صدوق، محمد بن علی، فضائل الشیعۃ، ترجمہ توحیدى، ص۴۳، انتشارات زرارہ، تہران، ۱۳۸۰ھ ش۔
۲۴۔ سورہ مائدہ، آیت ۶۵۔
۲۵۔ مزید معلومات کے لئے دیکھئے: سبحانی، جعفر، محاضرات فی الإلٰہیات، تلخیص ربانی گلپایگانی، ص۴۵۱، انتشارات موسسہ امام صادق(ع)، قم، ۱۴۲۸ھ)۔
۲۶۔ سورہ آل عمران، آیت ۱۹۳۔
۲۷۔ استفتائات جدید، سوال نمبر ۴۳۹۔
۲۸۔ مہدی مسائلی، نہم ربیع الاول، جہالتہا، خسارتہا، ص ۱۰۳ – ۱۱۹۔
۲۹۔ مہدی مسائلی، نہم ربیع الاول، جہالتہا، خسارتہا، ص۱۰۷۔
۳۰۔ مہدی مسائلی، نہم ربیع الاول، جہالتہا، خسارتہا، ص۱۱۲۔
۳۱۔ آیت اللہ صافی گلپایگانی، جامع الاحکام، ج۲، ص۱۲۹، سوال نمبر: ۱۵۸۔
۳۲۔ آیت اللہ تبریزی تبریزی استفتائات ج۲، ص۵۱۶، سوال نمبر: ۲۱۰۷۔
۳۳۔ مجلسی، زاد المعاد، ۱۴۲۳ق، ص۲۵۸)
۳۴۔ صادقی کاشانی، نہم ربیع؛ روز امامت و مہدویت، مشرق موعود، ۱۳۹۱ش، ص۴۴ و ۴۵۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۰۰۱

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=15544

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے