عالمی سامراج اور داعش کی جانب سے سوشل میڈیا کا استعمال




کتنی عجیب بات ہے ایک طرف تو داعش جیسی تکفیری تنظیموں کے لئے یہ فراخ دلی دوسری طرف یہی مغربی ممالک اکثر و بیشتر ایسے اکاونٹس کو فورا بند کر دیتے ہیں، جن میں کوئی شدت پسندی کا پھیلاو نہیں ہوتا اور وہ بغیر کسی شدت پسندی کے اسلام کی تبلیغ کا کام انجام دیتے ہیں۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ہم سبھی اس بات سے واقف ہیں کہ سوشل میڈیا کا اصل پلیٹ فارم سامراج کے ہاتھوں میں ہے اور سوشل میڈیا کے زیادہ تر چینلز وہیں سے آپریٹ ہوتے ہیں ان پر سامراجیت کا قبضہ ہے ، ایسے میں یہ ہماری بہت ہی زیادہ سادگی ہوگی کہ ہم سوشل میڈیا کو محض اطلاع رسانی کا ایک ذریعہ تسلیم کریں، یہ مختلف چینلز مغرب کے ہاتھوں میں ایک ایسا آلہ اور ذریعہ ہیں جنکے ذریعہ مغربی اور سامراجی ممالک اپنے خاص اہداف و مفادات کے حصول کی منصوبہ بندی کرتے رہے ہیں اور اپنی خاص اسٹراٹیجی کے تحت انہیں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کام میں لاتے ہیں ۔
با این ہمہ ہم دیکھتے ہیں کہ مغرب نے داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کا ہاتھ بھی سوشل میڈیا کے استعمال کے سلسلہ سے کھلا رکھا ہے۔
ایک طرح سے دیکھا جائے تو یہ ایک بام و دو ہوا والا معاملہ ہے، مغرب کی جانب سے داعش کے سوشل میڈیا کے استعمال پر خاموش رہنا اس فرض کی تقویت کا سبب ہے کہ آج عالمی سامراجیت داعش کی حمایت اور انکے افکار کے پھیلاو کے سلسلہ سے مصروف عمل ہے۔
اس تکفیری گروہ کی جانب سے سوشل میڈیا کا ایک استعمال، شدت پسندانہ کاروائیوں کو منظر عام پر لانا ہے، جبکہ سوشل میڈیا کے بنیادی دستور میں یہ بات واجب و لازمی قرار دی گئی ہے کہ شدت پسندانہ مواد کو ڈلیٹ کر کے اکاونٹ کو بلاک کر دیا جائے گا، لیکن اس قانون کے ہوتے ہوئے مختلف ایسے اکاونٹ موجود ہیں جن سے مسلسل وہ شدت پسندانہ مواد سوشل میڈیا پر شئیر کر رہے ہیں اور کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مختلف اکاونٹ کسی ایک اکاونٹ کے تحت ہوتے ہیں اور ایک محوری اکاونٹ سے اپنا مواد حاصل کرتے ہیں اور یہ محوری اکاونٹ ایک ماں کی حیثیت سے اپنے ذیل میں آنے والے اکاونٹ کو غذا فراہم کر رہا ہوتا ہے۔
وسیع پیمانے پر اجتماعی پھانسیوں کے مناظر، موت کے گھاٹ اتارے جانے کے مناظر، اپنے ہی علاقے، یا مقبوضہ علاقے کے لوگوں کے اور اسیروں کے سروں کے اتارنے کے مناظر، انکے اعضا کو کھانے اور چبانے کے مناظر اسی قسم کی دیگر کارگزایاں اور شدت پسندانہ کاروائیاں وہ چیزیں ہیں جنہیں داعش بے خوف و خطر سوشل میڈیا کے ذریعہ پھیلاتے رہتے ہیں۔
اگر داعش کی جانب سے سوشل میڈیا پر خوف و ہراس پھیلانے کے کسی ایک نمونہ کو پیش کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ عراق کے حوادث میں سوشل میڈیا کا استعمال داعش کی جانب سے اس قدر وسیع پیمانے پر تھا کہ داعش کی جانب سے نفسیاتی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لئے اور اغیار کی جاسوسی و سیکورٹی سروسز کے پروپیگنڈوں سے مقابلہ کے لئے آپسی تعلقات کے تمام ایپ اور سماجی رابطوں کی تمام سائٹس اور سوشل میڈیا کے تمام ذرائع کو عراق میں فلٹر کرنا پڑا۔
کتنی عجیب بات ہے ایک طرف تو داعش جیسی تکفیری تنظیموں کے لئے یہ فراخ دلی دوسری طرف یہی مغربی ممالک اکثر و بیشتر ایسے اکاونٹس کو فورا بند کر دیتے ہیں، جن میں کوئی شدت پسندی کا پھیلاو نہیں ہوتا اور وہ بغیر کسی شدت پسندی کے اسلام کی تبلیغ کا کام انجام دیتے ہیں۔
یا ہلوکاسٹ کے مسئلہ پر انکا اعتراض ہوتا ہے ، اسرائیل کے سلسلہ سے مذمت ہوتی ہے ، یا اسرائیل کی مخالفت میں مواد ہوتاہے۔
یہ تمام وہ فعالیتیں ہیں جنہیں دیکھتے ہی اکثر و بیشتر اکاونٹ بند کر دیے جاتے ہیں۔ نمونے کے طور پر ہم حزب اللہ ، و حماس کے بعض پیجز کے بند ہونے کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں
البتہ شدت پسندانہ تنظیموں اور داعش جیسے گروہوں کے بعض اکاونٹس کو اس وقت ضرور بند کر دیا جاتا ہے جب لوگوں کی جانب سے شدید اعتراض ہوتا ہے ایسے موقع پر بھی سماجی رابطوں کی سائٹس کو ادارہ کرنے والے افراد یا انکی انتظامیہ اس وقت لوگوں کے اعتراض و مخالف کے آگے مجبور ہو کر بعض موارد میں شدت پسندانہ مواد کے اکاونٹس و چینلز کو بند کرتے ہیں جب شدت پسندانہ مواد پر مشتمل ویڈیوز اپنا اثر دکھا کر مخاطب کے دل و دماغ کو متاثر کر چکے ہوتے ہیں اور یہ کام بھی محض مخالفت و تنقید کا سامنا نہ کر پانے کے وجہ سے ہوتا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ی/ت/۱۰۰۰۲