ہندوستان کے حالیہ ریاستی انتخابات، بس دو دن ہی کی تو بات ہے




شاید یہی وجہ ہے کہ ان انتخابات کو سیمی فائنل انتخابات سے تعبیر کیا جا رہا ہے جس سے واضح ہوگا کہ فائنل میں کون پہنچ رہا ہے اور کون دوڑ سے ہی باہر ہے۔ ان انتخابات میں اگر حکمراں جماعت کو شکست ہوتی ہے تو کانگریس کو ملکی سیاست کا رخ موڑ نے کا ایک موقع فراہم ہوجائے گا



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ہندوستان کی پانچ ریاستوں میں گزشتہ نومبر اور حالیہ دسمبر کے دوران کئی مرحلوں میں اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالنے کا عمل پورا ہو گیا اور اب عوام کی نظریں ٹی وی اسکرین پر ہیں جس میں الگ الگ انداز سے ہر چینل انتخابی رجحانات کو پیش کر رہا ہے حالیہ ہونے والے انتخابات کی پانچ میں سے تین ریاستوں یعنی مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی اقتدار میں ہے۔ جبکہ جنوبی ریاست تلنگانہ میں ایک علاقائی جماعت اقتدار کی کرسی پر براجمان ہے جبکہ شمال مشرقی ریاست میزورم میں کانگریس برسراقتدار ہے۔ مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی ۱۵ برس سے اقتدار میں ہے جبکہ راجستھان میں وہ پانچ برس پہلے اقتدار میں آئی تھی۔ وہاں گذشتہ ۲۵ برس سے کوئی بھی جماعت مسلسل دو بار جیت نہیں حاصل کر سکی ہے۔اگر بی جے پی ایک بار پھر مدھیہ پردیش اور راجستھان میں جیت جاتی ہے )جو کہ موجودہ انتخابی رجحانات کے پیش نظر مشکل نظر آ رہا ہے [۱]( تو پارلیمانی انتخابات کے لیے یہ اس کی بہت بڑی سیاسی کامیابی تو ہوگی ہی نفسیاتی طور پر بھی وہ آئندہ کا الیکشن پورے اعتماد کے ساتھ لڑے گی [۲]۔ اسکی یہ جیت جہاں اپوزیشن کو بالکل کھدیڑ کر باہر کر دیگی وہیں ہندوستان میں سیکولرزم کی ایک بڑی ہار ہوگی اور موجودہ ہندوستان کے حالات کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ہندوتوا کا نظریہ ہی نئی حکومت کے سیاسی فلسفےکانقطہ پر کار ہوگا اور ہندوستان میں مذہب کو استعمال کرنے کی سیاست ایک فیصلہ کن تاریخ رقم کرنے کی درپے ہوگی لیکن اگر بی جے پی کے اقتدار والی ان دو ریاستوں میں نتائج حکمراں جماعت کے خلاف ہوں گے تو یہ ملکی سیاست میں دوبارہ سیکولرزم کی واپسی کی دستک ہوگی اور اسکا صاف مطلب یہ ہوگا کہ ہندوستانی رائے دہندگان نے ذات پات اور مذہب کی سیاست کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنے حقوق کی بحالی کے لئے اسے چنا ہے جسے اپنے حق کی لڑائی کے لئے بہتر جانا ہے یہ اور بات ہے کہ بر سر اقتدار آنے والی پارٹی انکے حقوق کے مطالبات نہ سنے اور بی جے پی ہی کی راہ پر چلتے ہوئے سرمایہ داروں کا بھرا پیٹ مزید بھرنے میں لگ جائے ۔اگر ان پانچ ریاستی انتخابات میں بی جے پی کو شکست ہوتی ہے آئندہ سال کے ہونے والے عام انتخابات میں اگلا وزیر اعظم کون ہوگا اسکا مطلع بھی کافی صاف ہو جائے گا اس لئے یہ انتخابات آنے والے ۲۰۱۹ کے انتخابات کے لئے بہت کلیدی حیثیت کے حامل ہیں بقول سینئر صحافی ظفر آغا ” یہ انتخابات ہندوستانی جمہوری نظام کی بقا کے لیے انتہائی اہم انتخابات ہیں۔ کیونکہ یہ انتخابات طے کر دیں گے کہ چند ماہ بعد یعنی مئی ۲۰۱۹ میں لوک سبھا کے ہونے والے انتخابات کے کیا نتائج ہوں گے[۳] شاید یہی وجہ ہے کہ ان انتخابات کو سیمی فائنل انتخابات سے تعبیر کیا جا رہا ہے جس سے واضح ہوگا کہ فائنل میں کون پہنچ رہا ہے اور کون دوڑ سے ہی باہر ہے ۔ ۔ ان انتخابات میں اگر حکمراں جماعت کو شکست ہوتی ہے تو کانگریس کو ملکی سیاست کا رخ موڑ نے کا ایک موقع فراہم ہوجائے گا ۔ راہل گاندھی کی جوان قیادت جوانوں کی دھڑکن بن جائے گی ور ملک کی شمالی ریاستوں میں بی جے پی کے خلاف ایک متحدہ محاذ تشکیل دینے کے راستے ہموار ہو جائیں گے اس طرح بی جے پی کی مشکلیں بہت بڑھ جائیں گی ور اسے پارلیمانی انتخاب کے لیے ایک نئی حکمت عملی تیار کرنا ہوگی بہت ممکن ہے کہ وہ ایک بار پھر گھسے پٹے بابری مسجد کے بے جان کے مسئلہ میں مذہبی جنون کی روح پھونکنے کی کوشش کرے یا کوئی ایسا نیا ایشو کھڑا کرے جس کے ذریعہ مذہب کا کارڈ کھیلا جا سکتا ہو ۔

آگے کیا ہوگا پتہ نہیں گرچہ موجودہ ایگزٹ پول کے نتائج یہ کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی کے لئے اقتدار میں واپسی اتنی آسان نہیں ہوگی[۴] چاہے دیگر ریاستوں میں اسے کچھ حاص ہو بھی جائے لیکن راجستھان میں اسکی دال گلنا مشکل ہے [۵] اسی طرح چھتیس گڑھ میں بھی اسے لوہے کے چنے چبانا پڑ سکتے ہیں [۶] اسکی ممکنہ ہار کا ایک سبب کسانوں اور عام لوگوں کا اسکے خلاف کھڑا ہونا بیان کیا جا رہا ہے [۷] اور قرائن کے پیش نظر زیادہ امکان اس بات کا ہے عوام اسے مسترد ہی کر دیں گے۔ اسی لئے انتخابات پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے “اگر یہ مرحلہ بخوبی طے ہو گیا تو بس سمجھیے کہ لوک سبھا کا مرحلہ بھی بخوبی طے ہو جائے گا۔ اس کا سب سے اہم سبب یہ ہے کہ ان انتخابات میں اپوزیشن کی کامیابی سے جو بی جے پی مخالف ماحول بنے گا وہ لوک سبھا میں نریندر مودی کے لیے آخری کیل ثابت ہوگا۔ ویسے بھی ۵ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات سے قبل ہی ملک کا موڈ بدل چکا ہے۔ بی جے پی مخالف ماحول تیزی سے بننے لگا ہے۔ خود سنگھ پریوار گھبرایا گھبرایا سا ہے”[۸] اس صورت حال میں بہت ہی زیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے کہ آنے والے انتخابات کے لئے حکمران جماعت کو کوئی بہانہ نہ مل سکے نہ ہی منصف مزاج ہندو اور نہ ہی مسلمان دونوں ہی کو کسی مسئلہ میں الجھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اسکا سیدھا فائدہ فسطائی طاقتوں کو پہنچے گا ، سنگھ پریوار کی گھبراہٹ کی وجہ بھی یہی ہے کہ ایک طرف انکی سیاست مسلسل ناکام ہو رہی ہے تو دوسری طرف عوام آہستہ آہستہ سمجھ رہے ہیں کہ انکے ساتھ کیا ہورہا ہے اور کس طرح مذہب کے نام پر انہیں بیوقوف بنا کر اپنا الو سیدھا کیا جا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر الیکشن کے بعد حکمراں جماعت کی کامیابی کا صور پھونکنے والے چلینز بھی اب احتیاط سے کام لے رہے ہیں ۔چنانچہ بی بی سی ہندی کے مطابق زیادہ تر نیوز چیلنز حکومت کے خیمے میں ہونے کے باوجود بھی جب اپنے رجحانات کے پیش نظر بی جے پی کو کامیابی سے بہت دور دکھا رہے ہیں [۹]تو تقریبا نتائج واضح ہیں کہ کیا ہو سکتا ہے لیکن قطعی نتائج کے آنے تک انتظا تو کرنا ہی ہوگا خیر دو دن ہی کی تو بات ہے منگل تک سب کچھ پتہ ہی چل جائے گا ، جہاں اتنے دن وہیں دو دن اور سہی بس دو دن کے بعد پتہ چل جائے گا عوام کسے کرسی سے نیچے گھسیٹتے ہیں اور کسے کرسی تک پہنچاتے ہیں ۔

تحریر: ایس سندر وویک کمار

حواشی :

[۱] ۔https://indianexpress.com/elections/assembly-election-result-exit-polls-2018-rajasthan-madhya-pradesh-mizoram-telangana-chhattisgarh-5483298/

[۲] ۔https://www.bbc.com/urdu/regional-46492416

[۳] ۔ https://www.qaumiawaz.com/political/defeat-modi-in-assembly-elections-and-save-the-nation-column-by-zafar-agha

[۴] ۔http://thewireurdu.com/47103/assembly-elections-exit-polls-bjp-congress/

[۵] ۔https://timesofindia.indiatimes.com/india/exit-polls-predict-congress-win-in-rajasthan-divided-on-mp-and-chhattisgarh/articleshow/66995133.cms

[۶] ۔https://www.indiatoday.in/elections/story/exit-polls-election-2018-live-updates-assembly-elections-5-states-1404547-2018-12-07

[۷] ۔ https://www.bbc.com/hindi/india-46492131

[۸] ۔ https://www.qaumiawaz.com/political/defeat-modi-in-assembly-elections-and-save-the-nation-column-by-zafar-agha

[۹] ۔https://www.bbc.com/hindi/india-46492131

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/خ/۱۰۰۰۲