کیا ایک بار پھر حکومت کی ناکامیاں جے شری رام کے نعروں میں گم ہو جائیں گی؟




ان تمام باتوں کے پیچھے ظاہر ہےمطلب ہی یہی ہے کہ کسی طرح عوام کی توجہات کو انکے ضروری مسائل سے ہٹا کر سب کچھ ایک بار پھر مندر سے جوڑ دیا جائے ،اس طرح ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر شری رام کوتاہیوں اور ناکامیوں پر پردہ پوشی کا سبب بن جائیں گے اور غریبوں و ناداروں کے حق کی آواز جے شری نام کے نعروں میں گم ہو کر رہ جائے گا



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ۹ دسمبرکووشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کی جانب سے اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے مطالبے پر اتوار کو دارالحکومت کے رام لیلا میدان میں ‘ دھرم سنسد’ کے نام سے ایک عام ریلی منعقد ہوئی۔ جس کے بارے میں وی ایچ پی کے جوائنٹ سکریٹری سریندر جین نے کا کہنا تھا ” دھرم سنسد کا مقصد رام مندر کی تعمیر کے لئے تمام سیاسی جماعتوں پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں رام مندر کی تعمیر کے لئے بل منظور کروایا جا سکے”[۱]۔ وی ایچ پی کے ترجمان ونود بنسل نے بھی ریلی سے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ  “یہ بہت بڑی ریلی ہوگی۔ یہ عام ریلی رام مندر کی تعمیر کے لئے پارلیمنٹ میں بل نہ لانے والوں کا ارادہ بدل دے گی۔[۲] قابل غور ہے کہ دارالحکومت میں وی ایچ پی کی یہ ریلی پارلیمنٹ کےسرمائی اجلاس شروع ہونے سے ٹھیک پہلے منعقد ہوئی یہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ  پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کو وزیر اعظم نریندر مودی کے دور اقتدار کے آخری مکمل سیشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس ۱۱ دسمبر سے شروع ہو جائے گا اور اسی دن دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی بھی شروع ہوگی۔  ریلی  کا بظاہر مقصد رام مندر ہے لیکن اس ریلی کے پیچھے کی سیاست کو لوگ بخوبی سمجھ رہے ہیں کہ مسلسل حکومت کی ناکامیوں کے سبب  سنگھ پریوار کے لئے ضروری تھا کہ ایسا کچھ کریں جس سے  حکومت کے غبارے سے نکلتی ہوا کو روکا جا سکے اچھی بات کہی کسی نے “ایودھیا میں دھرم سبھا کی ناکام ریلی کے بعد دہلی کے رام لیلا میدان میں مندر کی تعمیر کو لیکر ایک عام ریلی کے انعقاد سے سنگھ اور اس کی ذیلی تنطیموں نے واضح کر دیا ہے کہ آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات سے پہلے رام مندر تعمیر کے مدعے کو اتنا بڑا کر کے پیش کیا جائے کہ اس میں رافیل، نوٹ بندی، جی ایس ٹی، بے روزگاری، کسانوں کے مسائل سب اس کے سامنے بونے ہو جائیں۔ اسی کوشش میں وی ایچ پی کی جانب سے رام لیلا میدان میں دھرم سبھا کا انعقاد کیا گیا اور پورے ملک میں یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ جیسے رام مندر ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے سب سے اہم مدعا ہے۔”[۳] ریلی کے پیچھے کی منصوبہ بندی خود بخود اسکے بانیان کی تقریروں سے جھلک رہی ہے  چنانچہ اس ریلی میں امڈی بھیڑ اور حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی سہولتوں کو فی الحال ایک طرف رکھتے ہوئے صرف ریلی میں بھاشن دینے والے لوگوں  کے رخ کو دیکھیں تو بہت کچھ واضح ہو جاتا ہے  بھیا جی جوشی سے لیکر دیگر چھوٹے بڑے لیڈروں نے جو کچھ کہا اسکا مطلب واضح تھا کہ آنے والا ۲۰۱۹ ء کا الیکشن ایک بار پھر رام مندر کے ایشو پر لڑا جائے گا  اگر ۲۰۱۹ میں کچھ کرنا ہے تو ابھی سے اسکے لئے بگل بجانا ہوگا ،لہذا ایسی بات کہنی ضروری ہے جس کے بل پر عوام کے ذہن میں یہ بات بٹھائی جا سکے کہ ایک بار پھر ہمیں موجودہ حکمراں جماعت ہی کو منتخب کرنا ہے ورنہ سارے خواب بکھر کر رہ جائیں گے، لہذا اطلاعات کے مطابق اسی بنا پرسنگھ کے سر سنگھ چالک بھیا جی جوشی نےاپنی تقریر میں واضح طور پر کہا۔ ’’ ہم بھیک نہیں مانگ رہے، رام مندر پر جلد قانون بنائے حکومت ۔ہم چاہتے ہیں جو بھی ہو امن وامان سے ہو، جھگڑا کرنا ہوتا تو انتظار نہیں کرتے، اس لئے تمام لوگ اس میں مثبت پہل کریں، ہمارا کسی کے ساتھ تنازعہ نہیں، رام راجیہ میں ہی امن و سکون ہے ‘‘ انہوں نے عدالت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا’’ عدالت کی ساکھ بنی رہنی چاہیے، جس ملک میں عدالت پر سے یقین کم ہوتا ہے اس کی ترقی ہونا ناممکن ہے، لہذا عدالت کو جذبات کا احترام کرنا چاہیے، ملک پر حملہ کرنے والوں کے نشانات مٹنے چاہیے‘‘۔
وی ایچ پی کے کارگزار صدر آلوک کمار نے بھی عدالت سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’اتنا اہم مدعا عدالت کی ترجیحات میں ہی نہیں ہے اس لئے کب تک عدالت کا انتظار کیا جائے ۔ اب تو حکومت کو ہی رام مندر کی تعمیر کے لئے قانون بنانا چاہے‘‘۔[۴]دیکھا جائے تو اب  ہندوتو نظریات رکھنے والی پارٹیوں کو معلوم ہے کہ اگر لوگوں کی توجہ انکے مسائل پر گئی، اور عوامی مسائل پر چرچا اور گفتگو ہوتی رہی تو انکی دال نہیں گلنے والی ہے اسکے لئے ضروری ہے کہ پھر سے ایک بار اسی خاموش چنگاری کو بھڑکایا جائے جس کے چلتے برسوں ہندوستانی عوام کو بیوقوف بنا کر کارپوریٹ گھرانوں میں عیش و عشرت کی محفلیں سجتی رہیں اور غریب دو دو روٹیوں کو ترستا رہا  لہذا اب لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈالی جا رہی ہے کہ  آرڈینس جاری کر کے حکومت سے مندر بنانے کی راہ ہموار کرائی جا سکتی ہے [۵] ایسا صرف انکے مطالبات میں نہیں ہے بلکہ خبروں کے مطابق بی جے پی کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ راکیش سنہا رام مندر کی تعمیر کو لے کر پرائیویٹ ممبر بل لانے کی تیاری میں ہیں۔ اور اس اس ممبر کی جانب سے  ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے پرائیویٹ ممبر بل لانے کا اعلان بھی ہو گیا ہے ۔انہوں نے واضح طور پر کہا: ” واضح ہے کہ ۲۰۱۹ کے انتخابی سال سے ٹھیک پہلے ایودھیا مسئلہ ایک مرتبہ پھر پارلیمان کے ساتھ ساتھ عوامی بحث کا حصہ بننے جا رہا ہے۔ ایسی صورت حال میں اگر وہ پرائیویٹ ممبر بل لاتے ہیں تو اپوزیشن جماعتیں اس کی حمایت کریں گی یا نہیں”۔
ان ساری باتوں کے پیش نظر ہر ایک انسان سمجھ سکتا ہے کہ موجودہ  دھرم سبھا یا دھرم سنسد ریلی کے پیچھے کیا ہے؟  ایک بار پھر اس مندر کے مسئلہ کو اٹھایا جانا  اس اعتبار سے بھی قابل غور ہے کہ کچھ ہی دن ہوئے کسانوں کی ایک زبردست ریلی اسی دہلی میں ہوئی تھی جس میں کسانوں نے حکومت کے سامنے اپنے مطالبات رکھے تھے ان کسانوں میں ہندو بھی تھے اور مسلمان بھی، سب کے مطالبے ایک ہی تھے کہ حکومت  انکے مسائل کو سمجھے۔  یہ وہ چیز ہے جس کے لئے حکومت کو سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت تھی منصوبہ اور حکمت عملی کی ضرورت تھی لیکن جس حکومت کے پاس کوئی منصوبہ  ہی نہ ہو اور اپنی غلط پالسیوں کی بنا پر وہ خود اپنے ہی خیمہ میں رہنے والے سینئر راہنماوں کے حملوں کی زد پر ہو [۶]وہ عام  لوگوں اور کسانوں  کے لئے کیا کر سکتی ہے؟ جو  حکومت جذبات و احساس بھڑکا کر اپنا کام کرتی ہو اسے ضرورت کیا ہے سر کھپانے کی؟ یہی وجہ ہے اصلی مسائل سے توجہ ہٹاکر عوام کو حاشیہ میں الجھاکر کرسی پر بیٹھے رہنے کے لئے ہندوتو نظریہ رکھنے والی تنظمیں ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر ایک بار پھر آگے ہیں کہ  الیکشن نزدیک ہے کچھ تو کرنا ہی ہوگا  اور یہ بات ہم نہیں کہہ رہے بلکہ  کسانوں کی تحریک سے وابستہ سوراج انڈیا کے قومی صدر یوگیندر یادونے صاف طور پر کہا تھا  “کہ کسانوں اور بے روزگار نوجوانوں کے مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی غرض سے ہر الیکشن کی طرح اس بار بھی ۲۰۱۹ کے عام انتخابات کے مدنظر رام مندر کا معاملہ اچھالا جا رہا ہے۔
یوگیندر یادو نے یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ کسان تحریک نے اب وسیع ترشکل اختیار کرلی ہے اور حال ہی میں دہلی منعقد کسان ریلی میں ملک بھر سے آئے کسانوں نے اپنی آواز بلند کی۔ انھوں نے زور دیا کہ اس سے ثابت ہوگیا کہ کسانوں کا مسئلہ ان کا اپنا خود کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے اور اسی ریلی کے جواب میں آج دہلی کے رام لیلا میدان میں رام بھکتوں کو جمع کیا جارہا ہے”[۷]۔ جو کچھ ہو رہا ہے اتنی مہارت کے ساتھ ہو رہا ہے کہ بظاہر ایسا لگے جیسے سخت گیر ہندو تنظیمیں حکومت سے ناراض ہیں جبکہ در پردہ مکمل طور پر سب کی آرزو یہی ہے کہ ایک بار پھر مودی کو حکومت میں آنا چاہیے اسکے لئے  زمینی حقائق کو مختلف  ان چینلز و سائٹس پر دیکھا جا سکتا ہے جنہوں نے اس ریلی کو مکمل طور پر کور کیا ہے [۸] ۔
ایودھیا دی ڈارک نائٹ { Ayodhya The Dark Night   } کے مصنف دهيريندرا جا . Dhirendra K Jha کے بقول جو کچھ بھی حالیہ دنوں میں ہو رہا ہے وہ سب ایک منظم منصوبہ بندی کا   بیانگر ہے انکے بقول “رام بھرت آ چاریئے کا بیان ، آرایس ایس کے سربراہ کی گفتگو  خود وزیر اعظم کی باتیں اور اسکے ساتھ ساتھ وشو ہندو پریشد کے یک بعد دیگرے پروگرامز یہ سب بغیر مطلب کے تونہیں ہیں “[۹] ۔ ان تمام باتوں کے پیچھے ظاہر ہےمطلب ہی یہی ہے کہ کسی طرح عوام کی توجہات کو انکے ضروری مسائل سے ہٹا کر سب کچھ ایک بار پھر مندر سے جوڑ دیا جائے ،اس طرح ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر  شری رام کوتاہیوں اور ناکامیوں پر پردہ پوشی کا سبب بن جائیں گے اور غریبوں و ناداروں کے حق کی آواز جے شری نام کے نعروں میں گم ہو کر رہ جائے گا ۔

حواشی

[۱] Read more at http://www.uniurdu.com/vhp-ram-temple-

[۲]  ۔ rally/national/news/1430939.html#7ydHLyfd5XBPiKTy.99

[۳]  ۔ https://www.qaumiawaz.com/national/vhp-holds-dharma-sabha-at-delhis-ramlila-maidan

[۴]  ۔https://www.qaumiawaz.com/national/general-elections-the-matter-of-the-ram-temple-was-hot-again

[۵]  ۔ https://www.bbc.com/hindi/india-46500536

۔https://www.qaumiawaz.com/national/general-elections-the-matter-of-the-ram-temple-was-hot-again

[۶]   تفصیل کے لئے دیکھیں ۔ https://www.qaumiawaz.com/national/pm-modi-behavior-like-mad-king-says-yashwant-sinha

[۷]  ۔ https://www.qaumiawaz.com/national/dharm-sabha-live-vhp-raises-slogan-for-ram-mandir-in-ramlila-maidan-delhi-police-announced-traffic-advisory

[۸]  ۔ https://www.bbc.com/hindi/india-46500536

[۹]  ۔ https://www.bbc.com/hindi/india-46485467

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: ایس سندر وویک

ختم شد/ت/۱۰۰۰۲