اسرائیلی فوج نے ایک اور فلسطینی نوجوان کو موت کی نیند سلا دیا




عینی شاہدین کے مطابق قابض اسرائیلی فوج نے ۲۷ سالہ عمر حسن عوام کی جانب فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اس کی کمر میں کئی گولیاں پیوست ہو گئیں۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، فلسطین الیوم ویب سائٹ کے مطابق صہیونی فوجیوں نے غرب اردن کے شہر الخلیل میں ایک ستائیس سالہ نوجوان عمر حسن العواودہ کو گولی مار کر شہید کر دیا ہے۔
صہیونی فوجیوں نے دعوی کیا ہے کہ اس فلسطینی نوجوان کو اس وقت گولی مار دی گئی جب اس نے سیکورٹی چیک پوسٹ پر رکنے سے انکار کردیا – فلسطین کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے اس فلسطینی نوجوان کی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ زخموں کی شدت کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگیا۔
صہیونی فوجی آئے دن مختلف بہانوں سے فلسطینی شہریوں پر فائرنگ کرکے انہیں شہید اور زخمی کردیتے ہیں پا پھر گرفتار کرلیتے ہیں۔
اس درمیان فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے فلسطینی عوام کے خلاف صیہونیوں کے بے تحاشا مظالم کے بارے میں اقوام متحدہ کی خاموشی پر تنقید کی ہے۔
حماس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صہیونی ریاست فلسطینی عوام کا قتل عام کررہی ہے، فلسطینیوں کی زمینوں پر جبرا قبضہ کررہی ہے، فلسطینی علاقوں کو یہودی اور صیہونی آبادیوں میں تبدیل اور فلسطینی شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے بھی محروم کررہی ہے۔
حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ صیہونی حکومت غزہ کا محاصرہ جاری اور فلسطینیوں کے پرامن واپسی مارچ کو کچل کر انسانی حقوق کے عالمی منشور کی بدستور خلاف ورزی کررہی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/خ/۱۰۰۰۳