حمایت فلسطین کانفرنس کا پس منظر




علامہ اقبال نے لکھا: ”فلسطین کا مسئلہ مسلمانوں میں بہت زیادہ ہیجان پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔۔۔ مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مسلم لیگ اس سوال پر ایک مضبوط قرارداد پاس کرے گی اور اس کے علاوہ لیگی راہنماﺅں کی ایک باہمی کانفرنس کا انعقاد بھی کرے گی، جس میں کسی ایسی مثبت کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا، جس میں عوام بڑی تعداد میں شامل ہوسکیں گے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ملی یکجہتی کونسل جو پاکستان کی دینی و مذہبی جماعتوں کا ایک اتحاد ہے اور جسے ملک کے اندر اور باہر مسلم عوام میں بہت زیادہ احترام حاصل ہے، کی طرف سے ۱۳ دسمبر ۲۰۱۸ء کو اسلام آباد میں حمایت فلسطین کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ کونسل کے قائدین کے ایک مشاورتی اجلاس میں کیا گیا۔ اس کا پس منظر بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ایک تو اس وقت عالمی سطح پر امریکہ اور اس کے حواریوں کی طرف سے فلسطین کی ریاست کو مکمل طور پر ختم کرنے اور فلسطین کی سرزمین پر یک ریاستی حل، جو ان کی نظر میں فقط اسرائیل کی بقا پر مشتمل ہے، مسلط کرنے کی کوششیں تیز تر کر دی گئی ہیں۔ فلسطینیوں کے خلاف دن بدن جارحیت میں اضافہ کیا جا رہا ہے اور انہیں ہر طرح کی بیرونی امداد جس میں غذا اور دواﺅں کی امداد بھی شامل ہے، سے محروم کرنے کے لئے ناکہ بندی کا طویل سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیل جب چاہتا ہے غزہ پر وحشیانہ بمباری شروع کر دیتا ہے اور دنیا میں صورت حال یہ ہے کہ جیسے موت کی بے ہوشی طاری ہو۔

پاکستان عالم اسلام کی امیدوں کا مرکز اور اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے، ہمیشہ سے فلسطینیوں کے جائز حقوق کا حامی رہا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کے اندر بھی کچھ حلقے اس وقت زیادہ فعال ہوگئے ہیں، تاکہ پاکستان کو مجبور کیا جاسکے کہ وہ غاصب اسرائیل کو ایک جائز ریاست کے طور پر قبول کر لے۔ پاکستان میں اسے انہونی ہی کہا جا سکتا ہے کہ برسراقتدار پارٹی کی ایک ایم این اے نے اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر صہیونی ریاست کی حمایت کی۔ پھر انہی دنوں میں ایک اسرائیلی طیارے کی اسلام آباد میں آمد کی خبریں بھی گرم ہوئیں۔ اگرچہ سرکاری سطح پر اس کی تردید کی گئی ہے، لیکن بعض ذرائع اب بھی اس امر پر زور دیتے ہیں کہ ایک اسرائیلی طیارہ اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر اترا اور وہ پاکستان سے کچھ خاندانوں کو اپنے ساتھ لے کر پرواز کر گیا۔

حکومتی ترجمانوں کی بات اس سلسلے میں مان بھی لی جائے تو اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ قومی اسمبلی میں اسرائیل کی حمایت میں تقریر کرنے والی رکن کے خلاف کوئی کارروائی ابھی تک عمل میں نہیں آئی، جبکہ دوسری طرف سوشل میڈیا پر ہی نہیں بلکہ عام میڈیا پر بھی اسرائیل کی حمایت میں طریقے طریقے سے مہم چلائی جا رہی ہے۔ یہ امر نہایت افسوسناک ہے کہ ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے کا افسر جسے ہمارا میڈیا دفاعی تجزیہ کار یا ایک دفاعی دانشور کے طور پر پیش کرتا ہے، اس نے بھی اسرائیل کی وکالت میں بیان داغ دیا ہے۔ کیا بہادری ہے:
چہ دلاور است دزدی کہ بکف چراغ دارد

ان ساری باتوں کو سامنے رکھا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے پاکستان میں اسرائیل کی حمایت میں ایک فضا بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اسرائیل کے بھارت کے ساتھ تزویراتی تعلقات کس درجے تک پہنچ چکے ہیں اور وہ آزادی کشمیر کی تحریک کو دبانے کے لئے کس حد تک تعاون کر رہا ہے۔ یہ بھی باخبر لوگوں سے مخفی نہیں ہے کہ پاکستان کی شمال مغربی سرحد کے اس پار افغانستان میں داعش کا آنا اور پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونا، خطرے کی گھنٹی کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ اس داعش کی تشکیل و تربیت میں امریکہ اور اسرائیل کا کردار بھی کسی سے پردہ¿ اخفا میں نہیں ہے۔ شام میں جنگ آزما وحشی داعشیوں کو جس طرح سے اسرائیل مدد فراہم کرتا رہا ہے اور زخمی داعشیوں کا علاج اسرائیل میں ہوتا رہا ہے، وہ خطے پر نظر رکھنے والے مبصرین سے پوشیدہ نہیں ہے۔

قبل ازیں جب مئی میں امریکہ نے تل ابیب سے اپنا سفارتخانہ بیت المقدس میں منتقل کیا تھا تو امریکی ارادے اس وقت بھی واضح طور پر دنیا کے سامنے آگئے تھے کہ وہ مستقبل میں فلسطین کی سرزمین پر فقط اسرائیل کو ایک جائز ریاست کے طور پر تسلیم کرے گا اور فلسطینیوں کو اس سرزمین سے محروم کرنے کے لئے اپنے پروگرام کو آگے بڑھاتا رہے گا۔ اس وقت بھی جہاں دنیا بھر سے امریکہ کے اس اقدام کے خلاف ردعمل سامنے آیا تھا، وہاں پاکستان کی بھی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے اس کی مذمت کی تھی۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی امریکہ کے اس اقدام کو ناجائز قرار دیا تھا۔

اس موقع پر ملی یکجہتی کونسل کے قائدین نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا ٹرمپ کا احمقانہ فیصلہ ہے، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعلان انسانی حقوق کی علمبرداری کے دعوے کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کی آزادی اور مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ٹرمپ کے اس اعلان سے ثابت ہوچکا ہے کہ امریکہ مظلوموں کا نہیں بلکہ ظالموں کا حامی اور سرپرست ہے، اس کے اقدام سے ثابت ہوگیا کہ امریکہ کے انسانی حقوق کے لئے جدوجہد کے دعوے جھوٹے اور فریب پر مبنی ہیں۔ مسلمان کبھی بھی فلسطینیوں کی آزادی کے حق سے دستبردار نہیں ہوسکتے اور نہ ہی بیت المقدس کی حیثیت پر خاموشی اختیار کرسکتے ہیں۔ بیت المقدس کی آزادی ہمارا دینی فریضہ ہے۔ قائدین نے کہا کہ یہ کوئی وقتی مسئلہ نہیں ہے، اس کے لئے عرب دنیا نے اسرائیل کے ساتھ تین جنگیں کی ہیں اور ستر سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود یہ مسئلہ جوں کا توں ہے۔ ٹرمپ کے اس اعلان نے دنیا کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے اور فلسطین میں بھڑکائی جانے والی یہ آگ اس علاقے تک محدود نہیں رہے گی۔ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے، فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور فلسطین کے اندر اسرائیل کے دارالحکومت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

نئے حالات میں بھی ملی یکجہتی کونسل کے قائدین نے ضروری سمجھا کہ فلسطین کی حمایت میں اس تاریخی موقع پر آواز بلند کی جائے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے جس کانفرنس کا فیصلہ کیا ہے، اس میں پاکستان کی دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کو بھی دعوت دی گئی ہے، تاکہ ایک واضح قومی موقف سامنے آسکے۔ اس کانفرنس میں اسلام آباد میں موجود مسلمان ممالک کے چند سفیروں کو بھی دعوت شرکت دی گئی ہے، تاکہ پاکستان کے علاوہ عالم اسلام کا مشترکہ نقطہ نظر ایک مرتبہ پھر دنیا کے سامنے واشگاف ہوسکے۔ تاریخی اعتبار سے یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ برصغیر ہندوپاک کے مسلم قائدین شروع سے ہی عرب فلسطین کی حمایت میں سرگرم عمل رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جب برطانیہ نے یہ سازشیں شروع کیں کہ پوری دنیا سے یہودیوں کو اکٹھا کرکے فلسطین میں ایک ریاست تشکیل دی جائے تو مسلم اکابرین نے اس کی سازشوں کو بھانپ کر اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی، اس سلسلے میں علامہ اقبال نے ۱۹۳۷ء میں برطانیہ کی نیشنل لیگ کی مس فارقوہارسن کے نام اپنے ایک مکتوب میں واضح کیا کہ صہیونی ریاست کے قیام کی کوششوں کا مقصد یہودیوں کو ایک قومی وطن مہیا کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد بحیرہ روم کے ساحل پر برطانوی سامراج کو ایک اڈا مہیا کرنا ہے۔

علامہ اقبال نے ایک اور مکتوب میں کہا کہ میں فلسطین کو ایک خالصتاً ایک مسلم مسئلہ سمجھتا ہوں۔ قائداعظم کے نام ۷ اکتوبر۱۹۳۷ء میں لکھے گئے اپنے ایک مکتوب میں علامہ اقبال نے لکھا: ”فلسطین کا مسئلہ مسلمانوں میں بہت زیادہ ہیجان پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔۔۔ مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مسلم لیگ اس سوال پر ایک مضبوط قرارداد پاس کرے گی اور اس کے علاوہ لیگی راہنماﺅں کی ایک باہمی کانفرنس کا انعقاد بھی کرے گی، جس میں کسی ایسی مثبت کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا، جس میں عوام بڑی تعداد میں شامل ہوسکیں گے۔ اس فیصلے سے لیگ کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا اور فلسطین کے عربوں کی مدد بھی ہوسکے گی۔ ذاتی طور پر مجھے ایسے مسئلے کے لئے جیل جانے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں، جس سے اسلام اورہندوستان متاثر ہوتے ہوں۔ مشرق کے دہانے پر ایک مغربی اڈے کی تشکیل دونوں کے لئے ایک خطرہ ہے۔”

بانی پاکستان بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح بھی فلسطین کے بارے میں علامہ اقبال جیسے ہی جذبات و افکار رکھتے تھے، جس کا اظہار انھوں نے مختلف مواقع پر کیا۔ یہاں تک کہ انھوں نے اسرائیلی وزیراعظم کی طرف سے سفارتی تعلقات کے قیام کی خواہش پر مبنی ایک ٹیلی گرام کے جواب میں لکھا: ”دنیا کا ہر مسلمان مرد و زن بیت المقدس پر یہودی تسلط کو قبول کرنے کے بجائے جان دے دے گا۔ مجھے توقع ہے کہ یہودی ایسے شرمناک منصوبوں میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ میری خواہش ہے کہ برطانیہ اور امریکہ اپنے ہاتھ اٹھا لیں اور پھر میں دیکھوں کہ یہودی بیت المقدس پر کیسے قبضہ کرتے ہیں۔ عوام کی آرزوﺅں کے خلاف پہلے ہی ۵ لاکھ یہودیوں کو بیت المقدس میں بسایا جا چکا ہے۔ میں جاننا چاہوں گا کہ کیا کسی اور ملک نے انھیں اپنے ہاں بسایا ہے؟ اگر تسلط قائم کرنے اور استحصال کا سلسلہ جاری رہا تو پھر نہ امن قائم ہوگا اور نہ جنگیں ختم ہوں گی۔”

بانیان پاکستان کے ان افکار کی روشنی میں ضروری ہے کہ پاکستان اپنے تاریخی موقف پر قائم رہے اور اسرائیل کی ناجائز ریاست کو تسلیم کرنے کی تمام سازشوں کو ناکام بنا دے۔ پاکستان کسی سامراجی طاقت کا دم چھلا نہیں ہے بلکہ وہ عربوں کے رجعت پسند اور استعمار نواز حکمرانوں کا بھی مقلد نہیں ہے، وہ ایک آزاد خود مختار ریاست ہے جو ۲۰ کروڑ سے زیادہ غیرت مند مسلمانوں پر مشتمل ہے اور عالم اسلام کی واحد جوہری طاقت ہے۔ مظلوم فلسطینی پاکستان کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ ہمیں ان کی امیدوں پر پورا اترنا ہے اور یہ یقین رکھنا ہے کہ ایک دن جعلی اور مسلط کی گئی صہیونی ریاست ختم ہو جائے گی اور فلسطینی واپس اپنے گھروں میں آباد ہو جائیں گے۔ فلسطینیوں کے اسی ارمان کو پاکستانی اپنا ارمان سمجھتے ہیں اور ملی یکجہتی کونسل کا اس حساس موقع پر حمایت فلسطین کانفرنس کا انعقاد اسی ارمان کا ایک بھرپور اظہار ہے۔

تحریر: ثاقب اکبر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍ت؍۱۰۰۰۳