اسرائیلی بچے کوڑے دانوں اور نالیوں میں روزی تلاش کرتے ہیں: اسرائیلی اخبار




اسرائیل کے ایک تحقیقاتی انسٹی ٹیوٹ نے اپنی شائع کردہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ۲ ملین اسرائیلی عوام غربت کی زندگی بسر کر رہے ہیں کہ جن میں ۱ ملین بچے ہیں۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، “یدیعوت احرونوت” اخبار نے مقبوضہ فلسطین میں عوامی زندگی کے بارے میں عبری زبان کے انسٹی ٹیوٹ «Latet» کی رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطین میں ساکن ایک چوتھائی یہودی معاشی مشکلات میں گرفتار ہیں اور انہیں کہا جا سکتا ہے کہ وہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق، ایک چوتھائی اسرائیلی بچوں کو فلاحی امداد کی ضرورت ہے۔ اور ایک تہائی بچے معاشی مشکلات کی بنا پر صرف ایک وقت کا کھانا کھاتے ہیں۔
اسرائیلی اخبار کے اعداد و شمار یہ بھی بتا رہے ہیں کہ ۶ فیصد بچے اسرائیل کی سڑکوں پر بھیک مانگتے ہیں اور ۵٫۷ فیصد بچے نالیوں اور کوڑے دانوں میں پڑی اشیاء کو اکٹھا کر کے اپنا پیٹ پالنے پر مجبور ہیں۔
مزید رپورٹ کے مطابق ۵۳ فیصد گھرانوں کے پاس تین وقت کا کھانا موجود نہیں ہے۔
اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطین میں ۹۲ فیصد سبکدوش ملازم، سبکدوشی وظیفے (پنشن) کے ذریعے اپنی زندگی کے اخراجات پورا نہیں کر پا رہے ہیں۔
رپورٹ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل میں مہنگائی وجہ سے ۷۱ فیصد عوام قرضے لینے پر مجبور ہیں۔
یہی وجہ سے ہے کہ صہیونی ریاست میں بھی عوام حاکم طبقے اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف یلو جیکٹ پہن کر صدائے احتجاج بلند کرنے سڑکوں پر نکل چکے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/خ/۱۰۰۰۳