اسلامی ممالک کے باہمی تعاون سے صہیونی ریاست کی جڑوں کو اکھاڑا جا سکتا ہے: اختری




اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اسلامی ممالک کے باہمی تعاون سے ہی صہیونی ریاست کی جڑوں کو اکھاڑا جا سکتا ہے کہا: حقیقت میں صہیونی ریاست کی مدد کرنا، اس سے ہتھیار خریدنا یا اس کے ساتھ سیاسی اور تجارتی روابط قائم کرنا حرام اور مخالف شریعت ہیں۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل حجۃ الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری نے فارس نیوز ایجنسی سے گفتگو کے دوران اسلامی وحدت میں علمائے اسلام کے کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عراق و شام میں دھشتگردوں کے مقابلے میں مزاحمتی تحریک کی کامیابی علمائے اسلام کے اتحاد کا ایک بارز نمونہ ہے۔
انہوں نے کہا: افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض اسلامی ممالک اس کوشش میں ہیں کہ فلسطین اور قدس کے مسئلے اور صہیونی ریاست کے جرائم کو فراموشیوں کے حوالے کر دیا جائے تاکہ اس طریقے سے وہ اس جرائم پیشہ ریاست کے ساتھ اپنا الو سیدھا کر سکیں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اسلامی ممالک کے باہمی تعاون سے ہی صہیونی ریاست کی جڑوں کو اکھاڑا جا سکتا ہے کہا: حقیقت میں صہیونی ریاست کی مدد کرنا، اس سے ہتھیار خریدنا یا اس کے ساتھ سیاسی اور تجارتی روابط قائم کرنا حرام اور مخالف شریعت ہیں۔
حجۃ اسلام و المسلمین محمد حسن اختری نے مزید واضح کیا کہ علمائے اسلام کو چاہیے کہ اپنے اپنے فتووں کے ذریعے صہیونی ریاست کے ساتھ ہر طرح کے روابط کو حرام قرار دیں۔
انہوں نے یمن کے حالات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا: آج امت اسلام بے شمار صلاحیتوں کی مالک ہے ایسے میں علمائے اسلام کو اپنے اپنے ممالک میں یمن کے مظلوم اور فلسطین کے نہتے عوام کے تئیں لوگوں کو بیدار کرنا اور ان سے مدد اکٹھا کرنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍خ؍۱۰۰۰۳