فرانس اندر سے پھٹ رہا ہے؛ کیا یہ صورت حال یورپ کو لے ڈوبے گی؟




کیا یہ ممکن ہے کہ فوجی صنعت کے مقتدر بھنیئے مکرون کو چلتا کرنا چاہتے ہوں؟ کیا ممکن ہے کہ پیلی واسکٹوں والے اسی لئے احتجاج کررہے ہوں، گوکہ ان احتجاجوں کا آغاز حقیقی اور “ہر چیز کی کوئی حد ہوتی ہے” کی بنیاد پر ہوا تھا؛



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اس وقت فرانس کے دارالحکومت کی اشرافیہ کی طاقت اور دولت کی علامت شانزے لیزے (Champs-Élysées) مختلف حادثات کا مرکز بنا ہرا ہے لیکن یہ تحریک بہت تیزی سے اس ملک کے دوسرے شہروں ـ اور یقین کیجئے کہ بلجیئم اور ہالینڈ سمیت دوسرے یورپی ممالک ـ کی طرف پھیل رہی ہے۔ (۱)
۱۔ کہا جاتا ہے کہ البتہ برطانیہ میں بھی سر اٹھانے لگی ہے۔
فرانس کے دارالحکومت اور بعض دوسرے شہروں میں پیلی واسکٹ تحریک (Yellow Vest Movement) جاری ہے اور مبصرین نے مئی ۱۹۶۸ع‍کے چھوٹے طلبہ انقلاب کے بعد اس ملک میں وقوع پذیر ہونے والی بدترین بغاوت قرار دیا ہے۔ اب تک لاکھوں افراد نے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی ہے جن میں غضبناک طلبہ، مزدوروں، سرکاری ملازمین اور خانہ دار خواتین سمیت درمیانی طبقے کے عوام نے بھرپور شرکت کی ہے۔ احتجاجات میں شدت آنے کے ساتھ ساتھ پولیس کی تعداد اور برتاؤ میں بھی شدت آئی ہے۔ گذشتہ ہفتے ۸۰۰۰ پولیس اہلکار میدان میں آئے تھے، جب اس سے ایک ہفتہ قبل پولیس والوں کی تعداد ۵۰۰۰ تھی؛ لیکن پیلی واسکٹوں والے احتجاجیوں نے اپنے احتجاجی مظاہرے جاری رکھے۔
پیرس کی سڑکوں میں ٹینک گشت کررہے ہیں جو گذشتہ ۱۰ سالوں میں ایک انوکھا واقعہ سمجھا جاتا ہے۔ گاڑیوں اور دکانوں کو نذر آتش کیا جارہا ہے اور عمارتوں پر حملے ہورہے ہیں۔ پولیس آنسو گیس اور پانی کی توپوں اور پلاسٹک کی گولیوں کا بےتحاشا استعمال ہورہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پولیس تشدد گویا ناگزیر ہے!!! اگرچہ اس بار پولیس کا برتاؤ سابقہ واقعات کی نسبت کچھ نرم ہے۔ اس کے باوجود یوٹیوب وغیرہ میں ایک ویڈیو شائع کی گئی ہے جس میں ایک پیلی واسکٹ والا شخص انسداد بغاوت پولیس کے ہاتھوں زد و کوب ہورہا ہے۔؛ جبکہ وہ پہلے ہی نہتا اور زمین پر گرا ہوا ہے۔ اسی طرح کی بہت سی تصاویر ٹی وی اسکرینوں پر بھی دکھائی دے رہی ہیں۔
اور پورے یورپ اور دنیا ـ یعنی مغربی دنیا ـ کے عالمگیر شدہ سیاہ و سفید کے مالکان، سکون اور اطمینان کے ساتھ اپنی گدیلی بازؤوں والی آرام کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں اور سر ہلا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں: “پھر بھی فرانس! جو کبھی بھی راضی نہیں ہوتے اور ہمیشہ زیادہ سے زیادہ مانگتے ہیں”۔
لگتا ہے کہ انہیں ہرگز نہیں معلوم کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے فرانسیسی مزدوروں نے جو کچھ ـ بھاری بھرکم فوج کے اخراجات برداشت کرنے کے بجائے ـ سماجی فنڈز اور عوامی بنیادی ڈھانچے ـ منجملہ اسپتالوں اور اسکولوں ـ کے سانچے میں وصول کرکے جمع کرلیا تھا، اس کو مٹھی بھر اشرافیہ “قانونی طور پر” چرا رہی ہے؛ وہی اشرافیہ جس نے دھاندلی اور دھوکہ دہی (Fraud) کو قانونی حیثیت دینے کے لئے ضروری قوانین منظور کرانے کی غرض سے ایک روچلڈ بینکار (Rothschild banker) “امانوئل مکرون” کو اقتدار تک پہنچایا ہے۔
بہت سادہ سی بات ہے۔ یہ کرسی نشین فکرمند حضرات حتی سوچ بھی نہیں سکتے کہ قاتلین بڑی خاموشی سے ان کے پاس بھی آئیں گے۔ جب وہ جاگ اٹھیں گے اور فرانس کی پیلی واسکٹوں سے اٹھنی والی روشنی کا مشاہدہ کریں گے، ممکن ہے کہ بہت دیر ہوچکی ہو؛ کیونکہ غیر منتخب یورپی کمیشن کے زیر کمان یورپ، ایک پولیس اسٹیٹ اور ایک فوجی حکومت میں بدل چکا ہے اور اس وقت سیاسی اور سماجی سطحوں پر عوامی ناراضگی کے لئے تیار ہو رہا ہے۔ یہ وہ صورت حال ہے جس سے شاید اسی وقت ہم دوچار ہوچکے ہیں۔
اس وقت فرانس کے دارالحکومت کی اشرافیہ کی طاقت اور دولت کی علامت شانزے لیزے (Champs-Élysées) مختلف حادثات کا مرکز بنا ہرا ہے لیکن یہ تحریک بہت تیزی سے اس ملک کے دوسرے شہروں ـ اور یقین کیجئے کہ بلجیئم اور ہالینڈ سمیت دوسرے یورپی ممالک ـ کی طرف پھیل رہی ہے۔ ان ممالک کے عوام نے بھی اس پیلی روشنی کو دیکھ لیا ہے اور انہیں معلوم ہے کہ جس چیز کے چھیننے کے لئے فرانس اٹھ کھڑا ہوا ہے، اس کو ان کے ہاں بھی چوری کیا گیا ہے۔
یہ بیماری محض فرانسیسی، بلجین، ولندیزی یا جرمن بیماری نہیں ہے بلکہ ہسپانیہ، پرتگال، اطالیہ اور یونان بھی پائی جاتی ہے؛ وہ ممالک اور وہ اقوام، جن کے بارے میں آپ بہت کم سنتے اور پڑھتے ہیں جبکہ ان کا حال بھی یہی ہے۔ بینکاروں کے اتحاد نے انہیں اپنے پنجوں میں جکڑ لیا ہے، ان کے مصائب و مسائل پر ذہن مرکوز کرنے کے لئے مزید عمومی توجہ کی ضرورت نہیں ہے۔ سوائے اطالیہ کے، برسلز کے خلاف باقی ملکوں کی بےباکانہ مزاحمت، مالیاتی تاجداروں کی ناک میں دم کئے ہوئے ہے۔
ناراضگیاں ہر جگہ پائی جاتی ہیں اور نولبرالیت (Neoliberalism) کی ایک بےشرمانہ یلغار، نہ صرف عوام کے آئینی اور جمہوری حقوق پر اثر انداز ہوتی ہے بلکہ ان کی روزافزوں بیداری پر منتج ہوتی ہے اور معاشی اور مالیاتی دھوکہ دہی اور ڈاکہ زنی کی طرف ان کی آنکھیں کھول دیتی ہے؛ وہ دھوکہ دہی اور ڈاکہ زنی جس کا ارتکاب عالگمیر شدہ مالیاتی مافیا ـ منجملہ بینکوں اور مختلف النوع سرمایہ کار کمپنیوں ـ نے ان ملکوں کے عوام کے سامنے کیا ہے اور مزدروں کی قانونی اور حق بجانب سماجی سرمایوں ـ جیسے پینشن، بےروزگاری کے وظائف (unemployment benefits)، مفت تعلیم، علاج معالجے کی قومی سہولیات، سرکاری اسپتالوں، امدادی قیمت پر ضروری ادویات تک رسائی وغیرہ وغیرہ ـ کو لوٹ لیا ہے۔ یہ سارے اعمال مالیاتی دھوکہ بازوں نے سرانجام دیئے ہیں لیکن انہیں اس عمل کو آسان بنانے کے لئے سیاسی راہنماؤں کی بھی ضرورت ہے۔ مکرون ایسے ہی ہدف کے حصول کے لئے ایک صحیح انتخاب تھے اور وہ یہ کام پوری دیانتداری سے انجام دیتے ہوئے مالیاتی بدعنوانوں کی توقعات پر پورا اترے ہیں۔ حتی کہ اس نے ان ہی کے مطالبے پر لیبر قوانین کی میں ترامیم کا کام بھی شروع کردیا ہے، جبکہ یہ ترامیم بہت شدت سے عوامی مطالبات اور ان کی خواہشوں سے متصادم ہیں اور لوگ ان ترامیم سے ناراض ہیں۔
چنانچہ بالکل واضح ہے کہ کالی واسکٹ والوں کی تحریک کا مکرون کے اعلان کردہ نئے ایندھن ٹیکس سے تعلق بہت کم ہے یا اصولی طور پر اس تحریک کا اس ٹیکس کے اعلان سے تعلق ہی نہیں ہے اور اس ٹیکس کے خلاف احتجاج صرف ایک بہانہ تھا۔ یہ ماحولیاتی ٹیکس محض ایک سیاسی ـ تشہیری اوزار تھا، ایک بےشرمانہ جھوٹ۔ یہ منصوبہ فرانس میں کسی بھی ماحولیاتی اقدام کی خدمت کے لئے نہیں تھا، بلکہ سرکاری بجٹ میں عوام کو جبری طور پر شریک بنا کر حصہ ڈالنے پر مجبور کرنے کے لئے تھا؛ وہ بجٹ جس میں مکرون کے کفایت شعاری منصوبے (Austerity Proogramme) کی بنا پر شدید کمی کردی گئی ہے۔ وہ ـ جو کہ جانتے ہیں کہ کفایت شعاری کا منصوبہ نیولبرالیت نامی کھیل کا دوسرا نا ہے ـ اپنے آجروں اور مالکوں کو ـ جنہوں نے انہیں اس منصب تک پہنچایا ہے ـ متاثر کرنا چاہتے تھے۔ علاوہ ازیں، مکرون نے عوامی دباؤ کے تحت آخر کار اس ٹیکس سے پسپائی اختیار کرلی اور انھوں نے سڑکوں پر عوامی احتجاجی مظاہروں کے خاتمے کی غرض سے ٹیکس کو منسوخ کیا تھا؛ لیکن ان کا یہ اقدام ہرگز مفید نہیں تھا۔ کیونکہ یہ اقدام کافی نہیں ہے اور عوامی ناراضگی ایندھن پر ٹیکس کے مسئلے سے بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ یہ ناراضگیاں اجرتوں اور سماجی رعایتوں میں شدید کمی، مکرون کے مسلط کردہ نئے لیبر قانون اور تمام معاشرتی معیاروں میں شدید تنزلی کی وجہ سے معرض وجود میں آئی ہیں۔ اور یہ ناراضگیاں کی سرحدوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ دوسرے یورپی ممالک میں بھی پائی جاتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ فرانسیسی پولیس ـ جو پیلی واسکٹوں والوں سے نمٹ رہی ہے ـ در حقیقت ان کی حمایت کررہی ہے۔ پولیس اس ادراک تک پہنچ چکی ہے کہ بہرصورت وہ بھی ان ہی فرانسیسی عوام کا حصہ ہیں جنہوں نے مظاہروں کا آغاز کیا ہوا ہے اور پولیس کے ادارے کو افراد کو بھی مظاہرین سے مشابہ اندیشوں کا سامنا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ رشیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق، پولیس آنسو گیس اور پانی کی توپوں کے استعمال کو سنجیدگی سے روکنے کی طرف جارہی ہے۔ جبکہ عام حالات میں اگر مظاہروں کا سلسلہ جاری رہے تو ان چیزوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔
گوکہ شاید پولیس کی طرف سے ان اوزاروں کے عدم استعمال کا کوئی منظر شائع ہونے والی تصاویر میں کہیں نظر نہ آئے، لیکن اس واقعے کی خبریں ذرائع ابلاغ میں گردش کررہی ہیں اور وی آئی جی آئی پولیس یونین (VIGI Police Union) کے سیکریٹری جنرل الیکزینڈر لانلوئیس (Alexandre Langlois) نے رشیا ٹوڈے کو بتایا کہ “ہماری اکثریت پیلی واسکٹوں والوں کی حمایت کرتی ہے، کیونکہ ہم بھی ایندھن کی قیمتیں بڑھنے سے متاثر ہونگے؛ ہم اس مقام پر جینے کے لائق نہیں ہونگے جہاں ہم کام کررہے ہیں، کیونکہ یا تو یہاں زندگی گذارنا ہمارے لئے بہت مہنگا پڑے گا یا پھر ہمیں ان پڑوسیوں کو گرفتار کرنا پڑے گا جن کے گھر کی دیواریں ہمارے گھروں کی دیواروں سے لگی ہیں؛ اسی لئے ہمیں اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر اپنے گھروں کی طرف جانا پڑے گا، جو دور افتادہ محلوں میں واقع ہوئے ہیں”۔
قطعی طور پر پولیس کے اندر مظاہرین کے لئے کافی ہمدردی اور ہم دلی کے جذبات معرض وجود میں آئے ہیں؛ لیکن حکومت کی اشتعال انگیزیاں مزید بدامنی اور گڑبڑ پھیل جانے کا سبب بنیں گی، اور ایسی صورت میں پولیس کو مداخلت اور طاقت کے استعمال کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا، کیونکہ بصورت دیگر ـ اگر فرانسیسی وزیر داخلہ کریسٹوف کاسٹنر (Cristoph Kastner) مجبور ہوجائے ـ تو وہ فوج کو مداخلت کے لئے بلا سکتے ہیں؛ جس کے بعد فرانسیسی حکومت نیٹو سے مدد مانگنے کے مرحلے کے قریب پہنچ جائے گی۔ اور نیٹو سے مداخلت کی درخواست “یورپ کے وسیع تر مقاد” کے لئے ہوگی!!!

ایئے نیٹو کے بارے میں سوچیں۔ کیا ایمانوئل مکرون، جنہھوں نے چند ہی ہفتے قبل خودمختار یورپی افواج کی تشکیل کی بات نہیں کی؟ اور یہ تجویز نیٹو کو منسوخ قرار دینے کے مترادف ہوسکتی تھی۔ اگر الفاظ کی بات ہو تو نیٹو ۳۰ سال قبل منسوخ ہوچکی ہے، لیکن کوئی بھی نیٹو الفاظ تک محدود نہیں سمجھتا، نیٹو ایک سلطنت کی ہلاکت خیز فوج کا نام ہے۔ نیٹو امریکی فوجی صنعتوں کے مجموعے کی منافع سازی کا عظیم ذریعہ ہے۔
چنانچہ جب مکرون نے یورپی افواج کی تشکیل کی تجویز دی، تو ممکن ہے کہ ان کی اس تجویز نے نہایت تشدد پسند جماعتوں کو ناراض کردیا ہے جن کے مفادات کو اس تجویز سے نقصان پہنچ سکتا ہے؛ وہی جماعتیں جو حقیقی معنوں میں ایک قتل سے دوسرے قتل کے لئے ماحول تیار کرتی ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ اپنے وہمیاتی کردار میں “شاہ مکرون” کے طور پر بہت دور نکل چکا ہو۔ حالانکہ ان سے کئی زیادہ بڑے “بادشاہ” موجود ہیں۔ زیادہ امکان یہ ہے یورپی فوج یورپی ـ اور زيادہ تر فرانسیسی اور جرمہ ـ ساختہ اسلحے سے لیس کی جائے گی؛ اور خدا نخواستہ حتی کہ روسی ساختہ ہتھیاروں سے بھی! یہ ایک منطقی عمل ہوگا کیونکہ جقیقتا یورپ کا دشمن نہیں ہے، جیسا کہ یورپ میں ہر سیاستدان اس حقیقت سے آگاہ ہے؛ گوکہ وہ شاید یہ اعتراف جرأت نہ کرسکیں اور اس کا اعلانیہ اظہار نہ کرسکیں۔ اور پھر روسی اسلحہ ـ خاص طور پر اس کے طویل فاصلے پر مار کرنے والے بیلیسٹک میزائل سسٹمز، اور اس کا S-400 فضائی دفاعی نظام، امریکی ہتھیاروں سے کہیں زیادہ بہتر ہے؛ لہذا روس کے ساتھ شراکت داری ایک ناقابل فہم موضوع شمار نہيں ہوتی؛ گوکہ واشنگٹن اس صورت حال کا کم ہی خیرمقدم کرے گا۔
کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ منقسم مگر با اثر سرکاری ادارے (Deep state) مکرون کے مد مقابل آکھڑے ہوئے ہیں؟ بھنیا صفت اشرافیہ نے مکرون کو اقتدار تک پہنچایا تا کہ وہ فرانس کے سماجی نظام کو ہڈیوں تک چاٹ لیں اور دوسرے ممالک کو کفایت شعاری کے فرانسیسی منصوبے سے متاثر کردیں تا کہ وہ بھی ان کی پیروی میں ایسا ہی کریں۔ اگر مکرون کامیابی سے ہمکنار ہوجاتے تو یقینی طور پر وہ یورپ کے مالیاتی مافیایی خاندانوں کے نئے بادشاہ بن جاتے۔
دوسری طرف سے، مغرور اور خودپسند نوجوان فرانسیسی صدر مکرون شاید خودمختار یورپی فوج کی تشکیل کی تجویز اونچائیوں کی طرف دیکھ کر، اور اس کے نتائج کو بھانپے بغیر، پیش کی ہو اور یہ ایسی تجویز تھی جس کو یورپی راہنما سرگوشیوں میں بھی بیان کرنے کی جرأت نہیں رکھتے تھے۔ چونکہ جنرل ڈی گال نے ۱۹۶۰ع‍کی دہائی میں یہی تجویز پیش کی تھی جس پر عمل نہیں ہوسکا تھا لیکن وہ وہ بہرحال نیٹو سے الگ ہوئے۔
کیا یہ ممکن ہے کہ فوجی صنعت کے مقتدر بھنیئے مکرون کو چلتا کرنا چاہتے ہوں؟ کیا ممکن ہے کہ پیلی واسکٹوں والے اسی لئے احتجاج کررہے ہوں، گوکہ ان احتجاجوں کا آغاز حقیقی اور “ہر چیز کی کوئی حد ہوتی ہے” کی بنیاد پر ہوا تھا؛ جسے ایک ہمآہنگ کوشش اور منصوبے کے تحت مکرون کے خلاف نفرت پھیلانے کی تحریک میں بدل دیا گیا، تا کہ انہیں ایسے نقطے پر پہنچایا جائے کہ حتی کہ فرانسیسی پارلیمان میں بھی اس کی حمایت نہ کی جاسکے جہاں ان کی جماعت یا ان کی تحریک “En March” کو مطلق اکثریت حاصل ہے؟
“یہ دیکھنا باقی ہے”، اور اگر ایسا ہے تو یہی پہلی بار نہیں ہے کہ مظاہرین کو مظاہرہ کرنے کے عوض رقم دی جائے، بالخصوص اگر یہ ایک “ناسازگار سیاستدان سے نجات پانے کے مقدس مقصد” کے لئے ہوں۔ [تاہم] آخر میں کہنا چاہوں گا کہ یہ سب عوام کے لئے اچھا ہے؛ ٹھیک؟ کیا یہ ایک مکمل جمہوریت نہیں ہے جو فرانس کی سڑکوں پر کھیلی جارہی ہے؟ اور جو ـ امید ہے کہ ـ بہت جلد ایمسٹرڈم، برسلز، برلن اور روم تک بھی جائے گی اور شاید آہستہ آہستہ پرتگال، ہسپانیہ اور یونین کے لئے بھی چراغ راہ بن جائے گی؟ ممکن ہے کہ یہ ایک تحریک ہو اور اس سے کہیں بالاتر ہو جو “تیزرفتاری کمائی” کے مفکرین ـ یعنی نیٹو کے سرپرست اور آدم کُشی کی امریکی مشین بنانے والے ـ سوچ رہے تھے یا طلب کررہے تھے! یعنی یورپ کے [عدم ] اتحاد اور اس کے مشترکہ زر مبادلہ ـ یورو ـ کا خاتمہ۔
یقینا یہ سب فرضیات ہیں لیکن غیر ممکن نہیں ہیں۔ “محرکات” عجیب کھیل کھیلتے ہیں۔ باستیل (Bastille) کی طوفان خیزی کے ۲۳۰ سال بعد فرانس ایک پھر انقلاب کی دوڑ میں آگے آگے ہے؛ قومی ریاستوں کے لئے نیا نظام لانے کے لئے، جو عالمگیریت سے دور ہو، اور شاید خودمختار اور مستقل حکومتوں کے قیام کی طرف پلٹنے کے لئے، مساوات کی بنیاد پر نئے تجارتی تعلقات اور نئے شریک اتحادوں کے قیام کے لئے، بجائے اس کے کہ یہ نظامات یک قطبی اور یکطرفہ عالمی نظام کی طرف مسلط ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: پیٹر کوئینگ (Peter Koenig)، ماہر معاشیات و جغ سیاسی (جیوپولیٹیکل) تجزیہ نگار

ترجمہ: فرحت حسین مھدوی
yon.ir/6pUQh

http://fna.ir/bq92gl

منبع: ابنا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍ت؍۱۰۰۰۳