کیا یہ فسطائیت پر جمہوریت کی جیت ہے؟




یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ فسطائیت نے کس قدر اپنی جڑیں جمہوری نظام میں مضبوط کی ہیں آئندہ سال آنے والے پارلیمانی انتخابات سے واضح ہو سکے گا کہ بظاہر جمہوریت کی فسطائیت پر جیت واقعی تھی یا یہ بھی فسطائی طاقتوں کی جانب سے کوئی منصوبہ بند سازش کا حصہ تھا کہ ایک الیکشن ہار کر ہم کم سے کم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اے وی ایم مشنیوں نے صحیح کام کیا، اگلے سال بھی یہی مشینیں ہونگی اور ہمارے ہی اہلکار ہوں گے پھر دیکھا جائے گا کون جیت درج کرتا ہے



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: گزشتہ چند دنوں میں ہندوستان کے قومی سیاسی منظر نامہ پر ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ ملک کی پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کے نتائج نے فسطائی طاقتوں کو انکی اوقات بتاتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ ایک بار پھر جمہوریت پر یقین رکھنے والوں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو دوبارہ اقتدار پر قابض ہونے کا موقع نہیں دیا جو مذہبی منافرت پھیلا کر ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو میلا کرنے کے درپے تھے۔

اگر ہم الیکشن کے ان رسمی نتائج پرنظر ڈالیں جو ہندوستان کے الیکشن کمیشن نے اپنی رسمی ویب سائٹ پر درج کئے ہیں اور دیگر معتبر سائٹس نے الگ الگ انداز میں انہیں پیش کرنے کی کوشش کی ہے تو اسے بالکل واضح ہے کہ ہندوستانی عوام میں اب یہ شعور دھیرے دھیرے جاگ رہا ہے کہ ملک نعروں سے نہیں چل سکتا اس کے لئے کام کی ضروت ہے۔ ہندوستانی عوام نے واضح طور پر مذہب و مسلک کی زنجیروں سے خود کو آزاد کر کے اس الیکشن میں اسے جتایا جسے سمجھا کہ وہ کام کر سکتا ہے، میڈیا میں یوں تو زیادہ تر معرکہ زعفرانی پارٹی اور کانگریس کے درمیان دکھایا گیا لیکن اگر غور کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اس بار عوام نے محض اسے پارلیمنٹ میں اپنی نمائندگی کرنے کا حق دار قرار دیا جسے سمجھا کہ وہ کچھ عوام کے حق میں بول سکے گا انکی بات رکھ سکے یہی وجہ ہے کہ تلنگانہ جیسی ریاست میں اسد الدین اویسی کی پارٹی نے ۸ امیداوار کھڑے کئے جن میں ۷ کو عوام نے منتخب کیا اور یہ کہنا غلط ہوگا کہ محض مسلمانوں نے ہی انہیں ووٹ دیا اس لئے کہ ان علاقوں میں بعض جگہوں پر کئی کئی مسلمان آمنے سامنے تھے دوسری طرف مختلف مقامات ایسے بھی تھے جہاں ہندو بھی آباد تھے لیکن اس کے باوجود مجلس اتحاد المسلمین کے امیدار وار جیتے جب کے اسکے مقابل ۱۱۹ میں سے زعفرانی پارٹی کو ایک سیٹ ہی جبکہ اتحاد المسلمین ۷ سیٹوں کو بٹورنے میں کامیاب رہی[۱] ۔ جبکہ تلنگانہ میں بی جے پی نے کامیابی کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا تھا حتی اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے تلنگانہ میں انتخابی جلسوں میں یہ تک کہہ دیا تھا کہ اگر ان کی پارٹی جیت گئی، تو حیدر آباد کا نام بدل کر بھاگیہ نگر رکھ دیا جائے گا اور اسدالدین اویسی (مجلس اتحادالمسلمین کے صدر) کو تلنگانہ چھوڑ کر بھاگنے کے لیے اسی طرح مجبور ہونا پڑے گا، جیسے حیدر آباد کے نظام بھاگے تھے۔[۲] اسی طرح دونوں ہی طرف سے بڑی شعلہ بیاں تقریریں ہوئی تھیں لیکن عوام نے مذہب کے نام پر ووٹوں کی سیاست کو مکمل طور پر یہاں ناکام بنا دیا اور ہندو اکثریتی علاقوں میں بھی بی جے پی کو کوئی کامیابی نصیب نہ ہوسکی ۔

علاوہ از ایں اگر ہم پانچ ریاستوں کے نتائج پر ایک نظر ڈالیں تو نظر آتا ہے کہ چھتیس گڑھ میں نوے میں سے ۶۸ گانگریس کے ہاتھوں آئی ہیں جبکہ زعفرانی پارٹی بی جے پی ۱۵ کو مجموعا پندرہ پر ہی عوام نے سمیٹ دیا اور اور بی ایس پی کے ہاتھوں دو سیٹیں آئیں ، مدھیہ پردیش کی صورت حال بھی اسی طرح رہی پندرہ سال سے اقتدار پر قابض زعفرانی پارٹی کو عوام نے کرسی اقتدار سے کھینچ کر نیچے بٹھا دیا جبکہ یہاں پر مقابلہ کافی سخت رہا لیکن انجام کار جو نتائج حاصل ہوئے وہ یہ تھے : مدھیہ پردیش ۲۳۰ سیٹوں میں کانگریس ۱۱۴ بی جے پی ۱۰۹ بی ایس پی ۲ دیگر ۵راجستھان میں بھی گزشتہ پانچ سالوں سے بی جے پی اقتدار میں تھی یہاں بھی اسے شکست کا سامنا ہوا اور یہاں کا نتیجہ رہا ۱۹۹ کانگریس ۹۹ بی جے پی ۷۳ بی ایس پی ۶ جبکہ میزورم میں تلنگانہ کی طرح نہ کانگریس جیتی نہ ہی زعفرانی پارٹی لوگوں نے یہاں پر بھی تلنگانہ کی طرح مقامی پارٹی پر زیادہ اعتماد کیا [۳]اور بی جے پی کے کھاتے میں ایک ہی سیٹ آ سکی ۔ حالیہ الیکشن میں لوگوں نے کس اندازسے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ہے اسکا اندازہ لگانا ہے تو گزشتہ انتخابات کو مد نظر رکھنا ہوگا جس میں ہر طرف زعفرانی رنگ پھیلا ہوا تھا اور لوگوں نےآنکھ بند کر کے کمل کے پھول پر مہر لگائی تھیں لیکن اس بار آنکھیں کھولیں توہندوتو نظریہ رکھنے والوں کو لوگوں نے سبق سکھاتے ہوئے واضح کر دیا کہ ہر جگہ مذہب کا کارڈ نہیں چل سکتا چنانچہ جب لوگوں نے ایک طرف بڑھتا ہوا کرپشن و فساد دیکھا دوسری طرف عوام کی کمائی لوٹ کر بھاگ جانے والے کرسچین مشیل، وجے مالیہ اور دوسرے ’بھگوڑوں‘ کو واپس لانے میں حکومت کی ناکامی دیکھی اور بدعنوانی کے دیگر معاملات میں پکڑ دھکڑ ہونے کے بجائے بے گناہوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھا تو انہیں محسوس ہو گیا یہ وہ لوگ ہیں جو مذہب کے نام پر اپنا الو سیدھا کرنا ہی جانتے ہیں انہیں ہمارے مطالبات و حقوق سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ خاص کر جفا کش طبقے کی محنت کا صلہ انکے پاس دینے کی صلاحیت تو کیا سوچ و فکر بھی نہیں ہے کہ کسان و مزدور طبقہ دن بھر محنت کرتا ہے تو اسکا بھی کوئی حق بنتا ہے اسے بھی کچھ ملنا چاہیے یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں میں بی بے پی کا صفایا ہو گیا جو زراعت کے لئے زرخیز زمینیں مانی جاتی ہیں اور مبصرین بھی اس بات کو ببانگ دہل کہہ رہے ہیں کہ: “بی جے پی کو جن صوبوں میں شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے، وہ بنیادی طور پر زرعی ریاستیں کہلاتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان ریاستوں میں بی جے پی کی ہزیمت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ان ریاستوں کے بدحال کسانوں نے اپنی ناراضگی کا اظہار حکومت کے خلاف ووٹ کی شکل میں کیا ہے اور بی جے پی وعدوں اور نعروں سے ووٹروں کو لبھانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔”اور سب نے مل کر بی جے پی کو پانچوں ہی ریاستوں میں یہ بتا دیا کہ ہم انہیں ہرگز دوبارہ اقتدار پر نہیں آنے دیں گے جنہیں اقتدار کی بھوک اتنی زیادہ ہے کہ ہرگز ہماری بھوک کا احساس نہیں ہے لہذا جو نتائج ہیں وہ سب کے سامنے ہیں [۴]۔
بظاہرفسطائیت کو ایک بار پھر بری طرح شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے ، جبکہ مذہب کے نام پر ووٹوں کی تقسیم میں کوئی کسر نہیں رہ گئی تھی ،اگر کوئی کہتا ہے کہ یہ الیکش مذہب کے نام پر نہیں ہوئے ہیں تو غلط ہے اسے ایک بار بی جے پی کی طرف سے انتخابی تنور کے گرم کئے جانے کے تمام مراحل پر نظر ڈالتے ہوئے اس بات کو دیکھنا ہوگا کہ ان انتخابات میں بی جے پی نے کن لوگوں کو اپنا اسٹارک پرچارک بنایا تھا اور انہوں نے کیا کچھ کہا، جسکی ایک چھوٹی سی مثال بجرنگ بلی ہمارے اور علی ع کانگریس کے جیسا نعرہ تھا ، علاوہ از ایں اگر بی جے پی کے نظریاتی حصار کو دیکھا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہ پارٹی ہے جسکے بنیادی ڈھانچوں میں جس کے کیڈر میں نظریاتی عناصر بالادستی رکھتے ہیں اور اس سے متعلق ہندوتو نظریات کی حامی پارٹیاں بھی اپنے اپنے کارکنوں کے ساتھ سرگرم عمل رہتی ہیں جو اس پارٹی کی اصل طاقت ہیں۔ لہذا مبصرین و تجزیہ نگار افراد واضح طور پر کہتے ہیں کہ :” بی جے پی کی اصل طاقت اس سے منسلک ہندو نظریاتی تنظیموں میں پنہاں ہے”۔[۵]آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل، بن واسی کلیان سمیتی اور کئی دیگر چھوٹی بڑی تنظیموں کا پورے ملک میں جال پھیلا ہوا ہے۔ ان تنظیموں کی الگ الگ ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ ان کے کارکن شہروں، قصبوں اور چھوٹے چھوٹے گاؤں میں گھر گھر جا کر لوگوں سے رابطہ قائم کرتے ہیں اور اپنے نظریے کی تشہیر کرتے ہیں[۶]۔

اسکے علاوہ دیگر سرکردہ عناصر جنکی بظاہر کوئی پارٹی نہیں ہے لیکن ہندوتو کے نظریہ کو پورے ملک میں نافذ و جاری کرنے کے درپے ہیں وہ بھی مکمل طور پر زعفرانی پارٹی کی کھل کر حمایت کرتے ہیں “چنانچہ گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں انا ہزارے اور بابا رام دیو سے لے کر آر ایس ایس اوردرجنوں ہندو تنطیموں نے بی جے کو اقتدار میں لانے کے لیے پوری طاقت لگا دی تھی”[۷] اس بار یہ وگ پچھلی بار کی طرح متحرک تو نظر نہیں آئے لیکن کافی حد تک انہوں نے درپردہ زعفرانی پارٹی کو سپورٹ کیا لیکن اس بار عوام نے انکی ہر چال کو ناکام بناتے ہوئے جمہوریت پر اپنے اعتماد و یقین رکھنے کا ثبوت دیتے ہوئے واضح کر دیا کہ میڈیا کے ذریعہ کسی کی ہوا بنا کر سیدھے سادھے عوام کو اپنے جال میں ایک بار پھنسایا جا سکتا ہے بار بار نہیں ، البتہ یہ تو وقت ہی بتائے کہ فسطائیت نے کس قدر اپنی جڑیں جمہوری نظام میں مضبوط کی ہیں آنے والے پارلیمانی انتخابات سے واضح ہو سکے گا کہ بظاہر جمہوریت کی فسطائیت پر جیت واقعی تھی یا یہ بھی فسطائی طاقتوں کی جانب سے کوئی منصوبہ بند سازش کے ایک الیکشن ہار کر ہم کم سے کم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اے وی ایم مشنیوں نے صحیح کام کیا ، اگلے سال بھی یہی مشینیں ہونگی اور ہمارے ہی اہلکار ہوں گے پھر دیکھا جائے گا کون جیت درج کرتا ہے جمہوریت یا فسطائیت ؟ البتہ یہ صرف مفروضہ ہے قطعی طور پر کچھ کہا نہیں جا سکتا لیکن وقت کا انتظار کیا جا سکتا ہے آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کیا یہ جمہوریت کی فسطائیت پر جیت تھی یا ابھی فسطائی طاقتوں کو شکست دینے کے لئے بہت کچھ کرنا باقی ہے ۔

حواشی :

[۱] http://eciresults.nic.in/

۔https://data.indianexpress.com/assembly-elections/chhattisgarh-elections-results-2018-constituency-map-winners

[۲] ۔ https://www.dw.com/ur/%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%D8%AA%DB%8C%DB%81-%D8%AC%D9%86%D8%AA%D8%A7-%D9%BE%D8%A7%D8%B1%D9%B9%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%DA%A9%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%A7%D8%A8%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D8%B1%D8%AA%DA%BE-%D8%B1%DA%A9%D8%AA%D8%A7-%DB%81%D9%88%D8%A7/a-46685138

[۳] ۔ http://eciresults.nic.in/

۔https://data.indianexpress.com/assembly-elections/chhattisgarh-elections-results-2018-constituency-map-winners

[۴] ۔http://thewireurdu.com/47383/madhya-pradesh-assembly-election-congress-won-114-seats-bjp-109-bsp-sp/

[۵] ۔ https://www.bbc.com/urdu/regional-46577014

[۶] ۔ https://www.bbc.com/urdu/regional-46577014

[۷] ۔ https://www.bbc.com/urdu/regional-46577014

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍ت؍۱۰۰۰۲