اسماعیل ھنیہ نے بحران سے نکلنے کے لیے چار نکاتی حل تجویز کر دیا




اسماعیل ھنیہ نے قوم کو درپیش موجودہ بحران کے حل کے لیے چار نکاتی حل تجویز کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ حماس ان اہداف کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، اسلامی تحریک مزاحمت “حماس” کے سیاسی شعبہ کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے قوم کو درپیش موجودہ بحران کے حل کے لیے چار نکاتی حل تجویز کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حماس ان اہداف کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔

حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ نے ان خیالات کا اظہار غزہ کی پٹی میں منعقدہ جماعت کے ۳۱ ویں یوم تاسیس کے عظیم الشان عوامی اجتماعی سے خطاب میں کیا۔ انہوں‌ نے کہا کہ جن چار نکات کو موجودہ بحران کے حل کے لیے تجویز کیا گیا ہے وہ چیلنجز سےنمٹنے کے لیے مددگا ثابت ہو سکتےہیں۔ انہوں‌ نے کہا کہ میں اندرون فلسطین اور بیرون ملک حماس کی قیادت کا ترجمان اور پوری فلسطینی قوم کا خادم ہوں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ بحران کے حل کا پہلا نکتہ فلسطینی قوم میں مصالحت ہے۔ ہمیں اس وقت ہنگامی حالات کا سامنا ہے اور ان حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں‌ نے کہا کہ حماس فلسطینیوں میں وحدت کے قیام کے لیے آخری حد تک لچک دکھانے کو تیار ہے۔ ہمیں غزہ اور غرب اردن کا فرق مٹا کر مزاحمت کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط بنانا اور ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

اسماعیل ھنیہ نے فلسطین میں تمام جماعتوں پر مشتمل قومی حکومت کی تشکیل کے عمل کو آگے بڑھانا ہوگا۔ حماس فلسطین میں عام انتخابات، پارلیمانی، صدارتی اور بلدیاتی انتخابات کے لیے تیار ہے۔ اسرائیلی دشمن فلسطینیوں کو طاقت سے کچل رہا ہے۔ ایسے میں اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی تعاون دشمن کے ساتھ قوم کے خلاف مدد تصور کیا جائے گا۔

تیسرا نکتہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے فلسطین نیشنل کونسل کا اجلاس بلانے پر زور دیا اور کہا کہ تمام فلسطینی جماعتوں کی موجودگی میں فلسطین نیشنل کونسل کا اجلاس منعقد کرکے اعلیٰ سطحی فیصلےاور ان کی روشنی میں اقدامات کیے جائیں۔

بحران کے حل کے لیے پیش کردہ چوتھے نکتے کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسماعیل ھنیہ نےعرب اور مسلمان ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے پر زور دیا۔

مرکز اطلاعات فلسطین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/خ/۱۰۰۰۳