عالمی پارلیمان کا صہیونی ریاست کے جرائم کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ




اجلاس میں عالمی اور علاقائی سطح پر ملکوں کی پارلیمانوں کو فلسطین کے حوالے سے فعال کرنے، القدس اور فلسطینیوں کے خلاف جرائم کی روک تھام اور مظلوم فلسطینیوں کی مدد اور حمایت کے حصول پر زور دیاگیا۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، ترکی کے شہر استنبول میں منعقدہ عالمی پارلیمنٹ کے اجلاس نے اختتامی سیشن کے موقع پر جاری کردہ اعلامیے میں فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے جرائم کو بین الاقوامی سطح پر بے نقاب کرنے اور ان کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس موقع پر فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے مظالم کو بے نقاب کرنے پر زور دیا۔ اجلاس سے ترک صدر طیب ایردوآن، وزیراعظم بن علی یلدرم اور پارلیمنٹ کے اسپیکر سمیت کئی عالمی اور عرب رہنمائوں نے شرکت کی۔
جمعہ اور ہفتہ کے ایام میں ہونے والے عالمی پارلیمانی اجلاس میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی ریاست کے منظم جرائم کی روک تھام نیز فلسطین اور قضیہ فلسطین کے حل کے لیے ہونےوالی مساعی کو منظم اور مربوط بنانے پر زور دیا گیا۔

اجلاس میں عالمی اور علاقائی سطح پر ملکوں کی پارلیمانوں کو فلسطین کے حوالے سے فعال کرنے، القدس اور فلسطینیوں کے خلاف جرائم کی روک تھام اور مظلوم فلسطینیوں کی مدد اور حمایت کے حصول پر زور دیاگیا۔ اعلامیے میں‌کہا گیا کہ فلسطینی قوم کی عوامی اور سرکاری سطح پر مدد اور نصرت واجب ہے۔

اعلامیے میں‌ کہاگیا ہے کہ اسرائیل ایک منظم سازش اور حکمت عملی کے تحت قضیہ فلسطین کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ فلسطین اور القدس کی تاریخی اور جغرافیائی حیثیت کو مٹا رہا ہے۔ اعلامیے میں اسرائیل کے ساتھ سیاسی، اقتصادی، سماجی اور دیگر شعبوں میں‌تعلقات کے قیام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا گیا ہے عالم اسلام کو صہیونی ریاست کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے قیام سے دور رہنا چاہیے۔

خیال رہے کہ عالمی پارلیمان برائے القدس کا دو روزہ اجلاس استنبول میں ہوا۔ اجلاس میں ۸۰ ملکوں کے ۵۰۰ سے زاید ارکان پارلیمنٹ نے شرکت کی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/خ/۱۰۰۰۳