اسلامی جمہوریہ ایران کو کنٹرول کرنے کے لئے تل ابیب و ریاض کی مشترکہ حکمت عملی کے آٹھ اہم نکات




سعودی سیاسی مفکرین نے اپنی ساری توجہ کو ان اداروں اور تنظیموں سے مقابلہ میں صرف کر رکھا ہے جو اسرائیل کے مخالف ہیں ، جیسے حزب اللہ ، حماس، اور انصار اللہ ، اور وہ تنظیمیں جو ایران کے شام و لبنان اور عراق میں کردار ادا کرنے کا سبب ہیں۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: الجزیرہ کے مطالعاتی مرکز نے ان آٹھ نکات کو پیش کیا ہے جن سے سعودی ذہنوں میں اسرائیل ایران کی تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے، الجزیرہ کے مطالعاتی مرکز نے اپنے تجزیہ میں سعد سلمان المشہدانی کے قلم سے یہ بیان کرنے کی کوشش کی ہے کہ سعودی مفکرین کے سیاسی تفکر میں ایران و اسرائیل کہاں کھڑے ہیں، ایرانی نیوز ایجنسی انتخاب نے الجزیرہ کی جانب سے پیش کیے گئے تجزیہ کے اہم نکات کو یوں بیان کیا ہے ۔
۱۔ سعودی مبصرین و تجزیہ نگاروں نے اپنا مکمل طور پر رخ اس بات پر مرکوز کر رکھا ہے کہ عربوں کے پاس اسرائیل سے صلح کے علاوہ اب کوئی چارہ نہیں ہے انکا مکمل فوکس اس بات پر ہے کہ ایک جامع صلح کے سمجھوتہ پر دستخط کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا اسرائیل کے ساتھ ایک جامع صلح کا معاہدہ انکی بنیادی ضرورت ہے اس معاہدے کی ضرورت اس لئے بھی ہے کہ سعودی عرب کو وقت درکار ہے کہ آگے چل کر علاقے میں ایران سے مقابلہ کیا جا سکے لہذا سعودیوں کو اتنی فرصت چاہیَے کہ وہ ایران کے سلسلہ سے چارہ اندیشی کر سکیں کیوں کہ انکے مطابق ایران عربوں کے لئے اسرائیل سے زیادہ خطرناک ہے ۔
۲۔ سعودی ذرائع ابلاغ ، فلسطینی مزاحمت کے سلسلہ سے کی جانے والی ایرانی حمایت کو ایران کی ایک ایسی اسٹریٹجی سمجھتے ہیں جسے ایران نے ان گروہوں اور تنظیموں کو تہران کے خلاف اسرائیلی نقل و حرکت کے مقابل سپر کے طور پر استعمال کرنے کے تحت اختیار کیا ہوا ہے ۔
۳۔ سعودی سیاسی مفکرین نے اپنی ساری توجہ کو ان اداروں اور تنظیموں سے مقابلہ میں صرف کر رکھا ہے جو اسرائیل کے مخالف ہیں ، جیسے حزب اللہ ، حماس، اور انصار اللہ ، اور وہ تنظیمیں جو ایران کے شام و لبنان اور عراق میں کردار ادا کرنے کا سبب ہیں۔
۴.۔ ۲۰۱۸ ءکے دوران سعودی عرب کے زیادہ تر مضمون نگاروں اور تجزیہ نگاروں نے اپنی تحریروں میں اسرائیل و سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو موضوع گفتگو قرار دیتے ہوئے انکے بارے میں لکھا اور بیان کیا، اور ایک دوسرے سے قربت کا سبب دونوں ہی ممالک کی ایران کے سلسلہ سے مشترکہ پریشانی کو بیان کرتے ہوئے دو طرفہ اسٹراٹیجی کی پیروی بیان کی جسکے چلتے ایران کو کنٹرول میں رکھتے ہوئے سعودی عرب کے ان حالات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے جو بقول ان کے عربی بہار کی تحریک کی بنا پر بعض مزاحمتوں کے چلتے مکدر ہو گئے تھے اور سعودی عرب میں تحفظ و سکیورٹی کو لیکر خدشات سامنے آئے تھے ۔
۵۔ سعودی عرب کے بزرگ سیاسی متفکرین ایران کی ایک منفی تصویر پیش کرنے کے درپے ہیں جسکا شام ، یمن ، عراق اور لبنان میں رسوخ و نفوذ ہے۔
۶۔ سعودی عرب یہ دکھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ ایران کے لوگ مشکلات کا شکار ہیں اور رنج وپریشانی میں گزر بسر کر رہے ہیں ہیں۔ سعودی عرب ایسا اس لئے کر رہا ہے کہ اسکی یہ سیاست خود اسکے اپنے اقتصادی حالات پر راست طور پر اثر انداز ہونے کا سبب ہے ۔
۷۔ سعودی متفکرین کا ماننا ہے کہ ایران کی دنیا سے مشکل ان کے جوہری توانائی کے پروگرام کو لیکر نہیں ہے بلکہ اصلی مشکل ایران کا طرز عمل ہے، ایران کا طرز عمل انکے بقول ایسا ہے کہ جس سے بین الاقوامی برادری تقاضوں کی رعایت خاص کر عربی خطے کے تحفظات نیز انکے درمیان اعتماد کی فضا اور انکے مابین دوستی ، کی تصویر سامنے نہیں آتی ہے ۔{اسکے برخلاف یہ نظر آتا ہے کہ باہمی اعتماد متزلزل ہے ،اور ایران بین الاقوامی برادری کے بر خلاف چل رہا ہے خاص کر عرب ملکوں کو اس سے خطرہ لاحق ہے} ۔
۸۔ ان لوگوں کا ماننا ہے کہ مجلس تعاون برائے خلیجی عرب ممالک (Cooperation Council for the Arab States of the Gulf)
یا خلیج تعاون کونسل (Gulf Cooperation Council – GCC) کو سب سے زیادہ نقصان ایران کے طرز عمل سے ہے اور مشرق وسطی اور خلیج فارس ایک ایسے آتش فشاں کے دہانے پر ہے جو پھٹنا ہی چاہتا ہے جو ایران کی سیاست کی وجہ سے متحرک ہو چکا ہے اور روس و امریکہ کے ذریعہ اسکو آکسیجن و غذا فراہم ہو رہی ہے یہ کبھی بھی پھٹ سکتا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍ی؍۱۰۰۰۲