حماس کے ۳۱ ویں یوم تاسیس کی تقریبات کے اہم پیغامات




جہاں تک اسرائیل کے لیے پیغامات کی بات ہے تو اسماعیل ھنیہ کا بیان کافی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ نومبر میں اسرائیلی فوج نے غزہ میں ایک بزدلانہ حملہ کیا تھا جس میں دشمن کو بھاری شکست اور ھزیمت اٹھانا پڑی ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ماضی کی نسبت اس بار اسلامی تحریک مزاحمت “حماس” کے یوم تاسیس کا اجتماع ریکارڈ ساز قرار تھا۔ ۱۶ دسمبر بہ روز اتوار حماس کے ۳۱ ویں یوم تاسیس کی مناسبت سے غزہ کی پٹی میں ایک عظیم الشان عوامی اجتماع منعقد کیا گیا۔ غزہ میں یہ حماس کا عوامی طاقت کا بھی ایک مظاہرہ تھا، جس کے ذریعے حماس نے فلسطینی قوم اور صہیونی دشمن سمیت کئی اطراف کو پیغامات دیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حماس نے اپنے ۳۱ ویں یوم تاسیس کے موقع پراندرون اور بیرون ملک کئی پیغامات دیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حماس کے عوامی طاقت سے کئی پیغامات ملتے ہیں۔ حماس نے یوم تاسیس کے موقع پرحسن انتظام کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ جماعت ملبے اور تکلیف کے درمیان میں بحران سے نکلنے کا فن جانتی ہے۔

فلسطینی تجزیہ نگار ایاد القرا نے کہا کہ حماس کے عوامی طاقت کے مظاہرے نے سب کو حیران کردیا۔ سب سے بڑا پیغام تو ان لوگوں کے لیے حیرانی ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ غزہ کے بحرانوں ‌نے حماس کو عوامی طاقت سے محروم کردیا ہے۔ حماس نے فقید المثال اجتماع کرکے ان عناصر کی زبانیں بند کردی ہیں۔ یہ اجتماع اس بات کا بین ثبوت ہے کہ میڈیا پروپیگنڈے کے باوجود حماس کی عوامی مقبولیت پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے بلکہ حماس پہلے سے بڑھ کر عوام میں اپنی گہری جڑیں رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حماس کے تاسیسی اجتماع نے اسرائیل کو یہ پیغام دیا ہے کہ حماس صرف ایک مخصوص گروہ نہیں بلکہ فلسطینی عوام کی آواز ہے۔ غزہ کے تمام اضلاع سے ریلیوں اور قافلوں کا میدان کتیبہ میں پہنچنا اور ہر جگہ پرحماس کے قافلوں کا استقبال حماس کی عوامی مقبولیت کاعکاس ہے۔

ایاد القرا کا کہنا ہے کہ حماس نے فلسطینی قوتوں کو سیاسی پیغام دیا ہے کہ جماعت فلسطینی دھڑوں میں مصالحت کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس ضمن میں اسماعیل ھنیہ کے مطالبات کو فلسطینی عوام میں مقبولیت حاصل ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں ‌نےکہا کہ حماس نے غزہ کے ساتھ ساتھ غرب اردن میں‌ بھی اپنے وجود کو تسلیم کرایا اور مزاحمت کے میدان میں غرب اردن میں اپنی کامیابی منوائی ہے۔ اشرف نعالوۃ شہید اور صالح البرغوثی غرب اردن میں حماس کی مزاحمت کی زندہ مثالیں ہیں۔

جہاں تک اسرائیل کے لیے پیغامات کی بات ہے تو اسماعیل ھنیہ کا بیان کافی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ نومبر میں اسرائیلی فوج نے غزہ میں ایک بزدلانہ حملہ کیا تھا جس میں دشمن کو بھاری شکست اور ھزیمت اٹھانا پڑی ہے۔

ایاد القراء نے کہا کہ حماس نے اپنےاجتماع کے ذریعے صہیونی ریاست کے داخلی محاذ کو یہ پیغام دیا ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں میں کسی بھی قسم کی جارحیت کی صورت میں تل ابیب سمیت صہیونی ریاست کے زیرتسلط کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی بلکہ دشمن کو ہرجگہ پر نشانہ بنایا جائے گا۔

اسرائیلی امور کے تجزیہ نگار محمود مرداوی نے حماس کے تاسیسی اجتماع کے بارے میں کہا کہ حماس نے صہیونی ریاست کو طاقتور اور صریح پیغام دیا ہے کہ حماس اپنے عہد پر قائم دائم ہے، قربانیوں کے باوجود حماس کے موقف اور پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

مرداوی کا کہنا تھا کہ حماس نے اسرائیل کو یہ پیغام دیا ہے کہ جماعت عوامی مقبولیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حماس نے فلسطینی اتھارٹی کو یہ پیغام دیا ہے کہ حماس فلسطینی قوم میں اتحاد کے لیے کوشاں ہے اور وہ قومی نوعیت کے فیصلوں کے لیے آمرانہ پالیسی کو قبول نہیں کرے گی۔ حماس مصر کی جانب سے پیش کی گئی مصالحتی تجاویز کو تسلیم کرتی ہے۔

palinfo.com

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍گ؍۱۰۰۰۳