ہدایتکار جو یہودیت کے لئے باعث شرم ہے!/ شاید وطن واپس نہ جاسکوں! / امریکہ پر صہیونیت اور عربوں کا تسلط




امریکہ کے یہودی ہدایتکار ڈان کوہن (Dan Cohen) نے کہا: دستاویزی فلم “غزہ کا قتل” (Killing Gaza) (1) بنانے کے بعد، مجھے اسرائیلی سفارتخانے کا ایک خط موصول ہوا جس میں لکھا گیا تھا کہ “میں یہودیت کے لئے باعث شرم ہوں”، لیکن آخرکار انھوں نے اس مسئلے کو چھپانے کی کوشش کی۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: مزاحمت فلم فیسٹیول کے خبررساں اسٹاف کے مطابق، دنیا بھر کے متعدد نامور ہدایتکاروں نے، تہران میں، حال ہی میں منعقدہ مزاحمت فلم میلے میں شرکت کی۔
کانفرنس کے آغاز پر، میلے کے بین الاقوامی شعبے کے ڈائریکٹر محسن برمہانی نے کہا: تسلط پسند [استعماری = سامراجی] سینما کے معنی یہ ہیں کہ بڑی طاقتیں فلم اور سینما کے ذریعے اپنی آراء اور نظریات کو نافذ کرتی ہیں اور اپنے مقاصد کے حصول کی کوشش کرتی ہیں۔ دیکھنا چاہئے کہ کیا “تسلط پسند سینما” ایک حقیقت ہے یا محض ایک وہم و گمان ہے؟ ظاہر ہے کہ جب ہم ان مفاہیم کے سلسلے میں پوری دنیا کے مختلف افراد سے بات کرتے ہیں تو ان کے خیالات سے آگہی ضروری ہوتی ہے۔
بعدازآں چلی کے ہدایتکار فیڈریکو بوتو (Federico Botto) نے کہا: میں ملک چلی سے آرہا ہوں اور ماحولیاتی مسائل اور قومی اقلیتوں کے شعبوں میں کام کرتا ہوں۔ مجھے فخر ہے کہ اس میلے میں شرکت کے لئے ایران میں آیا ہوا ہوں اور مجھے ایران کے شفیق عوام سے ملنے کا موقع ملا ہے۔ اس میلے سے ثابت ہوتا ہے کہ اس میلے کی صلاحیت بہت اعلی ہے۔
وینزویلا کے ہدایت کار لوئس کاسترو نے کہا: مجھے فخر ہے کہ اس میلے میں شریک ہوں۔ دنیا کی سطح پر اس میلے کی اہمیت بہت زیادہ ہے، ایران کے مہمان نواز عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں لیکن یہ بھی کہتا چلوں کہ میں اس سے پہلے بھی ایرانی ٹی وی چینلوں کے ساتھ کام کرتا رہا ہوں۔
انھوں نے کہا: اس طرح کے فلم میلے بہت اہم ہیں کیونکہ ان میں ایسے موضوعات زیر بحث لائے جاتے ہیں، جن کے بارے میں بحث و تمحیص، تسلط پسند طاقتوں کے ذرائع ابلاغ میں مجاز ہے۔ یہاں ان لوگوں کی کاوشوں کی نمائش ہوتی ہے جن کی صدا مغربی دنیا میں نہيں سنی جاتی۔ یہاں پیش کی جانے والی کاوشوں کے موضوعات بہت حساس ہیں اور میں سب سے اپیل کرتا ہوں کہ ان کاوشوں کو ضرور دیکھیں۔
مزاحمت فیسٹیول دنیا بھر کے لوگوں کے رنج و الم کو منظر عام پر لاتا ہے
بعدازاں امریکی پروفیسر اور ہدایتکار جان جیانویٹو (John Gianvito) نے کہا: میں ایک آزاد فلم ساز ہوں اور مجھے خوشی ہے کہ ایران میں ہوں کیونکہ ایران اور امریکہ کے تعلقات ایسے نہیں ہیں کہ ہم آسانی سے یہاں آسکیں۔ میں البتہ ایرانی سینما اور یہاں کے فلم سازوں کو پہلے سے جانتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ ایران کے فلم ساز، ترقی کے مراحل طے کررہے ہیں۔
انھوں نے کہا: مزاحمت فلم میلے کے بارے میں مجھے کہنا چاہئے کہ یہ میلہ دنیا بھر کے عوام کے رنج و غم کو منظر عام پر لاتا ہے۔ اور یہ ایسا موضوع ہے جس کو تسلط پسند اور استعماری ذرائع ابلاغ دیوار سے لگاتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ ان شعبوں میں کام کرنا بہت دشوار ہے، لیکن مجھے امید ہے کہ اس طرح کے میلوں کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کیا جاتا رہے تا کہ انسانوں کے حقیقی مصائب اور مسائل پوری دنیا کو دکھائے جاسکیں۔ میں نے یہاں ریویور کے طور پر ۲۲ فلموں کا جائزہ لیا جو دنیا کے آج کے مسائل اور مستقبل کے مسائل کے سلسلے میں بنائی گئی تھیں اور محسوس کرتا ہوں کہ ان فلموں کو دیکھنا چاہئے اور عوام سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ ان کاوشوں کو ضرور دیکھیں۔
یہودی ریاست کے سفارتخانے نے مجھے دھمکی دی
بعدازاں، امریکہ کے یہودی ہدایتکار ڈان کوہن (Dan Cohen) نے کہا: میں فلم ساز ہوں اور دستاویزی فلمیں بناتا ہوں۔ میں نے دستاویزی فلم “غزہ کا قتل” (Killing Gaza) بنائی۔ ایک امریکی شہری کے طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ امریکہ کی کوشش ہے کہ ایرانی عوام پر اپنا تسلط جمائے، تاہم امریکی عوام ایرانی عوام کے ساتھ ہیں، اسی بنا پر ہمیں کوشش کرنا چاہئے کہ اس راہ کو جاری رکھیں اور اس میلے کا مقصد بھی یہی ہے۔
انھوں نے کہا: میں اس میلے کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ دستاویزی فلموں کے ان ہدایتکاروں کو اہمیت دیتا ہے جو اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہیں اور ان موضوعات کو اہمیت دیتا ہے جن میں انسانوں کے غموں اور مصیبتوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میری فلم کو بھی اس میلے میں دکھایا جارہا ہے۔
دستاویزی فلموں کے اس ہدایتکار نے امریکہ سے ایران آنے کے سلسلے میں امریکی انتظامیہ کی طرف کے مسائل و مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امریکہ ایران پر بہت زیادہ دباؤ ڈال رہا ہے اور ان لوگوں پر بھی جو امریکہ سے ایران کے دورے پر آنا چاہتے ہیں؛ جس کی وجہ سے ایران آنا بہت مشکل ہوجاتا ہے، لیکن میرے یہاں آنے کے سلسلے میں بعض دوستوں نے میرے سفر کو آسان بنانے میں کردار ادا کیا تاکہ میں ایران آسکوں۔
انھوں نے مزید کہا: چونکہ میں سوشل میڈیا میں بھی سرگرم کردار ادا کرتا ہوں، جانتا ہوں کہ پوری دنیا میں کوشش کی جارہی ہے کہ لوگوں کو جتایا جائے کہ “فلسطینی مر رہے ہیں، لیکن اسرائیلی انہيں قتل نہیں کررہے ہیں”۔
کوہن کا کہنا تھا: مجھے یہیں یہ بیان کرنا پڑ رہا ہے کہ “غزہ کا قتل” نامی دستاویزی فلم بنانے کے بعد، مجھے امریکی سفارتخانے کی طرف سے ایک خط موصول ہوا جن میں مجھے یہودیت کے لئے باعث شرم قرار دیا گیا تھا لیکن آخر کار انھوں نے اس موضوع کو چھپانے کی کوشش کی اور مجھ سے کہا: “یہ خط سفارتخانے کے ایک کلرک نے بھیجا تھا!!!؟”
انھوں نے کہا: اسرائیلی سفارتخانے کے پیغام کا مطلب یہ ہے کہ یہ ریاست اپنے آپ کو مجاز سمجھتی ہے کہ [میرے ملک میں] میری توہین کرے؛ وہ کہنا چاہتے ہیں کہ “میں یہودیت کا نمائندہ ہوں”، اور چاہتی ہے کہ میرے توسط سے اپنے غلط دعؤوں اور غلط باتوں کی ترویج کریں، لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ میں ایک امریکی نامہ نگار کے طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ امریکی حکومت کی کوشش ہے کہ ہمیں ہمیشہ ذرائع ابلاغ سے دور رکھے اور تنہائی سے دوچار کردے، اور کہہ دے کہ “فلسطین کا مسئلہ وہ نہيں ہے جو دوسرے کہہ رہے ہیں”، بطور مثال ایک فلسطینی نامہ صحافی کو اسرائیلیوں نے قتل کیا، جس کا قتل بہت المناک تھا، لیکن امریکہ نے اس موضوع کو لائق توجہ نہیں سمجھا!!
امریکہ کی کوشش ہے کہ اپنے مظالم کو دنیا سے منوا لے
امریکی ہدایتکار پروفیسر جان جیانویٹو نے کہا: میں ایک آزاد فلم ساز کے طور پر کسی بھی فلم کمپنی سے امداد وصول نہیں کرتا؛ میں نے ایسی فلمیں بنانے کی کوشش کی جن میں، میں یہ دکھا سکوں کہ امریکہ کس طرح اپنے مظالم کو دنیا والوں سے منوانا چاہتا ہے۔ اسی وجہ سے میں نے ایک دستاویزی  فلم عراق اور عراقی عوام پر امریکی مظالم، ایک دستاویزی فلم افغانستان کے بارے میں اور ایک دستاویزی فلم فلپائن کے عوام پر امریکی مظالم کے بارے میں بنائی ہے۔
ان کے بعد، ونزوئلا کے ہدایت کار لوئس کاسترو نے کہا: ایک فلم بین کے طور پر میرا خیال ہے کہ یہ صرف ایک بہانہ ہے کہ ہم کہہ دیں کہ ہالی ووڈ صرف فلم سازی کا مرکز ہے؛ عرصہ ہوا کہ میں نے ہالی ووڈ کی فلموں کو نہیں دیکھا ہے؛ اور حتی کہ وہاں کا آسکر ایوارڈ بھی میرے لئے کوئی اہمیت نہيں رکھتا۔ اگر آپ تحقیق کریں تو دیکھیں گے کہ حتی نائیجریا جیسے ممالک بہت اچھی فلمیں بناتے ہیں؛ یا چلی کی سینما صنعت بہت اچھی ہے، لیکن دوسرے ممالک کے لوگ تصور کرتے ہیں کہ گویا ان کے نزدیک ہالی ووڈ کے سوا کوئی انتخاب نہیں ہے اور ہالی ووڈ کا کوئی متبادل نہیں ہے؛ حالانکہ ہالی ووڈ دنیا کی پہلی سینما انڈسٹری نہیں ہے؛ کیونکہ یہ صنعت ہالی ووڈ سے پہلے موجود تھی، اور اس صنعت نے ہالی ووڈ سے پہلے بہت ساری فلمیں بنائی ہیں۔ ہالی ووڈ گذشتہ ایک صدی کے دوران اسی فکری لکیر کا پیروکار رہا ہے جو امریکی سیاستدانوں نے اس کے لئے کھینچ رکھی ہے، اور اس کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا لیکن ہمیں اپنی نگاہ اور اپنا انتخاب بدل دینا چاہئے اور ہمیں خود تعین کرنا چاہئے کہ ہمیں کیا دیکھنا ہے۔
چلی کے ہدایتکار فیڈریکو بوتو نے بھی اس سلسلے میں کہا: ہالی ووڈ کا تسلط کچھ اس طرح سے ہے کہ وہ ایسے موضوعات کو چھیڑتا ہے جہاں سی آئی اے بھی وارد نہیں ہوتی؛ وہ ثقافتی امور میں دراندازي کرتا ہے، چنانچہ ہمیں مزاحمت و استقامت کے ذریعے اپنے انتخاب کو بدل دینا پڑے گا۔
نیٹو اور فیس بک بنی سعود کے حامی
کوہن نے بوتو کے اظہار خیال کے بعد کہا: امریکہ میں ٹوئیٹر اور فیس بک کے صارفین زیادہ ہیں، حالانکہ یہ دونوں نیٹ ورکس نجی کمپنیوں میں بنے ہیں اور ان کمپنیوں نے انہیں اپنے مفاد کے لئے بنایا ہے لیکن تسلط پسند ذرائع نے حتی ان دو میں بھی اپنا اثر و رسوخ قائم کرلیا ہے۔ مثال کے طور پر میں نے اپنی فلم کا اشتہار فیس بک پر شائع کیا جس کو فیس بک نے ہٹا دیا۔ فیس بک کو نیٹو اور سعودی عرب جیسے اداروں کی حمایت حاصل ہے اور نیٹو اور سعودی عرب نے کچھ گروپ بنا لئے ہیں جو فیس بک کی نگرانی کرتے ہیں اور ایک فلم کے اشتہار کو بھی برداشت نہیں کرتے۔
“غزہ کا قتل” کے ہدایتکار نے کہا: جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں: سماجی نیٹ ورکس کو کچھ طاقتور افراد گھیر لیتے ہیں اور وہ جو کچھ چاہتے ہیں، وہی ہوتا ہے، حالانکہ ان نیٹ ورکس کو عوام کے اختیار کا تابع ہونا چاہئے۔
کوہن نے کہا: یہ صحیح ہے کہ ہمارے ملک امریکہ میں “آزادی بیان” [یا “آزادی تقریر” (Freedom of speech) یا “آزادی تقریر”]  کا قانون موجود ہے اور ایسی فلمیں بھی بنتی ہیں جو کہ ممکن ہے کہ دلچسپ موضوعات کو زیر بحث لاتی ہوں لیکن کچھ سرخ لکیریں بھی ہیں؛ مثلا جب شام کی جنگ کے حقائق کی طرف اشارہ کرنے کی باری آتی ہے تو یہ امریکہ میں سرخ لکیر کے ذیل میں آتا ہے اور یوں امریکی عوام کو کبھی بھی معلوم نہیں ہوتا کہ “امریکہ شام میں تکفیری ٹولوں کو امداد فراہم کررہا ہے”۔
ہالی ووڈ میں ابتداء سے امتیازی رویے حکمفرما ہیں
کاسترو نے کوہن کی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا: میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ امریکی فلموں اور ڈراموں میں امریکی پالیسیوں پر کچھ تنقید بھی پائی جاتی ہے لیکن نچلی سطوح پر ایسے موضوعات کو نمایاں کیا جاتا ہے جو امریکہ کی طاقت اور عالمی سطح پر تسلط کی عکاسی کرتے ہیں اور یوں کہا جاتا ہے کہ “امریکہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے” اور آشکار ہوجاتا ہے کہ یہ فلمیں خاص مقاصد کے لئے بنائی جاتی ہیں؛ ہالی ووڈ کی فلموں میں یہودی اچھے لوگ ہیں لیکن لاطینی امریکہ کے عوام کو غلیظ دکھایا جاتا ہے؛ اور یہ امتیازی رویے ہمیشہ ہمیشہ ہالی ووڈ میں موجود رہے ہیں؛ چنانچہ ان فلموں اور ڈراموں میں صرف ایک خاص فکری منظومے کی پیروی مد نظر ہوتی ہے۔
بچوں کو نقصان پہنچانا، ملک کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کے مترادف
بعدازاں فیڈریکو بوتو نے کہا: میں ایک پروڈیوسر کے طور پر سمجھتا ہوں کہ ایک ہدایتکار اپنی طاقت اور اہلیت کی بنیاد پر ـ جہاں وہ ضروری سمجھتا ہے، ـ مد نظر امور میں تبدیلی لا سکتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ کونسی چیز مانع ہے کہ ہدایتکار اپنی اس اہلیت سے فائدہ نہ اٹھائے؟ ہدایتکاروں کو ضرور ایسا کرنا چاہئے تا کہ لوگوں پر گذرنے والے مظالم کو اجاگر کرکے لوگوں تک پہنچائیں۔ حالانکہ اس وقت سب سے زیادہ نقصان بچوں کو پہنچ رہا ہے اور یہ مسئلہ ممالک کے مستقبل کو نقصان پہنچاتا ہے۔
پروفیسر جان جیانویٹو نے بوتو کی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: متعہد (committed) سینما کی ایک خصوصیت “اضطرار” ہے؛ جو دنیا کے انسانوں کے رنج و غم کی عکاسی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ احساس بھی پایا جائے کہ “میں ایک فرد ہوں تو میں پوری دنیا کو کیونکر بدل سکتا ہوں، لیکن ہمیں اپنے ضمیر سے رجوع کرنا چاہئے اور کہہ دیں کہ ہم سب جوابدہ ہیں”۔ میرے نزدیک متعہد [اور پابند] سینما کا ایک کردار ہے وہ یہ کہ میں اس ذریعے سے اپنا فیزیکی فاصلہ کم کروں اور لوگوں کو اپنی کاوشوں کے قریب لے آؤں۔
شاید میں وطن واپس نہ جاسکوں!!!
آزادی کے دعویدار اور امریکن ڈریم کے نعرے لگانے والے امریکہ کے اس پروفیسر اور ہدایتکار جیانویٹو سے پوچھا گیا کہ اپنے وطن واپسی پر ایران کے اس سفر کے نتیجے میں انہیں کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟ تو انھوں نے کہا: ممکن ہے کہ ایران کے سفر کی پاداش میں مجھے مسائل کا سامنا کرنا پڑے اور ممکن ہے کہ وطن واپس نہ جاسکوں تاہم اگر میں اپنے وطن واپس جاسکوں تو اس فلم میلے اور ایران کے بارے میں بات چیت کروں گا اور اس کے خاص قسم کے نتائج اور عواقب ہوسکتے ہیں۔
امریکہ میں آزادی بیان یا آزادی تقریر محض نعرہ ہے
ڈان کوہن نے کہا: ہم ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جو ممکن ہے کہ امریکہ میں اظہار اور بیان کی آزادی “نظری اعتبار سے” (Theoretically) موجود ہو لیکن عملی طور پر ایسی کوئی آزادی نہیں پائی جاتی۔ ہمارے لئے یہ بہت اہم ہے کہ اس موقع اور اس نظر (یا Theory) سے فائدہ اٹھائیں اور اور اپنے اوپر موجودہ دباؤ کے سائے میں اپنی بات کہہ سکیں۔ بہرصورت ہماری ذمہ داری عواقب و نتائج سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
کوہن نے ایران اور امریکی پابندیوں کے بارے میں ایک دستاویزی فلم بنانے کے سلسلے میں کہا: پہلی بات یہ ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے کے درپے ہے وہ ایران کو نابود کرنا چاہتا ہے۔ اہم بات یہ نہیں ہے کہ وہ عملی طور جنگ شروع کریں، یہی پابندیاں بھی جنگ ہی کے زمرے میں آتی ہیں اور میں اس مستند میں دکھانا چاہتا ہوں کہ ایرانی عوام پر امریکی پابندیوں کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ نیز میں کہنا چاہتا ہوں کہ امریکیوں کے اس دعوے کے برعکس ـ کہ ایران دہشت گردی کا مرکز ہے ـ ایران دہشت گردی کا نشانہ ہے اور ہمیں یہ پیغام دنیا والوں تک پہنچانا چاہئے۔
جان جیانویٹو نے کوہن کی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: تاریخ کا طالبعلم بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ امریکہ نے سب سے پہلے دنیا کی سطح پر دہشت گردی کی بنیاد رکھی ہے۔
انھوں نے تسلط پسند استعماری سینما کی کارکردگی اور اثرات کے بارے میں کہا: کچھ ایسے فلم ساز بھی ہیں جو ایسے پیغامات کی تصویر کشی کرتے ہیں جن کے بارے ميں انہیں اندیشے ہیں اور جو ان کے لئے اہمیت رکھتے ہیں۔ بطور مثال مائیکل مور (Michael Francis Moore) امریکہ میں رہتے ہیں؛ لیکن وہ بھی استعماری نظام کے خلاف فلم بناتے ہیں۔
عالمی سینما پر صہیونیوں کا تسلط
لوئس کاسترو نے عالمی سینما پر صہیونیوں [یہودیوں] کے تسلط کے بارے میں کہا: اگر سینما کا مطلب وہی سینما ہے جو یہودی ریاست (اسرائیل) کے ترسیم کردہ لکیروں پر چلتا ہے، تو اس کا مقصد یہ ہے کہ اس ریاست کو علاقائی مسائل و مشکلات سے نجات دلانا ہے۔ اس کے باوجود، اگر پوری طاقت اور تمام تر وسائل بھی ان ہی کے ہاتھ میں ہوں تو ہمیں اپنے آپ سے شروع کرنا چاہئے اور اپنا کام جاری رکھیں۔ اگر کوئی شخص حقیقت بیان کرنا چاہے تو وہ ضرور ایسا کرسکتا ہے، چنانچہ ہمیں اپنے آپ سے شروع کرنا چاہئے اور مزاحمت فلمی میلے کی طرح کے میلوں کو فروغ دینا چاہئے، گوکہ یہ مقصد ایک دن میں حاصل نہیں ہوتا۔
امریکہ پر صہیونیت اور عربوں کا تسلط
ڈان کوہن نے کہا: ہمیں صہیونیوں کے ابلاغی تسلط کے اثرات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور کھلی آنکھوں سے اسے زیر نظر رکھنا چاہئے۔ ہم یہودی ہیں اور امریکہ کی دو فیصد کا تعلق یہودیوں سے ہے اور ہم امریکی یہودیوں کے طور پر دیکھتے ہیں کہ صہیونیوں کو امریکہ میں بہت وسیع پیمانے پر اثر و رسوخ حاصل ہے۔ امریکہ میں یہودیوں کی یہ طاقت، ایک مختلف اور متغیر تفکر کا نتیجہ ہے اور یہی وہ تفکر ہے جس کی اساس پر صہیونیت نے جنم لیا ہے۔ بہرصورت، امریکی یہودی ہی صہیونیوں کے نمائندے نہیں ہیں بلکہ ایسے کیمپین پائے جاتے ہیں جو ان کے مفادات کو ترویج دیتے ہیں اور ہمیں ان پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ جو اثر و رسوخ صہیونیوں اور سعودی عرب جیسے ممالک کو امریکہ میں حاصل ہے، اسی کی روشنی میں امریکی پالیسیوں میں ان کا تسلط تشکیل پاتا ہے۔
فیڈریکو بوتو نے اسی موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: بیسویں صدی میں بینک اصلی طاقت کو تشکیل دیتے تھے اور سینما بینکوں کے کنٹرول میں ہے لیکن اب ہمیں اس پر نظر رکھنا چاہئے۔
کاسترو نے کہا: اس بات چیت میں جو فکر میرے سامنے آئی وہ یہ ہے کہ ہمیں نوجوانوں کو زیادہ توجہ دینا چاہئے، کیونکہ تبدیلی کی کنجی نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ ہمیں اپنے آپ سے شروع کرنا چاہئے۔ جنوبی امریکہ کی سیاست میں ہم تبدیلی کے عمل سے گذر رہے تھے، لیکن رک گئے اور تبدیلی کا عمل پہلے دن اور آغاز کی طرف پلٹ گیا، وجہ یہ تھی کہ انقلابی افراد نے بات چیت کا سلسلہ روک لیا، اور تنقید کا سلسلہ ترک کر دیا اور یہ سلسلہ رک گیا۔
مزاحمت کا یہ میلہ بڑی طاقتوں کے تسلط کو توڑ سکتا ہے
جان جیانویٹو نے کہا: ہم اس طرح کے میلوں کے ذریعے تسلط اور استعمار کو توڑ سکتے ہیں، مثال کے طور پر اسی میلے میں ایک ایسی دستاویزی فلم بھی آئی ہے جس میں واضح کیا جاتا ہے کہ امریکیوں کے ذہن کو کس طرح سمت دی جاتی ہے لیکن اس سلسلے کو بدل دینے کے لئے مزاحمت فلم میلہ جیسے میلوں کا انعقاد اور متعلقہ موضوعات پر فلم بنانے والے ہدایت کاروں اور پروڈیوسروں کو شرکت کی دعوت دینا چاہئے، اور اس سلسلے کو بہرصورت جاری رہنا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
http://www.mojnews.com/fa/tiny/news-253529
۱۔ دستاویزی فلم میکس بلومینتھل (Max Blumenthal) اور ڈان کوہن کی مشترکہ کاوش ہے جو انھوں ۲۰۱۴ع‍ میں غزہ پر یہودی ریاست کے حملے کے سلسلے میں بنائی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/گ/۱۰۰۰۱