اقوام متحدہ ایک آزاد ادارہ یا غلام؟




صہیونی یہودیوں نے اسرائیل کی تشکیل کے حق میں ووٹ لینے کے لیے دوسرے ممالک کو مختلف حربوں سے رضامند کیا جن میں زیادہ تر حربے اقتصادی اور سیاسی تھے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اس کے بعد کہ برطانیہ نے فلسطین کی سرپرستی کو اقوام متحدہ کے حوالے کر دیا، امریکہ کی صہیونی لابی فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی کوششوں میں لگ گئی۔ صہیونیوں کو ایک الگ یہودی ریاست کی تشکیل کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دو تہائی ووٹوں کی ضرورت تھی۔ انہوں نے پہلی نوبت میں اسمبلی میں ہونے والی ووٹینگ کو ٹال دیا تاکہ اس فرصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جنرل اسمبلی کے رکن ممالک کو اپنی حمایت پر قانع کریں۔
رابرٹ ناتھن (Robert nathon) جو امریکی حکومت اور یہودی ایجنسیوں میں سرگرم عمل رہے ہیں اس بارے میں لکھتے ہیں:” ہم نے تمام ممکنہ اوزار اور ہتھیار استعمال کیے۔ مثال کے طور پر ہم نے تمام رکن ممالک کے نمائندوں سے کہا کہ اگر فلسطین کی تقسیم کے منصوبے کو ووٹ نہیں دیا تو صہیونیت ان کی مالی امداد روک دے گی”۔
صہیونی یہودیوں نے اسرائیل کی تشکیل کے حق میں ووٹ لینے کے لیے دوسرے ممالک کو مختلف حربوں سے رضامند کیا جن میں زیادہ تر حربے اقتصادی اور سیاسی تھے۔ مثال کے طور پر وقت کے امریکی صدر کے مشیر “برناڈ باروچ” نے فرانسیسی حکومت کو دھمکی دی کہ اگر وہ اس منصوبے کی مخالفت کرے گی تو اس کا سارا بجٹ کاٹ دیا جائے گا۔ “ٹرومن” کے مشیر اعلیٰ “ڈیوڈ نابلز” نے ٹائر کمپنی کے سب سے بڑے سرمایہ دار “ہیروی فیرسٹن” (Harvey fireston) کے ذریعے لیبریا (Liberia) پر دباؤ ڈالا کہ مخالفت کی صورت میں اسے نابود کر دیا جائے گا۔
لاطینی امریکہ کے ممالک کو بھی مالی امداد روک دئے جانے کی دھمکیاں دی گئیں۔ یہاں تک کہ کوسٹا ریکا (Costa Rica) کے صدر جوز فیگوریس (Jose figures) کو ایک سفید چیک کاپی دے دی گئی اور کہا گیا کہ حمایت کی صورت میں جتنا پیسہ چاہیے دیا جائے گا۔ اس درمیان فلپائن نے ان تمام امریکی دھمکیوں کے باوجود، انتخابات کے دن ایک پرجوش تقریر کی اور فلسطینی عوام کے ابتدائی حقوق کا دفاع کیا۔ لیکن آخر کار صہیونیوں کے دباؤ میں آکر تقسیم کے منصوبے کے حق میں اس نے بھی ووٹ دے دیا۔
نتیجے کے طور پر اقوام متحدہ نے ۲۹ نومبر ۱۹۴۷ کو قرارداد نمبر ۱۸۱ کے تحت سرزمین فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اس کا ۵۱ فیصد حصہ یہودیوں اور ۴۹ فیصد حصہ فلسطینیوں کے حوالے کیا۔ اس قرارداد کو اگر چہ متعدد بار بطور استناد قرار دیا گیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرار داد سلامتی کونسل کی قرارداد کے برخلاف رکن ممالک کے لیے واجب التعمیل اور لازمی نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ قرارداد زیادہ تر تجویزی پہلو رکھتی ہے اور اس کا نتیجہ یہ نہیں ہونا چاہیے تھا کہ اس قرارداد کے تحت ایک ملک تشکیل دیا جائے وہ بھی غصب شدہ زمین پر۔
بہرحال، اس کے باوجود کہ یہ قرار داد واجب التعمیل نہیں تھی اس بات کا باعث بنی کہ سرزمین فلسطین دو حصوں میں تقسیم کر دی جائے اور صہیونی یہودی چند مہینوں کے اندر ۴۱۳ ہزار فلسطینیوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کر دیں اور سر انجام عرب حکمرانوں اور صہیونی یہودی کے درمیان خونی جنگیں وجود میں آئیں اور نتیجہ میں ۷۵۰ ہزار سے زائد فلسطینی مسلمان یہودیوں کے ہاتھوں انتہائی بے دردی سے قتل عام کر دئے جائیں۔
اسرائیلی مورخ “ٹام سگف” کے بقول: اسرائیل، جنگ اور دھشتگردی کی بنیاد پر وجود میں آیا اور اس کی تشکیل کا لازمہ صرف ظلم اور اندھا تعصب تھا”۔
منبع : پروشیم خفیہ تنظیم، آلیسن ویر، ترجمہ: علیرضا ثمودی پیله ورد، تہران، فارس نیوز ایجنسی ،چاپ اول: ۱۳۹۴، ص۸۴-۷۷٫
کتاب: Against our better judgment: the hidden history of how the u.s was used to create Israel,2014.
تالیف: Alison weir

میلاد پور عسگری

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ی/۱۰۰۰۳