شام سے امریکی فوج کی واپسی، کامیابی کس کی؟




امریکہ کے اس ظلم و بربریت نے شام کو تباہ و برباد کر دیا ہے، ایک نسل تعلیم سے دور رہ گئی ہے، شام کا انفراسٹکچر برباد ہوگیا ہے اور سب سے اہم بات شامی عوام در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ شام میں داعش کا خاتمہ ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے اب امریکی دستوں کی شام میں کوئی ضرورت نہیں ہے، اس لئے اب امریکی فوجی دستے واپس امریکہ بلا لئے ہیں اور امریکی فوج کی واپسی کا یہ عمل سو دنوں میں مکمل ہو جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شام میں داعش کی شکست امریکی کامیابی ہے۔ شام میں امریکہ کے دو ہزار فوجی موجود ہیں، جو کرد علاقوں میں ہیں، جہاں پر امریکی فوج بشار مخالف گروہوں کو جنگی تربیت دے رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق کوئی تیس ہزار کے قریب جنگجووں کو امریکی فوج نے تربیت دی ہے، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق کرد اقلیت سے ہے۔ چند سال قبل جب امریکی فوجیں شام روانہ ہو رہی تھیں تو ان کے آنے کا مقصد بڑا واضح تھا، وہ شام میں بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتی تھیں اور حزب اللہ کو اس کے ایک اہم اتحادی اور ایک سپلائی لائن سے محروم کرنا چاہتی تھیں۔ ظاہر ہے کہ اس سب کا بنیادی مقصد اسرائیل کا تحفظ تھا۔ اتنا عرصہ شام میں رہنے، عملی طور پر جنگ میں شریک ہونے، اپنے من پسند گروہوں کو بے تحاشہ پیسہ، اسلحہ اور تربیت دینے کے باوجود آج نتائج کیا ہیں؟ انصاف پسند امریکی عوام کو اپنی حکومت سے یہ سوال کرنا چاہیئے کہ اس امریکی اقدام نے انتے بڑے انسانی المیے کو جنم دیا، اس کا نتیجہ کیا ہے؟ بشار ایک حقیقت کی صورت میں موجود ہے، حزب اللہ پہلے سے زیادہ طاقتور ہے اور اس کی طاقت دن بدن بڑھ رہی ہے۔

اس ساری صورتحال پر غور کرتے ہوئے مجھے پنجابی کی مثال یاد آرہی تھی، جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے سو جوتے بھی اور سو پیاز بھی۔ کسی مجرم کو پنجائت نے سزا سنائی کہ مجرم یا تو سو پیاز کھائے یا سو جوتے کھائے، مجرم نے سوچ کر سو جوتے کھانے کا انتخاب کیا، جب چند جوتے کھائے تو اسے پتہ چلا یہ تو کافی مشکل کام ہے، لہذا سو پیاز کھاتا ہوں، پیاز شروع کئے چند پیاز کھانے کے بعد اس حقیقت سے آشنا ہوا کہ یہ بھی نہیں کھا سکے گا، لہذا سو جوتے ہی کھائے جائیں، پیاز اور جوتوں کی ادل بدل کا یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا، یہاں تک کہ مجرم نے سو جوتے بھی کھا لئے اور سو پیاز بھی۔ امریکہ جس مقصد کے لئے آیا تھا، وہ داعش کا خاتمہ ہرگز نہیں تھا، وہ بشار الاسد کا خاتمہ اور حزب اللہ کے کردار کو محدود کرنا تھا، کچھ کچھ روس کو سبق سکھانا بھی مقصود تھا، اب جب اپنی نام نہاد فتح کے ساتھ جا رہا ہے تو یہ سب پہلے سے مضبوط انداز میں موجود ہیں۔

ویسے یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ النصرہ، داعش اور دیگر چھوٹے بڑے گروہوں کے پاس موجود اسلحہ، گاڑیاں، تربیت سب کا سب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا فراہم کردہ تھا۔ یہ بات اب راز نہیں رہی کہ داعش کے زخمیوں کا علاج اسرائیل کے کن ہسپتالوں میں ہوتا رہا اور اسرائیل بھی کس طرح مشکل وقت میں فضائی حملے کرکے داعش کے جنگجووں کو بچاتا رہا۔ داعش کو شکست کس نے دی؟ داعش کو میدان جنگ اور میدان فکر دونوں میں شکست ان لوگوں نے دی، جو اس وحشی گروہ کے خلاف سب سے پہلے قصیر میں ان کے مدمقابل آئے اور اس کے میزائلوں کا جرات و بہادری سے مقابلہ کیا۔ مجھے وہ وقت یاد ہے جب ہمارے کچھ دوست بشار حکومت کے خاتمے کو گھنٹوں کے حساب سے شمار کر رہے تھے، قصیر کی فتح ہی پہلی کامیابی تھی، جس نے اس بڑھتے ہوئے ناسور کو روک دیا تھا۔

اس جنگ سے امریکہ نے کیا حاصل کیا؟ اس جنگ سے امریکہ کو بدنامی ملی اور عملی طور پر یہ پتہ چلا کچھ فیصلے جو بند کمروں میں کئے جاتے ہیں، میدان عمل میں ان پر عمل درآمد کتنا مشکل ہوتا ہے۔ امریکہ کے اس ظلم و بربریت نے شام کو تباہ و برباد کر دیا ہے، ایک نسل تعلیم سے دور رہ گئی ہے، شام کا انفراسٹکچر برباد ہوگیا ہے اور سب سے اہم بات شامی عوام در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہے۔ داعش کی شکل میں آنے والے ان انسان نما درندوں نے شام کی تہذیب و ثقافت کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے۔ شام کے عجائب گھروں سے لوٹے ہوئے نوادرات آج لندن اور پیرس کے عجائب گھروں کی زینت ہیں۔ شام کے مختلف شہروں میں موجود قدیم آثار قدیمہ کو بمبوں سے اڑایا گیا ہے، جس سے بہت سے آثار قدیمہ کا وجود مٹ گیا ہے۔ باقی سارے نقصانات کا ازالہ تو ممکن ہے، مگر یہ نقصان ایسا ہے جس کا ازالہ کرنا مشکل ہے۔

اس جنگ کے اثرات دنیا بھر میں دیکھے گئے، اس سے پہلے جتنے گروہ موجود تھے، ان کے کچھ مراکز تھے، کچھ اصول تھے، وہ ایک حد سے آگے نہیں جاتے تھے، سوائے ایک آدھ کے۔ یہ پہلا اتنا بڑا گروہ تھا جس کے ماننے والوں نے لندن، پیرس اور دنیا بھر میں نہتے لوگوں پر حملے کئے۔ اس گروہ نے سفاکیت کی انتہا کرتے ہوئے لوگوں کو زندہ جلایا اور ٹینکوں کے نیچے روندا۔ اس ساری بربریت کی ذمہ دار یہی قوتیں تھیں جنہوں نے ان کو اسلحہ، پیسہ اور تربیت سمیت تمام وسائل فراہم کئے، جس کی وجہ سے یہ اس قابل ہوئے کہ انہوں نے یہ ظلم ڈھائے۔ امریکہ تو کرد علاقوں میں موجود اپنے بیس چھوڑ کر جا رہا ہے، اب ان کردوں کے پاس کیا آپشنز ہیں؟ ایک آپشن تو یہ ہے کہ یہ حسب سابق بشار سے جنگ کریں، اس صورت میں ان کا حال اسی طرح کا ہوگا، جس طرح داعش کا ہوچکا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ یہ لوگ صدر بشار کے ساتھ امن معاہدہ کر لیں اور پرامن انداز میں شامی ریاست کے اقتدار کو تسلیم کر لیں اور میرے خیال میں یہی راستہ سب سے بہترین راستہ ہے۔ اس سے شام میں جاری خونریزی ختم ہو جائے گی اور شام کی امن کو ترسی عوام امن دیکھ لے گی۔ امریکہ سے ایک سینیٹر کی آواز آئی ہے کہ یہ بشار اور ایران کی کامیابی ہے، اصل آواز یہی ہے۔ باقی داعش کی شکست کو اپنی شکست چھپانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔

تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس بلوچ

اسلام ٹائمز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍ت؍۱۰۰۰۳