جیسن ہیکل: برطانیہ نے ہندوستان کے ۴۵ ٹریلین ڈالر چُرا لئے




برطانیہ نے ہندوستان کی دولت لوٹنے کی غرض سے اس ملک پر قبضہ کیا اور برطانیہ کی صنعتی ترقی بھاپ انجن کی وجہ سے یا طاقتور مالیاتی اداروں کی بنیاد پر حاصل نہیں ہوئی، بلکہ یہ ترقی دوسری سرزمینوں اور اقوام کی دولت چوری کرکے حاصل ہوئی ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ایک کہانی برطانیہ میں رٹائی جاتی ہے کہ ہندوستان کی نوآبادی کاری ـ جو اپنی جگہ ایک المناک اور دہشتناک داستان ہے ـ سے برطانیہ کو کوئی معاشی فائدہ نہیں تھا؛ یہی نہیں بلکہ برطانیہ کو ہندوستان پر قبضہ جمانے کی بابت بہت سارے اخراجات بھی برداشت کرنا پڑے ہیں۔ اور یوں، یہ حقیقت کہ برطانوی سلطنت عرصۂ دراز تک قائم رہی اور یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے، محض برطانوی حکومت کی سیاسی “ادا” ہے۔
نامور بھارتی معاشیات دان اوتسا پاٹنائیک (ਉਤਸਾ ਪਟਨਾਇਕ [Utsa Patnaik]) کی تازہ ترین تحقیق، ـ جسے حال ہی میں کولمبیا یونیورسٹی نے شائع کیا ہے ـ اس برطانوی روایت پر کاری ضرب لگا دی ہے۔ پاٹنائیک نے ٹیکس اور تجارت کا تقریبا دو صدیوں پر مشتمل ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لے کر نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ۱۷۶۵ع‍سے ۱۹۳۸ع‍کے عرصے میں برطانیہ نے مجموعی طور پر ہندوستان کی دولت میں سے تقریبا ۴۵ ٹریلین [۴۵,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰] ڈالر نچوڑ لئے ہیں۔
یہ ایک نہایت بھاری اور حیرت انگیز رقم ہے۔ اس لئے کہ آپ اس رقم کا صحیح ادراک کرسکیں، بہتر ہے کہ جان لیں کہ ۴۵ ٹریلین ڈالر آج کے زمانے کی برطانوی مجموعی ملکی پیداوار سے سترہ گنا بڑی ہے۔
اتنی بڑی رقم آئی کہاں سے؟
یہ واقعہ تجارتی نظام کے ذریعے رونما ہوا ہے۔ برطانیہ ـ ہندوستان کو اپنی نوآبادیات بنانے سے قبل ـ ہندوستان سے کپڑا اور چاول خریدتا تھا اور اس زمانے کے معمول کے مطابق، زیادہ تر چاندی بطور قیمت ادا کرتا تھا۔ جیسا کہ برطانیہ دوسرے ممالک کے ساتھ بھی تجارت کرتا تھا لیکن ہندوستان پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے قبضہ کرنے اور ہندوستان کی تجارت کو اپنے زیر کنٹرول لانے کے کچھ عرصہ بعد سنہ ۱۷۶۵ع‍میں، ایک چیز پوری طرح بدل گئی۔
اس نظام کی کارکردگی کی کیفیت کچھ یوں تھی کہ ایسٹ کمپنی نے ہندوستان کا مالیہ (Tax) جمع کرنے کا آغاز کیا اور پھر بڑی چالاکی سے اس آمدنی کا ایک تہائی حصہ ان اجناس کی قیمت کے طور پر ادا کیا جو اس نے ہندوستانیوں سے خریدی ہوئی تھیں۔ بالفاظ دیگر، انگریز تاجر ہندوستانی مصنوعات کے عوض اپنی جیب سے رقم ادا کرنے کے بجائے، ان مصنوعات کو مفت حاصل کیا۔ انھوں نے رعایا کے اموال کو وہی رقم دے کر خرید لیا، جو انھوں نے ان ہی سے ہتھیا لی تھی۔
یہ ایک بڑے پیمانے پر ہونے والا فراڈ اور ایک بہت بڑی چوری ہے۔ اس کے باوجود، ہندوستانیوں کی اکثریت کو یہ معلوم نہیں تھا کہ کیا ہورہا ہے کیونکہ جو شخص ان سے مالیہ اکٹھا کرتا تھا وہی شخص نہیں تھا جو ان کے ساتھ کاروبار اور لین دین کے لئے آتا تھا۔ اگر ایک واحد شخص یہ دونوں کام انجام دیتا تو ہندوستانی باشندے دھوکہ دہی اور چوری کی بو محسوس کرلیتے۔
ہندوستان سے چوری ہونے والی اس دولت کا کچھ حصہ برطانیہ میں خرچ کیا جاتا تھا اور باقی دوسرے ممالک [یا برطانیہ کی دوسری نو آبادیاتی سرزمینوں] کو بھیج دی جاتی تھی۔ بازبرآمدی نظام (Re-export system) برطانویوں کو یہ سہولت فراہم کرتا تھا کہ یورپ میں درآمد ہونے والی مصنوعات ـ کی خریداری کے لئے رقم فراہم کیا کرے۔ ان مصنوعات میں تزویری مصنوعات ـ بالخصوص تزویری دھاتیں، لوہے، تارکول وغیرہ، جو کہ برطانیہ کو ایک صنعتی ملک بننے میں مدد پہنچاتی تھیں ـ بھی شامل تھی؛ حقیقت یہ ہے کہ ـ[پورے یورپ میں]- صنعتی انقلاب کا زیادہ تر دارومدار ہندوستان سے اسی منظم چوری (systematic theft) پر تھا۔
اس حربے کے ذریعے برطانویوں کو یہ امکان میسر تھا کہ اس انداز سے ہندوستان سے خریدی ہوئی مصنوعات کو دوسرے ممالک میں کئی گنا قیمت وصول کرکے فروخت کیا کریں اور نہ صرف ان مصنوعات کے ہندوستانیوں کی جیب سے قیمت ادا کرکے مفت اپنے قبضے میں لیتے تھے اور انہیں ۱۰۰ فیصد منافع حاصل کرکے بیچ دیتے تھے بلکہ ان کی قیمت بڑھا کر مزید منافع بھی کماتے تھے۔
سنہ ۱۸۴۷ع‍میں ہندوستان پر براہ راست برطانوی راج قائم ہونے کے بعد، سامراجیوں نے ایک مالیہ کی وصولی اور خریداری کے نظام میں خاص قسم کی تبدیلیوں کا اہتمام کیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کا تسلط ختم ہونے کے بعد ہندوستانی صنعت کاروں کو اجازت ملی کہ اپنی مصنوعات کو براہ راست دوسرے ممالک میں برآمد کریں۔ تاہم برطانیہ کو نئی مکاریوں کے ذریعے یقین ہوتا تھا کہ حاصل شدہ آمدنی لندن ہی پہنچے گی۔
یہ ظالمانہ حیلہ گری کچھ یوں تھی کہ جو کوئی بیرونی تاجر ہندی مصنوعات خریدنا چاہتا، تو اسے برطانوی تاج کے بنائے ہوئے ایک خاص قسم کے کاغذی نوٹ (Council Bills) کی شکل میں ان کی قیمت ادا کرنا پڑتی تھی جس کی خریداری صرف لندن سے ممکن ہوتی تھی اور تاجروں کو یہ نوٹ خریدنے کے لئے برطانوی خزانے کو چاندی یا سونا دینا پڑتا تھا۔ یوں تاجر یہ کرنسی نوٹ حاصل کرنے کے لئے برطانیہ کو سونا دے جاتے تھے جبکہ یہ نوٹ ہندوستان ہی میں خرچ ہونے کے قابل ہوتے تھے۔ بیرونی تاجر یہی نوٹ ہندوستانی مصنوعات کے عوض، ہندوستانی تاجروں کو ادا کرتے تھے۔ اب تاج برطانیہ کے یہ نوٹ ہندوستانیوں کی کسی کام کے بھی نہیں تھے چنانچہ انہیں یہ نوٹ نوآبادیات کے مقامی دفتر میں تبدیل کرنا پڑتے تھے اور یوں یہ نوٹ دوبارہ برطانیہ کے پاس پلٹ کر جاتے تھے اور ہندوستانیوں کو مقامی روپیہ کی شکل میں قیمت ادا کی جاتی تھی اور یہ روپیہ بھی وہی تھا جو برطانوی مالیئے کی صورت میں ہندوستانیوں سے اکٹھا کرلیا کرتے تھے۔ یعنی یہ کہ تاج کے خصوصی کرنسی نوٹ سونا لے کر تاجروں کو دیئے جاتے تھے، اور وہی نوٹ ہندوستان میں آ کر اسی رقم کے بدلے خرید لئے جاتے تھے جو ہندوستانیوں سے اکٹھا کیا جا چکا ہوتا تھا۔ اور یوں برطانوی ہندوستانیوں کو دھوکہ اور فریب دے کر کچھ دیئے بغیر اور کسی قسم کی قیمت دا کئے بغیر لندن میں تاج برطانیہ کی تجوریاں بھر دیتے تھے۔
اس عمل میں جتنا زر ـ خواہ چاندی خواہ سونا ـ ہندوستانی برآمدات کے بدلے، ہندوستانی تاجروں کو ملنا چاہئے تھا، وہ پورا کا پورا لندن پہنچ جاتا تھا۔ اور اس کے عوض بننے والے کرنسی نوٹ دوبارہ ان تاجروں سے خرید لئے جاتے تھے اور اس کے بدلے ہندوستانوں سے ٹیکس کی مد میں جمع شدہ رقم ادا کی جاتی تھی۔ [دنیا بھر کی تہذیبوں کی سپہ سالاری کے دعویدار برطانیہ کے رذیلانہ ترین کرتوت جس کے سامنے شیطان بھی بےدست و پا نظر آتا ہے]۔
اس بدعنوان نظام کا مطلب یہ تھا کہ اگرچہ دوسرے ممالک کی نسبت ہندوستان فاضل تجارت (Surplus Trade) متاثر کن تھی ـ اور تجارت میں یہ اضافہ بیسویں صدی کی پہلی تین دہائیوں تک جاری رہی ـ لیکن ہندوستان کے قومی حسابات میں ایک خسارہ دکھائی دے رہا تھا کیونکہ ہندوستان کو حاصل ہونے والی پوری آمدنی برطانیہ کے خزانے میں پہنچ جاتی تھی۔
اس غیر حقیقی خسارے کے مقاصد میں سے ایک یہ تھا کہ ہندوستانیوں کو جتایا جاسکے کہ یہ ملک برطانیہ کے لئے وبال جان ہے اور برطانیہ کو اس سے کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان پہنچتا ہے حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ برطانیہ عظیم آمدنیوں کو ہڑپ کر لیتا تھا حالانکہ ان آمدنیوں کا تعلق ہندوستانی صنعتکاروں اور برآمدکنندگان سے تھا۔ ہندوستان سونے کے انڈے دینے والی ہنس کی حیثیت رکھتا تھا۔ دریں اثناء اس خسارے کا ایک مطلب یہ تھا کہ ہندوستان کے پاس بیرونی دنیا سے درآمدات کے لئے برطانیہ سے قرض لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ چنانچہ ہر ہندوستانی شہری نہ چاہتے ہوئے اور غیر ضروری طور پر، اپنے برطانوی نوآبادیاتی آقاؤں کا مقروض تھا جس کی بنیاد پر ہندوستان پر برطانوی تسلط کو تقویت پہنچتی تھی۔
برطانیہ اس جعل سازی اور دھوکہ دہی سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اپنی استعماری تشدد کی مشین کو ایندھن فراہم کرتا تھا؛ یعنی سنہ ۱۸۴۰ع‍کی دہائی میں چین پر حملے اور ۱۸۵۷ع‍میں ہندوستانیوں کے انقلاب کی سرکوبی کے اخراجات اسی جعل سازی اور دھوکہ دہی سے پورے کئے گئے۔ اور یہ منافع اس آمدنی کے علاوہ تھا جو برطانیہ ہندوستان کے اندر مالیے کی مد میں ہندوستانیوں سے بٹور لیتا تھا۔ جیسا کہ پاٹنائیک کہی ہیں کہ: “ہندوستان کی سرحدوں کے باہر، برطانیہ کی تمام فاتحانہ جنگوں کے اخراجات کو یا تو مکمل طور ہندوستان کی دولت سے حاصل ہونے والے منافع سے پورا کیا جاتا تھا یا پھر ان اخراجات کا بڑا حصہ ہندوستان کے کندھے پر ڈالا جاتا تھا”۔
پورا ماجرا یہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ برطانیہ نے ہندوستان سے مختلف بہانوں سے ہونے والے خراج کے ذریعے کینیڈا، آسٹریلیا سمیت یورپی نوآبادیاتی ریلے کی زد میں آنے والے ممالک میں اپنی استعماریت کے توسیع کے لئے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا۔ یوں نہ صرف برطانیہ بلکہ تمام تر مغربی ممالک کی صنعت کاری (Industrialization) ان ہی نوآبادیاتی سرزمینوں سے حاصل ہونے والی دولت کے ذریعے آسان بن جاتی تھی۔
پاٹنائیک ہندوستان کے استعمار میں سنہ ۱۷۶۵ع‍سے سنہ ۱۹۲۸ع‍تک چار معاشی ادوار کی شناخت کرتی ہیں اور ہر دور سے حاصلہ آمدنی کا تخمینہ لگاتی ہیں۔ اور پھر ہر دور کے لئے (منڈی میں سود کی شرح سے کمتر) پانچ فیصد سود کا اضافہ کرتی ہیں اور ان ساری رقوم کو جمع کرتی ہیں جو برطانیہ نے ہندوستان سے چوری کرلی ہیں اور مجموعی تخمینہ ۶/۴۴ ٹریلین ڈالر بنتا ہے۔ پاٹائیک کا کہنا ہے کہ یہ ایک محتاطانہ تخمینہ ہے اور اس میں وہ قرضے شامل نہیں ہیں جو برطانوی راج نے ہندوستان پر مسلط کئے تھے۔
یہ رقوم ہوش و حواس اڑا دینے والی رقم ہے۔ تاہم  اس استحصال کے حقیقی اخراجات کا احتساب ممکن نہیں ہے۔ اگر ہندوستان مالیے اور بیرونی تجارتی لین دین سے حاصلہ آمدنی کو ملک کی ترقی پر خرچ کرنے پر قادر ہوتا ـ جیسا کہ جاپان نے ایسا ہی کیا ـ تو بلاشک تاریخ کا رخ آج بالکل مختلف ہوتا۔ اس صورت میں ہندوستان میں نہ صرف صدیوں پر محیط غربت کی بیخ کنی ہوتی بلکہ یقینی طور اقتصادی انجن میں بدل جاتا۔ اور کئی صدیوں پر محیط غربت و افلاس کا سدباب کرنے پر قادر ہوتا۔
یہ تمام معلومات، اس جھوٹی داستان کو باطل کردیتی ہیں، جو برطانیہ کی مقتدر صداؤں نے [اپنی ملکی اور بین الاقوامی تاریخ میں گھسیڑ کر] رائج کردی ہے اور اس تاریخی جھوٹ کا پردہ چاک کردیتی ہیں۔
قدامت پسند انگریز مؤرخ “نیال فرگوسن” (Niall Campbell Ferguson) نے دعوی کیا ہے کہ برطانوی راج نے ہندوستان کی “ترقی اور پیشرفت” میں مدد بہم پہنچائی ہے۔ اور سابق برطانوی وزیراعظم نے “ڈیوڈ کیمرون” (David William Donald Cameron) نے تو اپنی وزارت عظمی کے ایام میں آگے بڑھ کر یہاں تک بھی دعوی کیا کہ “برطانوی راج ہندوستان کے لئے “خالص مدد” (net help) تھا!
اس عجیب روایت کی نشانیوں کو عمومی تخیلاتی دنیا اور افواہ عامہ میں بھی بہت وسیع پیمانے پر پایا جاسکتا ہے۔ سنہ ۲۰۱۴ع‍میں برطانیہ کی یوگوو رائے عامہ کمپنی (YouGov poll) کے ایک سروے کے ۵۰٪ شرکاء کا خیال تھا کہ برطانوی نوآبادیاتی نظام سے “فائدہ” مقبوضہ ممالک کو پہنچا ہے۔
اس کے باوجود ہندوستان پر برطانیہ کے ۲۰۰ سالہ تسلط کے دوران تقریبا اس ملک کی فی کس آمدنی میں کبھی بھی کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ انیسویں صدی کے نصف دوئم میں ـ جبکہ اس ملک کے تمام معاملات میں برطانیہ کی مداخلتیں عروج پر تھیں ـ ہندوستان کی آمدنی میں ۵۰٪ کمی واقع ہوئی۔ سنہ ۱۸۷۹ع‍سے سنہ ۱۹۲۰ع‍تک کے عرصے میں ہندوستانیوں کی اوسط عمر کی توقع (Life expectancy rate) کی شرح میں ۵/۱ تک گر گئی۔ کئی بار کسی ضرورت اور کسی معقول سبب کے بغیر ہندوستان کو شدیدترین قحط کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں کئی ملین افراد لقمۂ اجل بن گئے۔
برطانیہ نے ہندوستان کو ہرگز ترقی نہیں دی بلکہ اس کے عین برعکس ـ پاٹنائیک کی کاوش نے واضح کیا کہ ـ ہندوستان نے برطانیہ کو ترقی دی۔
یہ حقیقت آج برطانیہ کو کس اقدام کا پابند بناتی ہے:
ایک معذرت خواہی؟ ہرگز نہیں۔
لوٹی ہوئی دولت کی ہندوستان کو واپسی؟ شاید۔
گوکہ پورے برطانیہ میں بھی اتنی رقم موجود نہیں ہے جس کا تخمینہ پاٹنائیک نے پیش کیا ہے۔ مزید برآن، ہمیں تاریخ کی حقیقی روئیدادیں عیاں کرنے کا آغاز کرنا چاہئے۔
ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہئے کہ برطانیہ نے ہندوستان پر کسی خيرخواہی اور خیرسگالی کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی دولت لوٹنے کی غرض سے، قبضہ کیا اور اس کو اپنی نوآبادی میں تبدیل کردیا۔
ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہئے کہ برطانیہ کا صنعتی ظہور ان وجوہات کی بنا پر وقوع پذیر نہیں ہوا ہے جو ہمیں نصابی کتب میں کہا جاتا ہے؛ یعنی یہ کہ یہ ترقی اور صنعت کاری کا یہ عمل “بھاپ انجن کی برکت سے یا طاقتور مالیاتی اداروں کی مدد سے” انجام نہیں پایا بلکہ یہ ترقی اور برطانیہ کا یہ صنعتی ظہور دوسری سرزمینوں اور اقوام کی دولت اور وسائل کی “تشدد آمیز چوری” کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: جیسن ہیکل (Jason Hickel)؛ لندن یونیورسٹی کے استاد اور رائل سوسائٹی آف آرٹس کے ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انگریزی متن: yon.ir/TVGPZ
فارسی متن: http://fna.ir/bqa5bi

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍ی؍۱۰۰۰۱