القدس کو یہودیانے کے لیے اسرائیل نے کیا کیسے امریکہ کو استعمال؟




ٹرمپ کے اعلان القدس سے یہ عیاں ہوگیا کہ امریکا صہیونی ریاست کے لیے’لا محدود’ حمایت کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ وہ فساد در فساد پھیلاتے ہوئے القدس میں صہیونی قبضے کے جنون کو مزید بڑھاوا دے رہا ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، فلسطین پر صہیونی ریاست کے غاصبانہ قبضے اور توسیع پسندی میں امریکا کو اسرائیل کا اول درجے کا سرپرست قرار دیا جاتا ہے۔ گذشتہ کچھ عرصے بالخصوص امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد امریکی حکومت نے فلسطینیوں کے خلاف کئی فیصلے اور انتقامی اقدامات کیے۔ القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا۔ پی ایل او کے مراکز بند کیے اور فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد بند کی۔ یہ تمام ایسے اقدامات ہیں جو بین الاقوامی قوانین کی رو سے جرائم تصور کیے جاتے ہیں۔ سنہ ۲۰۱۸ء کے دوران ہونے والے اعلانات اور فیصلوں‌ نے اسرائیل کو فلسطین میں‌ یہودی آباد کاری کے لیے ایک نیا حوصلہ اور ہمت فراہم کی۔ اسرائیل نے ان اقدامات اور فیصلوں کو فلسطین میں یہودی آباد کاری بالخصوص القدس کو یہویانے کے لیے ایک سنہری موقع کے طور پر استعمال کیا۔

ٹرمپ کے اعلان القدس اور شہر میں امریکی سفارت خانے کے افتتاح کے بعد اسرائیل کو  القدس کو یہویانے کے لیے کئی دیگر اقدامات کیے گئے۔ القدس کے فلسطینی اسپتالوں کی امداد بندکی گئی اور فلسطینی پناہ گزینوں‌کی مالی امداد روکی گئی۔ امریکا کے فیصلوں سے فایدہ اٹھا کر اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاری اور توسیع پسندی کے لیے دن رات کام شروع کردیا ہے۔
ٹرمپ کے اعلان القدس سے یہ عیاں ہوگیا کہ امریکا صہیونی ریاست کے لیے’لا محدود’ حمایت کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ وہ فساد در فساد پھیلاتے ہوئے القدس میں صہیونی قبضے کے جنون کو مزید بڑھاوا دے رہا ہے۔

رواں سال کے دوران امریکی فیصلوں کی آڑ میں صہیونی ریاست نے مقبوضہ بیت المقدس میں‌ فلسطینیوں کے ۱۴۵ مکانات مسمار کیے جس کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت سیکڑوں افراد بے گھر ہوگئے۔
اسرائیل کے ایک غیر سرکاری انسانی حقوق گروپ ‘عیرعامیم’ کے مطابق ۲۰۱۸ء کے دوران اسرائیل نے بیت المقدس میں یہودیوں کے لیے ۵۸۲۰ مکانات کی تعمیر کی منظوری دی۔ رواں سال کے دوران القدس میں یہودی آباد کاری کے لیے ۶۰۳ ٹینڈر شائع کیے گئے جب کہ یہودی شرپسندوں اور ان کی تنظیموں نے فلسطینیوں‌ کے ۶ گھروں پر قبضہ کیا۔

مسجد اقصیٰ پر دھاوے
سنہ ۲۰۱۸ء کے دوران مجموعی طور پر ۲۸ ہزار یہودی آباد کاروں‌ نے قبلہ اول پردھاوے بولے۔ گذشتہ برس یہ تعداد ۲۶ ہزار تھی۔ رواں سال قبلہ اول کی بے حرمتی کے واقعات میں اضافے کی ایک وجہ امریکا کے فلسطینیوں بالخصوص القدس کے حوالے سے ہونے والے فیصلے اور اقدامات ہیں۔

اسرائیلی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ تفصیلات میں‌ تسلیم کیا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ پر یہودیوں کے دھاووں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رواں سال دو بار مسجد اقصیٰ کو فلسطینی مسلمانوں کے لیے بند کی گئی۔ فلسطینی محکمہ اوقاف نے صہیونی ریاست کی اس بندش کو مسترد کردیا اور اسے اجتماعی مذہبی سزا دینے کے مترادف قرار دیا۔

کریک ڈاون اورگرفتاریوں میں اضافہ
مسجد اقصیٰ پر یہودیوں کے دھاووں کے ساتھ ساتھ قابض صہیونی فوج اور پولیس کے ہاتھوں فلسطینیوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی عروج پر رہا۔ رواں سال فلسطینیوں کی پکڑ دھکڑ کے واقعات میں‌بھی اضافہ دیکھا گیا۔

القدس میں فلسطینی اسیران کے اہل خانہ پر مشتمل کمیٹی کے چیئرمین امجد ابو عصب نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے رواں سال کے دوران اب تک ۱۶۰۰ فلسطینیوں کو القدس سے حراست میں لیا۔ ان میں ایک چوتھائی بچے تھے جن میں سے ۳۰ کی عمریں ۱۴ سال سے بھی کم تھیں۔ اس کے علاوہ القدس سے ۵۵ خواتین کو حراست میں‌ لیا گیا۔

امجد ابو عصب کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کی گرفتاریوں کے ساتھ ان پر جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی تشدد میں بھی اضافہ ہوا۔ درجنوں فلسطینوں کو القدس اور مسجد اقصیٰ سے بے دخل کر دیا گیا۔ رواں سال کے دوران القدس میں اسرائیلی فوج نے ۴ فلسطینیوں کو شہید کیا۔

palinfo.com/

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/خ/۱۰۰۰۳