بھارت اسرائیل باہمی تعلقات کے اہم اسباب




یہ تمام وہ عوامل اور اسباب ہیں جن کی بنا پر اسرائیل ہندوستان سے روز بروز قریب سے قریب تر ہوتا گیا ہے یہاں تک کہ اب اسرائیل ہندوستان کے اندر کافی حد تک اپنا اثر و رسوخ پیدا کر چکا ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: یہودی ریاست کو اپنی تشکیل کے بعد پڑوسی عرب ممالک اور مسلمان اقوام سے انتہائی خطرہ محسوس ہوا لہذا اس نے اپنے تحفظ اور پڑوسی ممالک کی جانب سے پیش آنے والے سیاسی دباؤ میں کمی لانے کی خاطر علاقے کے ممالک سے سیاسی اور سفارتی تعلقات قائم کرنے کی مساعی شروع کر لی۔ اس درمیان ہندوستان، اسرائیل کے پیش نظر جغرافیائی اور اجتماعی اعتبار سے ان ممالک میں سے ایک تھا جس کے ساتھ یہ یہودی ریاست سفارتی تعلقات قائم کر سکتی تھی۔  مثال کے طور پر صہیونی ریاست نے ترکی کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کئے تاکہ شام پر دباؤ ڈالے، سوڈان کے ساتھ تعلقات قائم کئے تاکہ مصر پر دباؤ ڈالے اسی طرح ہندوستان کے ساتھ بھی تعلقات اور روابط قائم کرنے کا مقصد ایک اسرائیل کو خود اپنا تحفظ فراہم کرنا تھا دوسرا پاکستان پر دباؤ ڈالنا تھا چونکہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہونے کی ناطے کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا اور اسرائیل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔
بہر حال اسرائیل کے ہندوستان کے ساتھ سیاسی روابط دھیرے دھیرے بہت گہرے ہوتے گئے۔ اور موجودہ دور میں اسرائیل اس کوشش میں ہے کہ تین ممالک “ہندوستان، ترکی اور اسرائیل” کے باہمی اتفاق اور امریکہ کی مدد سے ایشیا کے اندر ایک نیا بلاک تشکیل دے تاکہ اس طریقے سے وہ علاقے میں مسلمان ممالک کو کمزور بنا سکے اور اسلامی بنیادوں کو اکھاڑ سکے۔ یقینا ہندوستان اور اسرائیل کے اسلام اور مسلمانوں کی تئیں پائے جانے والے مشترکہ نظریات کے پیش نظر یہ اقدام بعید از قیاس نہیں لگتا۔
ہندوستان کے جیوپولیٹکس کے پیش نظر، اسرائیل دیگر غیر اسلامی ممالک کے ساتھ رابطہ جوڑنے کے لیے ہندوستان کو رابطہ پل کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ علاوہ از ایں، وہ بحر ہند کو بھی اپنے بحری بیڑوں اور آبدوز کشتیوں کے لیے استعمال میں لا سکتا ہے۔
دوسری جانب، ہندوستان اپنی مسلمان آبادی کے اعتبار سے بھی کئی مسلم ممالک کے ساتھ تاریخی تعلقات رکھتا ہے۔ اس اعتبار سے بھی اسرائیل ہندوستان کے ساتھ سیاسی، معاشی اور عسکری روابط قائم کر کے ہندوستان کا اسلامی ممالک سے ناطہ توڑنا چاہتا ہے اور اسے مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنا  چاہتا ہے نیز اندرونی طور پر بھی مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان اختلافات اور دراڑیں پیدا کر کے ہندوستان میں موجود مسلمانوں کو بھی کمزور کرنا چاہتا ہے۔
ہندوستان کے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے اسباب
اسرائیل کے معرض وجود میں آنے کے بعد۱۹۵۰ میں تل ابیب میں موجود ہندوستان کا تجارتی دفتر بھارتی سفارتخانے میں تبدیل کر دیا گیا۔ سوویت یونین کے خاتمے سے قبل ۸۰ فیصد اسلحہ ہندوستان سابق روس سے برآمد کرتا تھا۔ لیکن سرد جنگ کے خاتمے اور روس کے کمزور ہونے کے بعد ہندوستان پاکستان پر برتری حاصل کرنے اور چین کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی غرض سے پیشرفتہ ہتھیار حاصل کرنے کے لئے کسی متبادل آپشن کی تلاش میں تھا۔
اس درمیان امریکہ نے ہندوستان کو علاقے کے لیے خطرہ گردان کراسے اسلحہ فروخت کرنے سے انکار کر دیا، اس وجہ سے ہندوستان کے پاس بہترین متبادل آپشن اسرائیل تھا۔ نیز ۱۹۹۸ میں ہندوستان کی جانب سے ایٹمی تجربہ کئے جانے کے بعد امریکہ نے اس پر پابندیاں عائد کر دی یہ پابندیاں بھی اس بات کا باعث بنیں کہ ہندوستان اسرائیل کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے اور پابندیوں میں کمی لانے کے لیے اسرائیل کو امریکہ کے نزدیک واسطہ قرار دے۔
اور پھر ہندوستان عرصہ دراز سے مسئلہ کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ الجھا ہوا ہے لہذا اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا ایک مقصد کشمیر کے حریت پسند مسلمانوں کی مشترکہ دشمن کے عنوان سے سرکوبی ہے۔ پاکستان کے مد مقابل دفاعی توازن کو برقرار کرنے کی غرض سے پیشرفتہ اسلحے کا حصول اور ہندوستان میں دھشتگردی کے نفوذ پر روک تھام کرنے کے لیے اسرائیلی جاسوسی ایجنسیوں کا استعمال بھارت اسرائیل تعلقات کے دوسرے مقاصد کا حصہ ہیں۔ ان سب وجوہات کے باوجود، بھارت اسرائیل تعلقات کی اصلی وجہ یورپ اور امریکہ کے ساتھ سیاسی روابط میں توسیع کے لیے راستہ ہموارکرنا تھا کہ جس کا نتیجہ سلامتی کونسل میں دائمی سیٹ کا حصول تھا۔
البتہ صہیونی ریاست کا ہندوستان کی سیاسی پارٹیوں اور پارلیمنٹ کے نمائندوں میں گہرا اثر و رسوخ بھی ان ملکوں کے باہمی تعلقات کے فروغ میں بے تاثیر نہیں رہا۔ نیز ان تعلقات کی توسیع میں یہودی لابیاں اور تنظیمیں بھی بے کار نہیں بیٹھی رہیں۔ مثال کے طور پر سن ۲۰۰۵ میں کشمیر زلزلے میں، دو صہیونی تنظیموں؛ Global Jewish Assistance اور World Jewish Relief Institute  نے سب سے زیادہ اینڈین پاکستانی زلزلہ زدہ لوگوں کی مدد کی۔
اس سے قبل ۱۹۷۰ میں ہندوستان کے قبیلے بنی مناشہ کو یہودی قبیلے کا نام دے کر اس کے پانچ ہزار افراد کو اسرائیل منتقل کیا کہ یہ بھی ہندوستان کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی ایک وجہ ہے۔ صہیونیوں نے ہندوستانیوں کو یہ بھی باور کروانے کی کوشش کی کہ یہودی اور ہندو تاریخی اعتبار سے ایک دوسرے کے مشابہ قومیں ہیں۔ مثال کے طور پر ان کا کہنا ہے کہ ہندو اور یہودی پانچ ہزار سال پرانی تاریخ کے حامل ہیں، دونوں کا مشترکہ دشمن ’مسلمان‘ ہے ( ہندوستان کے دشمن پاکستانی اور اسرائیل کے دشمن فلسطینی)، دونوں برطانیہ کے زیر قبضہ رہے ہیں اور دونوں کے سیاسی رہنما کو بھی دھشتگردی کا نشانہ بنایا گیا ( مہاتما گاندھی ۱۹۴۸ میں اور اسحاق رابین ۱۹۹۵ میں)۔
یہ تمام وہ عوامل اور اسباب ہیں جن کی بنا پر اسرائیل ہندوستان سے روز بروز قریب سے قریب تر ہوتا گیا ہے یہاں تک کہ اب اسرائیل ہندوستان کے اندر کافی حد تک اپنا اثر و رسوخ پیدا کر چکا ہے۔ لیکن اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو اس کھیل میں سب سے زیادہ جس نے فائدہ اٹھایا ہے وہ اسرائیل ہے۔
منبع: صفاتاج، مجید، صہیونیت و اسرائیل انسائکلوپیڈیا، ج۶

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍ی؍۱۰۰۰۳