ہندوستان میں استعمار کا آغاز




اس پورے ماجرے میں جو چیز باعث تعجب ہے وہ یہ کہ مغربی مورخین اس پورے ماجرے کو جب بیان کرتے ہیں تو گاما Gama, کو ایک متجاوز اور در انداز کے طور پر پیش نہیں کرتے کہ جس نے قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا اور زبردستی دوسروں کے علاقوں میں گھس کر طاقت کے زور پر وہاں اپنا پرچم لہرایا بلکہ اسکے اقدام کو پرتگال کی ہندوستان سے تجارت کے اولین قدم کی صورت میں دیکھتے ہیں گو کہ وہ کوئی قاتل و غارت گر نہیں بلکہ پرتگال و ہندوستان کے ما بین تجارت کا پل بنانے والی شخصیت ہو ۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: واسکو ڈے گاما Vasco da Gama, ˈvaʃku ðɐ ˈɣɐmɐ][۱]کی کالیکوٹ (calicut) بازگشت اور پرتگال کے ظالم بادشاہ کو دگاما کی جانب سے ضروری رپورٹس دینے کے بعد پیڈرو ایلواریس کیبرل، [ˈpeðɾu ˈaɫvɐɾɨʃ kɐˈβɾaɫ] [۲] کی رہبری میں ۱۳ کشتیوں پر مشتمل ایک بڑا بیڑہ مشرق کی طرف چل دیتا ہے لیکن اس بار مقصد سیر سپاٹا یا کسی سرزمین کی دریافت نہیں ہے بلکہ مقصد تسخیر اور قبضہ جمانا ہے اور لائق توجہ بات یہ ہے کہ اس سفر میں گاسپارڈے گاما بھی ساتھ ہے ۔

کالیکوٹ پہنچنے کے بعد پرتگال سے آئے وفد کی جانب سے حاکم کے سامنے یہ مطالبہ رکھا جاتا ہے کہ مسلمان تاجروں کو یہاں سے نکال باہر کیا جائے یہ مطالبہ نہ صرف یہ کہ مسترد کر دیا جاتا ہے بلکہ اس مطالبہ پر کالیکوٹ کے حکمراں کی جانب سے شدید رد عمل بھی سامنے آتا ہے۔

نقل تو یہاں تک ہوا ہے کہ پیڈرو ایلواریس کیبرل، [ˈpeðɾu ˈaɫvɐɾɨʃ kɐˈβɾaɫ] کے ہمراہ کچھ لوگ اپنے برے رویہ کی بنا پر ہلاک بھی ہوئے اور کایبرال کو وہاں سے نکال دیا گیا، یہاں سے نکلنے کے بعد پیڈرو ایلواریس کیبرل نے کوچن cochin میں اپنا ٹھکانا بنایا اور یہودیوں اور سیاہ فاموں کی مدد سے سب سے پہلا پرتگالی اڈہ قائم کیا ۔

الغرض شکست خوردہ پیڈرو ایلواریس کیبرل اپنے ملک پلٹ گیا لیکن اس کی کچھ مدت کے بعد ۱۵۰۲ ء میں واسکو ڈے گاما Vasco da Gama, ˈvaʃku ðɐ ˈɣɐmɐ]۱ ۲ /اسلحوں سے لیس شدہ کشتیاں لیکر ہندوستان کی طرف چل پڑا ، دانتوں تک اسلحوں سے لیس ہوکر اسکے نکلنے کا مقصد مسلمانوں کے بیڑوں کی تباہی اور مشرقی دریا کے راستوں پر اکلوتے پرتگال کا جھنڈا لہرانا اور اسکا تسلط قائم کرنا تھا۔

واسکو ڈے گاما Vasco da Gama, ˈvaʃku ðɐ ˈɣɐmɐ]نے اپنی منزل تک پہنچنے سے پہلے اس سفر میں پہلے کیلوا Kilwa[3] بندرگاہ پر پڑاو ڈالا اور شہر کے حاکم سے خوب اچھی طرح خراج وصولا، شہر کے مسلمان حاکم سے قاعدے سے خراج لینے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ کچھ لوگوں کو بھی تہہ تیغ کیا اسکے بعد کالیکوٹ کا رخ کیا اور مسلمانوں کی تجارتی کشتیوں کو تاراج و نابود کر دیا اپنے تباہ کن حملوں کے ذریعہ اس نے پورے علاقے میں خوف و دہشت کا ماحول بنا دیا اور پورے علاقہ پر وحشت و خوف کے سایے مسلط ہو گئے ۔

اس پورے ماجرے میں جو چیز باعث تعجب ہے وہ یہ کہ مغربی مورخین اس پورے ماجرے کو جب بیان کرتے ہیں تو گاما Gama, کو ایک متجاوز اور در انداز کے طور پر پیش نہیں کرتے کہ جس نے قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا اور زبردستی دوسروں کے علاقوں میں گھس کر طاقت کے زور پر وہاں اپنا پرچم لہرایا بلکہ اسکے اقدام کو پرتگال کی ہندوستان سے تجارت کے اولین قدم کی صورت میں دیکھتے ہیں گو کہ وہ کوئی قاتل و غارت گر نہیں بلکہ پرتگال و ہندوستان کے ما بین تجارت کا پل بنانے والی شخصیت ہو ۔

یہ مورخین اپنی کتابوں میں اس طرح لکھتے ہیں: ” کابرایل نے ۱۵۰۰ ء میں یہ بات ثابت کر دکھائی کہ مشرق میں مسلمانوں کے ہاتھوں تجارت کی باگ ڈور ہونے اور تجارت کا اختیار مکمل طور پر محض انہیں کے ہاتھوں ہونے کے مسئلہ کو صلح آمیز طریقہ سے حل نہیں کیا جا سکتا تھا لہذا اسکا ایک ہی راستہ تھا کہ طاقت کا استعمال کیا جائے “۔

لیکن یہ سب تو کہنے کی باتیں ہیں جب کہ دیکھا جائے تو مسلمان تاجروں کی ثروت اور انکے پاس دولت کی ریل پیل کو دیکھتے ہوئے ان لوگوں کو انکے حسد و لالچ نے اس منزل پر پہنچایا کہ قتل و غارت گری اور لوٹ مار پر اتر آئیں، ان تمام تباہیوں اور سفاکیوں کا اصل محرک انکے وجود کی حرص تھی جو انکے ظلم ستم کی داستان رقم کرنے کا سبب بنی اس لئے کہ یہ لوگ ثروت و دولت کے ڈھیر کو دیکھ کر صبر نہیں کر سکے خود کو نہ روک سکے کہ تجارت کے ذریعہ قانونی طور پر اسے حاصل کریں اور نفع بخش چرخے کا حصہ بنیں۔

یہی وجہ ہے کہ وہ سب حصول ثروت کے سب سے تیز ترین راستے یعنی دراندای چھینا جھپٹی اور ڈاکہ ڈالنے کی طرف چلے گئے اور انہوں نے اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے شدت پسندانہ راستے کو چنا ۔

Ernest Ezra Mandel ارنسٹ مینڈل نے ذرا منصفانہ انداز میں بر صغیر کی زمینوں پر ناجائز قبضے کی ایک جامع توصیف پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ یورپین غارت گروں اور متجاوزوں کے بارے میں کہتے ہیں ” یہ وہ کام تھا جو بغیر خونریزی کے انجام پذیر نہ ہو سکا، یہ ایک طرح کی مرچی، دارچین ، اورلونگ کے تاجروں کی جنگ تھی جو اپنے ساتھ وحشتناک سفاکیت کو لئے ہوئے تھی، جتھوں کے جتھوں کا قتل عام، بڑے شہروں کا ویران کر دینا، کشتیوں کا انکے سواروں کے ساتھ جلا دینا، بھیڑ بکریوں کی طرح چھری سے انسانی اعضاء کا کاٹ دینا کیا یہی عیسائی دلاوروں کی کہانیاں ہیں؟

جس میں لوگوں کے کان، ہاتھ اور ناک کاٹ کر مذاق اڑانے کی خاطر وحشی بادشاہوں کی خدمت میں پیش کر دیا جاتا تھا کیا یہی عیسائی شہسواروں کی خدمات ہیں، انہوں نے اپنی جنایتوں اور تاراجیوں میں یہ بھی کیا کہ اپنی غارت گری کے بعد ایک برہمن کو مثلہ کر دینے کے بعد بھی زندہ رکھا یعنی اسکے ہاتھ پیر ناک کان کاٹ دئے لیکن خیال رکھا کہ اسکی جان نہ جانے پائے اور یہ اس لئے کیا کہ وہ انکی کامیابی و قساوت کی کہانی مقامی راجاوں اور حاکموں تک بیان کر سکے ۔

گاما جب ان تمام سفاکیت کی داستانوں کو رقم کر کے اپنے ملک پہنچا تو اپنے کاموں کے انعام کے طور پر کانٹ ویڈیگوڑا Count to Vidiguerra کے عنوان سے اسے نوازا گیا اور ۱۵۳۴ء میں پرتگال کے نائب السلطنۃ کے طور پر مشرق میں اسکا انتخاب ہوا لیکن مختصر سے عرصے میں ہی ہندوستان کے سفر کے بعد کوچین کی بندرگاہ پر اس دنیا سے چل بسا لیکن قتل و غارت گری کی جو رسم اس نے اپنے پیچھے چھوڑی تھی وہ ختم نہ ہوئی بلکہ فرنسیسکو دا لمیڈ[۴] اور آلفونسو دالبرکرک[۵] کے ذریعہ یہی قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری رہا ۔[۶]

حواشی:

[۱] ۔واسکو ڈے گاما Vasco da Gama, ˈvaʃku ðɐ ˈɣɐmɐ] کو ایک پرتگالی بحری قزاق ، جس نے یورپ سے جنوبی افریقا کے گرد گھوم کر ہندوستان تک بحری راستہ دریافت کیا اور مہم جوئی اور تجارت کی ایک نئی دنیا کھولی۔ وہ ۱۴۶۹ء میں پرتگال میں پیدا ہوا اور ۱۵۲۴ء میں کوچی ہندوستان میں اس نے ابدی کوچ کیا ۔

[۲] ۔ پیڈرو ایلواریس کیبریل ۱۴۶۸ء میں وسطی پرتگال کے شہر بیل مونٹے میں رہائش پزیر ایک معزز خاندان میں پیدا ہونے والا۔ دے گاما کی ہی طرح ایک پرتگالی مہم جو،اور پہلا یورپی جس نے ۱۵۰۰ء میں حادثاتی طور پر یورپ سے برازیل کا بحری راستہ دریافت کیا۔ اس کی مہم کے نتیجہ میں پرتگالی حکومت نے برازیل کی ملکیت کا دعویٰ کیا اور جنوبی امریکا میں پہلی پرتگیزی کالونی کی بنیاد رکھی گئی۔ تفصیل کے لئے دیکھیں : عظیم مہم جو۔ کراچی: سٹی بک پواؤنٹ، اردو بازار۔ ۲۰۱۱ء۔ صفحات ۱۴۶، ۱۴۷۔ Bueno, Eduardo (1998). A viagem do descobrimento: a verdadeira história da expedição de Cabral (in Portuguese). Rio de Janeiro: Objetiva. ISBN 978-85-7302-202-5. Greenlee, William Brooks (1995). The voyage of Pedro Álvares Cabral to Brazil and India: from contemporary documents and narratives. New Delhi: J. Jetley.

Espínola, Rodolfo (2001). Vicente Pinzón e a descoberta do Brasil (in Portuguese). Rio de Janeiro: Topbooks. ISBN 978-85-7475-029-3..

Kurup, K. K. N. (1997). India’s naval traditions: the role of Kunhali Marakkars. New Delhi: Northern Book Centre. ISBN 978-81-7211-083-3.

[۳] ۔ تنزانیا کے شہر دار السلام کے ۳۰۰ کلومیٹر جنوب میں واقع شہر جو یونسکو کے آثار قدیمہ سے متعلق عالمی میراث کی فہرست میں آتا ہے کبھی اس شہر میں ہاتھی کے دانت ، سونا ، چاند ی عقیق ،وغیرہ کی تجارت ہوتی تھی ۔ http://whc.unesco.org/en/list/144

مزید تفصیل کے لئے دیکھیں : Elkiss, Terry A. (1973). “Kilwa Kisiwani: The Rise of an East African City-State”. African ،

Studies Review. 16 (1): 119–۱۳۰٫ doi:10.2307/523737 ، Fleisher, Jeffery; Wynne-Jones, Stephanie (2012). “Finding Meaning in Ancient Swahili Spatial Practices”. Afr Archaeol Rev. 29: 171–۲۰۷٫ doi:10.1007/s10437-012-9121-0.

[۴] ۔ francisco de Almeida

[۵] ۔ Alphonso de Albuqerque

[۶] ۔ کتاب زرسالاران یهودی و پارسی، غارتگری ماوراء بحار و تمدن جدید غرب، ج۱، ص ۴۵ الی ۴۷٫

تلخیص و ترجمہ :سید نجیب الحسن زیدی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ی/۱۰۰۰۲