صہیونی وزیر اعظم کا ترک صدر پر لفظی حملہ




صہیونی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ترک صدر رجب طیب اردوگان پر لفظی حملہ کرتے ہوئے انہیں “دکٹیٹر” اور “دیوانہ” قرار دے دیا۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، صہیونی وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو نے اسرائیلی ٹی وی چینل ۱۰ کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے دوران ترک صدر رجب طیب اردوگان کو حملے کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں اسرائیل کی نسبت دل میں کینہ رکھنے والا شخص قرار دیا اور دکٹیٹر اور دیوانہ جیسے القاب سے نوازا!
دوسری جانب ترک عہدیداروں نے صہیونی وزیر اعظم کی ہرزہ سرائیوں کا جواب دیتے ہوئے انہیں “غاصب” اور “قانون شکن” قرار دیا اور کہا کہ نیتن یاہو اپنے مالی گھوٹالوں پر پردہ ڈالنے کے لیے علاقے میں ایک نئی جنگ چھیڑ کر دنیا کی توجہ کو دوسری سمت موڑنا چاہتے ہیں۔
یہ ایسے حال میں ہے کہ نائیجیریا کی مسلم کمیونٹی نے ترک صدر کو ۲۰۱۸ میں عالم اسلام کی محبوب شخصیت قرار دیتے ہوئے نائیجیریا سے چھپنے والے اخبار “مسلم نیوز نائیجیریا” میں کہا ہے کہ طیب اردوگان عالم اسلام کی طاقتور، موثر اور قابل احترام شخصیت ہیں۔ وہ عالم اسلام کے سال ۲۰۱۸ء کی معتبر شخصیت کا اعزاز اور ایوارڈ حاصل کرنے کے حق دار ہیں۔
اخبار کے چیف ایڈیٹر رشید ابوبکر نے کہا ہے کہ صدر اردوگان مظلوموں‌ کے ساتھی ہیں اور وہ پوری دنیا میں مظلوم اقوام کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔ انہوں‌ نے ہمیشہ فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے لیے آواز بلند کی۔ وہ صہیونی ریاست کے فلسطینیوں کے خلاف مظالم کی جرات مند اور توانا آواز ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/خ/۱۰۰۰۳