تباہی اور بربادی اسرائیل کے دروازے پر دستک دے رہی ہے




صہیونی تجزیہ نگار نے لکھا ہے کہ اسرائیل کی موجودہ داخلی صورت حال دگر گوں ہے۔ سیاسی قیادت تکبر اور غرور کا شکار ہے۔ سنہ ۱۹۷۳ء کی جنگ سے قبل بھی ایسے ہی حالات تھے جس کے نتیجے میں ہزاروں اسرائیلیوں کو اپنی جانیں قربان کرنا پڑی تھیں۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، اسرائیل کے ایک سیاسی تجزیہ نگار نے خبردار کیا ہے کہ ایک المناک سانحہ، صہیونی ریاست کا منتظر ہے اور اس سانحے کی اسرائیل کو بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔ صہیونی تجزیہ نگار شمعون شاباس کا کہنا ہے کہ یہودی ریاست کی قیادت کو غرور اور گھمنڈ ختم کرکے فلسطینیوں کے لیے تمام امکانات بند کرنے سے باز آنا ہوگا۔ اگر تکبر اور غرور کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کے لیے تمام دروازے بند کردیے گئے تو اس کے نتیجے میں اسرائیل کو ایک بڑی تباہی کا سامناکرنا پڑ سکتا ہے۔

شمعون شاباس اسحا رابین کی حکومت نے ان کے وزیراعظم ہائوس کے چیف آف اسٹاف رہ چکے ہیں۔ حال ہی میں انہوں‌ نے اخبار’یدیعوت احرونوت’ میں ایک مضمون لکھا جس میں انہوں نے لکھا کہ اسرائیل سنہ ۱۹۷۳ء کی جنگ سے بڑے المیے کی طرف بڑھ رہا ہے اور اب کی بار یہ شکست عرب ممالک سے نہیں بلکہ فلسطینیوں سے ہوسکتی ہے۔

صہیونی تجزیہ نگار نے لکھا ہے کہ اسرائیل کی موجودہ داخلی صورت حال دگر گوں ہے۔ سیاسی قیادت تکبر اور غرور کا شکار ہے۔ سنہ ۱۹۷۳ء کی جنگ سے قبل بھی ایسے ہی حالات تھے جس کے نتیجے میں ہزاروں اسرائیلیوں کو اپنی جانیں قربان کرنا پڑی تھیں۔

صہیونی تجزیہ نگار کے مطابق ۵۰ سال کے بعد ہم ایک بار پھر ایک ایسی ہی متکبر سیاسی قیادت کے سائے میں جی رہے ہیں۔ موجودہ اسرائیلی سیاسی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ وہ طاقت کے ذریعے غزہ اور غرب اردن کو اپنے تسلط میں لے لے گی اور ساتھ ہی ساتھ وہ فلسطینیوں کے ساتھ کوئی سمجھوتا بھی کرلے گی مگر یہ اس کی غلط فہمی اور خام خیال ہے۔

شاباس نے لکھا کہ سابق اسرائیلی وزیر دفاع موشے ڈایان نے بھی کہا تھا کہ وہ مصر کے ساتھ امن معاہدے کے بغیر شرم الشیخ پہنچ سکتے ہیں مگر اسرائیل کو بالآخر مصر کے ساتھ پسپائی اختیار کرتے ہوئے معاہدہ کرنا پڑا۔ اسرائیل کو جزیرہ نما سیناء سے فوج واپس بلانا پڑی اور مصر کے ساتھ عالمی سرحدوں کو قبول کرنا پڑا۔

صہیونی دانشور کے مطابق سنہ ۱۹۶۷ء کی جنگ سے لے کر ۱۹۷۳ء کی جنگ تک اسرائیلیوں کی زندگی مسلسل حالت جنگ میں رہی۔ اس دوران ۲۷۰۰ اسرائیلی ہلاک اور ۲۷۰۰ زخمی ہوگئے۔

آج کی اسرائیلی قیادت بھی اسی پرانے ڈگر پرچل رہی ہے۔ موجودہ قیادت بھی غرور اور گھمنڈ کا شکار ہے۔ آج اسرائیلی قیادت کا گھمنڈ اور تکبر شامیوں اور مصریوں کے خلاف نہیں بلکہ فلسطینیوں کے خلاف ہے۔

صہیونی دانشور نے نیتن یاھو حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ حکومت اپنا سر ریت میں چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔ حکومت غلطیوں کے ساتھ مسلسل تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے اور بم  آتش فشاں پھٹنے کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍گ؍۱۰۰۰۳