آٹھ ماہ میں ۲۵۳ فلسطینی صہیونی دھشتگردی میں شہید




رپورٹ کے مطابق غزہ میں تیس مارچ کے بعد جاری پرامن مظاہروں کے دوران اسرائیلی فوج نے ۲۵ ہزار ۴۷۷ فلسطینی زخمی کیے گئے۔ ان میں سے ۱۳ ہزار ۷۵۰ کو موقع پر ہی فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ۳۰ مارچ ۲۰۱۸ء سے اب تک اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں ۲۵۳ فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ ان میں سے ۱۱ شہداء کے جسد خاکی ابھی تک اسرائیلی فوج کی تحویل میں ہیں۔

عبداللہ الحورانی مرکز برائے مطالعہ کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ۳۰ مارچ ۲۰۱۸ء سے ۲۲ دسمبر ۲۰۱۸ء تک اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں ۲۵۳ فلسطینی شہید کئے گئے۔ غزہ گورنری میں ۷۲، خان یونس میں ۷۰ ، وسطی غزہ سے ۴۱، شمالی غزہ سے ۳۷ اور رفح سے ۳۳ فلسطینیوں کو شہید کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق غزہ میں تیس مارچ کے بعد جاری پرامن مظاہروں کے دوران اسرائیلی فوج نے ۲۵ ہزار ۴۷۷ فلسطینی زخمی کیے گئے۔ ان میں سے ۱۳ ہزار ۷۵۰ کو موقع پر ہی فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق فلسطینی مظاہرین کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیلی فوج نے آنسوگیس کی شیلنگ، دھاتی گولیوں، براہ راست فائرنگ اور ڈرون طیاروں کے ذریعے بم باری کی گئی۔ شہداء میں ۴۵ کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔ ان میں کم سن بچے ہیں۔ شہداء میں سے ۱۷ اعشاریہ ۷ فی صد بچے ہیں۔

اسرائیلی ریاستی دہشت گردی اور غزہ میں‌پرامن مظاہرون میں ۴۳۷۹ بچے زخمی ہوئے۔ جب کہ ۲۰۵۰ خواتین زخمی ہوئی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍خ؍۱۰۰۰۳