صدی کی ڈیل کے نفاذ کے لیے اسرائیل کی سعودی عرب کو اہم پیشکش




اسرائیلی تجزیہ کار نے مزید لکھا ہے کہ شام، لبنان اور عراق میں پناہ گزیں فلسطینی صدی کی ڈیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور اگر سعودی عرب اس پیشکش کو قبول کر لیتا ہے تو اس منصوبے کے نفاذ کی راہ ہموار ہو جائے گی۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، اسرائیلی ٹی وی چینل سات کی ویب سائٹ کے تجزیہ کار “ایتمار تسور” نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے صدی کی ڈیل کے نفاذ کے لیے سعودی عرب کو پیشکش کی ہے کہ وہ فلسطینی پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں جگہ دے۔
اسرائیلی تجزیہ کار نے مزید لکھا ہے کہ شام، لبنان اور عراق میں پناہ گزیں فلسطینی صدی کی ڈیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور اگر سعودی عرب اس پیشکش کو قبول کر لیتا ہے تو اس منصوبے کے نفاذ کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
اسرائیلی تجزیہ کار نے سعودی عرب کو ایک اہم بات کی یاددہانی کرواتے ہوئے لکھا ہے کہ چونکہ سعودی عرب کی شمالی سرحد عراقی شیعوں سے جڑتی ہے اور جنوبی سرحد یمنی شیعوں سے جبکہ سعودی عرب کے اندر موجود شیعوں کی اقلیت جنہوں نے ۲۰۱۱ میں سعودی سلطنت کے خلاف قیام کیا تھا کو سرکوب کرنے کے لیے بہترین طریقہ کار یہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین میں فلسطینی پناہ گزینوں کو جگہ دے کر اپنی حکومت کو استحکام بخشے۔
اسرائیلی ٹی وی چینل کے تجزیہ کار نے آخر میں یہ کہا کہ اس منصوبے پر عمل درآمد اگر چہ سخت ہے لیکن اسرائیل تیزی سے اس کا پیچھا اور اس کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/خ/۱۰۰۰۳