عالمی حکمرانی کا امریکی سپنا چکنا چور




آج امریکہ کے عوام کے لئے بھی یہ حقیقت اظہر من الشمس ہوچکی ہے کہ امریکی سپنا یا امریکن ڈریم اندر سے ہی چور چور ہوچکا ہے اور شاید اکیسویں صدی کا آغاز درحقیقت ان تمام اسباب اور موجبات کے ظہور پذیر ہونے کا آغاز بھی تھا جنہوں نے امریکی سپنے کو مکمل طور پر نیست و نابود کردیا۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: گزشتہ سے پیوستہ
اس کے باوجود کہ امریکن ڈریم کو مقبولیت ملی اور یہ مقبولیت بیسویں صدی کے اوائل تک جاری رہی، کچھ ایسی حکومتیں اور قومیں ایسی بھی تھیں جنہوں نے امریکہ کی اصل حقیقت کا ادراک کرلیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم دنیا میں امریکی سپنے کے مخدوش ہونے کے سلسلے میں بحث کرنا چاہیں تو ہمیں برسوں پیچھے پلٹنا پڑے گا جس وقت ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے اپنے پڑوسی ملک میکسیکو کو شدید ترین فوجی دباؤ سے دوچار کیا اور اس ملک کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرلیا جس کو آج “کیلیفورنیا” کا نام دیا جاتا ہے۔
میکسیکو کے عوام اور حکومت کے لئے نوبنیاد امریکہ اس امریکہ سے کہیں زیادہ مختلف تھا جو بحر اوقیانوس کے اُس پار کے لوگوں کے ذہنوں میں ابھرا ہوا تھا۔ میکسیکن عوام کی نظر میں امریکہ کی اصل تصویر سامنے آچکی تھی: ایک توسیع پسند ملک، دوسروں کی سرزمینوں پر قبضے کی لالچ رکھنے والی طاقت، بغیر جڑوں کے قائم بے رحم قوت جو اپنے مفاد کے لئے کچھ بھی کرنے کے لئے تیار ہے، بین الاقوامی جاہ طلبیوں کی راہ میں سامراج، (Imperialist) اور جمہوری ظاہرداریوں اور ریاکاریوں میں بہت زیادہ حیلہ باز اور مکار۔
یہ درست ہے کہ میکسیکو کی تاریخ بجائے خود غلطیوں اور خطاؤں سے بری الذمہ نہیں ہے؛ لیکن اس کی بہت سی شکایتیں اور اعتراضات کی جڑیں تاریخی حقائق میں پیوست ہیں۔ امریکہ نے سامراجیت اور نہ بجھنے والی لالچ کی بنیاد پر میکسیکو کو ارضی طور پر نقصان پہنچایا اور اپنی سرزمین کو وسعت دی، حالانکہ یہ رویہ امریکہ کی نوجوان ظاہری جمہوریت کی بین الاقوامی تصویر سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
بہت جلد، میکسیکو کی سرزمینوں کے بعد، بحرالکاہل کے وسط میں واقع سلطنت ہوائی (Kingdom of Hawaii) امریکی پرچم گاڑھنے کی باری آئی۔ چند عشرے بعد امریکی ساحلوں سے بہت دور ـ جنوب مشرقی وسطی ایشیا میں واقع ـ فلپائن کی باری آئی گوکہ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ کو فلپائن سے نکلنا پڑا۔ کیوبا سمیت مرکزی امریکہ کے کچھ دوسرے ممالک کو بھی امریکی سامراجیت کی جارحیتوں کا سامنا کرنا پڑا اور یہ جارحیتیں میکسیکو پر قبضے کے تجربے کا تسلسل سمجھی جاتی تھیں۔
امریکہ یہ سب دنیا کے ساتھ تجارت کے لئے قریبی تعلق قائم کرنے کے لئے کررہا تھا جس کے لئے جَزائر غَربُ الہِند (West Indies) يا کَريبين سَمَندَر (Caribbean sea) امریکی عملداری ضروری سمجھا گیا تھا چنانچہ امریکیوں نے اس راہ میں کسی بھی غیر انسانی جرم کے ارتکاب سے دریغ نہیں کیا؛ ان اقدامات کا طویل المدت نتیجہ لاطینی امریکہ کے عوام کے لئے حد سے زیادہ ـ اور آج تک جاری ـ غربت اور قحط اور بھوک کی صورت میں برآمد ہوا۔ بطور مثال ہیٹی (Haiti) جیسا ملک ـ جو کبھی بہت زرخیز تھا ـ امریکیوں کے مسلسل حملوں کے نتیجے میں مکمل طور پر تباہ ہوا اور پوری بیسویں صدی میں ایک غریب اور آفت زدہ ملک کے طور پر پہچانا گیا۔ ملک پاناما (Panama) جو بحری جہازوں کی رفت و آمد کے لئے بحر اوقیانوس کو بحرالکاہل سے ملانے والی تزویری نہر پاناما (Panama Canal) کا میزبان ہے، محض امریکہ کے معاشی مفادات کی خاطر برسوں تک امریکہ کے زیر تسلط رہا۔
*امریکن ڈریم کا شکار بننے والے پہلے متأثرین
انیسویں صدی کے دوران اور بیسویں صدی کے اوائل میں امریکہ کے سلسلے میں جنوبی امریکی عوام کی رائے مکمل طور منفی رہی۔ گوکہ ابتداء میں ـ اس لئے کہ امریکہ نے یورپ کا تسلط مسترد کردیا تھا ـ جنوبی امریکہ کا کچھ حصہ امریکہ کی طرف مائل تھا اور ان میں سے کچھ نے تو امریکی آئین کی جدت پسندانہ دفعات تک کی تقلید کرلی؛ تاہم مونرو ڈاکٹرائن (۱) ـ جس نے نصف کرۂ مغربی (براعظم امریکہ) میں یورپیوں کی مداخلت کو ممنوع قرار دیا تھا، ـ جنوبی امریکہ کے بعض ممالک کی نظر میں کچھ مشکوک سا تھا اور وہ اس کو تذبذب کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ مونرو ڈاکٹرائن کا اصل مقصد ریاست ہائے متحدہ کے مفادات کا تحفظ تھا۔ رفتہ رفتہ سیاسی اور ثقافتی و تہذیبی دشمنیاں واضح ہوئیں، بالخصوص درمیانی طبقے کے پڑھے لکھے دانشوروں کے درمیان، جو سیاسی لحاظ سے سرگرم عمل تھے۔ پیرون (۲) کے ارجنٹائن اور وارگاس (۳) کے برازیل نے بیسویں صدی کے دوران علاقے میں امریکی پالیسیوں اور تسلط کی خوب مزاحمت کی۔
اور رفتہ رفتہ، وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ، امریکی فوجی بغاوتوں اور مختلف قسم کی مداخلتوں سے واضح ہوا کہ جس چیز کو امریکی سپنے [American Dream] کے طور پر پہچانا جاتا تھا وہ دوسری قوموں کے لئے درندگی اور مصیبت کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔
روئیدادوں، فوجی بغاوتوں اور جارحیتوں میں سے ہر ایک کی داستان الگ الگ لائق اعتنا ہے؛ دنیا میں بہت سوں کو امریکی سپنے کی آشفتگی کا اندازہ بہت عرصے سے ہوچکا تھا لیکن اہم بات یہ ہے کہ آج امریکہ کے عوام کے لئے بھی یہ حقیقت اظہر من الشمس ہوچکی ہے اور امریکی سپنا یا امریکن ڈریم اندر ہی سے چور چور ہوچکا ہے اور شاید اکیسویں صدی کا آغاز درحقیقت ان تمام اسباب اور موجبات کے ظہور پذیر ہونے کا آغاز بھی تھا جنہوں نے امریکی سپنے کو مکمل طور پر نیست و نابود کردیا۔

حواشی

۱۔ مونرو ڈاکٹرائن (Monroe Doctrine) جو کہ امریکہ کا سیاسی اصول یا ڈاکٹرائن تھا، اور امریکہ کی تاریخ کے بالکل آغاز میں سنہ ۱۸۲۳ع‍ماہ دسمبر میں امریکی صدر جیمز مونرو (James Monroe) نے اس کا اعلان کیا۔ اس اصول کے مطابق نوظہور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے معاملات میں یورپی طاقتوں کی مداخلت کی مخالفت کی گئی تھی؛ اس اصول کے مطابق ریاست ہائے متحدہ نے یورپی طاقتوں اور ان کی نوآبادیوں کے درمیان لڑی جانے والی کسی بھی جنگ میں مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کیا؛ اور قرار دیا کہ براعظم امریکہ میں نوآبادیاتی مقاصد کے لئے لڑی جانے والی کسی بھی جنگ کو معانداتی کاروائی (Hostile action) سمجھا جائے گا۔
۲۔ ہوان دومینگو پیرون (Juan Domingo Perَn) ارجنٹینی جرنیل اور سیاستدان تھے جنہیں ۱۹۴۶ میں بطور صدر منتخب کیا گیا عوام کے ہردلعزیز تھے، دوسرے دور کے لئے بھی صدر منتخب ہوئے لیکن ۱۹۵۵ع‍میں فوجی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار سے الگ ہوئے اور ۱۹۷۲ع‍میں ایک بار صدر منتخب ہوئے لیکن دو سال بعد ۱۹۷۴ع‍میں ان کا انتقال ہوا اور ان کی تیسری زوجہ بیگم ایزابیل پیرون ان کی جگہ اقتدار سنبھالا اور چھ مہینوں تک اس عہدے پر فائز رہیں۔ ایزابل دنیا کی پہلی خاتون صدر سمجھی جاتی ہیں۔
۳۔ جیتولیو دونالیس وارگاس (Getْlio Dornelles Vargas) نے سنہ ۱۹۳۰ع‍میں بغاوت کرکے برازیل کی صدارت سنبھالی اور جرمنی کے ساتھ تعلقات بحال رکھے اور امریکی تسلط کی مخالفت کی۔ ۱۹۴۵ میں مستعفی ہوئے۔ ۱۹۵۱ع‍میں دوبارہ منتخب ہوئے اور ۱۹۵۴ع‍میں فوج کے عدم تعاون کی وجہ سے ـ جس کا سبب بیرونی(!) تھا، خودکشی کرلی۔

منبع: ابنا

بقلم: مہدی پور صفا
ترجمہ و تکمیل: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری/ی/۱۰۰۰۳