ٹرامپ کے عراق خفیہ دورے کے اسباب اور عراقی حکام کا ردعمل




سوال یہ ہے کہ ٹرمپ کا دورہ عراق کیا امریکہ کے ضعف کی علامت تھا؟ عراقیوں نے امریکی صدر کے مستکبرانہ رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم امریکیوں کو عراق سے بھاگنے پر مجبور کریں گے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے مطابق، ٹرمپ نے خود ہی اعتراف کیا کہ “امریکہ نے اربوں ڈالر خرچ کئے لیکن مجھے عراق کے خفیہ دورے میں اپنی اور ملانیہ کی جان کی فکر لاحق تھی”۔

امریکی صدر نے اپنے خفیہ دورے کے سلسلے میں اپنے ٹوئیٹ پیغامات میں لکھا: بہت ہی غم انگیز اور افسوسناک صورت حال ہے کہ امریکہ نے مشرق وسطی میں استحکام کے لئے ہزاروں ارب ڈالر خرچ کئے لیکن اسی ملک کے  صدر کو وہاں جانے کے لئے بہت ہی محدود کردینے والے شدید حفاظتی اقدامات کے سائے میں رہنا پڑتا ہے، اور انہیں خفیہ طور پر عراق جانا پڑتا ہے”۔

نامہ نگار نے جب پوچھا کہ “کیا عراق جاتے ہوئے انہیں اپنی اور اپنی اہلیہ ملانیہ کی جان کے سلسلے میں تشویش لاحق تھی اور کیا وہ خوفزدہ تھے؟” تو ٹرمپ نے کہا: “یقینا ایسا ہی تھا، میں نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنی اہلیہ ملانیہ کے لئے بھی فکرمند تھا۔ میں امریکی صدر کے عہدے کے لئے بھی فکرمند تھا”۔

ٹرمپ نے کہا: “کاش آپ بھی دیکھتے کہ ہمیں اس دورے کے لئے کس قسم کے حالات اور محدود کردینے والے اقدامات برداشت کرنا پڑے۔ طیارہ گھپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، تمام کھڑکیاں بند تھیں یہاں تک کہ طیارے کے باہر ذرہ برابر روشنی بھی دکھائی نہیں دے رہی تھی؛ ہر جگہ مکمل اندھیرا تھا۔ اب آپ پوچھتے ہیں کہ کیا مجھے تشویش لاحق تھی؟ اور مجھے یہی کہنا چاہئے کہ جی ہاں میں فکرمند تھا۔۔۔ بہت غم انگیز اور افسوسناک ہے کہ آپ نے مشرق وسطی کے لئے ۷ ٹریلین ڈالر خرچ کئے ہوں اور پھر وہاں جانے کے لئے متعدد طیاروں اور جدیدترین اوزاروں کے ذریعے ہر سمت میں حفاظتی کاروائیاں کرنے پر مجبور ہوں صرف اس لئے کہ اس دورے میں آپ کو کوئی گزند نہ پہنچے”۔

رائٹرز کی رپورٹ:

صدر ٹرمپ نے کہا: امریکہ اس کے بعد عالمی پولیس مین کا کردار ادا نہیں کرسکے گا۔۔۔ ہم عرصہ دراز سے دوسروں کے لئے لڑ رہے ہیں اور یہ منصفانہ نہیں ہے کہ دوسروں کی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی ہم اٹھائیں۔۔۔ مزید کسی کو “ہم” سے غلط فائدہ اٹھانے اور “ہماری بےمثال فوج” کو اپنے مفاد کے لئے استعمال نہیں کرنے دیں گے۔

سنہ ۲۰۱۷ع‍ میں برسر اقتدار آنے کے بعد سے ٹرمپ نے بیرون ملک تعینات امریکی فوجیوں سے ملاقات نہیں کی تھی اور گذشتہ مہینے انھوں نے فرانس میں بھی ـ بارش کے بہانے ـ پہلی جنگ عظیم کے ہالکین کے قبرستان میں حاضر ہونے سے انکار کیا تھا جس کی وجہ سے انہیں شدید نکتہ چینیوں کا سامنا تھا۔

واضح رہے کہ ٹرمپ کے پیشرو صدور جارج ڈبلیو بش اور بارک اوباما کو بھی خفیہ طور پر عراق کا دورہ کرنا پڑا تھا۔

تین گھنٹے کے اس دورے میں ٹرمپ نے امریکی فوجیوں سے ملاقات کی اور واپسی پر جرمنی پہنچے جہاں رامستین ہوائی اڈے میں وہ امریکی فوجیوں سے ملے۔

شام سے امریکی فوج کا انخلاء، افغانستان سے ۷۰۰۰ فوجیوں کا انخلاء اور وزیر دفاع جیمز میٹس کی برخاستگی وہ امور تھے جن کے سلسلے میں ٹرمپ مختلف فریقوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔

عراق کے اس خفیہ دورے کے اسباب کیا تھے؟

شام سے انخلاء کے اعلان کے بعد بہت ساری تنقیدوں کا کوئی معقول جواب دینے کے لئے ٹرمپ کو عجلت میں عراق کے خفیہ دورے پر جانا پڑا تاکہ اندرون ملک دباؤ کا ازالہ کرسکیں اور سب کو یقین دلا سکیں کہ “امریکہ نے اپنے یہودی ـ صہیونی رفقائے کار کو تنہا نہیں چھوڑا ہے”۔

مارچ ۲۰۰۳ع‍ میں امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تو جنگ کے آٹھ مہینے بعد وقت کے صدر جارک واکر بش نے عراق کا دورہ کیا، بارک اوباما نے ۲۰۰۹ع‍ میں اپنی صدارت کے پہلے سال ہی عراق کا دورہ کیا لیکن ٹرمپ کو شدید قسم کے دباؤ کا سامنا تھا کہ ابھی تک دور افتادہ علاقوں میں تعینات امریکی فوجیوں سے ملنے کیوں نہیں گئے؟ لیکن صرف یہی بات نہیں تھی جس نے ٹرمپ کو عراق جانے پر مجبور کیا۔

ہوا یوں کہ امریکی صدر کا طیارہ، عراقی حکومت کی اطلاع کے بغیر بدھ اور جمعرات کی درمیان شب کو بغداد کے مغرب میں صوبہ الانبار کے “عین الاسد ہوائی اڈے” پر اترا۔ اس سفر پر مختلف ملا جلا رد عمل سامنے آیا۔

ٹرمپ نے شام سے اپنے فوجی دستوں کے انخلاء کا اعلان کیا تو انہیں امریکہ کے اندر ریپبلکنز، ڈیموکریٹس اور صہیونیوں کے شدید دباؤ کا سامنا تھا۔ سب کہہ رہے تھے کہ امریکی صدر نے اپنے حلیف (یہودی ریاست) کو تنہا چھوڑ دیا ہے اور عملی طور پر شام کو ایران کے سپرد کردیا ہے۔

مبصرین کے مطابق، ٹرمپ نے ان الزامات سے بچنے کے لئے اس عجلت آمیز دورے کا اہتمام کیا تا کہ اندرونی دباؤ کو زائل کردیں اور واضح کریں کہ انھوں نے اپنے صہیونی رفقائے کار کو تنہا نہیں چھوڑا ہے۔

عین الاسد ہوائی اڈے میں موجود امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: “ہم عراق سے ۵۲۰۰ امریکی فوجیوں کے انخلاء کا ارادہ نہیں رکھتے لیکن شام سے انخلاء کا عمل بلا تاخیر مکمل ہوگا۔۔۔ ہم عراق سے شام پر حملے بھی کرسکتے ہیں”۔ عراق سے شام پر حملوں کے سلسلے میں ٹرمپ کے موقف کا مقصد امریکہ میں موجود یہودی لابیوں کو یہ یقین دلانا تھا کہ امریکہ یہودی ریاست کو تنہا چھوڑنے کا [بھی] ارادہ نہیں رکھتا۔

ٹرمپ نے دوسری طرف سے عراقی قوم اور حکومت کی توہین کا ارتکاب کیا اور البتہ یہ بھی اعتراف کیا کہ امریکہ مزید دنیا کے پولیس مین کے کردار کو جاری نہیں رکھ سکتا۔

بےشک امریکی صدر کا یہ موقف ایک عبوری دور کی نشاندہی کررہا ہے اور یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ امریکہ اپنی بالادستی قائم رکھنے میں بے بسی کا شکار ہوچکا ہے؛ امریکی ہرگز اس صورت حال کو پسند نہیں کرتے مگر ان کے سوا اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے اور ٹرمپ نے امریکی بالادستی کا بخوبی ادراک کرلیا ہے لیکن انہیں اپنے ناقدین کو بھی راضی رکھنا پڑ رہا ہے۔

ٹرمپ کے مستکبرانہ رویے پر عراقی حکمرانوں کا رد عمل

اس دورے میں ٹرمپ پیشگی اطلاع کے بغیر عراق میں داخل ہوئے، اور نہ صرف عراقی صدر اور عراقی حکام سے ملنے بغداد نہیں گئے بلکہ ان سے کہا کہ “اگر مجھ سے ملنا ہے امریکی اڈے میں آ جائیں”۔ لیکن عراقیوں نے ملنے سے انکار کیا چنانچہ وہ عراقی حکام سے ملے بغیر ـ صرف تین گھنٹے گذار کر ـ عراق سے چلے گئے۔

امریکی صدر کے اس طرز عمل نے عراقی حکام اور سیاسی راہنماؤں کو ناراض کردیا اور عراق میں امریکہ مخالف جذبات ایک بار پھر بھڑک اٹھے، جس کی وجہ سے عراقی حکام اور ذمہ دار سیاستدانوں نے امریکہ کے خلاف دو ٹوک موقف اپنایا۔

سب سے پہلا موقف مقتدا صدر گروپ کے غائب العمیری کی طرف سے سامنے آیا جنہوں نے ٹرمپ کے اس دورے کی شدید مذمت کی اور عراق میں امریکی کردار کو تخریبی قرار دیا۔ مقتدا صدر کے سیاسی اتحاد “السائرون” نے پارلیمان سے مطالبہ کیا کہ جلد از جلد ایک قانون منظور کرکے امریکیوں کو عراق سے نکال باہر کرے۔

حرکۃ النجباء کے ترجمان سید ہاشم الموسوی نے بھی اعلان کیا: امریکہ کے احمق اور نادان صدر کو جان لینا چاہئے کہ عراق کی حاکمیت شہداء کے خون سے حاصل ہوئی ہے۔ عراقی حکومت کو فوری طور پر امریکیوں کو عراق سے نکال باہر کرنا چاہئے کیونکہ ان کی عراق میں موجودگی اس ملک کی خودمختاری اور سالمیت کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے۔ ٹرمپ عین الاسد ہوائی اڈے میں بیٹھ کر عراقی سالمیت اور خودمختاری کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں لیکن ہم کسی قیمت پر انہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے۔ عراقی حاکمیت کی اس امریکی توہین کا جواب ضرور دیا جائے گا۔

عراقی پارلیمان کے اول نائب سربراہ حسن الکعبی نے جمعرات ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ع‍ کو اعلان کیا کہ عراقی پارلیمان ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے عراق کی خودمختاری اور سالمیت کی خلاف ورزی کا جائزہ لینے کے لئے ہنگامی اجلاس بلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ادھر عراقی حزب اللہ بریگیڈز کے ترجمان نے کہا ہے کہ اسلامی مزاحمت امریکہ کو مجبور کرے گی کہ وہ اپنے فوجی دستوں کو عراق سے واپس بلا لے۔

انھوں نے کہا: عراقی مزاحمت کے کمانڈروں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ عراقی سرزمین سے شام سمیت پڑوسی ممالک کی طرف بڑھنے والے امریکی ہاتھوں کو کاٹ پھینک دیں گے۔۔۔ عراق سے امریکیوں کے نکال باہر کرنے کے فیصلے کا اختیار عراقی قوم اور پارلیمان کے ارادے سے وابستہ ہے۔

الاصلاح و البناء نامی نے صدر ٹرمپ کے خفیہ دورہ عراق پر سخت موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر نے عین الاسد ہوائی اڈے میں داخل ہوکر عراقی حاکمیت کو پامال کردیا ہے۔

الاصلاح و البناء اتحاد کے پارلیمان گروپ کے سربراہ صباح الساعدی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر عراق کے ساتھ جو طرز سلوک روا رکھے ہوئے ہیں اس سے لگتا ہے کہ گویا عراق امریکی ریاستوں میں سے ایک ریاست ہے جہاں کسی خودمختار حکومت کا نام و نشان تک نہیں ہے!

بشکریہ ابنا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍ت؍۱۰۰۰۳