مکالمہ/یمن میں سعودی عرب کی القاعدہ اور داعش سے ۲ ملین ڈالر کی ڈیل




یمن کے عوامی دستوں، کمیٹیوں اور مسلح افواج کے ترجمان نے یمن کے پانی سے نزدیک ہونے کے سلسلہ سے بیرونی طاقتوں کو وارننگ دیتے ہوئے سعودی عرب اور امارات کے داعش و القاعدہ کے ساتھ ایک جدید سمجھوتے کی اطلاع دی ہے ۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: فارس نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق یمن کے عوامی دستوں کمیٹیوں  اور مسلح افواج کے ترجمان ”یحیی سریع” نے  ایک لبنانی روزنامے “الاخبار” کو دئے جانے والے ایک انٹرویو میں سوئڈن میں ہونے والے جنگ بندی کے سمجھوتے { Sweden agreement}  کے بعد یمن کے حالیہ واقعات سے باخبر کرتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب  وامارات نے القاعدہ اور داعش سے دو ملین ڈالر کی ڈیل کی ہے ۔
انٹریو کے کچھ اہم نکات یہ ہیں :
الاخبار : آپ یمن میں جنگ بندی کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
سریع:  ابھی تک تو  متحدہ محاذ کی فورسز نے بارہا  جنگ بندی کے معاہدہ کو توڑا ہے ، لیکن اقوام متحدہ کی کمیٹی کے پہنچنے کے بعد سے جنگ بندی  کی خلاف ورزی کا زور ذرا کم ہوا ہے، جہاں تک ہماری بات ہے تو ہم حسب سابق مکمل طور پر جنگ بندی کے معاہدے پر پابند ہیں اور اس کے لحاظ کی تاکید کرتے ہیں ، اسی طرح ہماری خواہش یہ بھی ہے کہ ہم جنگ بندی کے سلسلہ سے مکمل سمجھوتے کو حاصل کر لیں ،اب ہماری یہ خواہش اسی صورت میں ناکام ہو سکتی ہے جب ہمارا مد مقابل اس بات میں ہمارا ساتھ نہ دے ۔
الاخبار:  مشترکہ فورسز کے یمن میں مورچہ سنبھالنے کے پیش نظر مشترکہ افواج کے درمیان تال میل قائم رکھنے والی کمیٹی کے محولہ وظائف کیا ہیں ؟
سریع : سوئڈن میں ہونے والے سمجھوتے کے بارے میں اس کمیٹی کی کچھ ذمہ داریاں ہیں ،یہ ایسا سمجھوتہ ہے جس کے بموجب مشترکہ افواج کی  جانب سے پوزیشن سنبھالنے کو لیکر ایک  معین  منصوبہ  ایک جامع حل کے طور پر پیش کیا گیا  جو  انسانی راستوں ، تجارتی راہوں، اور الحدیدہ کے دیگر صوبوں سے جڑنے والے راستوں  کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے ۔
الاخبار : مشترکہ فورسز کے یہاں آنے کے بعد وہ کونسی فورس ہوگی جو شہر کے تحفظ و اسکی سکورٹی وسالمیت کی ذمہ داری کو اپنے کاندھوں پر لے گی ؟
سریع : اس سلسلہ سے جو سمجھوتہ ہوا ہے وہ بالکل واضح ہے  الحدیدہ صوبے کے مقامی  فورسز سے متعلقہ افراد الحدیدہ کے شہر کے انتظام کو اپنے ہاتھ میں لیں گے اور صوبے کی  سکیورٹی فورسز اپنے کام کو جاری رکھیں گی ۔
الاخبار: اگر الحدیدہ کا سمجھوتہ کامیاب ہو جاتا ہے تو کیا یہ ایک بڑی صلح کا پہلا قدم نہیں شمار ہوگا ؟
سریع: ہم یہ سمجھتے ہیں کہ الحدیدہ کا سمجھوتہ  دیگر سمجھوتوں کے ساتھ تمام  ہی محاذوں پر ایک مکمل جنگ بندی کے سمجھوتے پر منتہی ہوگا ، ہمارے اوپر جنگ تھوپ دی گئی، ہمیں اپنے ملک کا دفاع کرنا تھا،  سو ہم کر رہے ہیں اور یہ وہ راستہ ہے جس پر ہم ان حملوں کے رکنے تک چلتے رہیں گے.
الاخبار: دیگر محاذوں  خصوصا مآرب کی صورت حال کا تجزیہ آپ کس طرح کریں گے ؟
سریع : سوئڈن  سمجھوتہ دیگر محاذوں کو شامل نہیں ہے ، ہم اس مسئلہ کو لیکر پر امید تھے لیکن در انداز چار سال سے اب تک مسلسل آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ جب بھی جنگ بندی کی بات ہوتی ہے سرے سے جنگ بندی کو ہی مسترد کر دیتے ہیں، البتہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ انجام کار یہ جنگ بندی کو قبول کرنے پر تیار ہو جائیں گے، ہماری فورسز بہترین دفاعی پوزیشن میں ہیں اور کبھی کبھی منصوبہ بند حملوں پر مشتمل آپریشن بھی انجام دیتی ہیں،  صراوح محاذ پر پچھلے ۴۸ گھنٹوں میں ہم نے بڑی فوجی کامیابی حاصل کی ہے اور ۹۰ فی صد  صراوح شہر کو دشمنوں سے خالی کرا لیا  اس وقت ہماری فورسز شہر مآرب کے نزدیک ہیں اور انہوں نے شہر سے متصل ان  اونچائیوں پر اپنی پوزیشن کو مستحکم کیا ہوا ہے جہاں سے شہر کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکتی ہے ۔
الاخبار: کیا بیلسٹک میزائل کا داغا جانا اب رک گیا ہے؟ اور کیا اب ڈرون حملے نہیں ہو رہے ہیں، کیا طرف مقابل کے حملوں کے رکنے کی بنا پر یہ سب رکا ہے، مد مقابل کی ان چیزوں پر پابندی کس قدر ہے ؟
سریع: ہم حملوں کے پہلے ہی دن سے بہت  منظور کی گئی تجاویز کے پابند رہے ہیں لیکن ہم اپنے آپ کو گستاخ دشمن کے مقابل دیکھ رہے ہیں، جسکی بنا پر ہمارے ساتھ بہت سارے چیلنجز ہیں بہت سی باتیں ہیں جو ہم پر تھوپی جا رہی ہیں، لیکن خدا کے فضل سے ہم نے ان پر غلبہ حاصل کر لیا ہے ہم نے بیلسٹیک میزائلوں کی توسیع اور ڈرون کے بارے میں بڑے نمایاں قدم اٹھائے ہیں اسی بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ آج ہماری فوجی حالت یمن پر ہونے والی یلغار کی ابتداء سے بہت ہی بہتر ہے، ہم آج ایسے اسلحوں کے حامل ہیں کہ کہہ سکتے ہیں  وہ خود ہم پر حملوں کے لئے رکاوٹ ہیں و مانع ہیں ، ایسے اسلحے جنکی بنیاد پر دشمن ہمارے ساتھ سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہے ، یہ سمجھوتہ بھی ایسی حالت میں ہے کہ ایک دور وہ بھی تھا جب اسکو لگتا تھا کہ اسکی آرمی ، مال ، اور اسکا رسوخ اکے اہداف تک پہنچنے کی ضمانت ہے، لہذا واحد وہ آپشن جسکے بارے میں دشمن سوچتا تھا عسکری یلغار سے عبارت تھا، لیکن اب وقت تبدیل ہو گیا ہے آج دشمن عسکری طاقت کو استعمال کرنے کے واحد آپشن پر نہیں بلکہ مجبور ہے دیگر آپشنز پر بھی غور کرے ، ہم سمجھتے ہیں کہ یمن سے دشمن کا نکل جانا ہی جنگ وجدال سے بہت بہتر ہے  ۔
الاخبار : کچھ دن قبل البیضاء صوبے میں ایک مرکز کو آزاد کرانے کی خبر آپ نے  دی ، اس مشن کی کتنی اہمیت ہے ؟
سریع : ہماری فورسز  تکفیری عناصر کے خطرناک ترین بیس Baseکو آزاد کرانے میں کامیاب ہو گئی ، یہ ایسی بیس تھی جو بہت سے دھماکوں کا سرچشمہ تھی ایسی بیس جس کے لئے امارات و سعودی عرب نے  مل کر زبردست مالی مدد کی تھی ، اور سیکڑوں تکفیری عناصرکو یہاں ٹرینگ دی تھی ، یہاں ٹرینگ لے کر تکفیری عناصر  انہیں میں بھرتی ہو جاتے ، اس مرکز میں انواع و اقسام کے اسلحے موجود تھے ، ہماری اطلاعات کے مطابق انکے بچے کچھے عناصر مآرب، البیضاء، شبوہ، حضرموت، عدن ، تعز، میں  موجود ہیں  اور دشمن نے  اپنی فریبی و نیرنگی چالوں کے لئے ان پر اعتماد کیا ہوا ہے کہ کل وہ اسکے فریبی ہتھکنڈوں کو انجام دیں گے ۔
سعودی عرب کا داعش اور القاعدہ سے یمن میں سمجھوتہ :
الاخبار:  صعدہ کی جنگ کے لئے متحدہ محاذ کی جانب سے شام کے دہشت گرد عناصر کو یمن میں لانے کے پیچھے کی حقیقت کیا ہے ؟
سریع: ہمارے پاس ایسی اطلاعات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ در انداز محاذ کی فورسز نے تکفیری عناصر سے مدد لی ہے اور انکے عدن اور جنوبی صوبوں میں پہنچنے کے مراحل کو  سہولت بخشتی ہے ، البتہ اس سے قبل بھی شام میں موجود تکفیری عناصر کو یمن کی جنگ کا ایندھن بننے کے لئے بلایا جا چکا ہے ، ابھی  چند دنوں ہی کی بات ہے کہ حضرموت میں  سئیون ائر پورٹ پر ایک ہوائی جہاز اترتا ہے  جس پر دسیوں تکفیری عناصر سوار تھے ، ہماری اطلاعات کے مطابق یہ سب کے سب سعودی عرب کی سرحد کی طرف لے جائے جائیں گے اور اس کے بعد انکی کچھ تعداد کو مختلف محاذوں من جملہ   صعدہ میں کتاف کی طرف بھیجا جائے گا ، یہ سب اس ڈیل  کا حصہ ہے جو سعودی عرب نے داعش و القاعدہ سے کی ہے،  داعش و القاعدہ سے سعودی عرب کی  ۲ ملین ڈالر کی اس طرح سے ایک بڑی ڈیل ہوئی ہے کہ  سعودی عرب کی طرف سے کتاف محاذ پر جنگ کو اپنے کاندھوں ڈھونے کے لئے  ۲ ملین ڈالر انہیں ادا کئے جائیں گے جس میں سے  ایک چوتھائی کی ادائگی ہو چکی ہے ۔
الاخبار: سوئڈن میں ہونے والے مذاکرات کے سایہ میں  آپ کو ابھی تک جو نتائج حاصل ہوئے ہیں انکو دیکھتے ہوئے  کیا  یمن کے خلاف سرگرم عمل محاذ کے حملوں کے رک جانے کو لیکر آپ خوش گمان ہیں ؟
سریع:  ہم  اپنی کامیابی پر یقین رکھتے ہیں ، چاہے وہ سیاسی میدان میں ہو یا عسکری میدان میں ، البتہ ہمارے سامنے ہماری قوم کو جہاں ہونا چاہیے وہاں تک پہنچنے کے لئے مختلف مراحل ہیں، لیکن ہم فداکاری، ایثار، صبر و استقامت اور جہاد پر یقین رکھتے ہیں، ہمار ا ماننا ہے کہ  صلح کے متحقق ہونے میں، تجاویز  کو پیش کرنے اور جنگ بندی کی دیگر سہولتوں اور اس سلسلہ سے سیاسی، سیکورٹی اور فوجی میدانوں میں  ایک جامع معاہدہ تک پہنچنے کے لئے حسن نیت کو ثابت کرنے کی ضرورت ہے ۔
الاخبار : حال ہی میں سعودی عرب نے ایک معاہدے کی بات کی ہے جسکے ذریعہ دریای سرخ میں  خلیج عدن کی  ایک نئی رجیم جسے ایک نئی حاکمیت  کے وجود میں آنے  } Establishment of the regime } کے طور پر  دیکھا جا رہا ہے کیا یہ یمن کے لئے خطرے کی گھنٹی نہیں ہے ۔
سریع: یہ ایک امریکن منصوبہ ہے ، اور اس طرح کے بیشتر منصوبے امریکی ہی ہیں ، ہماری معاصر تاریخ انکے  ہونے کی تائید کرتی ہے ، آج کی جنگ کو ہم چند دہائیوں قبل کی جنگ سے علیحدہ کرکے نہیں دیکھ سکتے ، اسی لئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ معاہدہ و منصوبہ مشکوک ہے ،اور اپنے بطن میں ایک نئی چال کو لئے ہوئے ہے جسکا مقصد یمن کو ٹارگٹ کرنا ہے اور علاقے  کے پانی پر یمن کے حق حاکمیت کو للکارنا ہے ۔
لیکن  ہم کسی بھی ایسے خطرے کے سامنے ہاتھ باندھے نہیں بیٹھے رہیں گے جو یمن کے علاقے کےپانی کو لیکر پیدا ہو ہم کسی بھی بحری خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں ، دشمن نے اس سے پہلے کوشش کی کہ دریائے سرخ کو میدان جنگ میں تبدیل کر دے ، لیکن شدید مار پڑی اور بہت نقصان اٹھانا پڑا  ایسا نقصان جسکی اسے توقع بھی نہیں تھی اور یہ سب خدا کے فضل و کرم سے ممکن ہوا ، ہماری سمندر ی طاقت بہت زبردست ہے ، دشمن اگربحری تجاوز کرے گا اور علاقے کے پانی سے درندازی کی کوشش کرگے گا اور ہم ایسے جال میں اسے پھنسائیں گے جس کے بارے میں اس نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا ۔
ترجمہ : سید نجیب الحسن زیدی
مکمل فارسی رپورٹ:  http://fna.ir/bqr1vh

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/م/۱۰۰۰۲