امریکہ شام سے کیوں نکلا اور اس کے بعد کیا ہوگا؟




بروکنگز اور کارنیگی نے ایران کو کامیاب کھلاڑی اور کردوں کو شام سے امریکی پسپائی کا اصل ہارا ہوا فریق قرار دیا لیکن کیتو کے تجزیہ نگار نے ٹرمپ کے اقدام کو درست قرار دیا۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: شام میں تکفیری ٹولوں کے کمزور ہوجانے کے بعد، سیاسی نظام کا استحکام معرض وجود میں آیا جس کے بعد اس ملک میں بین الاقوامی کرداروں کے درمیان تعامل کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ شام سے امریکی دستوں کے انخلاء اور افغانستان میں امریکی افواج میں کمی کے سلسلے میں صدر ٹرمپ کی ہدایات دوسرے کھلاڑیوں کو کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرسکتی ہیں؛ یا یہ کہ ایک وسیع تر منصوبے کے ضمن میں واشنگٹن کے مفادات کے تحفظ کے لئے ماحول فراہم کرسکتی ہیں۔
جناب سرمایہ دار [مسٹر ٹرمپ] کے اس فیصلے کو وسیع پیمانے پر مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور کرسمس کی چھٹیوں کے باوجود یہ خبر مغربی تجزیہ نگاروں اور مغربی ایشیا کی حکومتوں کی توجہ کا مرکز ٹہری۔ ٹرمپ کے بیان کردہ دلائل بھی نیز اس فیصلے کے پس پردہ محرکات بھی اور امریکی مفادات نیز علاقے کی اقوام کے مفادات کے سلسلے میں اس کے قلیل المدت اثرات بھی ـ ان اصلی اور بنیادی موضوعات میں شامل ہیں جن پر مبصرین کی توجہ مرکوز رہی ہے۔
*بروکنگز: کردوں اور ترکوں کا تقابل؛ داعش کے مقابلے میں ایرانی اور شامی اتحاد کی تقویت
‌۲۰۰۰ امریکی فوجیوں کا انخلاء امکانی طور پر تین مسائل کا باعث بن سکتا ہے:
۱۔ داعش کا ایک بار پھر طاقت پکڑنا؛ ۲۔ دمشق اور تہران امریکیوں کے انخلاء سے پیدا ہونے والے خلا سے فائدہ اٹھائیں گے؛ اور ۳۔ کرد شام کے شمالی علاقوں میں باقی رہیں گے۔ یہ رنج علاء الدین (Ranj Alaaldin) کے الفاظ ہیں جو انھوں نے بروکنگز انسٹٹیوشن (Brookings Institution) کی ویب گاہ پر شائع کی ہیں کیونکہ ان کے خیال میں شام میں امریکیوں کی “موجودگی” کا مطلب ۲۰۰۰ فوجیوں کی موجودگی سے کہیں بڑا تھا۔
رنج علاء الدین کا خیال ہے کہ سنہ ۲۰۱۱ع‍ میں داعش کی تشکیل امریکیوں کی خاموش تماشاگری، عراق میں قومی اختلافات اور شام میں سیاسی احتجاجات کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔
اس تجزیئے میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ایران شام میں امریکیوں کی عدم موجودگی سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور مثال دی گئی ہے کہ جب اوباما نے ۲۰۱۱ع‍ میں عراق سے امریکی افواج کے انخلاء کا اعلان کیا تو ایران نے اس خلا کو پر کیا؛ نیز کہا گيا ہے کہ ایران اور بشارالاسد کی فوجوں کو تقویت ملے تو ان دونوں کے مستقبل کے کردار میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ تاہم ایک سنجیدہ رقیب کی طرف بھی اشارہ ہوا ہے جس کا نام ہے “داعش”۔
علاء الدین کا کہنا تھا کہ داعش بدستور شام میں موجود ہے اور ریاستی اداروں کی مکمل تعیناتی سے پیدا ہونے والی صورت حال سے اپنی روشوں کے مطابق فائدہ اٹھاتی ہے: دہشت گردانہ کاروائیاں کرتی ہے، شہریوں کو اغوا کرتی ہے اور جہاں ہوسکے عوام سے بھتہ لیتی ہے۔ اور ادھر ٹرمپ کو توقع ہے کہ روس داعش کے خلاف کوئی خاص اقدام نہیں کرے گا۔ [واضح رہے کہ عراقی راہنماؤں نے کہا ہے کہ امریکہ ایک بار داعش کو عراق لانا چاہتا ہے]۔
علاء الدین، جو بروکنگز کے تجزیہ نگار اور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اس ادارے کے رفیق کار ہیں، ٹرمپ کے فیصلے کے طویل المدت اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ صدر امریکہ کے اس فیصلے کا نتیجہ علاقے میں طاقت کا توازن ایران کے مفاد میں بگڑنے کی صورت میں برآمد ہوگا اور ایران کا پلڑا بھاری ہوجائے گا کیونکہ امریکی پابندیوں کے باوجود، ایران شام کی معیشت، سیاست اور سلامتی پر اثر انداز ہوکر اپنا تجارتی راستہ بحیرہ روم تک ہموار کرسکتا ہے۔
*کیا شام میں کردوں کا واحد حامی امریکہ تھا؟
رنج علاء الدین بایں حال، کرد جماعتوں اور کرد ڈیموکریٹک فورسز کے تنہا چھوڑ جانے سے تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کرد جماعتیں [سوائے PKK کے] معمول کے مطابق امریکی حمایت یافتہ تھے اور یوں کردوں کے مستقبل کو نظر میں رکھے بغیر امریکی فورسز کی پسپائی ایک قسم کی خیانت ہے؛ خواہ واشنگٹن عوامی دفاعی یونٹوں (YPG) اور “پی کے کے” کے درمیان تعاون سے ناراض ہی کیوں نہ ہو؛ کیونکہ انقرہ اور واشنگٹن خود بھی اس باہمی تعاون کو تقویت پہنچانے میں قصوروار ہیں۔ انہیں ایک قابل اعتماد اور پائیدا راستہ وائی پی جے کے سامنے رکھنا چاہئے تھا جو انھوں نے نہیں رکھا۔
علاء الدین ـ جو مشرق وسطی کے تنازعات کے ماہر سمجھے جاتے ہیں ـ امریکہ کو تجویز دیتے ہیں کہ وہ کسی حد تک بیرون ملکی گروپوں کے ساتھ اتحاد اور ان کی حمایت کی روشیں اپنے علاقائی رقیبیوں سے سیکھے۔ وہ لکھتے ہیں: حالیہ برسوں میں امریکہ کسی بھی گروپ یا جماعت کے ساتھ مستحکم رابطہ اور کام سے متعلق مضبوط رشتہ قائم نہیں کرسکا ہے۔ اب وہ کردوں کو بشار الاسد کے ساتھ مفاہمت کی تلقین کررہا ہے، اس سے قبل کہ انقرہ مشترکہ سرحدوں پر کنٹرول کے سلسلے میں اپنی خواہشات دمشق سے منوا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ کرد بھی اور ترکی بھی بہت جلد اسد حکومت کے ساتھ مذاکرات کی طرف لپکیں گے جبکہ ان دونوں کے مطالبات ایک دوسرے سے متضاد ہونگے۔
علاء الدین آخر میں پیشگویی کرتے ہیں کہ امریکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد شام میں امریکی اثر و رسوخ کم ہوجائے گا، اور اپنے اہداف و مقاصد کے لئے اسد حکومت کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اپنائے گا۔ چنانچہ ایران کے ساتھ ساتھ بشارالاسد بھی امریکی انخلاء کے موضوع میں کامیاب کھلاڑی کے طور پر ابھریں گے۔
*کارنیگی: ایران اور اسرائیل کی رقابت میں شدت آئے گی
کارنیگی موقوفہ برائے بین الاقوامی امن (Carnegie Endowment for International Peace) یا کارنیگی انسٹٹیوٹ کے تجزیہ نگار جوزف باہوت (Joseph Bahout) “ٹرمپ کی شام سے پسپائی، اب کیا ہوگا؟” کے زیر عنوان مضمون میں لکھتے ہیں: امریکی صدر ایسے کسی بھی میدان میں نہیں اترتے جہاں ان کا اچھا خاصا اثر و رسوخ نہ ہو، خواہ ان کے حواری ان کے فیصلے کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس (James N. Mattis) ٹرمپ کے اس فیصلے کے خلاف تھے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ امریکی فوجیوں کے انخلاء سے پیدا ہونے والے طاقت کے خلا سے فائدہ اٹھا کر داعش ایک بار پھر منظم ہوسکتی ہے۔ قطعی طور پر امریکی  مشیر برائے قومی سلامتی جان بولٹن (John R. Bolton) بھی صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کے شدید مخالف ہیں کیونکہ وہ شام میں امریکی فوجیوں کو موجودگی کو ایران کے مقابلے میں تسدیدی حربہ سمجھتے ہیں۔
گذشتہ اگست کے مہینے میں امریکی سلامتی کے اداروں نے اندازہ لگایا تھا داعش کی ۷۰ ہزار نفری عراق میں اور ۴۵ ہزار، شام میں ہے۔ اب باہوت ان اعداد و شمار کی بنیاد پر دعوی کررہے ہیں کہ شام سے ٹرمپ کی پسپائی کے اثرات وہی ہونگے جو ۲۰۱۱ع‍ میں عراق سے بارک اوباما کی پسپائی سے مرتب ہوئے تھے؛ اور یہ وہی واقعہ تھا جس کی طرف مسٹر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں بارہا اشارہ کیا ہے اور اس کو ایک خطا قرار دیا۔
ایک مسئلہ یہ تھا کہ امریکہ نے حالیہ ایک دو برسوں کے دوران امریکہ کے مقابلے میں کردوں کی حمایت کی۔ اب شامی ڈیموکریٹک فورسز (Syrian Democratic Forces [SDF, HSD or QSD]) ـ جو کردوں سے تشکیل پائی ہے ـ ترکی کے حملوں کا نشانہ بنیں گی اور باہوت کے دعوے کے مطابق، یہ صورت حال دوبارہ داعش کے طاقتور ہونے کے لئے راہ ہموار کرے گی۔ ایسی صورت حال میں ـ جب امریکہ سرزمین شام سے غائب ہوگا ـ  روس ایک غیرجانبدار ثالث کے طور پر بیچ میں آئے گا جس کا سیدھا مطلب یہ ہوگا کہ روس اس ملک میں مزید طاقتور ہوجائے گا اور اسد حکومت، جو کہ روس کی حلیف ہے، کی مدت کی تجدید ہوگی اور بشار الاسد برسر اقتدار رہیں گے۔
باہوت بالآخر اس نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ امریکی انخلاء کے بعد ایران اور یہودی ریاست کے درمیان تقابل میں شدت آئے گی، کیونکہ ان کے دعوے کے مطابق، امریکہ اس تقابل میں تسدیدی اور ممانعتی (Inhibitory) کردار ادا کررہا تھا!
باہوت لکھتے ہیں کہ ٹرمپ نے شام سے پسپائی کے فیصلے سے کئی دن قبل یہودی ریاست کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا تھا اور نیتن یاہو نے کہا تھا کہ “ہم خطے میں اپنی سلامتی اور مفادات کا دفاع کریں گے”۔ چنانچہ انھوں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ شام پر حالیہ اسرائیلی حملوں کا مقصد یہی ہوسکتا ہے۔
* شام سے امریکی پسپائی، مشرق وسطی میں پوسٹ امریکن دور کی تمہید:
کارنیگی انسٹٹیوٹ کے ایک دوسرے ماہر، “دیوان” (Diwan) بلاگ کے چیف ایڈیٹر اور کارنیگی انسٹٹیوٹ کے مشرق وسطی مرکز کے سربراہ مائیکل ینگ (Michael young) نے اپنی ایک یادداشت میں شام سے امریکی فوجوں کے انخلاء کو بعد مشرق وسطی میں ایک نئے اور ما بعد امریکی دور [مابعد امریکی یا Post American Era] کی تمہید قرار دیا ہے۔
ینگ نے لکھا: ایران برسوں سے علاقے میں امریکی کردار کو منہدم کررہا ہے لیکن جتنا اس کردار کو ٹرمپ نے تباہ کیا کوئی بھی نہ کرسکا تھا کیونکہ وہ مشرق وسطی کو دنیا کا ایک “گندا ٹکڑہ” سمجھتے ہیں؛ دلچسپ امر یہ ہے کہ ظاہری تضادات کے برعکس، اس سلسلے میں اوباما اور ٹرمپ کردار تقریبا ہم آہنگ رہا ہے۔ اوباما بھی اس مسئلے سے دوری کرتے تھے کہ مشرق وسطی کی حکومتیں امریکہ پر انحصار کریں اور ڈونلڈ بھی ثابت کرکے دکھا رہے ہیں کہ ایران کے مقابلے میں ایک خاص حد سے آگے بڑھنے کا شوقین نہیں ہیں؛ خاص طور پر انھوں نے اپنا یہ رویہ شام سے انخلاء کا اعلان کرکے مزید واضح کردیا۔
مائیکل ینگ کا خیال ہے کہ نئے نظام میں ایران [اپنے حلیفوں کے ساتھ] ایک محاذ میں کھڑا ہے اور یہودی ریاست [اپنے سعودی اور خلیجی حلیفوں کے ساتھ] دوسرے محاذ میں کھڑی ہے اور روس بھی مشرق وسطی میں تُرپ کے پتّے جمع کررہا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ “علاقے کے تمام تر کھلاڑی محسوس کر رہے ہیں کہ امریکہ ان کے اقتدار کے تحفظ کے لئے قابل اعتماد نہیں ہے”۔
*کیٹو تھنک ٹینک: امریکہ ایک نئی دلدل سے چھوٹ گیا
امریکی تھنک ٹینک کیٹو (Cato Institute) ان اداروں میں شامل ہے جنہوں نے ۲۰۱۸ع‍ کے آغاز سے لے کر آج تک کئی مرتبہ ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ شام سے انخلاء کے وعدے پر عمل کریں۔ کیٹو کے تجزیہ نگار جان گلیزر (John Glaser) نے ٹرمپ کے حالیہ اعلان کی حمایت کرتے ہوئے لکھا: “شام میں امریکی فوجیوں کی مداخلت کانگریس کی اجازت کے بغیر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انجام پائی، اور ان فوجیوں کی موجودگی کے لئے کوئی ہمآہنگ اور مربوط حکمت عملی کا تعین نہیں کیا گیا تھا اور یہ مداخلت بہت سے خطرات کا باعث بن رہی تھی اور عین ممکن تھا کہ امریکہ [عراق کے ساتھ ساتھ] ایک دوسری دلدل میں بھی پھنس جائے”۔
گلیزر نے امریکی فوجوں کی شام میں مداخلت کے ابتدائی ہدف ـ یعنی داعش کی شکست ـ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ داعش کی شکست کے بعد اس کاروائی کے لئے نت نئے مقاصد کا اعلان ہوتا رہا تا کہ امریکی فوجیوں کے مشن کی تجدید ہو: “بشار الاسد کی برطرفی سے لے کر ایران اور روس کے شام سے نکال باہر کرنے تک؛ حالانکہ شام سے امریکی انخلاء کا وقت بہت پہلے گذرچکا ہے”۔
بایں حال، گلیزر، جو مغربی ایشیا کے امور میں امریکی خارجہ پالیسی کے ماہر بھی ہیں، نے موجودہ صورت حال میں ٹرمپ کے اعلان پر تنقید کی اور لکھا: “اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ صدر امریکہ سرکاری مشیروں اور وزیر دفاع سے مشورہ کئے بغیر اور عوام کو قومی سلامتی اور حکومت کی ذمہ داریوں کے حوالے سے کوئی وضاحت دیئے بغیر، اتنے اہم فیصلے کا اعلان ایک ٹوئیٹ پیغام میں کیا جائے”، تاہم وہ اس ٹرمپ کے تند مزاج اور انتہاپسند معاونین و مشیران کو اس تنقید کے قابل سمجھتے ہیں، جن میں قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن، وزیر دفاع وزیر دفاع جیمز میٹس، وزیر خارجہ مائیک پامپیو، (Michael Richard Pompeo) اور حتی کہ شام کے امور میں امریکی ایلچی جیمز جیفری ((James Franklin Jeffrey) شامل ہیں۔ لکھتے ہیں کہ ان افراد نے تجربے سے سمجھ لیا ہے کہ اگر ٹرمپ کے فیصلوں (جیسے شمالی کوریا کے خلاف فوجی اقدام یا صدر بشارالاسد کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر قتل کرنا وغیرہ) پر بےحد اصرار کیا جائے تو ان کا فیصلہ بدل جاتا ہے؛ اگرچہ وہ شام سے نہ نکلنے پر ان حضرات کا اصرار غلط تھا!
گلیزر بھی سمجھتے ہیں کہ شاید امریکہ کے چلے جانے سے پیدا ہونے والے خلا سے ناجائز فائدہ اٹھا کر داعش ایک دفعہ پھر سرگرم ہوجائے۔ یا ترکی کردوں کے خلاف کاروائی کرے، لیکن ساتھ ہی واضح کرتے ہیں کہ “اگر ایسا کچھ ہوجائے تو بھی اسے شام سے امریکی پسپائی کی عدم عقلیت کا ثبوت قرار نہیں دینا چاہئے”۔ کیونکہ “شام میں امریکی موجودگی بہت سے غیر ارادی اور نہایت خطرناک نتائج پر منتج ہوسکتی ہے جبکہ شام سے ہماری پسپائی کے نتائج اس قدر خطرناک نہیں ہیں”۔ بالفاظ دیگر یہ بات منطقی نہیں ہے کہ امریکہ اپنے انخلاء کے نتائج کو اپنی موجودگی کے جواز کے طور پر پیش کرے۔ جس طرح کہ اگر امریکہ قبل ازیں عراق پر جارحیت نہ کرتا تو داعش ہی معرض وجود ميں نہ آتی، جس نے ۲۰۱۱ع‍ میں امریکی انخلاء کے بعد طاقت پائی۔
دریں اثناء گلیزر کا خیال ہے کہ سفارتکاری کے ذریعے کردوں پر ترکی کے حملے کا سد باب کیا جاسکتا ہے نیز داعش سے نمٹنے کی ذمہ داری اس کے دوسرے دشمنوں کے سپرد کیا جاسکتا ہے جو اس وقت شام میں موجود ہیں۔ بدترین صورت حال میں، اگر شام میں امریکی فوجیوں کی موجودگی ناگزیر ہو تو یہ فیصلہ کانگریس سے اجازت لے کر کرنا چاہئے۔ یہ وہ عمل (Process) ہے جس کے دوران فوجی مداخلت کے حامیوں کو “امریکی سلامتی کو درپیش فوری خطرے” کا تعین کرنا پڑے گا، ایک “ہمآہنگ اور جامع مشن” کی خاکہ کشی کی جائے گی جس کے ذریعے “قابل حصول اہداف” کے حصول کا اہتمام کیا جائے گا۔ [جبکہ امریکہ کی موجودہ مداخلت ان تمام تمہیدات اور اہداف سے محروم ہے]۔
*خلاصہ
مذکورہ بالا تبصروں کے خلاصے میں ایک خاص نکتہ مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ جہاں تک داعش کے خلاف جنگ کا تعلق ہے تو لگتا ہے کہ یہ امریکی تجزیہ نگار یا تو شام کی جنگ کے حقائق سے ناآشنا ہیں یا پھر رازداری کا پاس رکھ رہے ہیں۔ حالانکہ امریکہ نے آج تک ثابت کردیا ہے کہ وہ عراق اور شام میں داعش کے خلاف لڑ نہیں رہا تھا بلکہ اس کو تحفظ دے رہا تھا اور حتی کہ مختلف محاذوں پر داعش کی شکست کے بعد اس کے کمانڈروں اور عام نفری کو محفوظ مقامات پر منتقلی کی ذمہ داری نبھا رہا تھا؛ یا انہیں افغانستان اور یمن پہنچا رہا تھا؛ چنانچہ حقیقت پسند مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ کی پسپائی کے بعد داعش کی رہی سہی قوت بھی بہت جلد فنا ہوجائے گی۔ اور جہاں تک شام میں ۲۰۰۰ امریکی فوجیوں کا تعلق ہے تو حقیقت یہ ہے کہ علاقے میں امریکہ اور نیٹو کے ہزاروں فوجی امارات، قطر، بحرین، عراق، افغانستان وغیرہ میں واقع فوجی اڈوں میں تعینات ہیں جبکہ ۲۰۰۰ امریکی فوجیوں کی آمد ایک نامعقول نمائش سے زیادہ کچھ نہیں تھا جن کا مقصد شام میں امن قائم کرنا اور داعش سے لڑنا نہیں تھا بلکہ اسد حکومت کا تختہ الٹنا، علاقے میں فوجی توازن ایران کے خلاف بگاڑنا اور یہودی ریاست کے مفاد میں علاقے میں بدامنی پھیلانا تھا۔ چنانچہ غیرجانبدار مبصرین ٹرمپ کے حالیہ اعلان کو امریکی پالیسی میں بنیادی اور تزویری تبدیلی نہیں سمجھتے بلکہ ان کا خیال ہے کہ تزویری تبدیلی اس وقت عمل میں آئے گی جب امریکہ مغربی ایشیا میں “واقعی مداخلتوں” سے دستبردار ہوجائے اور اپنے فوجی اڈوں کو خالی کرے۔ چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ ٹرمپ کا یہ نمائشی اقدام اور اس پر ہونے والی تنقید در حقیقت ایک انتخابی نمائش یا اگلے صدارتی انتخابی مہم کے تناظر میں ہی قابل تفسیر ہیں۔
اس میں شک نہیں ہے کہ امریکی تھنک ٹینکس اور انسٹٹیوشنز کا دو بڑی جماعتوں میں سے ایک سے تعلق ہے۔ جو ریپبلکن جماعت کے حامی ہیں وہ ٹرمپ کے فیصلے کی حمایت کرکے امریکی ووٹروں کو اپنی جانب مائل کررہے ہیں اور جو ڈیموکریٹ جماعت کے حامیوں میں اضافہ کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مآخذ

What the U.S. withdrawal from Syria means for ISIS, Iran, and Kurdish allies


https://carnegie-mec.org/diwan/78024
https://carnegieendowment.org/2018/12/20/trump-leaves-syria.-what-happens-next-pub-78017
https://www.cato.org/blog/trump-right-withdraw-syria
mshrgh.ir/923144
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/خ/۱۰۰۰۱