ایک حادثاتی وزیر اعظم




یہ فلم سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ کے دور اقتدار کے بارے میں ان کے اپنے میڈیا ایڈوائزر سنجے بارو کی کتاب پر مبنی ہے جو ۲۰۱۴ میں شائع ہوئی تھی۔ جس میں انھوں نے سابق وزیر اعظم کو ایک ایسے سیاسی رہنما کے طور پر پیش کیا ہے جو کانگریس کی اس وقت کی صدر سونیا گاندھی کے اشاروں پر کام کرتے تھے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ہندوستانی کی سنیمائی صنعت ایک دور میں حب الوطنی کے جذبہ، انصاف کی لڑائی، مزدوروں اور دبے کچلے پسماندہ طبقے کی آواز کے طور پر جانی جاتی تھی پھر عریانیت و فحشائیت کا دور شروع ہوا اور اس فلمی صنعت کے انحطاط کا دور شروع ہو گیا، اس انحطاط کے ساتھ ساتھ اب ایک نئے باب کا اضافہ ہو گیا ہے مختلف پارٹیاں اسے اپنے حق میں استعمال کر رہی ہیں اور پوری صنعت خطرناک حد تک سیاست کی نظر ہو گئی ہے ، کوئی ہندوستانی وزیر اعظم نریند مودی کی شخصیت پر فلم بنا رہا ہے تو کوئی سابق وزیر اعظم پر فلم بنا چکا ہے جو جلد ہی ریلیز ہونے والی ہے ، حادثاتی وزیر اعظم نامی{ The Accidental Prime Minister }فلم کے سلسلہ سے آج کل ہندوستان میں سوشل میڈیا پر گفتگو کا بازار گرم ہے یہ وہ فلم ہے جس کے بارے میں لوگوں نے عدالت تک کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے ۔

چنانچہ “انڈیا کی مشرقی ریاست بہار کی ایک ذیلی عدالت نے ملک کے سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ کے دورِ اقتدار پر بننے والی فلم ’دی ایکسی ڈنٹل پرائم منسٹر‘ کے خلاف ایک پٹیشن سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔یہ پٹیشن سدھیر کمار اوجھا نے دائر کی ہے جو خود وکیل ہیں۔ اوجھا کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے یو ٹیوب اور ٹی وی پر اس فلم کا ٹریلر دیکھا تو انھیں بہت تکلیف ہوئی ان کا دعویٰ ہے کہ فلم میں کئی سرکردہ سیاسی شخصیات اور ملک کی ساکھ کو منفی انداز میں پیش کیا گیا ہے، اور یہ ملک کی بدنامی کا سبب ہے اس لیے فلم کی نمائش پر پابندی لگا دی جانی چاہیے۔

یہ فلم سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ کے دور اقتدار کے بارے میں ان کے اپنے میڈیا ایڈوائزر سنجے بارو کی کتاب[۱] پر مبنی ہے جو ۲۰۱۴ میں شائع ہوئی تھی۔ جس میں انھوں نے سابق وزیر اعظم کو ایک ایسے سیاسی رہنما کے طور پر پیش کیا ہے جو کانگریس کی اس وقت کی صدر سونیا گاندھی کے اشاروں پر کام کرتے تھے۔

سنجے بارو کی کتاب سے ماخوذ اس فلم میں یہ دکھایا گیا ہے کہ” کس طرح ۱۰سال تک گاندھی خاندان نے منموہن سنگھ کو اس وقت تک استعمال کیے رکھا جب تک کہ اس خاندان کا ولیعہد حکمرانی کے اسرار و رموز سے واقف ہو کر عنان حکومت سنبھالنے کا اہل نہ ہو جائے۔[۲] “یاد رہے کہ من موہن سنگھ ۲۰۰۴ میں غیر معمولی حالات میں وزیراعظم بنے تھے جب تمام اندازوں کے برخلاف اٹل بہاری واجپائی کی سربراہی میں حکمراں بی جے پی ہار گئی تھی اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے خود وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بجائے من موہن سنگھ کو یہ ذمہ داری سونپ دی تھی۔تب سے من موہن سنگھ کو اس الزام کا سامنا رہا کہ وہ سونیا گاندھی کے اشاروں پر کام کرتے رہے۔ بنیادی طور پر یہ ہی بات سنجے بارو نے اپنی کتاب میں بھی لکھی تھی۔

یوں تو فلم گیارہ جنوری کو ریلیز ہونی ہے اور ہندوستان کے مختلف سیاسی حلقوں سے لیکر فلمی گلیوں تک میں اسکا چرچہ ہے اور بعض مقامات پر اس پر پابندی کا مطالبہ ہو رہا ہے لیکن تعجب خیز ہے کہ کانگریس پارٹی نے اس پر پابندی کی اپیل نہیں کی ہے۔با این ہمہ فلم پر بی جے پی اور کانگریس کے درمیان لفظوں کی جنگ جاری ہے۔ جب سنجے بارو کی کتاب ریلیز ہوئی تھی تب بھی کانگریس اور بی جے پی کے درمیان زبردست ٹکراؤ ہوا تھا۔[۳]اس فلم کی خاص بات برطانیہ کی ایک کمپنی کی جانب سے اسکا تیار ہونا اور وہیں سے اسکے مناظر بندی اور شوٹنگ کا آغاز ہے [۴] ابتدائی مراحل کے بعد فلم کے زیادہ تر مناظر دہلی میں فلمائے گئے ۔

یوں تو بظاہر یہ ایک فلم ہے لیکن اس پر خوب سیاست چل رہی ہے چنانچہ بی جے پی نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ دی ایکسیڈنٹل پرائم منسٹر سے لوگوں کو معلوم ہوگا کہ کیسے ایک سیاسی خاندان نے پورے ملک کو دس سال تک یرغمال بنا کر رکھا بی جے پی اسی لحاظ سے الیکشن سے قبل خوب تشہیر کر رہی ہے[۵] جبکہ جہاں حکم راں جماعت اسے کانگریس کے خلاف استعمال کر رہی ہے وہیں کانگریس کے ترجمان نے اسے اپنے خلاف پروپگینڈےسے تعبیر کیا ہے[۶] اور اس کا کہنا ہے کہ وہ ملک کو درپیش مسائل سے توجہ ہٹانے کی بی جے پی کی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

حالیہ انتخابات میں حکمراں جماعت کی بری طرح شکست کے بعد ، ڈوبتے کو تنکے کے سہارے کے تحت اس فلم کو حکمراں جماعت اس لئے بھی تشہیر کر رہی ہے کہ لوگوں کو باور کرایا جا سکے کہ ایسی پارٹی جو ایک ملک کے وزیر اعظم کو اپنے مہرے کے طور پر استعمال کر سکتی ہے، اگر کسی ایک خاندان میں محدود ہوتے ہوئے وراثتی وزیر اعظم کو پیش کرے گی تو ملک کا کیا ہوگا ؟ اور اسی حوالے سے ہونے والے آئندہ انتخابات میں لوگوں کے ذہنوں کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے اب فلم کا سہارا لیا جا رہا ہے، جبکہ عوام ان چند سالوں میں سب کچھ سمجھ چکے ہیں انہیں نہ تو کانگریس سے ہی کوئی لگاو ہے نہ ہی بی جے پی سے وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ آنے والے کل کے لئے انکا وزیر اعظم سچا ہونا چاہیے ، چاہے وہ حادثاتی ہی کیوں نہ ہو ایسا حادثاتی وزیر اعظم بہرحال منصوبہ بندی کے ساتھ بننے والے وزیر اعظم سے اچھا ہے جو سچا ہو اور جھوٹے وعدوں کے ذریعہ لوگوں کو بے وقوف نہ بنائے ، اب یہ تو وقت ہی بتائے کہ ایک بار پھر کوئی حادثاتی وزیر اعظم عوام کی پسند قرار پائے گا یا پھر کسی منصوبہ بندی کے ساتھ سوچے سمجھے انداز میں کسی ایسے کو وزیر اعظم قرار دیا جائے گا جو چوکیداری کرتے کرتے سو جائے اور عوام ہکا بکا دیکھتے رہ جائیں کہ انکے ساتھ کیا ہوا ۔

تحریر: وویک سندر کمار

حواشی

https://indianexpress.com/article/entertainment/bollywood/anupam-kher-the-accidental-prime-minister-1

twitter-reaction-on-first-look-4694874/

[۲] ۔ https://www.urduvoa.com/a/film-on-manmohan-sindh-may-fuel-war-of-words-in-india-29dec2018/4720878.html

[۳] ۔https://www.bbc.com/urdu/regional-46754387

[۴] ۔https://indianexpress.com/article/entertainment/bollywood/anupam-kher-the-accidental-prime-minister-first-look-5124144/lite/

[۵] ۔https://indianexpress.com/article/trending/trending-in-india/bjp-shares-the-accidental-prime-ministers-anupam-kher-trailer-on-twitter-reactions-5513049/

[۶] ۔ https://www.firstpost.com/politics/the-accidental-prime-minister-trailer-stirs-up-political-storm-congress-demands-private-screening-prior-to-release-5804911.html

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍خ؍۱۰۰۰۲