تیسری عالمی جنگ ٹرمپ کی گمشدہ پہیلی




بالآخر آخرکار کہنا چاہئے کہ وائٹ ہاؤس میں رائج الوقت روش ہے جس کے دائرے میں رہ کر، ٹرمپ اور ان کے انتہاپسند ساتھیوں کی سرکردگی میں ریگن دور کی بالادست امریکی طاقت کے احیاء کی کوشش ہورہی ہے؛ اور “سب سے پہلے امریکہ” کا نظریہ اس روش کی تشکیل کے لئے منشور کا کام دے رہا ہے؛ اس سے دو رویوں تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے: رسمیاتی رویہ (Formalist Approach) اور محتویاتی رویہ (Content approach)۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ٹرمپ کے “سب سے پہلے امریکہ” (The American first) کے اصول سے جنم لینے والی پالیسیوں اور تزویری تدبیری معیاروں کو دیکھا جائے تو ان کی خارجہ پالیسی کے اصول سے لئے جانے والا پہلا تاثر اس نکتے کو واضح کرتا ہے کہ وہ سابقہ امریکی حکومت کی مساہلت اور مسامحت کو برداشت نہیں کر سکے ہیں اور بین الاقوامی نظام کے پہلے درجے کی حکومت کے طور پر، امریکہ کی خارجہ پالیسی کے تزویری معیاروں پر اصولی نظر ثانی پر پر یقین رکھتے ہیں، اسی بنا پر وائٹ ہاؤس میں داخل ہوتے ہی ان کی مجموعی حکمت عملیاں، بالکل نئی اور روایت شکنانہ شکل میں نمودار ہوئیں جس پر انہیں بہت سے مواقع پر عالمی رائے عام کے شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑا۔
حال ہی میں زیادہ تر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور تجزیاتی حلقوں کی توجہ مشرق وسطی کے سلسلے میں ٹرمپ کے مستقبل کی تزویری سمت کے سلسلے میں پیش گوئیوں اور پیش بینیوں پر مرکوز ہوئی ہے اور تقریبا اکثر حلقوں نے ٹرمپ کی تزویری پالیسیوں کی خاکہ کشی نیز مشرق وسطی میں ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایک وسیع سطحی جنگ ـ جس کا مرکز مشرق وسطی کا خطہ ہوگا اور عالمی سطح پر دنیا کے بہت سے ممالک کا دامن بھی پکڑ لے گی ـ غیر متوقع نہیں ہے اور اس کی کچھ نشانیاں بھی بالکل واضح ہوچکی ہیں۔
چنانچہ تمام تجزیاتی حلقوں کے ہاں ایک بالکل شفاف اور واضح سوال اٹھا ہوا ہے کہ “کیا ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطی کی حدود میں ایک جنگ کے درپے ہیں؟”۔
سوالی که بیشتر مجموعه های تحلیلی – خبری بصورت روشن و شفاف با آن مواجه اند در این عبارت مختصر خلاصه می شود که آیا دونالد ترامپ به دنبال جنگی جهانی در بعد خاورمیانه است؟
ٹرمپ کے “سب سے پہلے امریکہ” (The American first) کے اصول سے جنم لینے والی پالیسیوں اور تزویری تدبیری معیاروں کو دیکھا جائے تو ان کی خارجہ پالیسی کے اصول سے لئے جانے والا پہلا تاثر اس نکتے کو واضح کرتا ہے کہ وہ سابقہ امریکی حکومت کی مساہلت اور مسامحت کو برداشت نہیں کر سکے ہیں اور بین الاقوامی نظام کے پہلے درجے کی حکومت کے طور پر، امریکہ کی خارجہ پالیسی کے تزویری معیاروں پر اصولی نظر ثانی پر پر یقین رکھتے ہیں، اسی بنا پر وائٹ ہاؤس میں داخل ہوتے ہی ان کی مجموعی حکمت عملیاں، بالکل نئی اور روایت شکنانہ شکل میں نمودار ہوئیں جس پر انہیں بہت سے مواقع پر عالمی رائے عام کے شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکہ کے سب سے اعلی عہدے پر فائز ہونے کے بعد سے لے کر اب تک کے ڈونالڈ ٹرمپ کے موقفوں کے ایک سادہ سے اقتباس کو دیکھا جائے تو “ان کی تمام فکرمندیوں اور ہنگامہ خیزیوں کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ امریکہ کو عالمی نظم اور ترقی کے لئے اتنے بڑے اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں؟”۔
ٹرمپ کا خیال ہے کہ ـ فرسودہ اور التوائی معیاروں کی بنیاد پر ـ عالمی نظم کی بحالی پر ارتکاز  اور یہ مسئلہ “حقیقی امریکی شہریوں [یعنی سفید فاموں] کی فلاح و بہبود کے انتظام سے غفلت” کا باعث بنا ہے؛ اور اسی بنا پر وہ اپنے آپ کو امریکہ کے اور نظرانداز ہونے والے “حقیقی سفید فام طبقے” کا نمائندہ سمجھتے ہیں اور اسی بنا پر انھوں نے “صفر درجے کی رواداری” (Zero tolerance) کی پالیسی کو اپنے پروگراموں میں سر فہرست رکھی ہے اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے منصوبے کو ہر قیمت ـ حتی کہ پوری کانگریس کی مخالفت کی قیمت ـ پر پایۂ تکمیل پر پہنچانا چاہتے ہیں۔
“پہلے امریکہ” (America First) کی ڈاکٹرائن میں بنیادی کردار بین الاقوامی پالیسی کے نظریہ پرداز ہنری کسنگر کا ہے۔ انھوں نے کیسنگر کی راہنمائیوں سے استفادہ کرتے ہوئے چین کو “دشمن” یا “دیگر” (other) قرار دیتے ہیں اور ان کی پالیسی کا اصل ہدف “چین کی نشوونما اور ترقی کو لگام دینا” ہے۔ اور روس کی طرف سے بھی ایسی ہے شبہات پائے جاتے ہیں کہ وہ بھی اسی پالیسی پر گامزن ہوکر چین کی ترقی کو لگام دینا چاہتا ہے۔ کیونکہ ہنری الفرڈ کسنگر کو عرصہ دراز سے یقین ہے کہ امریکہ کو روس کے ساتھ تعاون کرکے چین سے نمٹنا چاہئے۔
تاہم مسٹر ٹرمپ کو درپیش اہم ترین چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو امریکی صدر کے طور پر اور امریکہ کے سابق صدرور کے ہم رتبہ ثابت کرکے دکھا سکیں اور اس لحاظ سے اپنا تشخص منوا دیں۔ صدارت کے ایام میں ٹرمپ کے غیر متوازن، غیر متوقع اور ناگہانی اقدامات اور فیصلوں نے اس چیلنج کو مزید پیچیدہ اور گہرا کردیا ہے؛ اور اس چیلنج کا دوہرا سر درد یہ ہے کہ امریکی معاشرے کے تمام طبقے ـ عوام سے خواص تک، رکن کانگریس اور سینٹر سے کر اعلی عدالت کے ججوں اور ریاستوں کے گورنروں اور میئروں تک ـ سب ریاست ہائے متحدہ کے صدر کی حیثیت سے ٹرمپ کے اس بحرانِ تشخص کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں اور اسی تناظر میں ہی وائٹ ہاؤس کے اوول ہاؤس میں ٹرمپ کے داخلے کے ساتھ ہی ان کے مواخذے اور باز پُرسی (Impeachment) کی تجویز کانگریس اور سینٹ کے ایجنڈے میں شامل ہوئی اور یہ تجویز آج بھی ان کے ایجنڈے سے خارج نہيں ہوئی۔
تشخص کا یہ بحران اس نکتے کی اہم دلیل ہے کہ اس نے بین الاقوامی سیاست کے ماہرین کو اس یقین تک پہنچا دیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی کابینہ نے اپنی تشکیل سے ہی انتہاپسندانہ شکل اختیار کرلی ہے، مؤاخذے سے جان چھڑانے اور اسے چھپانے کے لئے انھوں نے “آگے کی طرف بھاگنے” (Forward Escape) کی پالیسی اختیار کی ہے اور مسٹر ٹرمپ اندرونی پالیسیوں کی لا مرکزیت (Decentralization) کے ہتھکنڈے کو آگے لائے ہوئے ہیں اور ایک تسدیدی جنگ (Preventive War) کے سانچے میں، بین الاقوامی بحرانی سازی کرکے اپنے بحرانِ تشخص کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف سے مشرق وسطی میں امریکہ کو اس کے دیرینہ دیرینہ سیاسی ابہام اور غیر یقینی صورت حال سے نجات دہندہ بھی بننا چاہتے ہیں چنانچہ مشرق وسطی میں ایک وسیع جنگ کا امکان واضح ہوجاتا ہے؛ اور پھر دوسرے اقتباس میں ہم دیکھتے ہیں کہ مشرق وسطی کا خطہ بذات خود علاقائی کشمکش کے لئے تیار کھڑا نظر آرہا ہے اور ایک چھوٹے سے تصادم کے نتیجے میں ایک وسیع البنیاد جنگ کے شعلے بھڑک سکتے ہیں۔
ٹرمپ کی کابینہ نے اپنی پیدائش کے آغاز سے ہی اپنی روایت شکن اور غیر متوقعہ حکمت عملیوں نیز سابقہ حکومتوں کی سست رفتار روشوں کو ترک کرکے، کچھ پالیسیوں کو [التوا کا شکار مسائل کے انجام کا فیصلہ یا] “فرائض کے تعین” کے سانچے میں بیان کیا جن کا نشانہ محض امریکہ کے مخالف ممالک ہیں جن کے امریکہ کے ساتھ براہ راست سیاسی اور سفارتی تعلقات نہیں ہیں جن میں اسلامی جمہوریہ ایران اور شمالی کوریا شامل ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پالیسی کے تحت شمالی کوریا کے سلسلے میں ایک نئی فضا بنا رہے ہیں اور اس پالیسی کا دوسرے مرحلے کا نشانہ اسلامی جمہوریہ ایران ہے۔
مشرق وسطی میں حالات امریکہ کے مفاد میں نہیں ہیں، لیکن اس کے باوجود تشہیر کی جارہی ہے کہ مشرق وسطی میں ایک عالمی سطح کی وسیع جنگ کا امکان ہے؛ یہ تشہیری مہم کچھ صحافتی اور تجزیاتی حلقوں کے ہاں بھی موضوع بحث بن چکی ہے اور اس کی بنیاد ٹرمپ کے انتہاپسندانہ رویے اور پالیسیاں ہیں جو بز‏عم خود فوری طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدر کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں!؟ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر مبصرین اور خارجہ پالیسی کے ماہرین، موجودہ اشاروں کو آپس میں جوڑ کر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ نفسیاتی اور معاشی دباؤ کی صورت میں لڑی جانے والی جنگ کسی خاص نتیجے میں پر نہیں نہیں پہنچ سکے گی، کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران اس قسم کے رویوں کے آگے اپنی جان سے ہاتھ دھونے والا نہیں ہے۔ اور پھر بالادستی کی خواہاں امریکی انتظامیہ کی موجودہ پالیسیاں ایران کے لئے بالکل نئی نہیں ہیں بلکہ اس ملک کو تو ابتدائے انقلاب سے ہی اس کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے؛ چنانچہ مسٹر ٹرمپ کی یہ حکمت عملی بھی بالآخر اندھی گلی پر منتج ہوگی؛ اور چونکہ ٹرمپ کی کابینہ کے خیالات اور عقائد جنگی اور عسکری ہیں، اور ایران دشمن عناصر بھی اس کا ساتھ دے رہے ہیں؛ لہذا ان عوامل و اسباب کا مجموعہ مشرق وسطی میں ایک بڑی جنگ کے شعلے بھڑکنے کے اسباب فراہمی کرے گا!
حقیقت یہ ہے کہ اگر اس قضیے کے عینی اور ظاہری معیاروں کو کافی سمجھا جائے تو تجزیہ اور اس کا نتیجہ وہی ہوگا جو سطور بالا میں بیان ہوا۔ لیکن اگر بحث کے قواعد اور منطق و استدلال کے ساتھ ٹرمپ حکومت کے عہدیداروں کے الفاظ و اصطلاحات ـ نیز مسٹر ٹرمپ کی شخصیت کے پس منظر ـ پر توجہ مرکوز کریں، تو بحث سے بالکل نتائج برآمد ہونگے۔
ٹرمپ ڈاکٹرائن “سب سے پہلے امریکہ”  کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو بالکل واضح ہے کہ اس ڈاکٹرائن کا مقصد بیرون ممالک اخراجات کو کم کرنا ہے، اور دنیا بھر میں بھٹکتے ہوئے امریکی سرمائے کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی سرحدوں کے اندر لایا جائے، اور ڈونلڈ ٹرمپ کی وہی تشویش ہے اور ان کا بپا کیا ہوا وہی ہنگامہ ہے جس پر سوار ہوکر انھوں نے وائٹ ہاؤس تک کا راستہ طے کیا اور حلف اٹھانے کے بعد ثابت کرکے دکھایا کہ وہ ایک عملیت پسند (Pragmatist) اور کاروباری قوم پرست شخصیت ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران ان کے زیادہ تر نعرے صرف لوگوں کو جوش دلانے اور ان کے جذبات ابھارنے کے لئے نہیں تھے بلکہ ان کا نعروں نے ایک فہم و شعور، اور ان کی حکومت کی بالادست حیثیت کی پائیداری، پر ان کے یقین راسخ سے جنم لیا ہے۔ موجودہ تشہیری مہم کو اس دریچے سے دیکھا جائے تو آسانی سے نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ امریکی سرحدوں سے باہر کوئی بھی اقدام ـ جو بھاری انسانی، مادی اور نفسیاتی مصارف و مخارج کا باعث بنے ـ ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ وائٹ ہاؤس کی پالیسیوں پر موجودہ مسلط ڈاکٹرائن میں قومی اہداف پر کم از کم اخراجات اٹھانے کو بنیاد قرار دیا گیا ہے، چنانچہ کوئی بھی روایتی عسکری اقدام اور امریکی جغرافیے سے طویل فاصلے پر واقع ممالک اور علاقوں میں جنگی مہم جوئی بعید از قیاس نظر آتی ہے۔
ٹرمپ کابینہ نے “سب سے پہلے امریکہ” نامی ڈاکٹرائن کے ساتھ ہی، اپنی خارجہ پالیسی کے مقاصد کے حصول کے لئے رویوں کا ایک نمونہ متعارف کرایا ہے۔ جس کا نام “پاگل آدمی حکمت عملی” [جو رچرڈ نکسن کی madman theory سے مأخوذ] ہے۔ یہ وہی حکمت عملی ہے جس کی وجہ سے زیادہ تر حلقے، تجزیہ نگار اور ماہرین سمجھتے ہیں کہ گویا ٹرمپ انتظامیہ فوجی اقدام کا ارادہ رکھتی ہے۔ حالانکہ اگر “پاگل آدمی” نامی حکمت عملی میں تھوڑا سا غور کیا جائے تو اس تزویری عبارت کا ما حصل ـ جو امریکی خارجہ پالیسی ٹیم اور خارجہ پالیسی کونسل کے پیش نظر ہے ـ یہ بنتا ہے کہ مقررہ اہداف کو بھاری دباؤ، اور عنقریب حملے کی دھمکیوں کے سائے میں حاصل کیا جائے اور دباؤ اور دھمکی کو وائٹ ہاؤس کی روایتی پالیسی کی حدود سے نکل کر بعض غیر معمولی اور خلاف قاعدہ رویوں کے سانچے میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ شمالی کوریا کی حکومت کا رویہ بدلنے کے لئے اسی روش سے فائدہ اٹھایا گیا جو کسی حد تک واشنگٹن کے متعینہ اہداف تک پہنچنے میں کامیاب نظر آرہی ہے۔ اب یہ روش اگلے دنوں میں کس قدر پائیدار رہتی ہے، اس کا انحصار مذاکرات کے عمل پر رہے گا۔
اب مشرق وسطی میں وسیع فوجی تصادم کو اجاگر کرنے والے تجزیاتی حلقوں کا خبط اسی “پاگل آدمی” کی حکمت عملی کا نتیجہ ہے جس میں البتہ یہ امکان بالکل واضح ہے کہ ارادی طور پر ایک اجتماعی نفسیاتی خوف و ہراس اور افراتفری کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے اور یہ مبصرین اسی ماحول سازی سے متاثر ہوکر نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ گویا ایک غیر متوقعہ اقدام یا باقاعدہ جنگ کی فضا بن رہی ہے؛ اس ماحول سازی کا ایک سرا حال ہی مائیک پامپیو کا دورہ مشرق وسطی سمجھا جاتا ہے اور دوسرا سرا پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں امریکہ کی طرف سے ایران مخالف کانفرنس کے انعقاد کی کوشش ہے [گوکہ اس کانفرنس کے ابتدائی طور پر بیان کردہ اہداف سے امریکہ کو پسپا ہونا پڑا ہے]، اس کانفرنس کا مقصد ـ ایران کے خلاف ایک مشترکہ عالمی محاذ بنانے کے لئے ـ دنیا والوں کو ایران سے خوفزدہ کرنے [اور ایرانو فوبیا] ہے۔ ایران فوبیا کا فروغ اسلامی انقلاب سے لے کر آج تک امریکہ اور اس سے مغربی اور دیگر کٹھ پتلی ریاستوں کی پالیسیوں اور رویوں میں سرفہرست رہا ہے۔
بالآخر آخرکار کہنا چاہئے کہ وائٹ ہاؤس میں رائج الوقت روش ہے جس کے دائرے میں رہ کر، ٹرمپ اور ان کے انتہاپسند ساتھیوں کی سرکردگی میں ریگن دور کی بالادست امریکی طاقت کے احیاء کی کوشش ہورہی ہے؛ اور “سب سے پہلے امریکہ” کا نظریہ اس روش کی تشکیل کے لئے منشور کا کام دے رہا ہے؛ اس سے دو رویوں تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے: رسمیاتی رویہ (Formalist Approach) اور محتویاتی رویہ (Content approach)۔
رسمیاتی رویے میں ـ جس کو سرکشانہ اور تشدد پر مبنی حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ـ امریکی حکومت سے ہر قسم کے اقدام کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔ لیکن محتویاتی رویے میں ـ جو کہ حکمران حکمت عملی کا حقیقی رویہ ہے ـ ہدف یہ ہے کہ فوجی اقدام سمیت دھمکی آمیز اقدامات کی نمائش اور مول تول پر مبنی جنگی ڈرامہ سازی کے اوزاروں کے ذریعے مقاصد کو حاصل کیا جائے۔
اور اس کا ہدف بین الاقوامی ماحول کے اندر ایک مبہم اور غیریقینی فضا قائم کرنا ہے اور ایسی صورت حال کو جنم دینا ہے کہ دنیا بھر کی حکومتیں “پاگل شخص” کی حکمت عملی سے نمٹنے کے لئے روشوں اور حکمت عملیوں کے اخذ کرنے میں حیرت اور تذبذب کا شکار ہوجائیں۔
دنیا پر مسلط یک قطبی (Unipolar) نظام کے سائے میں، بین الاقوامی ڈھانچے میں تبدیلی لانے کی غرض سے ایک وسیع فوجی اقدام اور عالمی سطح کی جنگی تیاریاں، در حقیقت وائٹ ہاؤس کے حکام کے نمائشی اقدامات کے پس پردہ عقلیت سے جوڑ نہیں کھاتیں۔ ابلاغیاتی اور صحافتی نیز تجزیاتی دنیا کی التہاب آفرینیاں در حقیقت وائٹ ہاؤس کی “پاگل آدمی” والی حکمت عملی کو دنیا کی سماعتوں اور بصارتوں پر مسلط کررہی ہیں اور بطور نتیجہ اختصار کے ساتھ اس سنہری نکتے کو اخذ کیا جاسکتا ہے کہ تیسری ہزاری (third millenium) کے اس دور میں جغ سیاسیی طرز کی روایتی جنگیں منسوخ ہوچکی ہیں چنانچہ عالمی نظام میں شامل حکومتیں ـ عصر معلومات (information era) میں ـ اپنے تزویری مقاصد کو بھی سیادی جنگ (Cyberwarfare) کے ذریعے اور انسانی، مادی اور نفسیاتی تحفظات کے سانچے میں، حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اور پھر جس ملک کی طرف سے جنگ اور جارحیت کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے، اس کے اپنے اندرونی اور بین الاقوامی حالات نیز ماضی قریب میں اس کی کامیابیوں یا ناکامیوں اور اس کو درپیش چیلنجوں کو بھی مد نظر رکھنا پڑتا ہے؛ اور جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے، کوئی بھی عقلی اور منطقی وجہ نہیں ہے کہ امریکہ ـ جو حالیہ تین عشروں کے دوران افغانستان اور مشرق وسطی کے ممالک میں متعدد بلا واسطہ اور بالواسطہ جنگوں میں ناکام ہوچکا ہے اور مسٹر ٹرمپ نے کئی مرتبہ حسرت بھرے الفاظ میں سات ٹریلین ڈالر کے ضیاع اور جنگوں میں ناکامیوں باعث عبرت گردانا ہے ـ کسی وسیع اور بین الاقوامی سطح کی نئی جنگ میں الجھنے کے لئے تیار ہوجائے، وہ بھی ایسی جنگ جس کا انجام بالکل مبہم اور اس کے بعد کے نتائج ناقابل برداشت ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: ڈاکٹر عبد الرحمن ولایتی
مضمون نگار بین الاقوامی تعلقات کے محقق اور امریکی مسائل کے ماہر ہیں۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
http://irdiplomacy.ir/fa/news/1981280
…………..

۱۰۰۰۱