سید حسن نصر اللہ کے خلاف العربیہ چینل کا پروپیگنڈہ




لیکن العربیہ کی جانب سے دی گئی رپورٹ کے برخلاف نصر اللہ نے “المیادین “کی جانب سے پوچھے جانے والے ان مختلف سوالوں کے جواب میں کہ جو لبنان کی حکومت کی تشکیل ، فساد و کرپشن کے خلاف لڑائی اور لبنان کے دیگر داخلی مسائل پر مشتمل تھے اپنا اظہارخیال کیا ۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، گزشتہ سنیچر کی رات  حزب اللہ کے جنرل سیکریٹری حسن نصر اللہ کی جانب سے  “المیادین “ٹی وی کو دیا گیا انٹرویو اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ حسن نصر اللہ کی تین مہینے کی خاموشی کے بعد یہ انٹرویو منظر عام پر آیا ہے اور اسی بنا پر پوری دنیا کی توجہ اسکی طرف مبذول ہے خاص کر  یہ انٹرویوخطے کے ممالک اور صہیونی حکومت کی توجہات کامرکز ہے اور دنیا بھر میں اس انٹریو سے دیا جانے والا پیغام پہنچ گیا ہے  ۔

اس دوران جوبات لائق توجہ ہے وہ یہ   سعودی عرب کے چینل” العربیہ” کی جانب سے اس انٹریو کی کورنگ  کا طریقہ کارہے ، اس چینل نے بالکل مخالف زاویہ  نظر سے اس انٹریو کو پیش کیا ، “الاخبار “روزنامہ نے ایک رپورٹ میں اسی بات کو بیان کرتے ہوئے لکھا : “توقع کی جا رہی تھی کہ “المیادین” ٹی وی نٹ ورک  پر دئے گئے حسن نصر اللہ کے انٹر ویو کے دوران اختیار کئے گئے موقف کے پیش نظر مقبوضہ فلسطین میں  اسرائیلیوں کی چیخ نکل پڑے گی لیکن اس بار بجائے اسرائیل کے سعودی عرب کے میڈیا کی فریادیں بلند ہو گئیں” ، چنانچہ” العربیہ ٹی وی نیٹ ورک “نے  “حسن نصر اللہ “کے حالیہ انٹر ویو پر ایک منظم  ومنصوبہ بند یلغار شروع کر دی اور اسکے باجود کہ” حسن نصرا للہ “کی جانب سے اختیار شدہ  موقف اسرائیل کی دشمنی کے خلاف تھا اورزیادہ تر مواقع پر اسرائیلی دشمنی کا عنصر غالب تھا پھر بھی”  العربیہ ”نے حسن نصر اللہ کے اصولی موقف  اور انکے نظریات کو اپنے مخاطبین کے سامنے  ایک “جنگ طلبانہ تقریر “کی حیثیت سے پیش کیا  ۔

اس رپورٹ میں آگے آیا ہے کہ”  العربیہ نیٹ ورک ”نے حسن نصر اللہ کے انٹرویو کو  لبنان کے اندر رائے عامہ کی تحریک کرنے کے ایک بہترین موقع کی صورت پیش کیا تاکہ اس کے ذریعہ عام لوگوں کی فکروں کو حسن نصر اللہ کے خلاف بھڑکایا جا سکے چنانچہ العربیہ نیٹ ورک نے عام لوگوں کی فکروں کو متاثر کرنے کی خاطر اس انٹر ویو کو استعمال کیا اور اس بات کا دعوی کیا کہ بہت سے ماہرین و لبنانی تجزیہ نگاروں نے اس ٹیلی ویژن کو دئے گئے حسن نصر اللہ کے انٹرویو  پر تنقید کی ہے ۔

لیکن العربیہ کی جانب سے  دی گئی رپورٹ کے برخلاف نصر اللہ نے “المیادین “کی  جانب سے پوچھے جانے والے ان  مختلف سوالوں کے جواب میں کہ جو  لبنان کی حکومت کی تشکیل ، فساد و کرپشن کے خلاف لڑائی اور لبنان کے  دیگر داخلی مسائل پر مشتمل تھے اپنا اظہارخیال کیا ۔

جبکہ حقیقت کے بالکل بر خلاف  العربیہ ٹی وی نیٹ ورک نے کوشش کی کہ حسن نصرا للہ کی باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جائے چنانچہ  اس توڑ مروڑ کا ایک نمونہ یہ ہے کہ سید حسن نصر اللہ نے ایک مقام پر کہا کہ اگر حزب اللہ پر کوئی جنگ تھوپی گئی یا حزب اللہ سے متعلقہ کسی ایک رکن کو نشانہ بناکر کسی بھی جگہ شہید کیا گیا تو  مقاومت) مزاحمتی محاذ ( کی جانب سے اسرائیلی حملے کا منھ توڑ جواب دیا جائے گا لیکن العربیہ نے اس کے بالکل الٹ یہ دعوی کیا کہ  حزب اللہ کے جنرل سکریٹری نے  اپنے پورے انٹرویوکے دوران اسرائیل کے ساتھ جنگ کے آغاز اور اس جنگ کا بوجھ لبنان پر ڈالنے کی بات کہی ہے ۔ العربیہ نے اپنے سلسلہ وار  پروگرام”  تفاعلکم” کی اس ہفتے کی کڑی  میں)  جو کہ سوشل میڈیا پر چلنے والے مباحث کو بیان کرتا ہے اور مجازی فضا میں مصروف عمل رہنے والوں پر ناظر ہے( پروگرام کا نام اور عنوان ہی یہ قرار دیا ” لبنان سے  بے فکر نصر اللہ اور اسرائیل سے جنگ کی منصوبہ بندی  ”

اس پروگرام کی اینکرو ناظم “سارہ الدندروای ” نے حسن نصر اللہ کے انٹریو سے پہلے و بعد کئے جانے والے  دسیوں لاکھ ٹوئٹس کو جو کہ حسن نصر اللہ کی حمایت میں لکھے گئے تھے نظر انداز کرتے ہوئے محص انہیں تحریروں کو پڑھا جن میں حسن نصر اللہ پر تنقید کی گئی تھی  ( البتہ یہ بھی مدلل اور مستند طور پر ناظرین کو نہیں دکھایا گیا  کہ کیا لکھاہے اور کیا پڑھا جا رہا ہے )

اس پروگرام میں مہمان کی حیثیت سے آنے والے” ندیم قطیش  “نے دعوی کیا کہ نصر اللہ لبنان کو تباہی کی ڈھلوان  کے بالکل کنارے لے کر جا رہے ہیں  العربیہ نے  دیر رات گئےاپنے ایک اور تجزیاتی پروگرام میں بھی  “حسن نصر اللہ  ، جنگ کا پیغام میز پر ہے ”  کاعنوان منتخب کرتے ہوئے اس با ت کا دعوی کیا کہ لبنان حسن نصر اللہ کے نزدیک ایک حاشیہ کے طور پر ہے  اور حسن نصر اللہ جنگ کے لئے تیار ہو رہے ہیں ۔

 

https://www.farsnews.com/news/13971109001123

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۰۰۲