رپورٹ/صہیونیت سے مقابلہ کی راہوں پر فکری نشست




ابوشریف نے یہودیوں کی شکست کو یقینی بتاتے ہوئے کہا کہ یہودیوں کی ہار ایک قرآنی وعدہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ سب کچھ کرنے کے باوجود اسرائیل آج تک اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے اور آگے بھی نہیں ہو سکے گا ۔



خیبر صہیون تحقیقاتی وبگاہ کی رپورٹ کے مطابق ، ۳۱ جنوری کو ایران کے اسلامی انقلاب کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پر مقامی اور بیرونی ماہرین کی شرکت کے ساتھ صہیونیزم سے مقابلہ اور نبرآزمائی کی راہوں کے تجزیہ کے سلسلہ سے پہلی باہمی غور و فکر کی نشست رسا نیوز ایجنسی کے دفتر میں منعقد ہوئی ۔
اس نشست کا اہتمام تلالو بعثت اسٹراٹیجک مطالعاتی مرکز، خیبر صہیون تحقیقاتی وبگاہ اور رسا نیوز ایجنسی نے مشترکہ تعاون سے کیا ، اس نشست میں صہیونیت کے موضوع کے ماہر اساتذہ نے صہیونیت سے مقابلہ کی راہوں پر تبادلہ خیال کیا ۔
اس نشست میں یہود شناسی کے ماہر و حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے استاد ’’آیت اللہ مہدی طائب‘‘ نے یہودیوں کی اسلام سے تاریخی دشمنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا کہ ہم یہودیوں سے مقابلہ کے سلسلہ سے باہمی اختلافات کا شکار ہیں ، ابھی ہم اس بات کی طرف متوجہ نہیں ہیں کہ اگر ہمارے حملوں کا رخ یہودیوں کی طرف ہو جائے تو کس طرح دنیا کو آزاد کرایا جا سکتا ہے ، لہذا مسلمان ہی نہیں بلکہ عیسائیوں کو بھی اس ہٹ دھرم و ضدی قوم سے انتقام لینے کے لئے مسلمانوں کا تعاون کرنا چاہیے اور انکے ساتھ ہو جانا چاہیے۔

استاد طائب نے جنگ احد میں مسلمانوں کی شکست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دشمن شناسی کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت کو بیان کیا کہ اگر احد میں مسلمان اپنے دشمن سے واقف ہوتے تو کبھی محاذ کو نہ چھوڑتے، آج بھی ہمیں اپنے اصلی دشمن کو پہچاننا ہوگا، اور ہمارا حقیقی و اصلی دشمن یہود ہیں۔ استاد طائب نے رہبر انقلاب اسلامی کے بیان کی روشنی میں اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے ” کہ اگر دنیا جان لے کہ یہودیوں نے کس قدر دیگر ممالک سے خراج و لگان لیا ہے تو وہ کبھی خاموش نہیں بیٹھے گی ” کہا کہ سچ ہے اگر یہ سرطانی پھوڑا ختم ہو جائے تو دنیا کی ساری مشکلات حل ہو جائیں گی ۔
اس نشست میں شریک تہران میں حماس کے نمائندہ ناصر ابو شریف نے بھی یہودیوں کی چیرہ دستیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خدا کے خاص الطاف کا تذکرہ کیا اور کہا کہ خاشقجی کا مسئلہ فلسطین کے لوگوں کے لئے اسکی جانب سے خاص عنایت تھی خدا کے کرم و لطف سے لوگوں کو پتہ چلا کہ سعودی عرب کا رول کیا ہے۔ ناصر ابو شریف نے اپنی گفتگو میں بیان کیا کہ صہیونیوں کی آرزو ہے کہ وہ پوری سرزمین فلسطین پر اپنا قبضہ جما لیں اور یہ کام انہوں نے سو سال پہلے سے چھیڑا ہوا ہے لیکن انکی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ فلسطینی عوام ہیں۔
تہران میں حماس کے نمائندے نے تاریخی ثبوتوں کی روشنی میں بیان کیا : ۱۹۴۸ میں دو تہائی فلسطنیوں کو نکال دیا گیا اور ۷۸ فی صد زمین یہودیوں کے قبضے میں آ گئی درحقیقت یہ کام برطانیہ کے تعاون سے ممکن ہو سکا جس نے اپنے تام الاخیتار نمائندہ کے ذریعہ اراضی سے متعلق قوانین کے بل پر فلسطینیوں سے زمینوں کو چھین کر یہودیوں کے حوالے کر دیا ، بااین ہمہ آج بھی فلسطین اپنی جگہ ہے اور اپنے حق کے لئے فلسطینی لڑ رہے ہیں ، اسرائیلی مقاصد کی تکمیل میں دو بڑی رکاوٹیں ہیں ایک فلسطین کی عوام دوسرے فلسطین کی سرزمین ، آج بھی اگر اسرائیل کا ناطقہ بند ہے تو وہ لوگوں کی وجہ ہے یہ فلسطینی عوام ہیں جنہوں نے صہہیونیوں کو انکے مقاصد کی تکمیل میں ناکام کیا ہوا ہے ، ابوشریف نے یہودیوں کی شکست کو یقینی بتاتے ہوئے کہا کہ یہودیوں کی ہار ایک قرآنی وعدہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ سب کچھ کرنے کے باوجود اسرائیل آج تک اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے اور آگے بھی نہیں ہو سکے گا ۔
اس نشست میں اور بھی مفکرین نے اپنے افکار و نظریات پیش کئے جنہیں انشاء اللہ آئندہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جائے گا
اس نشست کے سلسلہ سے جن اساتید کے نام پیش کئے گئے تھے ان میں کچھ اہم یہ ہیں جن میں سے بعض نے اس نشست کو پربار بنانے میں شایان شان تعاون کیا ۔
حجت الاسلام المسلمین استاد مهدی طائب
محمود مهتدی
ناصر ابوشریف
خالد قدومی
شمس الدین رحمانی
سید هادی افقهی
علیرضا سلطان‌شاهی
محمدتقی تقی پور
رضا منتظمی
مجید صفاتاج
عباس خامه‌یار
محمدرضا رئوف شیبانی
محمدعلی مهتدی
محمدهادی همایون
احمد دستمالچیان
محمد فتحعلی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍گ؍۱۰۰۰۲