فلسطینی قیدی صہیونی جلادوں کے تشدد سے شہید




فلسطینی وزارت صحت نے اشتیہ کی اسرائیلی جیل میں دوران حراست شہادت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ یاسر اشتیہ کی موت تشدد اور علاج میں‌ مجرمانہ غفلت کے باعث ہوئی ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، قابض صہیونی ریاست کے جلادوں نے ایک اور فلسطینی قیدی کو دوران حراست انسانیت سوز تشدد کے ذریعے شہید کردیا۔ ایک ہفتے میں اسرائیلی زندانوں میں جام شہادت نوش کرنے والا یہ دوسرا فلسطینی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، غرب اردن کے شمالی شہر نابلس کے رہائشی ۳۶ سالہ یاسر حامد اشتیہ ‘بئرسبع’ کی جیل میں پابند سلاسل تھے۔ رات کے وقت انہیں صہیونی جلادوں نے تشدد کا نشانہ بنایا اور حالت خراب ہونے کے بعد اسے کال کوٹھڑی میں پھینک دیا گیا جہاں صبح دوسرے قیدیوں‌ نے اسے مردہ حالت میں پایا۔

فلسطینی وزارت صحت نے اشتیہ کی اسرائیلی جیل میں دوران حراست شہادت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ یاسر اشتیہ کی موت تشدد اور علاج میں‌ مجرمانہ غفلت کے باعث ہوئی ہے۔
شہید یاسر حامد اشتیہ کو ۲۰۰۹ء میں یہودی آباد کاروں کے قتل کے الزام میں عمرقید کی سزا سنائی گئی تھی۔

رواں ہفتے غزہ کی پٹی کے ۵۱ سالہ فارس بارود کو بھی اسرائیلی زندان میں شہید کردیا گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍خ؍۱۰۰۰۳