مسئلہ فلسطین میں سب سے بڑی مشکل دشمن شناسی ہے: ڈاکٹر مہتدی




انہوں نے رہبر انقلاب اسلامی کے اس جملے کہ’’قدس کی کامیابی کا دن اسلام کا یوم احیاٗ ہے‘‘ کی یاددہانی کراتے ہوئے کہا کہ اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام اس جنگ کے ذریعے دوبارہ زندہ ہو گا جو قدس میں انجام پائے گی۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، بعثت انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے “صہیونیت کے ساتھ مقابلے کی راہوں پر غور” کے زیر عنوان قم میں منعقدہ نشست میں یورپی ممالک میں ایران کے سابق سفیر ڈاکٹر محمود مہتدی نے کہا کہ بعض مغربی ممالک کے سربراہان کی نظر میں اسرائیل در حقیقت امریکہ کا ہی ایک حصہ ہے۔
انہوں نے کہا: استعماری طاقتوں نے سب سے بڑی جو دو غلطیاں کی ہیں وہ ایک اسرائیل کی تشکیل اور دوسری عراق پر امریکی حملہ ہے۔ اسرائیل کی تشکیل مغرب پر دباو تھا اور اسی وجہ سے ہمیں یورپ میں یہودیت کی تاریخ کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔
اسرائیل برطانیہ کے ساتھ یہودیوں کے تعاون کا صلہ
مغربی ممالک میں ایران کے سابق سفیر نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ پہلی عالمی جنگ میں ایک طرف جرمنی اور عثمانی حکومت اور دوسری طرف فرانس اور برطانیہ محاذ آرا تھے کہا: اس جنگ میں یہودیوں نے برطانیہ کا ساتھ دیا اور اس کا صلہ جو یہودیوں کو دیا گیا وہ اسرائیل کی تشکیل کا وعدہ تھا۔
انہوں نے اپنی گفتگو کے دوسرے حصے میں کہا: جرمنی نے اس جنگ میں بنیادی کردار ادا کیا اور سب سے پہلا حملہ یہودیوں پر کیا اور ہٹلر ایک جرمن یہودی کے عنوان سے قومی خائن کہلایا۔
ڈاکٹر مہتدی نے مزید کہا کہ گزشتہ جنگیں صہیونی ریاست کی جنگوں سے مختلف ہیں اسی وجہ سے اسرائیل کی تشکیل کے مسئلے میں برطانیہ نے بہت ہی ہوشیاری سے کام لیا کہ عرب عوام شکست کا احساس نہ کر سکیں۔
انہوں نے رہبر انقلاب اسلامی کے اس جملے کہ’’قدس کی کامیابی کا دن اسلام کا یوم احیاٗ ہے‘‘ کی یاددہانی کراتے ہوئے کہا کہ اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام اس جنگ کے ذریعے دوبارہ زندہ ہو گا جو قدس میں انجام پائے گی۔
ڈاکٹر مہتدی نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ مسئلہ فلسطین کی بنیادی مشکل دشمن شناسی ہے کہا: صرف یہ جان لینا کہ ایک ریاست ہماری دشمن ہے کافی نہیں ہے بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دشمن کے مقابلے میں ڈٹ جائیں اور عملی طور پر اس مسئلے کے لیے تلاش و کوشش کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍خ؍۱۰۰۰۳