معنویت و اخلاق کے میدان میں اسلامی انقلاب کے نتائج و آثار




بحمدللہ ہماری قوم کے اندر ایک بڑی تبدیلی آئی ، اور یہ جوان جو کہ عشرت کدوں کی طرف کھنچے چلے جاتے تھے فحشاء و فساد کی طرف جا رہے تھے اب وہ محاذ جنگ کی طرف جا رہے ہیں اور اسلام و ملک کے لئے افتخار کا سبب ہیں ۔



خیبر صہیون تحقیقاتی مرکز:  گزشتہ سے پیوستہ

گزشتہ تحریر میں ہم نے امام خمینی رضوان اللہ علیہ کے بیانات سے ماخوذ اسلامی انقلاب کے ۱۰ اہم نتائج بیان کئے پیش نظر تحریر میں ۱۰ مزید آثار و نتائج بیان کئے جا رہے ہیں جنکے مد نظر ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ایران اپنے معمار انقلاب کی جانب سے بیان کی گئی کامیابیوں پر پوری طرح ڈٹا ہوا ہے یا  نہیں اور انہیں ملاک و معیار بنا کر یہ بات بھی سمجھی جا سکتی ہے کہ اسلامی انقلاب نے ہمیں کیا دیا ہے ، جتنا جتنا ہماری معرفت بڑھے گی اتنا ہی ہم پر اس نعمت کا شکر لازم و ضروری ہوگا  ۔

معنویت و اخلاق کے میدان میں اسلامی انقلاب کے نتائج و آثار

انقلاب اسلامی کے نتائج محض سیاسی و ثقافتی میدانوں تک ہی محدود نہیں جن میں کچھ کو ہم نے پچھلی تحریر میں  “ایران کی داخلی سیاست پر پڑنے والے اثرات” کے طور پر بیان کیا  بلکہ معنویت و اخلاق اور روحانیت کے میدان میں بھی انقلاب نے دیر پا اثرات چھوڑے ہیں۔ اخلاق و معنویت کا معاملہ آج کی دنیا میں بہت اہم ہے ، معنویت کا پوری دنیا میں ایک عظیم بحران ہے اور جتنا جتنا یہ بحران بڑھ رہا ہے اتنی ہی معنویت کے حصول اور دین کی طرف تیزی سے لوگوں کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے ، انقلاب اسلامی نے  دین و معنویت دونوں ہی کے فروغ میں اہم کردار عطا کیا ہے۔

۱۔ اپنے نفس پر کامیاب ہونے والی قوم

یہ بات کسی قوم سے متعلق نہیں بلکہ فرد فرد کے لئے اہم ہے کہ اگر کسی کو اپنے نفس پر کنڑول نہیں ہے تو وہ کسی بھی کمال کو حاصل نہیں کر سکتا امام خمینی  رضوان اللہ تعالی علیہ کا کمال یہ تھا کہ آپ نے اس فردی خصلت کو پوری قوم کا حصہ بنا دیا  جسکی بنا پر ایرانی قوم اغیار کے ہاتھوں غلام بننے سے بچ گئی.

چنانچہ معنویت و اخلاق کے میدان میں انقلاب کے بعد جو ایک بڑا نتیجہ سامنے آیا وہ یہ  تھا کہ انقلاب کi تعلیمات کے سایے میں ایرانی قوم نے اپنے سرکش نفس کو لگام دی جسکی بنا پر ثقافتی و فرہنگی طور پر سامراج کے ہاتھوں مغلوب ہونے سے بچ گئی امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ اس بارے میں فرماتے ہیں : “خدا نے ہماری قوم کو نعمتیں عطا  کیں ان میں ایک  ثقافتی و اخلاقی زوال و انحطاط سے نجات ہے ، اور اس سے بڑھ کر ہمارے جوانوں کی اپنے نفس پر کامیابی ہے جو ایک بڑے طبقے کو حاصل ہوئی ”۔

۲۔ معاشرے میں روحانی و معنوی تبدیلی

معنوی اور روحانی طور پر اسلامی انقلاب کی کامیابی اس اعتبار سے ایک بڑی کامیابی ہے کہ معنویت و روحانیت کی طرف توجہ ملکی پیمانے پر پیدا ہوئی اور ہر ایک طبقہ مادیت سے کھنچ کر معنویت کی آغوش میں چلاآیا  اور یہ وہ چیز ہے  جس نے انقلاب کو ایک ایسی  خود اعتمادی عطا کی جسکے چلتےاغیار و خیانت کار سبھی کو سبق سکھایا جا سکا کہ کوئی انقلاب کے خلاف کچھ نہ کر سکے  امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ اس بارے میں فرماتے ہیں :

”اسلامی انقلاب کے برکات و آثار میں ایک معاشرے میں روحانی و معنوی طور پر تبدیلی کاپیدا ہونا ہے ، معنوی طور پر معاشرے کے اندر نکھار کا پیدا ہونا یہ وہ چیز ہے جسے میں نے بارہا کہا ہے کہ ایران میں معنوی  طور پر ایک انقلاب آیا ہے اور یہ ایک ایسی تحریک ہے جس نے روحانی طور پر تبدیلی پیدا کی خدا وند متعال کے ارادہ سے یہ کامیابی ہمیں نصیب ہوئی کہ ہم نے غیروں کے ہاتھوں کو چھانٹ دیا  خیانت کاروں کے ہاتھوں کا کاٹ دیا اس لئے اس کی اہمیت بھی زیادہ ہے ، یہ روحانی تبدیلی اتنی جلدی کسی شخص کے لئے حاصل نہیں ہوتی ہے  گروہوں کی تو بات ہی اور ہے  پورے ملک میں معنویت کا پیدا ہونا اسکی تو بات ہی الگ ہے” ۔

۳۔ معنوی تبدیلی کی بنیاد پر خود مختاری کا حصول

اسلامی انقلاب کے بعد معنوی و روحانی رجحان نے پوری قو م کو جب خدا سے قریب کر دیا تو خود بخود غیر خدا سے متعلق ہر طاقت کے غبارے سے ہوا نکل گئی اور ایرانی قوم نے اپنی معنویت پر تکیہ کرتے ہوئے اپنی خود مختاری کی بہترین تصویر رقم کی  امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :

”آپ ملاحظہ کریں کہ روحانی طور پر جو تبدیلی ایران میں رونما ہوئی ہے وہ ایران میں انقلاب کی فتح سے بڑی ہے اور یہ روحانی تبدیلی یہ ہے کہ ایک دن ایک سپاہی بازار پہنچ کر کہتا مثلا آج آبان کی چار تاریخ ہے اس لئے سب کو جھنڈے لگانے ہیں ، ایسے میں کسی کی ہمت نہیں تھی جو سپاہی کی بات کے خلاف عمل کرتا یا اس کے حکم سے حکم عدولی کرتا کسی کے ذہن میں بھی یہ نہیں تھا کہ سپاہی کی مخالفت کی جاسکتی ہے ، کوئی ایک بھی ایسا نہیں تھا  بلکہ جہاں بھی جانا ہو اطاعت کرنا پڑتی تھی حکومتی فرمان ماننا پڑتا تھا لہذا سپاہی جہا ں پہنچ جائے  اسکا حکم مانا جاتا تھا  یونیورسٹی میں بھی اسکی اطاعت ہوتی لیکن ایسا وقت بھی آیا کہ ایک دو سال کے بعد لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور لوگوں نے کہا ہمیں شاہ نہیں چاہیے  اور اپنے مطالبہ میں کامیاب بھی ہوئے ،یہ ایک روحانی تبدیلی ہے ، وہ خوف جو ایک سپاہی سے تھا وہ ایک ایسی شجاعت میں بدل گیا کہ ٹینک سے بھی ڈر نکل گیا ، وہ انسان جو ایک ہاتھ میں ڈنڈا لئے ہوئے آدمی سے ڈرتا تھا یہی انسان سڑکوں پر آیا اور اس نے اپنی انگلیوں کو مٹھی بنایا اور ٹینک پر حملہ آور ہو گیا  مار دیا دیا لیکن ٹینک پر حملہ کر بیٹھا ”۔

۴۔ عزت نفس

معنویت کی طرف بازگشت کی بنا پر انسانی اقدار بھی وجود میں جلا پائے اور اسلامی انقلاب نے اپنے باشندوں کے درمیان کھو جانے والی عزت نفس کو واپس پلٹایا  کل تک ماحول یہ تھا کہ ایرانی سرزمین پر امریکی جانوروں تک کو تحفظ حاصل تھا اور وہ جو چاہے کرتے تھے لوگ ان سے ڈرتے تھے لیکن اب صورت حال بدل چکی ہے اور لوگوں کے اندر عزت نفس بیدار ہوئی ہے اب وہ بیرونی عناصر کے سامنے  ذلیل و خوار نہیں ہوتے بلکہ اصولوں پر با ت کرتے ہیں  امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ ا س بارے میں فرماتے ہیں :

“آج اگر امریکہ کا صد ر جمہوریہ یہاں آ جائے اور چاہے چاہے کہ ہمارے کسی کلرک کے ساتھ بدتمیزی کر تو اسے طمانچہ ملے گا “۔

۵۔ بیرونی مشیروں اور صلاح کاروں کو ملک کے باہر کا راستہ دکھانا

یوں تو دیگر ممالک کے لوگوں کو باہر نکال کر زمام امور کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کا مسئلہ  اسلامی انقلاب کی سیاسی کامیابی کا اہم عنصر ہے لیکن معنویت کے ذیل میں عزت نفس کے بعد ہم نے اس لئے اسکا تذکر ہ اس وجہ سے کیا ہے کہ  اسکا کافی تعلق معنویت سے ہے بلکہ گہرا تعلق ہے ، کل تک اس لئے بیرونی  صلاح کاروں یا مشیروں کا ہونا لوگوں کو نہیں کھلتا تھا   کہ ان کے وجود میں وہ عزت نفس نہیں تھی جو ہونا چاہیے اور اسکا سبب دین و معنویت کا فقدان تحا لیکن جب انقلاب کی بنا پر دین اپنی جگہ پر آیا اور لوگوں کے وجود میں معنویت کا چراغ جلا تو انہیں اپنے وجود کی قیمت کا اندازہ ہوا اور اپنی عزت نفس کا خیال آیا جس کے نتیجہ میں انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہماری غیرت کو گوارا نہیں ہمارے مملکت کے امور دوسرے انجام دیں ، ہم جس قرآن کی تعلیمات کو مانتے ہیں کیا اس میں اتنا بھی دم نہیں کہ ہیں اتنی انتطامی صلاحیت عطا کردے جس سے ملک چل سکے اور ہم قدم قدم پر کسی کے محتاج نہ ہوں بس یہ بات اسلامی انقلاب نے سمجھا دی جس کے نتیجہ میں بیرونی ان عناصر کو باہر کا راستہ دکھایا گیا جو بظاہر خدمت کر رہے تھے لیکن در پردہ جاسوسی بھی کر رہے تھے اور ایران کو دوسروں کا دست نگر بھی بنائے ہوئے تھے امام خمینی فرماتے ہیں :

“آج آپ اپنے ملک کو دیکھیں  شہنشائیت کے دور سے کتنا مختلف ہے ، ایک وہ وقت تھا جب سب اس بات کے پابند تھے کہ بیرونی مشیر و صلاح کار آکر کیا کہتے ہیں کیا کرتے ہیں ، ہمارے کار خانے انکے ہاتھوں میں تھے ، ہماری فوج انکے ہاتھوں میں تھی ، ہماری ہر چیز پر انکا قبضہ تھا ، لیکن آج بحمد اللہ آپ خود ہیں ، خود اپنے پیروں پر امریکہ کے مقابل کھڑے ہیں ، خود سودیت یونین کے سامنے کھڑے ہیں ، ہر جگہ خود کھڑے ہیں ،آج آپ خود ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہمیں کسی سے کوئی مطلب نہیں ہے “۔

۶۔ طاغوتی ظالم عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانا

معنویت و دین کی طرف بازگشت کی بنیاد پر ایرانی عوام کے دلوں سے ظالموں اور طاغوتی طاقتوں کا ڈر نکل گیا انہوں نے  بے خوف و خطر ان لوگوں کو پکڑنا شروع کر دیا جنہوں نے عوام کا لہو چوسا تھا اور معاشرہ میں اپنے ظلم سے دہشت بٹھائی تھی چنانچہ ایرانی قوم نے نے عدل و انصاف کے قیام کے لئے ہر اس رکاوٹ کو ہٹا دیا جو انہیں قیام عدل و انصاف سے روک سکتی تھی اور اس سلسلہ سے انقلاب کے پرچم دارامام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ نے بھی خاص اہتمام کیا اور ان لوگوں کے لئے انقلابی عدالتیں قائم کیں جنہوں نے لوگوں پر ظلم کیا تھا ، چنانچہ آپ ایک مقام پر فرماتے ہیں :

“جسقدر جلدی ہو سکے  فاسد و ظالم عناصر کے جرائم کی جانچ پڑتا ل ہو ، اور غیر معمولی طور پر رائج انقلابی عدالتوں میں علنی طور پر ان پر مقدمہ چلایا جائے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، تاکہ ہمارے ستم دیدہ عوام انکی حالت جان کر مطمئن ہو جائیں ،کہ جن لوگوں کو استبداد کے سیاہ و گھٹن کے دور میں انہوں نے اذیتیں پہنچائی ،وہ کس طرح اپنے کیفر کردار کو پہنچے “۔

۷ ۔ ایک مجاہد قوم کی صورت ابھرنا

اسلامی انقلاب کا ایک اثر یہ رہا کہ ایک مجاور قوم کو امام خمینی رضوان اللہ علیہا نے ایک مجاہد قوم کی صورت تبدیل کر دیا اور وہ لوگ جو قحبہ خانوں سے مانوس تھے مسجدوں سے مانوس ہو گئے ، جو لوگ کلبوں کا رخ کرتے تھے وہ محاذ جنگ پر جانے کو اپنے لئے باعث فخر سمجھنے لگے

امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ اس سلسلہ سے فرماتے ہیں :

”بحمدللہ  ہماری قوم کے اندر ایک بڑی تبدیلی آئی ، اور یہ جوان جو کہ عشرت کدوں کی طرف کھنچے چلے جاتے تھے  فحشاء و فساد کی طرف جا رہے تھے اب وہ محاذ جنگ کی طرف جا رہے ہیں اور اسلام و ملک کے لئے افتخار کا سبب ہیں ، ہم ان کے مقابل ذمہ دار ہیں ، کوئی ایسا انقلاب نہیں ہے جس نے دو سے تین سال میں اتنا بڑا نتیجہ دیا ہو ”۔

۸۔ شہادت کی تمنا رکھنے والی قوم کی صورت میں ڈھل جانا

اسلامی انقلاب کا یہ کوئی معمولی اثر نہیں ہے کہ وہ قوم جو اپنی جان کو بچانے کے لئے معمولی سی گھڑکیوں سے ڈر جاتی تھی اور شاہ کے ایک اشارے پر اپنے گھروں کے تالے بند کر کے بیٹھ جاتی تھی امام خمینی رضوان اللہ تعالی اسے سڑکوں پر یوں نکال کر لائے کہ اس نے شہنشاہیت کے تخت کو الٹ کو پھینک دیا اور نہ صرف اتنا ہی انقلاب کے بعد راہ شہادت پر یوں گامزن ہوئی کہ آج تک شہادتوں کا چمن اس قوم کے یہاں سجا نظر آتا ہے۔ امام خمینی اس بارے میں فرماتے ہیں:

”ہماری قوم کے اندر ایک ایسی تبدیلی آئی جسکا کوئی سابقہ نہیں ہے ، اوریہ تبدیلی عبارت تھی شہادت کو اپنی کامیابی کے طور پرجاننے سے ، ابھی بھی جوان میرے پاس آتے ہیں اور بعض کہتے ہیں آپ دعاء کریں کہ ہم شہید ہو جائیں ، یہ شہادت کامیابی کا راز ہے ، جس طرح صد اسلام میں مسلمان اسی راز ورمز کے ساتھ آگے بڑھے ہماری قوم بھی اسی راز کو لیکر آگے بڑھی ،یہی وہ راز ہے جسے لیکر قومیں آگے بڑھ سکتی ہیں” ۔

۹۔ با ایثار قوم کی صورت ڈھلنا

انقلاب کا ایک اور اثر ایثار و قربانی کی طرف توجہ ہے  جس نے انقلاب کو مضبوطی عطا کرنے کے ساتھ قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا امام خمینی رضوان اللہ علیہا اس بارے میں فرماتے ہیں :

”ایک اور تبدیلی اس قوم  میں یہ آئی کہ  آج جوانوں کا ایک گروہ جن میں مرد و عورت تھے ،  میرے پاس یورپ سے آیا اور ان جوان بچوں اور بچیوں  نے کہا کہ ہم اس لئے آئے ہیں کہ دیہاتوں کی طرف جائیں اور لوگوں کی خدمت کریں ، وہ جوان جو پہلے دوسری چیزوں کے بارے میں سوچتے تھے آج اس طر ح کے مسائل کے بارے میں سوچ رہے ہیں ، یہ لوگ یورپ سے آتے ہیں ، خارج سے آتے ہیں ، خواتین آتی ہیں ، مرد آتے ہیں اور ایران کے دیہاتوں میں مدد و تعاون کے لئے جانا چاہتے ہیں  اور اسی طرح خود ملک کے اندر سے یونیورسٹی سے ، ڈاکٹر، انجینئر ،  خواتین سبھی  دیہاتوں کی طرف خدمت کی غرض سے نکل پڑتے ہیں سب کے سب دیہاتوں میں خدمت کرتے ہیں یہ باہمی تعاون کا احساس  ، ایک ایسا احساس ہے  یہ  ایک معجز نما تبدیلی ہے ، یہ جوکچھ ہے  خدا نے اسے انجام دیا ہے ”۔

۱۰۔ ہر مقام پر حاضر قوم

معنویت کی طرف بازگشت نے شیطان کے ہاتھوں اسیر قوم کو جہاں اپنے مالک کی بارگارہ میں بالکل آزاد  بنا کر چھوڑ دیا کے مکمل اپنے وجود کی آزادی کے ساتھ اپنے رب کے سامنے پورے اختیار کے ساتھ سر جھکائیں وہیں  انقلاب کے ساتھ انہوں نے عہد کر لیا کہ دین کے نام پر آنے والے اس انقلاب کا ساتھ شدید ترین دشواریوں میں بھی نہیں چھوڑنا ہے  چنانچہ اسلامی انقلاب کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ ایرانی عوام نے کسی بھی وقت اپنے انقلاب کو تنہا نہیں چھوڑا اور دشوار ترین مواقع پر انقلاب کادامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور ہر اس جگہ پہنچ گئے جہاں انقلاب کو ضرورت تھی امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ اس بارے میں فرماتے ہیں :

”اگر ہم اس اسلامی جمہوریہ کے لئے کسی فائدہ کے قائل نہ ہو سوائے اس کے کہ ہماری قوم لوگوں کے مختلف طبقات کے ساتھ ہر منزل اور ہر گھڑی پر حاضر ہے اور اس قوم کے مختلف طبقات تمام امور میں نگراں ہیں ،تو یہ ایک معجزہ سے کم نہیں ہے یہ ایک ایسا معجزہ ہے جس کے بارے میں مجھے گمان نہیں ہے کہیں اور ایسا ہوا ہو ، یہ ایک ہدیہ الہی ہے جو بغیر اسکے کے بشر کے ہاتھوں کی اس میں دخالت ہو ہمارے سامنے ہے ، یہ وہ ہدیہ ہے جو خدا کی جانب سے ہمیں ملا ہے ”۔

یہ وہ چندانقلاب کے اثرات و نتائج تھے جنہں بانی انقلاب نے  تین دہائی قبل بیان کیا اور آج  ہم انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور پورے وجودسے محسوس کر رہےہیں انقلاب اپنی چوتھی دہائی مکمل کر رہا ہے اوراسی آب و تاب کے ساتھ منزل کی طرف رواں دواں ہے جس طرح معمار انقلاب کی زندگی میں رواں دواں تھا  ۔پروردگار اس انقلاب کو دشمنوں  کے شر سے محفوظ رکھے اور دن دونی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے  آمین ۔

نوٹ : امام خمینی کے تمام بیانات مجلہ حصون سے ماخوذ ہیں : مجله  حصون  زمستان ۱۳۸۳، شماره ۲

دستاوردهای انقلاب اسلامی از دیدگاه امام خمینی(ره)

سید نجیب الحسن زیدی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍ی؍۱۰۰۰۲