معمار انقلاب کی نظر میں انقلاب اسلامی کے چالیس اہم آثار و نتائج- (تیسرا حصہ)




خدا کا شکر ہے کہ اسلام کی برکت سے تمام دنیا کے مسلمانوں کے لئے نور و امید کے دریچے وا ہو گئے اور یہ انقلاب آگے بڑھ رہا ہے یہاں تک کے اسکی گھن گرچ چکا چوند اسکی کڑک و بجلی مستکبروں کے سروں پرموت بن کر برسیں گے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی مرکز: گزشتہ سے پیوستہ

امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کے بیانات سے ماخوذ ہم نے ۲۰ ان نتائج کو گزشتہ  دو تحریروں  بالترتیب “انقلاب اسلامی کے داخلی طور پر رونما ہونے والے اثرات ” اور اخلاق و معنویت کے دائرہ میں انقلاب اسلامی کو حاصل ہونے والے نتائج کی طرف ایک اچٹتی نگاہ ڈالی پیش نظر تحریر میں اسلام اور مسلمانوں کی مرکزیت کے تحت حاصل ہونے والے  ۱۰، اہم نتائج و اثرات کی نشاندہی کی جا رہی ہے  ۔

۱۔ حیات اسلام کی تجدید

اسلامی انقلاب کے جہاں مثبت و دیر پا اثرات ایرانی عوام پر پڑے وہیں اس انقلاب نے عالم اسلام کو بھی متاثر کیا اور ایسے دور میں جب ہر جگہ بے روح اسلام کی نمائش ہو رہی تھی ایک زندہ اسلام کی تصویر سامنے آئی جس نے لوگوں کے ذہنوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، اسلامی انقلاب نے اسلام کو ایک نئی زندگی دی، نئی زندگی کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلام معاذ اللہ مردہ ہو گیا، اسلام تو ایک آفاقی دین ہے اسکی تعلیمات قیامت تک کے لئے ہیں لیکن لوگوں نے اسکے تعلیمات کو اختیا ر نہ کر کے صرف نام کا اسلام لے کر اسکے تعلیمات کا گلا گھونٹ دیا تھا اور جہاں انکے فائدے میں ہوتا وہاں اسلام پر عمل کرتے جہاں نقصان ہونے لگتا سیکولر بن جاتے  کہنے کو مسلمان تھے لیکن روح اسلام سے عاری ہو کر جی رہے تھے، اسلامی انقلاب نے اسلام کی روح کو زندگی کے ہر شعبے سے جوڑ دیا اب اسلام صرف مساجد تک محدود نہیں تھا، بازار و مارکٹ سے لیکر ٹیکنالوجی کے میدانوں میں بھی اسکے قوانین نافذ ہو گئے اس طرح اسلام کو ایک نئی زندگی ملی ،وہ بھی ایسے دور میں جب دین و ایمان تو کیا انسانیت اقدار سے کھوکھلی ہو تی چلی جا رہی  تھی ،ایسے وقت میں اسلام کے نام پر حکومت کا نہ صرف قیام عمل میں آیا بلکہ اس حکومت نے مستقل طور پر دینی و قرآنی اصولوں کے تحت ایک ایسا سسٹم پیش کیا جسے ساری دنیا مل کر بھی تباہ نہ کر سکی سیکولرزم کی آندھیاں اس کی لو کو کم نہ کر سکیں لیبرالیزم کے طوفان اسکے چراغ کو نہ بجھا سکے ، مادیت کی تباکاریاں اسے اپنی جگہ سے نہ ہلا سکیں اس لئے کہ یہ خدا کا احسان وکرم تھا  امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :

”خدا وند متعال کا آپ پر یہ احسان ہے کہ آپ غیور نوجوانوں نے  اسلام پر توجہ کی اور  اسلام کو اس عصر میں ، اس ظلمانی دور میں ، ایسے عصر میں جہاں  اقدار ہوا کے دوش پہ تھیں آپ نے زندہ کر دیا” ۔

۲۔ اسلام کے متحرک ہونے کا اثبات

اسلامی انقلاب نے نہ صرف اسلامی اصولوں پر عمل کر کے انہیں دنیا کے سامنے زندہ  صورت میں پیش کیا بلکہ اس دور میں جب لوگ دین کو نشے سے تعبیر کر رہے تھے اور اسلامی تعلیمات کو جمود و انحطاط کاسبب گردان رہے تھے ، اورلوگوں کا کہنا تھا کہ اسلامی تعلیمات دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں ، بھلا کیسے با پردہ ہو کر مرودوں کے شانہ بشانہ قوم و ملک کی تعمیر میں حصہ لیا جا سکتا ہے ؟ بھلا کس طرح اسلامی اصولوں کو مانتے ہوئے جدید دنیا میں دنیا کے قدم سے قدم ملاکر چلا جاتا ہے ، جبکہ اسلامی تعلیمات میں جمود ہے حرکت نہیں ہے ، یہ زندگی کی رفتار سے پچھڑ جانے کا سبب ہیں ایسے دور میں اسلامی انقلاب نے  واضح کیا کہ اسلام مستحکم ہے ہمیشہ کی طرح اور متحرک بھی ہے اور اسکی دلیل  انقلاب اسلامی کے چالیس سال مکمل کرنا ہے اور ترقی کی منزلوں کو طے کرتے ہوئے  اقتصاد ، سیاست ، ثقافت ، زراعت ، حتی کھیل کود کے میدانوں میں قابل قدر مقامات حاصل کرنا ہے چنانچہ امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :”اس تحریک نے ثابت کر دیا کہ اسلام مستحکم اور متحرک ہے ”۔

۳: مسلمانوں کے دلوں میں امید و نور کے دریچوں کو وا کرنا

اسلامی انقلاب کا ایک اثر یہ ہے کہ اس نے مسلمانوں کے دلوں میں امید کے دئے روشن کر دئے ہیں اور اب مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ بات گردش کر رہی ہے کہ ہم بھی اپنے اپنے ملک میں ایران کی طرز پر دین و اسلام کی حاکمیت کا رنگ لا سکتے ہیں ، ہم بھی بڑی طاقتوں سے ٹکراسکتے ہیں ،ہم بھی مستکبرین کو انکی اوقات دکھا سکتے ہیں امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ اس بارے میں فرماتے ہیں :

“خدا کا شکر ہے کہ اسلام کی برکت سے تمام دنیا کے مسلمانوں کے لئے نور و امید کے دریچے وا ہو گئے اور یہ انقلاب آگے بڑھ رہا ہے یہاں تک کے اسکی گھن گرچ چکا چوند اسکی کڑک و بجلی مستکبروں کے سروں پرموت بن کر برسیں گے “۔

۴۔ حریت پسند مسلمانوں کی حمایت

انقلاب کا ایک بڑا اثر یہ ہے کہ اپنے حقوق کے لئے جنگ کرنے والے حریت پسند مسلمانوں کی اس نے ہر جگہ حمایت کر کے انکی خود اعتمادی میں اضافہ کیا چنانچہ امام خمینی رح فرماتے ہیں :” ہم اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ دنیا کے آزاد مسلمانوں کی پناہ گاہ رہے گا انکا حامی رہے گا  ایران اسلام کے سپاہیوں کو ایک شکست ناپذیر ایک تسخیر نہ ہوپانے والے مستحکم قلعے کی صورت امداد فراہم کرتا رہے گا اور دنیا میں آزادی کی جنگ لڑنے والے مسلمانوں کو اسلامی کے بنیادی عقائد اور اسکے تربیتی اصولوں ، نیز نظام کفر و شرک کے مقابل ضروری طریقہ کار و اصول بتا کر نظام کفر و شرک سے مقابلہ کی راہوں سے آشنا کرتا رہے گا “۔

۵۔ امت اسلامی کا یک جٹ ہونا

انقلاب کے بڑے نتائج میں ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ انقلاب کے ذریعہ بکھرے ہوئے مسلمان ایک ساتھ مل بیٹھنے میں کامیاب ہو ئے  دنیا بھر میں مسلمانوں کی نئی شیرازہ بندی ہوئی امام خمینی رضوان اللہ علیہا اس بارے میں فرماتے ہیں :

“اس انقلابی تحریک کے بڑے نتائج میں  ایک بڑا نتیجہ جس سے ہم فائدہ اٹھا رہے ہیں اور جس سے ہمیں فائدہ  پہنچا ہے وہ  یہی ہے کہ اس پوری مدت میں جن اپنے بھائیوں سے ہم ربرو نہیں ہوئے تھے آج انقلاب کی برکت سے انکے سامنے ہیں ، اس نشست میں فی الوقت ، ایرانی ، بحرینی ، پاکستانی سبھی بھائی ایک ساتھ  حلقہ وار بیٹھے ہیں اور یوں ہم اپنی مشکلات کو ایک دوسرے کے سامنے رکھ سکتے ہیں “۔

۶۔ اسلامی امت کی بیداری

انقلاب کا ایک اور اثر جس نے امت مسلمہ پر راست طور پر اپنا اثر ڈالا اسلامی امت کا بیدار ہونا ہے جسکے بارے میں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : “الحمد للہ ، اس تحریک کے ذریعہ مسلمانوں کے سلسلہ سے  ہمیں یہ کامیابی حاصل ہوئی کہ  سب بیدار ہو گئے سب جاگ گئے سب آپس میں متحد و منسجم ہو گئے ایک دوسرے سے جڑ گئے ۔ ”

۷۔ مسلم ممالک کا دفاع

اسلامی انقلاب نے محض فلسطین ہی کے دفاع کی بات نہیں کی بلکہ جہاں بھی کسی مسلم ملک کو تاخت وتاز کا نشانہ بنایا گیا اسلامی انقلاب نے اسکے خلاف آواز اٹھائی ہے  چنانچہ سودیت یونین کی جانب سے افغانستان پر یلغار اور مشرق و مغربی ممالک کی افغانستان کی خود مختاری سے کھلواڑ کے پیش نظر امام خمینی نے فرمایا: ”ہم ایک بار پھر اپنے مظلوم و مسلمان افغانی بھائیوں کے ساتھ بے دریغ حمایت و پشت پناہی کا اعلان کرتے ہیں اور سرزمین افغانستان پر قبضہ کرنے والے قابضوں کی شدید مذمت کرتے ہیں ، ہم مسلمان ہیں اور ہمارے لئے مشرق و مغرب کی بات نہیں ہے ،ہم مظلوم کا دفاع کر رہے ہیں اور ظالموں کے خلاف بر سر پیکار ہیں یہ ایک اسلامی ذمہ داری ہے ”۔

۸۔ امت مسلمہ کی تقدیر پلٹنے کا سبب

اسلامی انقلاب کا ایک نتیجہ یہ رہا کہ اس انقلاب نے امت مسلمہ  کی  تقدیر کو پلٹ کررکھ دیا ، وہ ممالک جو سامراج کی اشاروں پر چلتے تھے انکی خودی بیدار ہونے لگی  خاص کر برسوں سے بڑی طاقتوں کے اشاروں کی تابع امت مسلمہ نے بڑی طاقتوں آر پار کے مقابلہ کی ٹھان لی اور یہ سب انقلاب ہی کے بل پر ممکن ہو سکا  امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :

”گزشتہ صدی گرچہ ہماری قوم ، اسلام اور ہمارے ملک کے لئے مصیبتوں کو ڈھونے کا سبب رہی ، لیکن اس صدی کے آخر میں  ایران کی اسلامی تحریک  آنے والی صدی میں امت اسلام کی تقدیر کے پلٹنے کا سبب ہوگی ، پوری امید ہے کہ  مشرقی ممالک خاص طور پر اسلامی ممالک پرچم توحید کے زیر سایہ اپنی خود مختاری اور اپنی آزادی کے لئے اپنی لڑائی کو جاری رکھیں گے تاکہ مغرب و مشرق کے فریبی چنگل سے نجات پیدا کر سکیں اور یہ صدی ، اسلامی ممالک کی نورانی صدی قرا پائے گی ”۔

۹۔ فلسطینیوں کی آرزو کا دفاع

اسلامی انقلاب نے جہاں انتفاضے کو ایک نئی جان دی وہیں فلسطینیوں کی آرزوں کی بھی حفاظت کی اور انکے مقاصد کو جلا بخشتے ہوئے ان آرزوں کا دفاع کیا جو فلسطینیوں کے دلوں میں پروان چڑھ رہی تھیں، امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ اس بارے میں فرماتے ہیں :

”ہم فلسطین کے دفاع کے سلسلہ سے جس طرح اس وقت آپ کے ہمراہ تھے ابھی بھی آپ کے ساتھ ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ہم مل جل کر بھائیوں کی طرح مشکلات کا مقابلہ کریں ، میں خدائے تبارک و تعالی کے حضور  اسلام و مسلمانوں کی عزت اور قدس کی طرف اپنے بھائیوں کے پلٹنے  کا خواستار ہوں ”۔

۱۰۔ فلسطین کے دفاع کو بین الاقوامی حیثیت بخشنا

انقلاب اسلامی کا ایک بڑا کارنامہ فلسطین کی حمایت اور ارض فلسطین کے دفاع کو بین الاقوامی سطح  پر پہنچانا ہے ،جسکے نتیجے میں آج دنیا کے گوشے گوشے سے فلسطین کے حق میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ اس بارے میں فرماتے ہیں :

”میں نے گزشتہ چند سالوں میں مسلسل غاصب اسرائیل کے خطرے کے سلسلہ سے مسلمانوں کو آگاہ کیا ہے . . . میں تمام عام مسلمانوں اور مسلمان ممالک سے گزارش کرتا ہوں کہ اس غاصب حکومت اور اسکی پشت پناہی کرنے والی طاقتوں  کے ہاتھوں کو چھانٹنے کے لئے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جائیں ایک دوسرے کے ساتھ ہو جائیں ، میں تمام مسلمانوں کودعوت دیتا ہوں کہ آخری ماہ مبارک رمضان کے جمعہ کو ،جو ایام قدر سے متعلق ہے اور فلسطین کی تقدیر کی تعیین کا سبب بن سکتا ہے یوم قدس کے طور پر انتخاب کرتے ہوئے بین الاقوامی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ مشترکہ تعاون کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر  مسلمان عوام کے قانونی حقوق کے سلسلہ سے اپنی حمایت کا اظہار کریں ۔ میں خدائے متعال سے مسلمانوں کی اہل کفر پر کامیابی کی دعاء کرتا ہوں ”۔

نوٹ : امام خمینی کے تمام بیانات  مجلہ حصون سے ماخوذ ہیں : مجله  حصون  زمستان ۱۳۸۳، شماره ۲

دستاوردهای انقلاب اسلامی از دیدگاه امام خمینی(ره)

سید نجیب الحسن زیدی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ی/۱۰۰۰۲