اسلامی جمہوریہ ایران میں دینی آزادی کے بارے میں ایک لبنانی چینل کی رپورٹ




ایران میں کلیساوں کے گھڑیالوں کی آوازیں بھی مساجد میں ہونے والی اذانوں کی آوازوں کے ساتھ سنائی دیتی ہیں۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، ایک لبنانی چینل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جس طرح اسلامی جمہوریہ ایران میں گلدستہ ہائے اذان سے اذانوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں ویسے ہی کلیساوں کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں اور عیسائی اسلامی جمہوریہ ایران کے دل اور مرکز میں آزادی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں کلیساوں کے گھڑیالوں کی آوازیں بھی ایران میں مساجد میں ہونے والی اذانوں کی آوازوں کی طرح سنائی دیتی ہیں ۔
فارس بین الاقوامی نیوز ایجنسی کی روپورٹ کے مطابق “المیادین نیوز چینل ” نے عشرہ فجر کے مناسبت سے انقلاب اسلامی کے مذہبی آزادی کے پہلو پر «ایران من الداخل» ’ایران اندر سے‘ کے تحت اپنے ثقافتی شو کے ایک حصہ میں علاقے کے ناظرین و مخاطبین کے لئے پروگرام پیش کیا جسکا مقصد ایران میں دیگر مذاہب کو حاصل آزادی کو پیش کرنا تھا ۔
المیادین نے گزشتہ جمعہ کی رات اپنی رپورٹ میں دکھایا کہ جس طرح ایران میں مساجد کی میناروں سے اذان کی آوازیں سنائی دیتی ہیں ویسے ہی چرچوں اور کلیساوں کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں ، عیسائی اسلامی انقلاب کے عہد میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قلب میں بغیر کسی روک ٹوک کے اپنے مذہبی امور کی انجام دہی میں آزاد ہیں اور انہیں اپنے کلیساوں کے گھڑیال بجانے میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہے ، ایک لاکھ عیسائی ، جن میں آشور ی و آرمینیائی وغیرہ شامل ہیں ایران میں مکمل آزادی کے ساتھ رہ رہے ہیں ، اور مسلمانوں کے بعد دوسرے مذہبی طبقے کے حامل ہیں۔
المیادین کی رپورٹ کے مطابق زردشتی جو کہ ایران کے قدیمی ادیان میں ایک ہیں اور زردشت دین کے ماننے والے ایران میں اب بھی زندگی بسر کر رہے ہیں اگرچہ انکی تعداد کم ہے لیکن ۳۰ ہزار سے پھر بھی انکی تعداد کم نہیں ہے انکے اپنے خصوصی مدارس ہیں ، خصوصی نشستیں ہوتی ہیں اور یہ ۳۰ ہزار زردشتی پورے ایران میں بکھرے ہوئے ہیں ۔
دین زردشت کے روحانی پیشو ا”اردشیر مینوکچی” نے المیادین سے کہا : ہم اسلامی جمہوریہ ایران میں اپنے مذہبی رسومات کو مکمل آزادی کے ساتھ انجام دیتے ہیں ، ہمیں حکومت کی حمایت حاصل ہے اور ہم اپنے مراسم کو مختلف اوقات میں بغیر مشکل کے انجام دیتے ہیں ، پارلیمنٹ میں بھی ہمارا ایک نمائندہ ہے ۔
المیادین نیٹ ورک کے تہران آفس کے انچارج ملحم ریا نے اپنی رپورٹ میں ایران میں مذہبی آزادی کے سلسلہ سے کہا یہاں دینی اقلیتیوں کو مکمل آزادی حاصل ہے بطور مثال زردشتیوں سے متعلق ایک معبد جسے سو سال سے بھی زائد عرصہ قبل تہران میں بنایا گیا تھا اور اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد بھی یہ پہلے ہی کی طرح اپنی خدمات کے سلسلہ کو جاری رکھےہوئے ،زردشتی دین کے پیرو کار بغیر کسی مشکل کے یہاں پر آج بھی اپنے مذہب کے مطابق عبادتوں کوانجام دیتے ہیں، یہ معبد تہران میں شاید ان سکیڑوں معابد میں ایک ہے جہاں مختلف مذاہب کے دینی مقامات پر متعلقہ مذہب کے دستور کے مطابق عبادتیں انجام پاتی ہیں۔
المیادین نے اپنی رپورٹ میں آگے اس بات کو بیان کیا کہ یہودیت بھی ایران میں موجود دیگر ادیان میں سے ایک ہے ، اور اسلامی جمہوریہ ایران اور صہیونی حکومت کی دشمنی کے برخلاف ایران میں یہودی اپنے مذہبی فرائض کو پوری آزادی کے ساتھ انجام دیتے ہیں اور کوئی انکی ممانعت نہیں کرتا ، حتی اپنے مدارس میں عبری زبان بھی سکھاتے ہیں ۔
المیادین کے بقول، ایرانی نظام ایران میں تمام آسمانی ادیان من جملہ یہود کو محترم قرار دیتا ہے اور یہودیوں اور صہیونی حکومت کے درمیان فرق کا قائل ہے ، ایران میں ۲۰ ہزار کے قریب یہودی آباد ہیں جنہوں نے ایران سے اپنی وفادار کا اعلان کیا ہے اور انکا بھی ایک نمائندہ پارلیمنٹ میں موجود ہے ۔
یہودی پادری یا ربانی یونس حمامی لالہ زار جو کہ یہودیوں کے عمائدین میں سے ایک ہیں المیادین سے گفتگو میں کہتے ہیں : ہم اپنے دینی مراسم میں آزاد ہیں ، ایران کے بنیادی دستور العمل نے ہمارے اس حق کو تسلیم کیا ہے ، ہم اپنے معبد میں جا کر عبادت کر سکتے ہیں اور ہمیں مکمل تحفظ حاصل ہے ۔
المیادین نے بیان کیا کہ ” ان یہودیوں کو محض حکومت ہی کی حمایت نہیں بلکہ ایرانی معاشرہ کا بھی تعاون حاصل ہے اور ایرانی عوام نے اس بات کو تسلیم کر لیا ہے کہ دینی نقطہ نظر میں اختلاف کی بنیاد پر آپسی اختلافات کو کنارے رکھ کر انکی حمایت کریں ۔
عباس خامہ یار بین الاقوامی اسلامی ثقافت و تعلقات عامہ کے ذمہ دار اور اسلامی جمہوریہ ایران کے مکزیک و آسٹریلیا میں سابق سفیر نے اس پروگرام میں شرکت کی اور اسلامی انقلاب کے ثقافتی مسائل کے بارے میں گفتگو کی ۔
قدیری ابیانہ نے المیادین چینل کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا اسلامی انقلابی ایک ثقافتی و فرہنگی انقلاب تھا ؟ جواب دیا کہ جی ہاں ایران کا انقلاب ایک ثقافتی و فرہنگی انقلاب تھا لیکن ایسا فرہنگی و ثقافتی انقلاب جو دین کی بنیادوں پر وجود میں آیا ، جو امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کی جانب سے جاری ہونے والی لوگوں کے لئے ہدایات پر مبتنی تھا ، دین و اسلام و قرآن کی بنیادوں پر مشتمل تھا ۔
قدیری ابیانہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: میں مثال دیکر واضح کروں کہ کس طرح امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ تعلیمات قرآنی کے مطابق چل رہے تھے ، خدا نے حضرت موسی علیہ السلام کے اوپر یہ ذمہ داری عائد کی کہ فرعون کے پاس جاو اور یہ حکم دیا کہ نرم لہجے میں فرعون سے بات کرو اسکے بعد دین کی طرف بلاو ، امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ نے بھی ایسا ہی کیا اور ابتداء میں شاہ کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا نرم لہجہ میں گفتگو کی اور پھر دینداری کی دعوت دی یہاں تک کے دونوں کے درمیان ٹکراو سخت ہو گیا ۔
قدیری بنانہ نے امام خمینی رح کی جانب کے فوجیوں کے ساتھ اختیار کئے گئے رویہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینی رضوان اللہ تعالی کا ہدف شاہ کی قید سے فوج کا آزاد کرنا تھا اس بات کو بیان کرتے ہوئے قدیری ابیانہ نے کہا: مجھے یاد ہے کہ ایک بار جب فوج کے جوان سڑکوں پر نکل آئے تو اس وقت” تودہ ”نامی کمیونسٹ پارٹی نے ایک اعلان عام شایع کرتے ہوئے لوگوں سے مطالبہ کیا کہ چھوٹے چھوٹے دھڑوں میں تقسیم ہو جائیں اور فوجیوں پر حملہ کر دیں اور فورسز کے جوانوں کو ہلاک کر دیں لیکن امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ نے ایک اعلان کیا کہ اگر کسی نے کسی فوجی بھائی کی جانب گولی چلائی تو لوگ اپنے سینے کو آگے تان کر اسکا استقبال کریں اور لوگوں کو روکیں کہ وہ فوج پر حملہ نہ کریں ، آپ یہ چاہتے تھے کہ شاہ کے ہاتھوں اسیر فوجیوں کو نجات دیں لہذا چاہتے تھے کہ فوج کو اپنی طرف مجذوب کریں اسکے بعد شاہ کے دور میں سکیورٹی کونسل نے اپنی ایک میٹنگ میں اس بات کا اعتراف کیا کہ فوجی جوان امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کے آگے بالکل ایسے پگھل گئے جیسے آفتاب کے سامنے سورج پگھل جاتا ہے ۔اسکے بعد دھیرے دھیرے آرمی کے لوگ لوگوں کی طرف کھنچتے چلے گئے یہاں تک کے فوج مکمل طور پرپیچھے ہٹ گئی لیکن اگر فوج لوگوں کے مقابل آ جاتی تو ہزاروں لوگ مارے جاتے ، فوج سے متصادم ہونے کا نظریہ اس شخص کا ہے جو چاہتا ہے کہ لوگوں کو نجات دے جبکہ اس دور کی حکومت نے امریکہ ، چین ، سودیت یونین اور عربی ممالک کی حمایت میں بہت ظلم کئے تھے ، المیادین کے اینکر ملحم ریا نے کہا جیسا کہ مجھے سمجھ آیا ہے انقلاب کی بنیادیں ثقافت و فرہنگ میں پیوست تھیں اور یہ ایک فرہنگی وثقافتی انقلاب تھا ،لیکن کیا یہ ثقافتی و فرہنگی پہلو اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد بھی آگے جاری رہا ؟
اس با ت کے جواب میں عباس خامہ یار نے کہا کہ مائکل فوکو نے جب تہران کا قصد کیا اور یہ شخصیت جب شہدا اسکوائر پہنچی وہ شہدا اسکوائر جسے پہلے ژالہ اسکوائر یا ژالہ میدان کہا جاتا تھا وہاں پہنچ کر سیاہ جمعہ کہے جانے والے دن کے بارے میں لوگوں سے نزدیک سے آشنا ہوئی کہ کس طرح لوگ شاہی حکومت کے خلاف کھڑے ہیں اور شہید ہو رہے ہیں تو اس شخصیت نے کہا کہ ایران بغیر روح کے ایک عالمی روح ہے ۔
عباس خامہ یار نے کہا کہ اس دور میں فوکو کا پورا اصرار نرم طاقت پر تھا اور فوکو نے یہ نرم طاقت ایران میں دیکھی ، یہ وہی نرم طاقت ہے جس نے اسلامی انقلاب کو کامیابی سے ہمکنار کیا ، اور اسلامی انقلاب کے لٹریچر میں اسے خون کی شمیشیر پر فتح کے عنوان سے جانا گیا ، اور اس نرم طاقت کی تجلی خون سے شمشیر پرفتح میں دکھائی دی ، پھر یہ نرم طاقت آگے بڑھی اور اب تک انقلاب کو سنبھالے ہوئے ہے ۔
عباس خامہ یار نے آزادی بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے باہر ایرانی حکومت شدید طور پر آزادی بیان کی مخالفت کے الزام کا سامنا کر رہی ہے جبکہ امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ بذات خود اقلتیوں کی آزادی کے موافق و حامی تھے ، اسلامی تعلیمات کے مطابق ایران پر ضروری و لازم ہے کہ ان تمام حقوق کی رعایت کرے جو ایران کے بنیادی دستور میں درج ہیں ، اسی طرح ایران کا بنیادی دستور العمل ۱۳، ۱۴، اور ۲۶ کی شقوں اور ۴۷ مادہ میں حقوق کی آزادی کو بیان کر رہا ہے ۔
عباس خامہ یار کے بقول ایران میں ۱۰ ہزار یہودیوں پائے جاتے ہیں اور ۷۰ کنائس یا انکی عبادت گاہیں ہیں ۳۲ فرہنگی و ثقافتی مراکز ہین پانچ یہودی مدارس ہیں ، جبکہ آرمینائیوں کے ۵ مدارس ہیں اور زردشتیوں کے ۳۶ مدرسے ہیں ، آرمینائیوں کے ۳۰۰ کلیسا ہیں آشوریوں کے ۶۵ کلیسا ہیں ، ان تمام اقلتیوں کے محلی اخبارات و روزنامے ہیں ، اور بسا اوقات یہ اپنے علماء کو باہر سے دعوت دے کر بلاتے ہیں لہذا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ان تمام اقلتیوں کی صورت حال ہرگز ایسی نہیں ہے جس کے چلتے دنیا میں اسلام ہراسی یا اسلام فوبیا کا پروپیگنڈہ کیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍گ؍۱۰۰۰۲