تکفیریت کے مذہبی جنون کے شکار معصوم بچے اور حقوق انسانی کی تنظیموں کی بے حسی




اوراس ظالم کی دلوں کو دہلا دینے والی کرتوت سے ایک بار پھر جناب علی اصغر علیہ السلام کی شہادت کا منظر نظروں کے سامنے گھوم گیا سچ ہے آج بھی یزیدیت کو حسینت سے ڈر لگتا ہے آج بھی اصغر کے سامنے حرملا کے پاس تین بھال کے تیر کے سوا کچھ نہیں اور یہ حسینیت کی جیت ہے ۔



خیبر صہیون تحقیقاتی مرکز: تکفیریت وہابیت کے مظالم یوں تو کسی سے پوشیدہ نہیں، بارہا انہوں نے ایسے دردناک مناظر اپنے جنونی طرز فکر کی بنیاد پر رقم کئے ہیں جنہیں دیکھ کر دنیا انگشت بہ دانداں رہ گئی کہ واقعی یہ رسول رحمت کو ماننے والے ہیں؟ کیا واقعی یہ اس رسول کو مانتے ہیں جو اپنوں ہی کے لئے نہیں عالمین کے لئے رحمت بن کر آیا تھا[۱] ، کیا واقعی یہ اس قرآن کو مانتے ہیں جس کا اعلان ہے ایک انسان کا قاتل پوری انسانیت کا قاتل ہے [۲]؟ لیکن اس بار تکفیری ذہن کے پروردہ ایک مذہبی جنون میں گرفتار نے وہ کر دیا جس پر ہر انسان حیرت و تعجب سے پوچھ رہا ہے کہ کیا ایک ماں کے سامنے اسکے بچے کو ذبح کر دینے والا صاحب دل نہیں تھا کیا وہ انسان کہے جانے کے لائق ہے جس نے محض شیعہ ہونے کے جرم میں ایک معصوم بچے پر رحم نہ کیا ،گزشتہ دنوں سفاکیت کی نئی مثال رقم کرتے ہوئے سعودی عرب میں جو کچھ ہوا اس نے ہر صاحب احساس کو ہلا کر رکھ دیا ہے خبروں کے مطابق سعودی عرب میں چھ سال کے معصوم شیعہ بچے کو جو اپنی ماں کے ساتھ مدینہ منورہ میں مسجد النبی اور روضہ رسول کی زیارت کے لئے جارہا تھا جسے انتہائی بے رحمانہ و بہیمانہ طریقے سے شہید کردیا گیا۔موصولہ خبروں کے مطابق سعودی عرب کے مشرقی علاقے الاحساء کے چھ سالہ زکریا بدر علی الجابر کو جو اپنی ماں کے ساتھ مدینہ منورہ میں مسجد النبی کی زیارت کے لئے جارہا تھا مدینہ منورہ کے ہی حل التلاس محلے میں ایک وہابی شخص نے بہیمانہ طریقے سے قتل کردیا یہ واقعہ اپنی نوعیت کا ایسا واقعہ ہے کہ حیرت و استعجاب میں غرق انسان نہیں سمجھ پاتا کہ کیا واقعی ایسا ممکن ہے کہ کچھ لوگ اتنے سفاک ہو جائیں کہ مذہب کی بنیاد پر ایک معصوم بچے کی جان لینے سے بھی گریز نہ کریں۔اس خبر پر یقین کرنا بہت دشوار تھا اگر اسکی نہ جھٹلائی جانے والی تفصیلات عام نہ ہوئی ہوتیں چنانچہ جو کچھ مختلف جرائد و رسائل اور ویب سائٹس کے ذریعہ معلوم ہواسکے بموجب بچے پر حملہ آور شخص نے قریب کی دوکان کے شیشے کو توڑ کر اس کے ایک ٹکڑے سے معصوم شیعہ بچے کا گلا اس کی ماں کی نگاہوں کے سامنے کاٹ دیا ۔

اوراس ظالم کی دلوں کو دہلا دینے والی کرتوت سے ایک بار پھر جناب علی اصغر علیہ السلام کی شہادت کا منظر نظروں کے سامنے گھوم گیا سچ ہے آج بھی یزیدیت کو حسینت سے ڈر لگتا ہے آج بھی اصغر کے سامنے حرملا کے پاس تین بھال کے تیر کے سوا کچھ نہیں اور یہ حسینیت کی جیت ہے ۔

کتنا عجیب ہے کہ دنیا میں اگر کہیں کسی اقلیت پر ظلم ہوتا ہے تو حقوق بشر کے نقارے بجنے لگتے ہیں لیکن سعودی عرب میں مسلسل انسانی حقوق کی پامالی کی جارہی ہے لیکن تیل کی دولت نے زبانوں پر تالے چڑھا دئے ہیں اور ساری دنیا میں انسانیت کی آزادی اور حقوق انسانی کا دم بھرنے والی سپر پاور طاقت سعودی عرب کے تمام پر مظالم کو نظر انداز کر کے اسکی مسلسل پشت پناہی کر رہی ہے

مبصرین و تجزیہ نگار مسلسل سعودی عرب میں شیعوں کے حقوق کی دہائی دے رہے ہیں لیکن کوئی سننے والا نہیں ہے اگر سعودی عرب میں شیعہ آبادی کا ایک سروے کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یوں تو ہر جگہ ہی شیعہ ہونا سعودی عرب میں ایک جرم ہے لیکن خاص کر سعودی عرب کے مشرقی علاقے الاحسا کے شیعہ مسلمانوں کو سعودی حکومت نے محرومیت اور پسماندگی کا پوری منصوبہ بندی کے ساتھ شکار بنا رکھا ہے اور انہیں پنپنے کا موقع نہیں دے رہے ۔جبکہ سعودی عرب کے شیعہ مسلمان حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اپنے مظاہروں کے دوران ہمیشہ اس بات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ شیعہ مسلمانوں کے خلاف سیاسی اور معیشتی بھید بھاو و امتیازی رویّے کو ختم کرے لیکن سعودی عرب میں شیعوں پر ہونے والے مظالم پر ساری دنیا خاموش ہے اور اسے نہیں دکھتا کہ کس طرح مسلسل ایک فرقے کے حقوق کو سعودی عرب میں ضائع کیا جا رہا ہے ۔ شہید زکریا کے بارے میں ابھی تک صحیح اور مکمل معلومات تو نہی فراہم ہو سکی ہیں البتہ خبروں میں کہا یہ بھی گیا ہے کہ چھ سالہ زکریا بدر علی الجابر اپنی ماں کے ساتھ زیارت کی غرض سے مشرقی سعودی عرب کے ’’الاحساء‘‘ نامی علاقے سے مدینۂ منورہ آیا تھا۔ جس وقت اسکی ماں اسے لے کر ایک ٹیکسی میں سوار ہوئی اور سوار ہونے کے بعد ذکر صلوات زبان پر جاری کیا تو اسے سن کر ٹیکسی ڈرائیور نے اس سے شیعہ ہونے کے بارے میں پوچھا۔ جب اسے ’’ہاں‘‘ میں جواب ملا تو اس نے ایک دکان پر جا کر ایک شیشے کی بوتل لی، اسے توڑا اور اس سے گاڑی میں بیٹھے چھ سالہ نونہال کو اسکی ماں کے سامنے ذبح کر ڈالا۔یہ وحشیانہ اور دل دہلانے والا واقعہ مدینۂ منورہ کے علاقے ’’حل التلال‘‘ میں پیش آیا۔اس واقعے کے شاہدین نے اسے تلخ اور ہولناک قرار دیا ہے۔زکریا کی ماں دل کی بیماری میں مبتلا ہے،جب اس نے اپنے بیٹے کو اپنی نگاہوں کے سامنے ذبح ہوتے دیکھا تو اسے غش آگیا اور وہ کوما میں چلی گئی۔زکریا کے نانا ناصر الفائز نے سعودی اخبار الیوم کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ انکی بیٹی جدہ میں کام کرتی ہے اور وہ زیارت رسول (ص) کی غرض سے مدینہ آئی تھی اور اسے اس ہولناک واقعے سے روبرو ہونا پڑا! سبق اخبار سمیت بعض ذرائع نے اس قاتل ڈرائیور کو ایک دیوانہ وہابی بتایا ہے۔ خبروں کے مطابق شیعہ ہونے کی بنیاد پر دردناک انداز میں شہید ہونے والے اس معصوم کی تشیع جنازہ میں سیکڑوں لوگوں نے نم آنکھوں کے ساتھ شرکت کی اور مدینۂ منورہ کے معروف شیعہ عالم دین حاج شیخ کاظم العَمری اس معصوم نونہال کے جنازے پر حاضر ہوئے اور انہوں نے وہاں حاضر مومنین کے مجمع میں جناب علی اصغر علیہ السلام کے مصائب پڑھے۔اس معصوم بچے کی تشیع جنازہ میں میں عوام کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اور ہر ایک نے اس معصوم بچے کی شہادت پر اپنے اپنے انداز میں خراج عقیدت پیش کیا جسکی بنا پر اس موقع پر جہاں جذباتی اور رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے وہیں یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ تشیع جنازہ میں شریک لوگوں نے تکفیری عناصر اور انکی پشت پناہی کرنے والے ممالک کی مذمت میں نعرے لگا کر اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا خاص کر ان ممالک میں سرفہرست سعودی عرب، امریکا اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے لگائے گئے جو اس بات کی علامت تھے کہ لوگ خوب پہچان رہے ہیں کہ انسانیت کے خون کے پیاسوں کو پال پوس کر کون پروان چڑھا رہا ہے اور انکے درپردہ کون سے ممالک اسلام کو بدنام کرنے کی اپنی سازش کو عملی کر رہے ہیں ۔ا گرچہ زکریا کی حالیہ شہادت کا واقعہ اپنی نوعیت میں بہت حساس و دلدوز ہے لیکن تکفیریت کی تاریخ دیکھی جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ معصوم بچوں کو نشانہ بنایا جایا سعودی عرب میں کوئی نیا کام نہیں ہے نہ جانے کتنے ہی بچوں کو اس دیا موت کی نیند سلا دیا گیا مسلسل یمن پر بمباری کرکے سیکڑوں بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے ، یہ تکفیریت و وہابیت کا پرانا شیوہ رہا ہے کہ عقل و منطق کی بنیادوں پر جب انکے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا تو وہ معصوموں کا قتل عام کرتے ہیں ، کل حسین علیہ السلام کے انکار بیعت کا جواب نہیں تھا تو علی اصغر علیہ السلام کے تبسم کے مقابل حرملا کا تیر چلا آج دنیا میں شیعت کے بلند ہوتے قد کے سامنے یہ تکفیری بونے نظر آئے تو انہوں نے اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شہید زکریا کو ماں کے سامنے ذبح کر دیا ، لیکن حسینت نہ کل یزیدیت کے سامنے جھکی تھی نہ آج جھکی ہے ۔ لیکن دنیا کو سوچنا چاہیے کہ خطرناک فکر جو معصوم بچوں تک کو نہیں چھوڑتی کیوں کر مسلسل پنپ رہی ہے اور اسکے پیچھے کون سے محرکات ہیں جو اس فکر کو ختم کرنے کے بجائے مسلسل اسے مالی مدد فراہم کر رہے ہیں اور عالمی سامراج اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے ۔ یہ محض سعودی عرب کی بات نہیں ہے یہ بے رحم فکر ہر جگہ معصوم بچوں کے قتل میں ملوث نظر آ رہی ہے چنانچہ آپ مسلسل یہ خبروں میں سنتے رہتے ہیں کہ آج اسکول جاتی ہوئی فلاں بس پر سعودی اتحاد کے طیاروں نے حملہ کر کے یونیفارم پہنے ہوئے بچوں کو موت کی آغوش میں سلا دیا تو ،فلاں دن کسی اسکول پر بمباری کر کے وہاں کے پورے اسٹاف اور بچوں کا قتل عام کر دیا ،اور فلاں دن افغانستان میں قرآن پڑھنے گئے بچوں پر امریکہ نے بمباری کر کے ابدی نیند سلا دیا یہ سارے ہی مظالم ایک ہی فکر کا نتیجہ ہے ، تکفیریت اور وہابیت اور اسکے درپردہ یہودی عزائم کو دیکھا جا سکتا ہے ۔ آپ نے کچھ دنوں قبل سناہوگا کہ یمن کی انقلابی سربراہ کمیٹی نے صاف طور پر یمن میں ہونے والے بچوں کے قتل عام پر امریکہ کو اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے چنانچہ خبروں میں ہے کہ یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی نے صوبہ صعدہ میں اسکولی بچوں کی بس پر سعودی جنگی طیاروں کے وحشیانہ حملے اور دسیوں معصوم بچوں کی شہادت کا ذمہ دارامریکا کو قراردیا ہے ۔

یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے کچھ عرصہ پہلے صوبہ صعدہ کے شہر ضحیان میں سعودی جنگی طیاروں کے حملے میں شہید ہونے والے معصوم اسکولی بچوں کی تدفین کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ سعودی عرب کو چونکہ امریکا اسلحہ فراہم کررہا ہے اور جو بم ان بچوں کی بس پر گرائے گئے وہ امریکا کے دئے ہوئےتھے اس لئے اس انسانیت سوز جرم کا اصل ذمہ دار امریکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضحیان میں بچوں کا قتل عام جاپان اور دیگر ملکوں میں امریکی جرائم کی ہی تکرار ہے۔

یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے کہا کہ یمن کے اسکولی بچوں کی بس پر حملہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی دہشت گردانہ ماہیت کو اجاگر کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی وزارت خارجہ اس قتل عام کا حکم نہ دیتی تو کنٹرول روم میں بیٹھے سعودی عرب اور امریکا کے فوجی افسران اس وحشیانہ جرم کا ارتکاب نہ کرتے ۔لیکن افسوس آج ان بے چاروں کو ہی مجرم بنا کر پیش کیا جا رہا جو مسلسل سعودی عرب و امریکہ اور اسکے حلیف ممالک کی جارحیت کا شکار ہو رہے ہیں ، انہیں کو دہشت گرد بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جو اپنی ہی سر زمین کے لئے لڑ رہے ہیں ، سعودی عرب ہو یا یمن مسلسل بچوں پر یلغار ہو رہی ہے اور انسانی حقوق کی علمبرار تنظمیں خاموش تماشائی ہیں ، سوچیں اگر یہی واقعہ خدا نخواستہ ایران یا شام میں ہوتا تو دنیا کے ذرائع ابلاغ کی حالت کیا ہوتی چوبیس گھنٹے اسی حادثہ پر پروگرام پیش کئے جاتے ، انسانیت خطرے میں ہے ، بشریت کا مستقبل خطرے میں ہے کہ نعروں کے ساتھ زبردست نیوز کورنگ ہوتی لیکن یہ حادثہ چونکہ سعودی عرب میں ہوا ہے اور سعودی عرب اس وقت استعمار کا بڑا حلیف و ہمنوا ہے اس لئے ہر طرف خاموشی ہے ، سچ کہا ہے آیت اللہ صافی گلپائیگانی نے اپنے پیغام میں کہ “کیا بین الاقوامی برادری کی اس واقعہ پر خاموشی اس کام کو جائز قرار دینے کی علامت نہیں ہے ؟ کیا اپنی خاموشی کے ذریعہ اس دلخراش حادثہ کی وہ تائید عالمی برادری تائید نہیں کر رہی ہے “[۳] عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی بے حسی کے بتا رہی ہے کہ انہیں صرف اپنے مفادات سے غرض ہے نہ انہیں انسانی حقو ق کے تحفظ سے کچھ لینا دینا ہے نہ انسانیت کے مجرموں سے کوئی غرض ہے انکی نظر میں مجرم وہ ہے جو انکے مفادات کو نقصان پہنچائے ، انکی نظر میں مجرم وہ ہے جو حق کہے اور اس پر ڈٹا رہے کہ حق کہنے اور حق پر ڈٹا رہنے سے انکی ساری پول کھل جاتی ہے ،لہذا کہا جاسکتا ہے معصوم بچوں کے قتل میں جتنا ہاتھ تکفیری عناصر کا ہے اتنا ہی ہاتھ ان نام نہاد تنظیموں کا ہے جو دنیا میں انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹتی ہیں لیکن جب انسانی حقوق کی کوئی کھلم کھلا مخالفت ہو اور اسکے خلاف بولنا انکے مفاد میں نہ ہو تو انہیں سانپ سونگھ جاتا ہے۔

تحریر : سید نجیب الحسن زیدی

[۱] ۔وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ، انبیاء ۱۰۷

[۲] ۔نْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا ۳۲ مائدہ

[۳] ۔https://www.isna.ir/news/97112110956/

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍ت؍۱۰۰۰۲