صہیونی ریاست کی مسجد اقصیٰ میں یہودی معبد کی تعمیر کی تیاری




جمال عمرو کا کہنا تھا کہ صہونی دشمن نے اپنے ناپاک قدم قبلہ اول کے اندر رکھ دیئے ہیں۔ قبلہ اول کی بنیادوں کے اندر کھدائی کی جا رہی ہے۔ مسجد اقصیٰ کے اطراف میں اب تک ایسے ۱۹۰ معبد بنائے جا چکے ہیں۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، مسجد اقصیٰ کے خلاف صہیونی ریاست کی جاری سازشوں میں ایک نئی اور خطرناک سازش کا انکشاف کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی ریاست مسجد اقصیٰ کے وسط میں مذہبی اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک معبد کی قیام کی تیاری کررہی ہے۔

القدس امور کے فلسطینی تجزیہ نگار جمال عمرو نے بتایا کہ مسجد اقصیٰ کا ‘باب الرحمۃ’ اس وقت صہیونی ریاست کے آہنی قبضے میں ہے۔ہم ایک بڑے سانحے کی طرف بڑھ رہےہیں۔ وہ سانحہ مسجد اقصیٰ کے وسط میں یہودی معبد کے قیام کی سازش ہے۔ صہیونی ریاست نے اس معبد کے لیے’باب الرحمۃ’ ہی کا نام تجویز کیا ہے۔

جمال عمرو کا کہنا تھا کہ ہم چاہیں یا نہ چاہیں مگر صہیونی ریاست باب الرحمۃ کو نیا باب مغاربہ بنانا چاہتا ہے۔ مسجد اقصیٰ کے اندرونی حصے اور باب الرحمۃ کے باہر ۱۲ ہزار میٹر کا رقبہ قبضے میں لیا گیا ہے۔ اس جگہ سے گذرنے والے کسی بھی فلسطینی کو حراست میں لے لیا جاتا ہے۔

جمال عمرو کا کہنا تھا کہ صہونی دشمن نے اپنے ناپاک قدم قبلہ اول کے اندر رکھ دیئے ہیں۔ قبلہ اول کی بنیادوں کے اندر کھدائی کی جا رہی ہے۔ مسجد اقصیٰ کے اطراف میں اب تک ایسے ۱۹۰ معبد بنائے جا چکے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍خ؍۱۰۰۰۳