وارسا یا عرب اسرائیل کانفرنس؟





خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ نے تمام عرب ملکوں کے وزرا خارجہ کو فردا فردا فون کرکے ان کی شرکت کو یقینی بنایا لیکن کسی بھی یورپی ملک کو سوائے عام دعوت کے فون کرنا ضروری نہیں سمجھا ،کیونکہ اصل مقصد شائد یہ تھا کہ عرب اور نتن یاہو ایک ساتھ بیٹھیں ،بات کریں مسکرائیں کھائیں اور پئیں ۔
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں اس کانفرنس کو اپنے ملک کی خارجہ پالیسی میں ایک انقلاب قرار دیا ۔
نیتن یاہو نے اس کانفرنس میں اعلیٰ سطحی عرب وفود کی شرکت کا پرزور انداز میں خیرمقدم کیا ہے۔
انہوں نے کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے کہا کہ یہ علاقائی ترجیحات میں تبدیلی کا واضح مظہر ہے۔
جن تبدیلیوں کی وہ بات کررہا ہے اس سے مراد عربوں کی جانب سے اسرائیل کی جانب بڑھائے جانے والے دوستی اور خیر سگالی کے ہاتھ ہیں ۔
اس سے پہلے وہ بدھ کے روز پہلی باراسرائیلی عوام سے کہہ چکا تھا کہ ان کے دور حکومت میں اسرائیل اور متعدد خلیجی ریاستوں کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ پولینڈ میں منعقد ہونے والی مشرقِ وسطیٰ کانفرنس ان تعلقات میں مزید بہتری کا پیشہ خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
کچھ جھلکیاں
وارسا کانفرنس میں جرمنی اور فرانس کی نمائندگی وزیر کی سطح پر نہیں کی گئی ہے۔
اسی طرح یورپی یونین کی خارجہ امور کی چیف فیدریکا موگرینی بھی وارسا کانفرنس میں شریک نہیں ہیں۔ یورپی سفارت کاروں اور تجزیہ کاروں نے اہم یورپی اقوام کی عدم شرکت کو غیر معمولی قرار دیا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اس کانفرنس کو استہزائیہ انداز میں ’وارسا سرکس‘ کا نام دیا ۔
وارسا کانفرنس کا اہتمام اُسی روز کیا گیا ہے جب روسی بندرگاہی شہر سوچی میں ایران، ترکی اور روس کے صدور شام کی تازہ ترین صورت حال پر غور و خوص کرہے تھے ۔
اس کانفرنس میں جو کہ مشرق وسطی امن کے نام پر ہورہی تھی اہم اور سلگتا موضوع فلسطین تقریبا غائب تھا
یمنی خودساختہ وزیرخارجہ خالد الیمنی کانفرنس میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ والی نشست پر بیٹھنے کو لیکر کڑی تنقید کا سامنا کررہے ہیں
جبکہ نتن یاہو کے دفتر نے بند کمرہ گفتگو کی کچھ ا کلیپس بھی منظر عام پر لے آیا جس نشر کرنے کے بعد فورا ڈیلیٹ کردی گئی لیکن وہ پھیل چکیں تھی ۔
ان کلیپس میں فلسطین کے بارے بحرینی سعودی اور اماراتی وزرا خارجہ کو کہتے سنا جاسکتا ہے کہ فلسطین اصل ایشو نہیں بلکہ ایران ہے ۔
یوں لگ رہا تھا کہ وہ نتن یاہو کو راضی رکھنے کی دوڑ میں لگے ہوئے تھے ۔
عرب تجزیہ کار کہتے ہیں کہ وارسا کانفرنس کا دلہا اصل میں نتن یاہو تھا جبکہ عرب وزرائے خارجہ دلہا کے ہمنوااور پروٹوکول آفیسرزبنے ہوئے تھے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍گ؍۱۰۰۰۳