قریب الموت امریکی ریاست کے تابوت میں آخری کیل کون ٹھونکے گا؟




ریاست ہائے متحدہ امریکہ زخمی جانور ہے جو سکرات موت (death throes) کی حالت میں دھاڑ رہا ہے اور ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ یہ ملک اپنے آپ کو بہت بڑے نقصانات پہنچا سکتا ہے لیکن وہ ان نقصانات اور اپنے اوپر لگے زخموں سے صحت یاب نہیں ہوسکتا۔ یہ امریکی سلطنت کے اذیت ناک آخری ایام ہیں۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، امریکہ پر حکومت کرنے والی اشرافیہ نہایت کربناکی سے اس حقیقت کو سمجھ چکی ہے کہ امریکی طاقت سڑ چکی ہے اور اس کی طاقت کی بنیادیں ہل چکی ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ امریکہ کے پیدواری مراکز کی بیرون ملک منتقلی اور ملک کی نصف آبادی کی شدید غربت میں ابتلا کا ازالہ ممکن نہیں ہے۔
حکومت کی خودتباہ کن (self-destructive) بندش ان بےشمار حملوں میں سے ایک ہے جو انتظامی شعبے کی افادیت کو نشانہ بنائے ہوئے ہے۔ راستے، پل اور عمومی حمل و نقل کا نظام ویرانی کی طرف جارہا ہے، جس کی وجہ سے تجارت اور مواصلات کو مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومتی خسارہ مسٹر ٹرمپ کی طرف سے کمپنیوں پر عائد ٹیکس میں شدید کمی کے باعث ایک ہزار ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جس کی تلافی ممکن نہيں ہے۔
مالیاتی نظام پر عالمی سٹہ بازوں کا قبضہ ـ جلدی یا بدیر ـ ایک نئی مالیاتی شکست و ریخت (meltdown) کی دہائی دے رہا ہے۔ جمہوری اداروں کا فساد و انہدام ـ جو ڈونلڈ ٹرمپ جیسے دغاباز فنکاروں کو اقتدار کی چوٹی تک پہنچاتا ہے اور کمپنیوں کے مفادات کے پابند جو بائڈن اور نینسی پلوسی جیسے نااہل سیاستدانوں کو ان کے متبادل کے طور پر متعارف کراتا ہے، ـ ایک نئی مطلق العنانیت کو جنم دے کر مستحکم کر رہا ہے۔ حکومت کے ستون ـ منجملہ سفارتکاری کے کارگزار ـ نیز قانون ساز ادارے کھوکھلے ہوچکے ہیں لہذا صرف اور صرف ننگی عسکری قوت کو بیرونی اختلافات پر رد عمل ظاہر کرنے کے لئے میدان میں چھوڑ دیا گیا اور امریکہ کا گرتا پڑتا نظام صرف نہ ختم ہونے والی غیر مفید جنگوں کو ایندھن فراہم کررہا ہے۔
اندرونی انحطاط بھی بالکل بیرونی زوال کی طرح خوفناک ہے۔ تمام معاشرتی طبقات میں حکومت پر عدم اعتماد، وسیع البنیاد اداسی اور مایوسی، برآوردہ نہ ہونے والی توقعات کی وجہ سے جمود اور الجھاؤ، تلخی اور توہمات اور حقائق کی ایک آمیزش نمایاں ہو چکی ہے اور صورت حال یہ ہے کہ سیاسی اور شہریتی گفتگو کی جڑیں حقائق میں پیوست نہیں ہیں۔
روایتی اتحادیوں نے امریکہ کو تنہا چھوڑ دیا ہے اور ـ بالخصوص ماحولیاتی ـ المیوں سے نمٹنے میں بےبسی، منطقی اور دوراندیشانہ سیاست کے اعلان سے عاجزی کی وجہ سے وہ طاقت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہے جو امریکہ کے لئے سرمایہ حیات تھی۔ جارج آرول (George Orwell) لکھتے ہیں: “ایک معاشرہ اس وقت مطلق العنان ہوجاتا ہے جس کا ڈھانچہ بری طرح مصنوعی بن جاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب اس معاشرے کا حکمران طبقہ اپنی کارکردگی کھو بیٹھتا ہے لیکن طاقت اور دھاندلی اور حیلہ گری اور مکاری کے ذریعے اقتدار پر براجماں رہتا ہے”۔ ہماری اشرافیہ ـ عرصہ ہوا کہ ـ دھوکہ دہی اور مکاری میں اپنی انتہا تک پہنچ چکی ہے اور طاقت کا استعمال وہ واحد ذریعہ ہے جو ان کے ہاتھ میں باقی ہے۔
ریاست ہائے متحدہ امریکہ زخمی جانور ہے جو سکرات موت (death throes) کی حالت میں دھاڑ رہا ہے اور ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ یہ ملک اپنے آپ کو بہت بڑے نقصانات پہنچا سکتا ہے لیکن وہ ان نقصانات اور اپنے اوپر لگے زخموں سے صحت یاب نہیں ہوسکتا۔ یہ امریکی سلطنت کے اذیت ناک آخری ایام ہیں۔
مہلک ضرب تب اس کے پیکر پر لگے گی جب ڈالر عالمی زر مبادلہ کے طور پر زوال پذیر ہوگا، اور ڈالر کے زوال کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ ڈالر کی تیزرفتار زوال پذیری شدید ترین کساد بازاری کا سبب فراہم کرے گی اور یہ کساد بازاری امریکہ کی بیرون ملک فوجی موجودگی کے فوری انقباض اور سکڑاؤ (contraction) کا تقاضا کرے گی۔
سیتھ اے کلیرمین (Seth Andrew Klarman) احتیاطی امدادی فنڈ ” باو پوسٹ گروپ” (Baupost Group) کے منتظم ہیں اور ان کا ادارہ ۲۷ ارب ڈالر کا مالک ہے؛ انھوں نے حال میں گریہ و زاری سے بھرپور ۲۲ صفحات پر مشتمل خط لکھ کر اپنے سرمایہ کاروں کے لئے بھجوا دیا ہے۔ انھوں نے اپنے خط میں اشارہ کیا ہے کہ ملک کے حکومتی قرضہ جات کی شرح سنہ ۲۰۰۸ع‍ سے سنہ ۲۰۱۷ع‍ تک، مجموعی ملکی پیداوار ۱۰۰ فیصد سے تجاوز کرچکی ہے اور یہ شرح کینیڈا، فرانس، برطانیہ اور اسپین کی شرح کے قریب پہنچ چکی ہے۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ قرضوں کا یہ بحران اگلے مالیاتی بحران کے لئے “بیج” کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ وہ عالمی سطح پر “سماجی پیوستگی” (social cohesion) کے بکھراؤ کو مسترد کرتے ہوئے لکھتے ہیں: “احتجاجات، بغاوتوں، اور بڑھتی ہوئی سماجی کشیدگیوں کے بیچ کاروبار ہمیشہ کی طرح جاری نہیں رہ سکتا”۔
انھوں نے مزید لکھا ہے: “کوئی بھی ایسا راستہ نہیں ہے جس سے اس حقیقت کا صحیح اندازہ لگایا جاسکے کہ قرضوں کی مقدار کس قدر بڑھ چکی ہے، لیکن یہ طے ہے کہ امریکہ افراط زر کے نقطے تک پہنچ جائے گا جس میں قرضوں کی منڈی ہمیشہ سے زیادہ بدگمان ہوگی، کیونکہ ہمیں ایسی شرح سود پر قرضہ نہیں دیا جائے گا جس کی ادائیگی سے ہم عہدہ برآ ہوسکیں۔ جس وقت اس قسم کا بحران ظہور پذیر ہوگا، تو امکان یہ ہے کہ ہم اپنے گھر کے حالات سنوارنے میں کافی دیر کرچکے ہوں اور یہ گھر [ملک] سنبھالنا بھی دشوار ہوچکا ہوگا”۔
حکمران اشرافیہ عنقریب رونما ہونے والے مالیاتی بحران سے فکرمند ہوکر قانون کی مشکل اور سختگیرانہ روشوں کو نافذ کرنا چاہتے ہیں، تا کہ اس مسئلے کا سد باب کرسکیں جو ان کے خیال میں عمومی بےچینی کا سبب بن سکتا ہے؛ وہ اسی واقعے کا راستہ روکنا چاہتے ہیں جس کی ابتدائی صورت امریکی اساتذہ کی ہڑتالوں اور فرانسیسی پیلی واسکٹوں والوں کے احتجاج میں دکھائی دے رہی ہے۔
نولبرالیت (Neo-liberalism) وہ نظریہ ہے جس کو حکمران اشرافیہ تسلیم کرتی ہے، لیکن یہ نظریہ سیاستدانوں اور سیاسی کارکنوں کے ایک طبقے کے اندر غیر معتبر ہوچکا ہے۔ یہ صورت حال معاشرے کی اشرافیہ کو مجبور کررہی ہے کہ نوفسطائیوں (neo-fascists) ـ کے ساتھ ـ جن کی قیادت دائیں بازو کے قدامت پسندوں کے ہاتھ میں ہے ـ ناخوشایند اتحاد قائم کریں۔ یہ عیسائی شدہ فسطائیت (Christianized fascism) وسیع سطح پر ٹرمپ کے پیدا کردہ اعتقادی خلا کو پر کررہی ہے۔ یہ آئیڈیالوجی ـ نائب صدر مائیک پینس (Mike Pence)، وزیر خارجہ مائیک پامپیو (Mike Pompeo)، ٹرمپ کے نامزد کردہ سپریم کورٹ کے ایسوسی ایٹ جسٹس بریٹ کاوانو (Brett Kavanaugh) اور وزیر تعلیم بیٹسی ڈیواس (Betsy DeVoss) جیسے چہروں میں ـ مجسم ہوچکی ہے۔
جس وقت معیشت بحران سے دوچار ہورہی ہوتی ہے، جو چیز نہایت زہریلے انداز سے ابھر کر سامنے آتی ہے یہ ہے کہ یہ عیسائی فسطائیت معاشرے میں سے ـ انجیل کی تحریف شدہ اور بدعت آمیز تفسیر کی بنیاد پر، ـ مسلمانوں، پناہ گزینوں، فنکاروں اور دانشوروں کا قلع قمع کرتے ہوئے سرخ فام امریکیوں، اور نادار غیر سفید فام باشندوں میں سے چنے گئے “مجرموں” ـ کا صفایا کرنے نکلے گی ان پر سماجی جرائم پیشگی کا الزام لگائے گی، بہت سے جرائم کے لئے سزائے موت کو لازمی قرار دے گی۔ تعلیم و تربیت کا شعبہ، تاریخ سے سفید فاموں کی بالادستانہ تصور، دماغ شوئی (Brainwashing) یا ذہنی طرح بندی (intelligent design آفرینش ہوشمند یا ذہنی نمونہ سازی) کے تحت قرار پائے گا۔ جدید امریکہ کے مقدس ہڑوار کے سورما انیسویں صدی کی امریکی خانہ جنگی میں شمالی ورجنیا کے کمانڈر جنرل رابرٹ ای۔ لی (Robert Edward Lee)، سنہ ۱۹۵۰ع‍ کے عشرے کے امریکی سینیٹر جوزف آر۔ مکارتھی (Joseph Raymond McCarthy) اور سنہ ۱۹۶۹ع‍ سے سنہ ۱۹۷۴ع‍ تک امریکی صدر رہ کر واٹر گیٹ کی رسوائی کے نتیجے میں استعفا دینے والے صدر رچرڈ ایم۔ نکسن (Richard Milhous Nixon) جیسے لوگ ہونگے اور ریاست و حکومت سفید فام اکثریت کو مظلوم اور ہمیشہ نشانہ بننے والے طبقے کے طور پر نمایاں کرے گی۔
عیسائی فسطائیت مطلق العنانیت کی تمام دوسری اشکال کی طرح اپنے آپ کو ایک قے آور تقویٰ، امید افزا اخلاقی نیز جسمانی تجدید کے لبادے میں لپیٹ کر پیش کرے گی۔ ثقافتی زوال جنسی جنون، ننگے تشدد اور افیونی دواؤں اور شراب نوشی کی لت، خودکشی، جوابازی وغیرہ کی عادت و آفت میں مبتلا فردی نااہلی کی تکریم و تعظیم اور ان مسائل کے ساتھ ساتھ سماجی افراتفری اور انارکی اور سرکار کی نااہلی، ایک “مسیحی تقویٰ” کی طرف پلٹنے کی عیسائی فسطائیوں کے وعدے کو معتبر بنائے گی اور اس تقویٰ کے ذریعے تمام شہری اور شہریتی آزادیوں کو چھین لیا جائے گا۔
ہر مطلق العنان عقیدے کے وسط میں ایک دائمی [اعتقادی] چھان بین کا ادارہ بھی ہوتا ہے جو ان مبینہ خفیہ اور شرانگیز گروپوں کے خلاف سرگرم عمل ہوتا ہے جنہیں ملک کے انحطاط و زوال کا ملزم ٹہرایا جاتا ہے۔ نظریاتِ سازش (Conspiracy theories) ـ جنہوں نے مسٹر ٹرمپ کے نظریۂ کائنات کو اپنے رنگ میں رنگ دیا ہے ـ کو مسلسل جنم دیا جاتا رہے گا۔ حکمرانوں کے نعرے معاشرے کو دو حصوں میں بانٹ دیں گے اور پارہ پارہ ہونے کا یہ عمل انفرادیت پسندی (individualism) اور فردی آزادی کی حمایت سے ان لوگوں کی اطاعت محض تک جو خدا اور قوم کی طرف سے بولتے ہیں؛ زندگی کے تقدس سے لے کر سزائے موت، پولیس تشدد اور بےلگام اور لامحدود عسکریت پسندی کی حمایت تک؛ شفقت و محبت سے ایک غدار اور بدعت گذار کا الزام لگنے کے خوف تک، جاری رہے گا۔ ایک قسم کی انتہاپسندانہ اور خوفناک مردشاہی کی تکریم کی جائے گی۔ تشدد، معاشرے اور دنیا کو “شر اور شیطان” سے بچانے کے وسیلے کے طور پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ عینی حقائق کو نیست و نابود یا تبدیل کیا جائے گا۔ جھوٹ کو حقیقت کا روپ دیا جائے گا۔ شناختی عدم آہنگی سیاسی زبان میں تبدیل ہوجائے گی۔ ملک جتنا زیادہ انحطاط و زوال کا شکار ہوگا اجتماعی مالیخولیا اور دماغی خلل کو زیادہ نشوونما ملے گی۔ یہ تمام چیزیں مختلف اشکال میں ہماری شکست خوردہ ثقافت اور دیوالیہ جمہوریت کے اندر موجود ہیں۔ ملک کی نئی کیفیت جس قدر ابھر کر سامنے آتی رہے گی اور مطلق العنانیت کا مرض جتنا پھیلتا رہے گا، یہ عناصر زیادہ سے زیادہ نمایاں ہونگے۔
مقتدر طبقے کے اراکین (oligarchs) تمام تر ناکام حکومتوں کی طرح اپنی مورچہ بند عمارتوں اور املاک کی طرف پسپا ہوجائیں گے، ان میں سے بہت سے تو ابھی سے اس کی تیاری کررہے ہیں، وہ ایسی جگہ پناہ لیں گے جہاں بنیادی خدمات، علاج معالجے کی سہولیات، تعلیم، پانی، بجلی اور سلامتی ـ جن کا عمومی معاشرے میں فقدان ہے ـ تک رسائی ممکن ہوگی۔ مرکزی حکومت کا کردار اپنے انتہائی بنیادی فرائض ـ یعنی اندرونی و بیرونی سلامتی اور ٹیکس جمع کرنے کی حد تک ـ محدود ہوجائیں گے۔ شدید غربت زیادہ تر شہریوں کی زندگی کو مفلوج کرکے رکھے گی؛ تمام تر خدمات ـ جو کسی وقت حکومت کی طرف سے فراہم کی جاتی تھیں، جیسے پانی، بجلی اور گیس سے لے کر ابتدائی امن و امان کی فراہمی کا کام ـ نجی اداروں کو سونپ دیا جائے گا اور یہ خدمات ان لوگوں کے لئے بہت زیادہ مہنگی پڑیں گی جو ضروری وسائل سے محروم اور غریب و نادار ہیں۔ سڑکوں پر گندگی کے ڈھیر پڑے رہیں گے، جرائم کی شرح دھماکہ خیز حد تک بڑھ جائے گی۔ بجلی کا فرسودہ نیٹ ورک اور پانی کی فراہمی کا نظام ـ کمپنیوں کی کمزور اور ناقص کارگردگی کی وجہ سے ـ مسلسل منقطع اور متصل ہوتا رہے گا۔
ذرائع ابلاغ ننگے اور بےپردہ انداز میں جارج آرول کی فضا میں تبدیل ہوجائیں گے اور ایک روشن مستقبل کی لامتناہی تشہیر میں مصروف ہوجائیں گے اور یوں ظاہر کریں گے کہ گویا امریکہ ہنوز ایک بڑی طاقت ہے۔ سیاسی پروپیگنڈا خبروں کی جگہ لے لے گا ــ ایسی برائی جو اسی وقت بھی نہایت تیزی سے پھیل چکی ہے ـ جبکہ یہ ذرائع اصرار کررہے ہیں کہ ملکی معیشت بہتری کے دور سے گذر رہی ہے، یا پھر بہتری کے مرحلے میں داخل ہورہی ہے۔
یہ ذرائع ابلاغ گہرائی کی طرف جانے والی سماجی ناانصافی اور عدم مساوات، سیاسی اور ماحولیاتی ابتری اور فوجی ہزیمتوں کے بارے میں کچھ کہنے لکھنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ ان کا بنیادی کردار توہمات کو ہوا دینے سے عبارت ہے اور مقصد چھوٹی ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے اپنے برقی وسائل کے اسکرینوں پر نظریں جما‏ئے معاشرے کی توجہ اس کے قریب الوقوع زوال سے منحرف کرنا ہے تا کہ وہ اپنی حالت زار کو اجتماعی نہیں بلکہ شخصی مسئلہ سمجھیں؛ جبکہ ناقدین کو اس زوال کا ذمہ دار قرار دیا جائے گا اور ان کی تنقید کو شدت سے سینسر (censor) کیا جائے گا۔ منافرت پھیلانے والے گروپ وسیع سطح پر سرگرم ہوں گے اور منافرت کا سبب بننے والے جرائم میں شدت آئے گی اور حکومت کی چشم پوشی کی وجہ سے ان گروپوں اور ان کے جرائم کو ضمنی طور پر تقویت ملے گی۔ اجتماعی فائرنگ کے واقعات رائج الوقت معمول بن جائیں گے۔ کمزور طبقات ـ منجملہ بچوں، عورتوں، معذوروں، مریضوں اور بوڑھوں ـ کا استحصال کیا جائے گا، اپنے حال پر چھوڑا جائے گا یا ان سے ناجائز فائدہ اٹھایا جائے گا۔ جن کے پاس طاقت ہے وہ قادر مطلق کا روپ دھار لیں گے۔
پیسہ ـ لوٹ کھسوٹ کے لئے ـ بدستور موجود ہوگا۔ کمپنیاں ہر چیز کو منافع کمانے کے لئے بیچ دیں گی۔ بدامنی میں بدلتی ہوا امن، قلت کا شکار اشیائے خورد و نوش، رکازی ایندھن (fossil fuel)، پانی، بجلی، تعلیم، طبی دیکھ بھال اور نقل و حمل، کے لئے، امریکی شہری مجبور ہونگے کہ ایسے قرضوں کے غلام بن جائیں جن کی ادائیگی ممکن نہ ہوگی اور جب ادائیگیوں سے عاجز آئيں گے تو ان کے ناچیز سرمایوں کو ضبط کیا جائے گا۔
ہمارے ملک میں قیدیوں کی تعداد، دنیا بھر کے ممالک میں سب سے زیادہ ہے اور اس تعداد میں مزید اضافہ ہوگا اور ان شہریوں کی تعداد میں شدید اضافہ ہوگا جن کو ۲۴ گھنٹے الیکٹرانک مانیٹر پہننا پڑیں گے۔ بڑی کمپنیاں کسی قسم کا محصُول آمدنی (income tax) ادا نہیں کریں گی یا بہترین حالت میں صرف علامتی ٹیکس ادا کریں گی۔ وہ قانون سے بالاتر ہونگے اور ان کے پاس مزدوروں کے استحصال کا امکان میسر ہوگا جو کام کے عوض تھوڑی سے اجرت لینے پر مجبور ہونگے، وہ ماحولیات میں زہر بھر لیں گے اور ان کے کام پر کوئی نظارت اور نگرانی نہيں ہوگی۔
آمدنیوں میں عدم مساوات کا سلسلہ جاری رہے گا، مبلغ ۱۴۰ ارب ڈالر دولت کے مالک جیف بیزوس (Jeffrey Preston Bezos) سمیت دیگر مالیاتی دیو وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ جدید بردہ داروں (Modern Slaveholders) کی صورت اختیار کررہے ہیں۔ وہ بڑی مالیاتی سلطنتوں پر زعامت کریں گے، جہاں محروم مزدور چلتے ٹریلروں اور گاڑیوں میں رہنے پر مجبور ہیں، جبکہ دن کے ۱۲ گھنٹے وسیع و عریض اور مناسب ہواداری (ventilation) سے محروم گوداموں میں محنت و مشقت میں مصروف رہتے ہیں۔ ان مزدوروں کو زندگی گذارنے کے لئے کم از کم اجرت دی جاتی ہے اور ہر وقت رازدارانہ سماعت کی ڈیجیٹل آلات کے ذریعے ان کی رفت و آمد اور اٹھک بیٹھک کی نگرانی کی جاتی ہے؛ جب ناقابل برداشت مشقت ـ اور مسلسل جانکنی کی کیفیت ـ ان کی صحت اور سلامتی کو چھین لے گی تو انہیں برخاست کیا جائے گا۔ آمازون (Amazon) کے بہت سے کارکنوں کے لئے یہ کَل آج ہی ہے اور وہ عنقریب بےروزگار ہوجائیں گے۔
کام کاج سب کے لئے ـ خاص طور پر بالادست اشرافیہ اور بااختیار مینجروں کے لئے ـ غلامی اور بردہ داری کی شکل میں تبدیل ہوجائے گا [اور اس کے ذریعے محنت کشوں کو رعایا اور غلام بنایا جائے گا]۔ پروفیسر جیفری پففر (Jeffrey Pfeffer) اپنی کتاب “تنخواہ کے ایک چیک کے لئے جان کی بازی لگانا: جدید امریکی انتظام کیونکر مزدوروں کی صحت اور کمپنیوں کی کارکردگی کے لئے نقصان دہ ہے — اور ہم اس کے لئے کیا کرسکتے ہیں؟” (۱) ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں: “۶۱ فیصد مزدوروں اور کارکنوں نے کہا ہے کہ ان کے کام کے مقام پر موجود شدید دباؤ نے انہيں بیمار کردیا ہے اور ۷ فیصد نے کہا ہے کہ انہیں اسی وجہ سے اسپتال میں داخل ہونا پڑا ہے”۔ پففر لکھتے ہیں کہ جائے کار کا شدید دباؤ امریکہ میں سالانہ ۱۲۰۰۰۰ افراد کو موت کے منہ میں دھکیل دیتا ہے۔ چین میں شدید مشقت سے سالانہ مرنے والوں کی تعداد ۱۰ لاکھ تک ہے۔
یہ وہ دنیا ہے جو اشرافیہ نے قانونی طریقہ کار وضع کرکے اور امن نافذ کرنے والے اندرونی اداروں کی نفری تعینات کرکے ہماری آزادیاں چھیننے کے لئے پر تول رہی ہے۔
ہمیں بھی اس ناکام اور دیوالیہ ریاست (Dystopia) کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہونا چاہئے، محض اپنی بقاء کی خاطر نہيں بلکہ ایسا طریقہ کار بنانے کے لئے کہ اس مطلق العنان اور بےلگام طاقت کا راستہ روکیں اور اس کو گرا دیں جسے متوقعہ طور پر مقتدر اشرافیہ استعمال میں لانا چاہی ہے۔ روسی لکھاری الیگزینڈر ہرزن (Alexander Herzen) نے ۱۰۰ سال قبل انارکیوں کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے زار روس (Russian czar) کا تختہ الٹنے کی کیفیت کے بارے میں اپنے سامعین کو یاددہانی کرائی تھی کہ “تمہارا کام ایک مرتے ہوئے نظام کو نجات دلانا نہيں بلکہ اس کا متبادل لانا ہے؛ ہم ڈاکٹر نہیں ہیں بلکہ ہم مرض ہیں”، امریکہ کے موجودہ نظام کی اصلاح کی ہر کوشش دباؤ قبول کرکے، ہتھیار ڈال کر اطاعت گذاری قبول کرنے کے زمرے میں آتی ہے اور امریکی نظام کی اصلاح کے لئے ہونے والی تمام تر کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے اندر کوئی بھی ترقی پسند شخص پرچم اٹھانے، اس جماعت کا کنٹرول ہاتھ میں لینے اور ہمیں نجات دلانے کا ارادہ نہيں رکھتا۔ امریکہ میں صرف ایک حکمران جماعت ہے جو کہ کمپنیوں کی جماعت (corporate party) ہے۔ یہ جماعت ایک تنگ نظرانہ جنگ میں دونوں متنازعہ فریقوں کی نابودی کے اسباب فراہم کرسکتی ہے، جیسا کہ اس نے حالیہ حکومتی بندش کے دوران کرکے دکھایا۔ یہ جماعت اقتدار کے حصول کے لئے تنازعہ کھڑا کرسکتی ہے اور طاقت کو نیست و نابود کرسکتی ہے۔ یہ جماعت ایک [بظاہر] روادارانہ موقف اپنا کر حقوق نسوان، ۔۔۔ اور غیر سفید فام باشندوں کی سماجی حیثیت کی وکالت کار کے طور بھی ظاہر ہوسکتی ہے لیکن جنگ، اندرونی سلامتی اور کمپنیوں کی حکمرانی جیسے بنیادی مسائل کے سلسلے میں کسی قسم کی دو رائیں نہیں ہیں۔
ہمیں کمپنیوں کی طاقت کو کمزور کرنے کے لئے ایک منظم ترک موالات (civil disobedience) اور عدم تعاون کی بعض صورتوں پر عملدرآمد کرنا چاہئے۔ ہمیں فرانس میں جاری صورت حال کی طرح، وسیع اور مسلسل بےچینی پھیلا کر اپنے کمپنی کے مالک آقاؤں کو پسپا ہونے پر مجبور کرنا پڑے گا۔ ہمیں مستقل اور پائیدار اجتماعات (communities) قائم کرکے کمپنیوں کا سہارا لینے سے پرہیز کرنا پڑے گا۔ ہم جس قدر کمپنیوں کے کم محتاج ہونگے اتنے ہی آزاد ہونگے۔
یہ باتیں ہماری زندگی کے تمام شعبوں میں پائی جاتی ہیں، اشیائے خورد و نوش کی پیداوار میں، تعلیم میں، صحافت میں، بیان اور فنکارانہ سرگرمیوں ميں۔ زندگی کو سماجی اور اجتماعی ہونا چاہئے کیونکہ حکمران بھنیوں کے سوا کسی کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ تنہا جیئے اور زندہ رہے۔
ہم جس قدر ظاہرداری کریں گے اور تجاہل عارفانہ سے کام لے کر دعوی کریں گے کہ یہ ناکام، دیوالیہ اور خوفناک دنیا ہم سے دور ہے، اتنے ہی زیادہ غیر مستعد، غیر آمادہ، کمزور اور بےبس ہوجائیں گے۔ حکمران اشرافیہ کا اصل مقصد ہی ہمیں مصروف، خوفزدہ اور منفعل (passive) رکھنا ہے؛ جبکہ یہ حکمران اس اندھیری حقیقت کی زمین میں [ہمیں] کچلنے کے لئے دہشت ناک ڈھانچے تیار کررہے ہیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ طاقت کو طاقت کے خلاف استعمال کریں، اپنی طاقت کو ان کی طاقت کے خلاف۔ ہم حتی اگر وسیع تر ثقافت کو تبدیل نہ بھی کرسکیں، یقینی طور پر اپنا بوجھ خود اٹھانے والے اور اپنے آپ کو پائیدار رکھنے والے حلقوں کی تخلیق کرسکتے ہیں، ایسے حلقے جن کے اندر ہم زیادہ سے زیادہ آزادی سے بہرہ ور ہوں۔
ہم دو طرفہ تعاون کی بنیاد پر ـ نہ کہ دو طرفہ [یا یکطرفہ] استحصال کی بنیاد پر ـ چھوٹی چھٹی چنگاریوں کو محفوظ کریں اور جو کچھ ہمیں درپیش ہے، اس میں یہی بھی ایک کامیابی ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: کرس ہیجز Chris Hedges (Christopher Lynn Hedges) ۔۔۔ کرس ہیجز امریکی صحافی، پريسبيٹيريَن کلیسا میں خادم دین اور پرنسٹن یونیورسٹی کے جزو وقتی استاد ہیں۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انگریزی مضمون کا لنک: yon.ir/kM7tO
فارسی ترجمے کا لنک: http://fna.ir/brdzkw
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱٫ Dying for a Paycheck: How Modern Management Harms Employee Health and Company Performance—and What We Can Do About It?

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ت/۱۰۰۰۳