امریکی ویب سائٹ کا اہم انکشاف، سعودی وزیر خارجہ ’عادل الجبیر‘ موساد کے ایجنٹ



خبر شماره یک


خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، امریکا کی ’او ڈی سی‘ ویب سایٹ نے ایک بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کے سکریٹری خارجہ عادل الجبیر مکمل طور پر اسرائیلی جاسوسی ایجنسی موساد کے کنٹرول میں ہیں ۔

او ڈی سی نے ایک مقالہ شائع کیا ہے جس میں عادل الجبیر اور موساد کے درمیان تعلقات کا انکشاف کیا گیا ہے ۔

مقالہ نگار جیما بلکے نے ذکر کیا کہ وہ اس ثبوت سے حیران تھیں کہ اسرائیل کی سابق وزیر خارجہ زپی لیونی بھی عادل الجبیر کو موساد سے نزدیک لانے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ کافی دنوں تک تحقیقات اور مطالعہ کرنے کے بعد میں سی آئی اے کے سابق افسر مسٹر فلیپ گرالڈی تک پہنچنے میں کامیاب ہو سکی۔ مسٹر گرالڈی کی جانب سے کئے گئے کچھ انکشافات سے میں حیرت زدہ تھی ۔ میں جیسے جیسے اس مسئلے کی تہہ تک گئی تو بہت ہی حیران کن اطلاعات میرے ہاتھ لگیں ۔ مجھے گزشتہ ۱۰ برسوں کے دوران سب سے متنازع حقیقت کا پردہ فاش کرنے پر فخر ہے۔

بکلے کا کہنا ہے کہ مسٹر گرالڈی نے خاص طور پر عادل الجبیر سے موساد کے پہلی بار رابطے کے بارے میں اطلاعات مہیا کرنے میں میری مدد کی ۔ کچھ ماہرین اور دانشوروں کی مدد سے ہم عادل الجبیر کی زندکي اور موساد سے ان کے تعلقات کی اطلاعات جمع کرانے کی کوششیں کر رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی اطلاعات حاصل کرنے کے لئے ریاض اور تل ابیب کے درمیان سفر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔

گرالڈی کے انکشاف کے مطابق، ایف بی آئی نے ۱۹۹۰ میں پہلی بار اس وقت عادل الجبیر کی نگرانی کرنا شروع کی تھی، جب انہیں امریکا میں واقع سعودی عرب کے سفارتخانے کا ترجمان بنایا گیا تھا۔ کچھ برس بعد ہی اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد پر یہ شک ہوا کہ وہ عادل الجیر کی ایک ایجینٹ کے طور پر خدمات لینا چاہتی ہے۔ ۱۹۸۱ میں عادل الجبیر جس وقت نارتھ ٹیکساس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، اسی دوران ان کے ایک کلاس فیلو کیے اینن میتھویز نے اس سے رابطہ کیا تھا۔

میتھویز کے امریکا میں اسرائیل کے ایک مشہور ہیرے کے تاجر سے رابطہ تھا، آہستہ آہستہ اس نے عادل الجبیر کا تعارف صیہونی تاجروں اور شخصیات سے کروانا شروع کردیا ۔

۱۹۹۸ میں ایف بی آئی کی جانب سے تحقیقات میں میتھویز نے انکشاف کیا کہ موساد کے ایک افسر سے جبیر کی پہلی ملاقات ہوئی تھی ۔

اس وقت تک عادل الجبیر صیہونی تاجروں کے بھاری قرض میں ڈوب چکے تھے، اس لئے ان کے پاس موساد کے ساتھ تعاون کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں تھا۔ موصولہ ثبوتوں کے مطابق، امریکا میں واقع سعودی سفارتخانے میں ملازمت تک عادل الجبیر کی تمام سرگرمیوں پر موساد کا کنٹرول ہو چکا تھا۔

اس کے بعد موساد کی سیڑھیوں پر چڑھ کر عادل الجبیر سعودی سفارتخانے میں ترجمان بن گئے اور اس کے بعد سفیر کے عہدے تک پہنچ گئے ۔

واضح رہے کہ عادل الجبیر سعودی عرب میں شاہی خاندان سے باہر کے پہلے ایسے شخص ہیں جو وزارت خارجہ کا عہدہ سنبھال رہے ہیں اور یہ سب موساد کی خدمت کا ہی نتیجہ ہے جو انہیں مل رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍گ؍۱۰۰۰۳