انتخابی جیت کے لیے نیتن یاھو کا انتہا پسند یہودی گروپ کے ساتھ اتحاد




اس اتحاد کا مقصد آنجہانی مذہبی لیڈر اور انتہا پسند ربی ’’مائیر کاھانا‘‘ کے اسرائیلی سیاست میں‌ کردار کو آگے بڑھانا ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے انتخابات میں کامیابی کے لیے ملک کی ایک انتہا پسند مذہبی سیاسی جماعت’جیوش ہوم’ کے ساتھ سیاسی اتحاد کا اعلان کیا ہے۔ اس اتحاد کا مقصد آنجہانی مذہبی لیڈر اور انتہا پسند ربی ’’مائیر کاھانا‘‘ کے اسرائیلی سیاست میں‌ کردار کو آگے بڑھانا ہے۔

گذشتہ روز’لیکوڈ’ اور ‘جیوش ہوم’ کا اجلاس ہوا جس میں دونوں جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں کیے گئے رائے عامہ کے جائزوں میں نیتن یاھو کی جماعت کے بارے میں سب سے زیادہ نشستیں جیتنے کی پیش گوئی کی جاتی ہے۔ نیتن یاھو کا اس سے قبل بھی ملک کی انتہا پسند سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم ہے۔

مگر ذرائع ابلاغ کا یہ بھی کہنا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل بینی گانٹز نیتن یاھو کے طاقت ور حریف ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یائیر لبید جو سابق وزیرخزانہ بھی رہ چکے ہیں نیتن یاھو کو مشکل میں ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔لبید اور جنرل بینی گانٹز دونوں کو اعتدال پسند لیڈر کہا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل میں ۹ اپریل کو انتخابات ہو رہے ہیں۔ انتخابات میں نئے سیاسی اتحاد کے وجود میں آنے کے بھی امکانات ہیں۔ تاہم نیتن یاھو کی جماعت لیکوڈ فی الحال موثر سمجھی جاتی ہے اور اسرائیل کے انتہا پسند حلقوں کا ووٹ لینے میں وہ دوبارہ کامیاب ہوسکتے ہیں۔

مرکز اطلاع رسانی فلسطین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍خ؍۱۰۰۰۳