قبلہ اول میں نماز کی ادائیگی پر فی کس ۱۵۰۰ شیکل جرمانہ عائد




اسرائیلی فوج نے گذشتہ جمعہ کو گرفتار کیے گئے بیت المقدس کے۱۴ باشندوں کی دو ماہ تک مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی پر پابندی عاید کردی ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، قابض صہیونی ریاست فلسطینی مسلمانوں کو قبلہ اول میں عبادت سے روکنے کے لیے ہرحربہ کا استعمال کر رہی ہے۔ طرح طرح کے دیگر حربوں اور مکروہ ہتھکنڈوں کے ساتھ ساتھ قبلہ اول میں نماز کی ادائیگی پر فلسطینی شہریوں کو بھاری جرمانے کیے جا رہے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے گذشتہ جمعہ کو گرفتار کیے گئے بیت المقدس کے۱۴ باشندوں کی دو ماہ تک مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی پر پابندی عاید کردی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں فی کس ۱۵۰۰ شیکل جرمانے بھی کیے گئے ہیں۔ یہ سزا انہیں قبلہ اول میں‌ نماز کی ادائیگی کی پاداش میں دی گئی ہے۔ دو فلسطینیوں شہریوں محمد شلبی اور محمد ابو شوشہ کو آج جمعہ تک زیرتفتیش رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

فلسطینی محکمہ امور اسیران کے مندوب محمد محمود نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے ۱۴ فلسطینیوں کو حراستی مرکز سے ۱۵۰۰ شیکل جرمانے اور ۶۰ دن تک قبلہ اول میں داخل نہ ہونے کی شرط پر رہا کیا ہے۔ انہیں دو ماہ تک قبلہ اول میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور انہوں‌ نے مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی کی کوشش کی تو انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد,خ,۱۰۰۰۳