امریکہ کا عالمی دہشت گردی کے مرکز کو جوہری تحفہ!





خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے دستبردار ہوتے وقت دعوی کیا تھا کہ یہ معاہدہ ناقص ہے اور اس میں ایران کے پاس جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے تمام راستوں کا مناسب سدباب نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ صرف ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو “ایران کے جوہری پروگرام، پھیلاو سے متعلق ایران کی سرگرمیوں اور عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں کی مکمل روک تھام کی ضمانت فراہم کر سکے۔” لیکن اب اس حقیقت کا انکشاف ہوا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ملک کے تمام قانونی اور سکیورٹی تقاصوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سعودی عرب جیسے ملک کو جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جسے امریکی قانون جیسٹا (دہشت گردی کے حامیوں کے خلاف انصاف) کے تحت دہشت گردی کا حامی قرار دیا جا چکا ہے۔ یاد رہے یہ قانون کانگریس میں امریکہ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں یعنی ریپبلکن اور ڈیموکریٹک کے اراکین نے بھاری اکثریت سے منظور کیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارتی الیکشن مہم کے دوران کئی بار اس بات پر زور دیا تھا کہ سعودی عرب کو چاہئے کہ وہ امریکہ کو زیادہ پیسے فراہم کرے۔ اسی طرح انہوں نے سعودی عرب کو “دودھ دینے والی گائے” کا لقب بھی دیا تھا۔ لیکن صدر بننے کے بعد وہ پہلے بیرون ملک دورے پر سعودی عرب روانہ ہو گئے جبکہ ان کے داماد جیرلڈ کشنر نے بھی سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات استوار کر رکھے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق امریکہ کے ایوان نمائندگان کی نظارتی کمیٹی کی سربراہ الیجا کیمنگز نے ۲۵ صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کو جوہری ٹیکنالوجی کی فراہمی کا نتیجہ مشرق وسطی میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاو اور عدم استحکام کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتہائی قریبی چند پرائیویٹ کمپنیاں سعودی عرب کو جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے پر اصرار کر رہی ہیں کیونکہ انہیں اس میں اربوں ڈالر کا فائدہ حاصل ہونے کا امکان ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر امریکہ کی جانب سے سعودی عرب کو جوہری ٹیکنالوجی کی فراہم پر ردعمل ظاہر ہوتے ہوئے لکھا ہے: “وہ حقیقت جو ہم پر واضح تھی اب آہستہ آہستہ دنیا والوں پر بھی واضح ہوتی جا رہی ہے۔ امریکہ کی اصل پریشانی نہ تو انسانی حقوق ہیں اور نہ ہی ایران کا جوہری پروگرام۔ پہلے ایک صحافی کو قتل کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا اور اب امریکہ کی جانب سے سعودی عرب کو جوہری ٹیکنالوجی کی غیر قانونی فراہمی امریکہ کی منافقت کو عیاں کرنے کیلئے کافی ہے۔” دوسری طرف برطانیہ نے جرمنی کو خبردار کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے خلاف پابندیاں عائد کرنے سے باز رہے۔ یاد رہے جرمنی نے سعودی حکمرانوں کے ہاتھوں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سعودی عرب کو اسلحہ برآمد کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ ان پابندیوں کے باعث یورپی ممالک کی جانب سے سعودی عرب کو فراہم کئے جانے والے اسلحہ کی مقدار میں کافی حد تک کمی واقع ہو گئی تھی کیونکہ یورپ میں زیادہ تر اسلحہ ساز کمپنیاں جرمن ہیں۔

امریکی کانگریس میں پیش کردہ رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قریبی کمپنیوں کی جانب سے سعودی عرب کو جلد از جلد جوہری ٹیکنالوجی کی فراہمی کیلئے قوانین کو بالائے طاق رکھے جانے کا امکان بھی پایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جو افراد سعودی عرب کو غیر قانونی طور پر جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں ان میں ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق قومی سلامتی کے مشیر مائیکل فلین کا نام بھی شامل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ۱۲ فروری کو جوہری پاور پلانٹس بنانے والی کمپنیوں کے سربراہاں سے ملاقات کی اور ان سے سعودی عرب سمیت مشرق وسطی کے دیگر ممالک کو جوہری ٹیکنالوجی کی فراہمی سے متعلق بات چیت کی۔ اس ملاقات کے بعد یہ طے پایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرلڈ کشنر اور صدر کے مشیر اعلی جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کے مقدمات فراہم کرنے کے بارے میں بات چیت کیلئے سعودی عرب سمیت مشرق وسطی کے ممالک کا دورہ کریں گے۔ سعودی عرب کو جوہری ٹیکنالوجی کی فراہمی کے مخالفین نے اس عمل میں قوانین کو بالائے طاق رکھے جانے پر گہری پریشانی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اس قدر جدید ہے کہ اسے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
بقلم علی احمدی
اسلام ٹائمز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ت/۱۰۰۰۳